کیا امریکہ عالمی قیادت کا اہل ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
جناب آیت اللہ خامنہ ای کے فکر انگیز خیالات

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغانستان پر حملے کے لیے امریکہ کی کسی قسم کی مدد نہیں کریں گے اور ہم افغانستان پر حملوں کے خلاف ہیں کیونکہ ہمارا مسلم پڑوسی ملک پہلے ہی مفلوک الحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف مہم یا امن کے لیے کسی عالمی مہم کی قیادت کا اہل نہیں، امریکہ کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ امریکہ ایک طرف عالمی تعاون کےلیے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف عالمی ممالک کی تعظیم ملحوظ نہیں رکھ رہا جو ایک نفرت انگیز رویہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کے اس بیان پر تنقید کی جس میں امریکی صدر نے تمام ممالک سے کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ ایرانی راہنما نے کہا کہ نہ ہم امریکہ کے ساتھ ہیں اور نہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں کیونکہ امریکہ کے ہاتھ صیہونی ریاست کے مظالم اور جرائم سے داغدار ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایرانی راہنما کے خیالات موجودہ حالات میں عالم اسلام کی رائے عامہ کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں لیکن ان پر تبصرہ سے قبل ایران کے حوالہ سے ایک اور خبر ملاحظہ فرما لیں کہ گزشتہ روز برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا تہران کا دورہ کرنے کے بعد اسرائیل پہنچے تو وزیر اعظم ایریل شیرون نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز نے بھی برطانوی وزیرخارجہ کے اعزاز میں دیا جانے والا عشائیہ منسوخ کر دیا۔ اس پر برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے فون پر براہ راست اسرائیلی وزیراعظم سے بات کی جس کے بعد برطانوی وزیر خارجہ کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات ہو سکی۔ اسرائیلی راہنماؤں کے غصے کی وجہ دورۂ ایران کے موقع پر ایرانی اخبارات میں شائع ہونے والا برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کا ایک مضمون بنا ہے جس میں انہوں نے امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’دہشت گردی کے فروغ میں یہ عنصر بھی کار فرما ہے کہ فلسطین میں کئی سالوں سے جو واقعات رونما ہو رہے ہیں اس پر غصہ و ناراضگی پائی جاتی ہے۔‘‘

خبر کے مطابق اسرائیلی حکمران اس جملے پر بہت زیادہ سیخ پا ہوئے ہیں اور انہوں نے محسوس کیا ہے کہ فلسطین میں رونما ہونے والے تشدد کی ذمہ داری اسرائیل پر ڈالی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے دھماکوں کی دھول بیٹھنے کے بعد ان اسباب و عوامل پر غور کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جو حالات کو اس انتہا پر لانے کا باعث بنے ہیں او ان اسباب و عوامل میں اسرائیل کا کردار بھی دھیرے دھیرے نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور تبصرہ بھی ملاحظہ فرمالیں جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید تاریخ کے استاذ مارک المنڈ کا ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم شیرون کو سور کا دماغ رکھنے والا اور انتہاپسند قرار دیتے ہوئے انہیں مخاطب کر کے کہا ہے کہ

’’انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر اسرائیل کی بقاء ممکن نہیں ہے۔ اگر امریکہ اس کی پچاس سال سے بھرپور حمایت نہ کر رہا ہوتا تو وہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ اس لیے اسے امریکہ کی راہ میں روڑا بننے کی بجائے تعاون کا رویہ اپنانا چاہیے۔ اپنی بقاء، دفاع اور معاشی خوشحالی کے لیے وہ امریکی امداد کا محتاج ہے، اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گیارہ ستمبر کے حادثے میں جتنے امریکی مارے گئے ہیں اتنے اسرائیلی ۱۹۴۸ء سے اب تک ہونے والی تمام جنگوں میں نہیں مارے گئے۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرانے والے صرف ایک جہاز میں جتنے مسافر مارے گئے اتنے اسرائیلی پی ایل او، حماس یا حزب اللہ کے حملوں میں نہیں مرے۔‘‘

