نائن الیون کے حملے ۔ لندن میں علماء کا مشترکہ اعلامیہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
لندن میں علماء دین کا مشترکہ اعلامیہ

لندن پہنچتے ہی مجھے احساس ہوگیا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد عالمی میڈیا کی ہمہ جہتی یلغار اور شدید امریکی ردعمل کے اظہار نے مسلمان حلقوں کو اس حد تک ششدر کر دیا ہے کہ انہیں کسی اجتماعی اور متوازن موقف اور طرز عمل پر لانے کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی نمائندگی میں نمایاں طور پر دو قسم کی آوازیں میڈیا میں سامنے آرہی ہیں۔ ایک طرف وہ آواز ہے جسے انتہا پسندانہ اور جذباتی قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے نتائج سے یہاں کے مسلمان خطرات محسوس کر رہے ہیں۔ اور دوسری آواز خالصتاً معذرت خواہانہ ہے جس کا مقصد دینی حلقوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے امریکہ کے موقف اور پروگرام کی اعلانیہ حمایت ہے۔ جبکہ ان دونوں کے درمیان معتدل اور متوازن موقف کے لیے کوئی سنجیدہ کام نہیں ہو رہا جو کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کی غالب اکثریت کا موقف ہے لیکن اس کے اظہار کی کوئی منظم صورت سامنے نہیں آرہی۔

اس احساس کے تحت پہلے لندن میں اور پھر برمنگھم میں ورلڈ اسلامک فورم کے ذریعہ احباب سے ملاقاتوں اور مشاورت کا آغاز کیا جس کے نتیجہ میں جمعیۃ علماء برطانیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیۃ اہلحدیث برطانیہ، یوکے اسلامک مشن، جماعت اہل سنت برطانیہ، مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ اور دیگر اہم جماعتوں کے قائدین سے صلاح مشورہ کے بعد 27 ستمبر کو پاکستان میں ’’یوم یکجہتی‘‘ کے موقع پر برمنگھم میں مولانا بوستان قادری کی صدارت میں مختلف دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس میں اگلے ہفتے کے دوران تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا مشترکہ اجلاس وسیع پیمانے پر طلب کرنے کا فیصلہ ہوا جس کے لیے مولانا بوستان قادری، مولانا امداد الحسن نعمانی اور قاری عبد الوافی پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کی گئی جبکہ موجودہ حالات کی روشنی میں مندرجہ ذیل مشترکہ اعلامیہ کی ابتدائی طور پر منظوری دی گئی۔

  • 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن کے سانحات میں بے گناہ انسانوں کی موت پر ہر شخص کو دکھ ہے اور ہم سب متاثرہ خاندانوں اور امریکی عوام کے دکھ میں شریک ہیں۔
  • دنیا کا کوئی مذہب اور مہذب فلسفہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کی خونریزی کو روا نہیں رکھتا اور اسلام بھی امن و سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے اس کا روادار نہیں ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مہم کوئی بھی شروع کرے اسے دنیا کے تمام امن پسند لوگوں کی طرح مسلمانوں کی حمایت بھی یقیناً حاصل ہوگی۔
  • دہشت گردی کے اسباب و عوامل، محرکات اور پس منظر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم یکطرفہ اور ادھوری ہوگی جس کے نتائج مثبت کی بجائے منفی برآمد ہوں گے اور دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوگا۔ اس لیے یہ ناگزیر بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کے اہداف میں دہشت گردی کے اسباب و عوامل کے خلاف مہم کو بھی شامل کیا جائے تاکہ بات مکمل اور منطقی ہو اور تمام اقوام اس میں شریک ہو سکیں۔
  • غاصب اور مسلط اقوام کے تسلط کے خلاف آزادی اور خودمختاری کی جنگ لڑنے والی اقوام مثلاً فلسطین، کشمیر، چیچنیا وغیرہ کی مسلح جدوجہد کا دہشت گردی کے اطلاق سے استثناء و امتیاز ضروری ہے۔ ورنہ مظلوم اور زیر تسلط اقوام کی آزادی کے لیے بین الاقوامی اصول اور عالمی حمایت بے معنی ہو کر رہ جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف چلائی جانے والی مہم مظلوم اقوام کو مزید دبانے کا ذریعہ بن جائے گی۔
  • اسامہ بن لادن کی طرف سے 11 ستمبر کے سانحات میں ملوث ہونے کی واضح تردید کے بعد کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر اسامہ کو مجرم قرار دینا اور اسے یا اس کی بنیاد پر افغانستان کی طالبان حکومت کو کسی کارروائی کا نشانہ بنانا انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہوگا جس کا پوری دنیا میں شدید ردعمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ایک بین الاقوامی فورم تشکیل دیا جائے جس میں سلامتی کونسل، او آئی سی اور عوامی جمہوریہ چین کی باضابطہ نمائندگی ہو اور اس فورم کے سامنے متعلقہ ثبوت لا کر اس کی تجاویز اور فیصلوں پر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے بغیر کوئی بھی کارروائی انصاف کی بجائے انتقام پر مبنی قرار پائے گی۔
  • پاکستان کی سالمیت و وحدت اور قومی خودمختاری نیز وطن عزیز کی عسکری و ایٹمی صلاحیت کا تحفظ سب امور پر مقدم ہے۔ اور حکومت پاکستان کے ہر ایسے اقدام کی بھرپور حمایت تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے جس کا مقصد پاکستان کی نظریاتی حیثیت، سالمیت، وحدت، خودمختاری، عسکری صلاحیت و ایٹمی مراکز کی حفاظت، اور وطن عزیز کو بیرونی مداخلت و اثرات سے بچانا ہو۔ ہم پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتوں اور دینی حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے کی بجائے باہمی مشاورت اور اعتماد کے ساتھ پاکستان کو اس سنگین بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔
  • او آئی سی، رابطہ عالم اسلامی، مؤتمر عالم اسلامی اور عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس موقع پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے متحرک ہونا چاہیے اور اس سنگین بحران میں عالم اسلام کی راہ نمائی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور عالم اسلام کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے، جنگ کے امکانات کو روکنے، اور دہشت گردی کے خلاف مجوزہ مہم کو صحیح رخ پر ڈالنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • برطانیہ اور یورپ میں مقیم مسلمانوں میں یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اس لیے تمام مکاتب فکر کی دینی و سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی رابطہ و مشاورت میں اضافہ کریں اور مسلمانوں کے ملی جذبات کی باوقار نمائندگی کے ساتھ ساتھ یورپ کی مقامی آبادی اور مسلمانوں کے تعلقات میں کسی بھی طرف سے رخنہ پیدا کرنے کی مذموم کوششوں سے باخبر رہیں۔ نیز مقامی آبادی کے ذمہ دار حلقوں اور شخصیات کے ساتھ روابط استوار کر کے انہیں اعتماد دلائیں کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور مسلمان امن پسند شہری ہیں۔ اور یہ کہ مسلمان نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ہر سنجیدہ مہم میں تعاون کے لیے تیار ہیں بلکہ دہشت گردی کے اسباب و محرکات کے خلاف اقوام متحدہ کی مشترکہ جدوجہد کو بھی ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ دنیا میں حقیقی امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے۔
  • یہ بھی وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے استحکام کے لیے ملک میں فوری طور پر نظام مصطفیٰ نافذ کیا جائے اور پاکستان کے خلاف قادیانیوں اور دیگر سازشی گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
درجہ بندی: