سوات کی صورتحال اور قومی مفاد کا تقاضا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مئی ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
قومی مفاد کا تقاضا

سوات اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خلافِ توقع نہیں اور جو آئندہ ہونے جا رہا ہے وہ بھی توقع کے خلاف نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ سب کچھ طے شدہ ہے۔ جو ہوگیا ہے، جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے اس کے حق میں اور اس کے خلاف دونوں طرف دلائل دیے جا سکتے ہیں اور دیے جا رہے ہیں لیکن دو باتوں سے شاید ہی کوئی ذی شعور اختلاف کر سکے:

  1. ایک یہ کہ اس سے پاکستان کمزور ہو رہا ہے اور قومی وحدت کے گرد خطرات کی دھند گہری ہوتی جا رہی ہے۔
  2. دوسری یہ کہ اس سب کچھ کے باوجود مسئلہ کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

جن کو یہ صورتحال پیدا کرنے میں دلچسپی تھی خود ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ہوگی اور اس کا دورانیہ طویل ہوگا۔ جبکہ بی بی سی کا تبصرہ یہ ہے کہ اس میں سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہوئے ہیں، مارے بھی وہ زیادہ جا رہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بھی وہی ہوئے ہیں۔ سوات میں امن معاہدے کے ساتھ قیامِ امن کی جو جھلک نظر آنے لگی تھی اور ملک بھر کے عوام نے سکھ کا سانس لینا شروع کر دیا تھا وہ چند روز بھی منظر پر نہ رہ سکی اور خونریزی کے ایک نئے اور طویل سلسلہ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صورتحال کو بگاڑنے میں ایک طرف کی حماقتوں کا بہت زیادہ کردار ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ دوسری طرف بھی ان حماقتوں کے واقع ہونے کی خواہش موجود تھی اور ان کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ واقفِ حال حلقوں کا کہنا ہے کہ ان حماقتوں کو وجود میں لانے کے لیے بھی خاصی محنت ہوئی اور بہت سی حماقتوں کا منظر قائم کر کے اس ایجنڈے پر عملدرآمد کا بلاتاخیر آغاز کر دیا گیا جس کے لیے بے چینی کے ساتھ دن گنے جا رہے تھے۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ اس صورتحال میں علماء کا کردار کیا ہے؟ بالخصوص ان علماء کرام کا جو جہاد افغانستان میں روس کے خلاف فریق تھے اور اب افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے بھی وہی جذبات رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں پاکستان کی یہ داخلی صورتحال اس علاقائی کشمکش سے الگ دکھائی نہیں دیتی اور وہ اس گورکھ دھندے میں ڈور کا سرا تلاش کرنے کی کسی حد تک ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ علماء کی جن جماعتوں کا اس پوری کشمکش میں کوئی کردار نہیں رہا اور نہ اب ہے ان کے لیے سب کچھ کہنا آسان ہے اور اس فضا میں رچے گروہی امتیازات و مفادات کا پرچم بلند کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن علماء کے جو حلقے اس کشمکش میں عالمی استعمار کے اصل حریف چلے آرہے ہیں اور اسی وجہ سے مسلسل دشنام طرازی کا نشانہ بھی ہیں ان کے لیے یہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہے اور مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس فضا میں جامعہ دارالعلوم کراچی میں ۱۲ مئی ۲۰۰۹ء کو ہونے والے ایک اجلاس کی رپورٹ اور اس کی طرف سے کی جانے والی اپیل پیش خدمت ہے:

شرکائے اجلاس

مولانا سلیم اللہ خان(کراچی)، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر (کراچی)، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی (کراچی)، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی (کراچی)، مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، مولانا حافظ فضل الرحیم (لاہور)، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (ملتان)، مولانا مفتی غلام الرحمان (پشاور)، مولانا انوار الحق حقانی (اکوڑہ خٹک)، مولانا فضل محمد سواتی (کراچی)، مولانا مفتی محمد نعیم (کراچی)، مولانا مفتی عبد الرحیم (کراچی)، مولانا مفتی محمد (کراچی)، مولانا ڈاکٹر عادل خان (کراچی)، مولانا عبید اللہ خالد (کراچی)، مولانا امداد اللہ (کراچی)، مولانا مفتی عبد الحمید دین پوری (کراچی)، مولانا قاری غلام رسول (کراچی)، مولانا عزیز الرحمان سواتی (کراچی)، مولانا محمد اشرف (کراچی)، مولانا رشید اشرف (کراچی)،

سرکردہ علماء کرام کی دردمندانہ اپیل

’’سوات میں ہونے والی خونریزی اور بداَمنی جس کا سلسلہ عرصۂ دراز سے اس خطہ میں جاری ہے، اس پر ملک و ملت کے ہر فرد کا دل بے چین ہے۔ نظامِ عدل پر سمجھوتہ کے نتیجہ میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی جس کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ ابھی اس معاہدہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بداَمنی کا سیلاب دوبارہ پھوٹ پڑا اور یہ بداَمنی ایک جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ بالخصوص تازہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گناہوں کا جس طرح خون بہہ رہا ہے اور لاکھوں افراد اپنے ملک میں رہتے ہوئے خانماں برباد ہو کر لاتعداد مصائب کا شکار ہوئے ہیں، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں، عورتیں اپنے معصوم بچوں کی بے گور و کفن لاشوں پر تڑپ رہی ہیں اور بچے اپنی ماؤں کو ترس رہے ہیں، یہ اتنا بڑا المیہ ہے کہ اس پر جتنے بھی دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے۔

ہمارا سوچا سمجھا موقف یہ ہے کہ جنگ اور خونریزی سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ سینکڑوں مسائل پیدا ہوتے ہیں اس لیے ہم دونوں فریقوں سے انتہائی دلسوزی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے فوری طور پر خونریزی بند کریں اور فوجی آپریشن کے بجائے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور مسائل کا پر امن حل نکالا جائے۔ نیز ہم پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان لاکھوں متاثرین کے ساتھ یکجہتی اور ان کی مدد میں دل کھول کر حصہ لیں۔ ہم خاص طور پر ان علاقوں کے دینی مدارس کے تمام علماء و طلبہ اور دینی جماعتوں و تنظیموں کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کی خدمت کے لیے دن رات وقف کر دیں۔

اس کے ساتھ ہماری یہ بھی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ملک کی موجودہ سنگین اور نازک صورتحال کا اصل سبب افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی، غیر ملکی طاقتوں کی ہمارے ملک میں کھلم کھلا مداخلت، ہمارے حکمرانوں کی خوشامدانہ پالیسیاں، اور وہ ڈرون حملے ہیں جنہوں نے ببانگ دہل ہماری قومی خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ اسی بنا پر قوم میں غم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے اور اس غم و غصہ نے بعض انتہا پسندوں کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر کے عواقب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ اسی صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھا کر پاکستان دشمن طاقتیں اس جھنجھلاہٹ کو ہوا دے کر ظلم و وحشت میں تبدیل کر رہی ہیں۔ اس طرح صورتحال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی حدود میں امریکی اتحاد کے ڈرون حملے فی الفور بند کرائے جائیں، پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی بنیاد پر قومی پالیسیوں پر فوری نظر ثانی کی جائے اور انہیں ایک آزاد خودمختار اسلامی ملک کے شایان شان بنایا جائے۔‘‘

یہ اپیل دونوں فریقوں سے کی گئی ہے اور دونوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور اس دام ہم رنگ زمین سے ہوشیار رہیں جو اس محاذ کو تیز تر کرنے میں دن رات مصروف ہے اور جس کا مفاد صرف اس میں ہے کہ دونوں فریق لڑتے رہیں اور یہ خطہ مسلسل بد اَمنی اور خونریزی کا نشانہ بنا رہے۔ ہمارے خیال میں قیامِ امن کے استحکام، قومی خودمختاری اور غریب عوام کی بہتری کے لیے دونوں کو پیچھے ہٹنا ہوگا اور ہلاشیری دینے والوں کو نظرانداز کرنا ہوگا، اس لیے کہ اسلام کی سربلندی بھی اسی میں ہے اور ملکی مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے۔