ہمارے خیال میں امریکہ میں ہونے والی مبینہ دہشت گردی کے اسباب و محرکات کی نشاندہی اور ان میں اسرائیلی کردار کی اہمیت کے حوالہ سے برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا کا مذکورہ مضمون اور برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع ہونے والا پروفیسر مارک المنڈ کا یہ تبصرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے ان نئے رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے جو اگرچہ پہلے بھی موجود تھے مگر دبے ہوئے تھے کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل پشت پناہی اور تعاون کے اثرات امریکہ کے حق میں مثبت نہیں ہیں۔ البتہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دیگر سنجیدہ دانشور بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے جس کی طرف برطانوی وزیرخارجہ نے اپنے مذکورہ بالا مضمون میں اشارہ کیا ہے۔ یقیناً اسرائیل کے اس کردار کو نمایاں کرنے اور عالمی رائے عامہ کو اس کی طرف متوجہ کرنے میں ایرانی حکومت کے دوٹوک موقف اور جرأت مندانہ طرز عمل کا بھی دخل ہے بلکہ موجودہ تناظر میں یہ کریڈٹ ایران ہی کو جاتا ہے کہ اس نے اسرائیل کو اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا اور دہشت گردی کے فروغ میں اسرائیلی کردار کو نمایاں کر کے عالمی راہنماؤں اور دانشوروں کو اس بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔

ہمیں ایرانی پیشوا جناب آیت اللہ خامنہ ای کے اس ارشاد سے بھی اتفاق ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف یا عالمی امن کے حق میں کسی مہم کی قیادت کا اہل نہیں ہے کیونکہ اس کا اپنا کردار دوہرے پن کا حامل ہے اور اس کے اپنے ہاتھ دہشت گردی کی سرپرستی اور معاونت سے داغدار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے اور اس کے پاس اسباب و وسائل کی فراوانی ہے۔ دولت ، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دنیا بھر میں معاونین اور حمایتیوں کا ایک وسیع حلقہ اسے میسر ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس کا دوہرا معیار و کردار کسی عالمی مہم میں اس کی قیادت کی اہلیت کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ کیونکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ

  1. امریکہ خود کو نسل پرستی اور دہشت گردی کا مخالف قرار دیتا ہے لیکن وہ اسرائیل کی نسل پرست اور دہشت گرد حکومت کی مسلسل اور مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔
  2. امریکہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کو بزور قوت نافذ کرنے کا علمبردار ہے لیکن کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے فیصلوں اور وعدوں کو یکسر نظر انداز کیے ہوئے ہے۔
  3. امریکہ شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے لیکن خلیج عرب کے ممالک میں اس کی فوجی موجودگی ان ملکوں کے عوام کے شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  4. امریکہ رائے عامہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اسی کو کسی ملک کے فیصلوں کی بنیاد قرار دیتا ہے لیکن موجودہ مہم میں امریکہ کا ساتھ دینے کے بارے میں پاکستان اور دیگر بہت سے ممالک کی رائے عامہ کی قطعاً کوئی پرواہ کیے بغیر ان حکومتوں پر مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔
  5. امریکہ قوموں کی آزادی اور ممالک کی خودمختاری کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف خود اپنی طے کردہ مہم میں دنیا بھر کے ممالک کو ’’ساتھ دو ورنہ دشمن سمجھے جاؤ گے‘‘ کے خالص فرعونی لہجے میں دھمکا کر اس نے اقوام و ممالک کی آزادی و خودمختاری کا مذاق اڑایا ہے۔

ان حالات میں ایرانی پیشوا جناب آیت اللہ خامنہ ای کا یہ ارشاد کہ ’’امریکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کی قیادت کا اہل نہیں‘‘ صرف ان کے اپنے جذبات کا اظہار نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ بالخصوص دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کے لیے دعوت فکر بھی ہے جسے نظر انداز کر دینا سراسر ناانصافی اور زیادتی کی بات ہوگی۔

دہشت گردی کا کوئی بھی حامی نہیں ہے اور دنیا کے سب باشعور انسان اس کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب و محرکات اور عوامل کی بیخ کنی بھی ضروری ہے۔ اور اس عالمی مہم کی قیادت کے لیے کسی ایسے ملک کو آگے آنا چاہیے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔ ہیروشیما، ناگاساکی، ویت نام، فلسطین، افغانستان، اور سوڈان کے نہتے شہریوں پر بم برسانے والے اور مشرق وسطیٰ کے عوام کی سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق کا خون کرنے والے ملک کے ہاتھ میں دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کی قیادت کا پرچم آخر کس طرح دیا جا سکتا ہے؟

درجہ بندی: