سزائے موت کے خاتمے کی بحث

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے قانونی نظام میں سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مطالبہ اور دباؤ بھی موجود ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی کچھ عرصہ قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے جس میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قانونی نظاموں میں سزائے موت ختم کر دیں اور آئندہ کسی شخص کو کسی ملک میں کسی بھی جرم کے تحت موت کی سزا نہ دی جائے۔ اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر لابنگ جاری ہے اور پاکستان کے اندر بھی سینکڑوں این جی اوز اس کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ہمارے موجودہ دستوری ڈھانچے میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

دستور پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری دین قرار دیا گیا ہے، قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے اور قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزائے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو، کیونکہ قرآن و سنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ کی آیت ۱۷۸ اور ۱۷۹ میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر قصاص (جان کے بدلے جان) کا قانون فرض کیا گیا ہے اور یہ قانون معاشرے میں جان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ چنانچہ قرآن و سنت کے ساتھ دستوری کمٹمنٹ پر قائم رہتے ہوئے ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد پر عمل کریں جس میں ملک کے قانونی نظام سے موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگرچہ عملی صورت حال مختلف ہے اور ہمارا قومی رویہ گزشتہ ساٹھ سال سے یہی چلا آ رہا ہے کہ ہم قرآن و سنت کے ساتھ وفاداری کا بھی ہر موقع پر اظہار کرتے ہیں، لیکن قانونی نظام میں وہ تمام تبدیلیاں یکے بعد دیگرے کرتے چلے جا رہے ہیں جن کا ہم سے مغرب مطالبہ کرتا ہے، جیسا کہ حدود آرڈیننس میں کیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ موت کی سزا کے بارے میں بھی پارلیمنٹ میں اسی نوعیت کا کوئی بل لانے کی کوشش کی جائے، لیکن ایسا کرنا قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ دستور سے بھی انحراف کے مترادف ہوگا۔

باقی رہی یہ بات کہ سزائے موت کو قانون کو چھیڑے بغیر ملک میں اس وقت سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعظم نے صدر کو سمری بھجوائی ہے تو اس حوالے سے بھی شرعی پوزیشن یہ ہے کہ ’’قتل نفس‘‘ سے تحفظ کو قرآن کریم نے حقوق اللہ اور ریاست کا حق قرار دینے کے ساتھ ساتھ ’’حقوق العباد‘‘ میں بھی شامل کیا ہے اور اس میں قاتل سے قصاص لینے یا قصاص معاف کر کے دیت (خون بہا) وصول کرنے یا دیت بھی معاف کر دینے کو مقتول کے ورثاء کا حق بتایا ہے، اس لیے قصاص یا دیت کے کسی معاملے میں مقتول کے وارث اگر معاف کر دیں تو وہ سزا معاف ہوتی ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حتیٰ کہ ریاست بھی اس حق کو صاحب حق کی مرضی کے بغیر معاف نہیں کر سکتی۔ ہمیں سزائے موت کے قیدیوں کو موت کے پھندے تک لازماً پہنچانے سے کوئی غرض نہیں ہے اور اگر وہ کسی جائز ذریعے سے موت کے پھندے سے بچ جائیں تو ہمیں بھی خوشی ہوگی، لیکن اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے اور ایسا کوئی عمل قرآن و سنت کے احکام کو کراس کر کے نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے صدر کو سمری بھیجنے کی بجائے ان مقتولین کے خاندانوں سے رابطہ کریں اور انہیں راضی کر کے ان کی طرف سے ان قیدیوں کو معافی دلوانے کی کوشش کریں جن کے قتل کے جرم میں انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے، اس لیے کہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے اور قرآن و سنت کی ہدایات بھی یہی ہیں۔

   
Flag Counter