مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۱۹۹۴ء

(19 و 20 اپریل 1994ء کو مارگلہ موٹل اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے ’’اکیسویں صدی کا چیلنج اور دینی صحافت‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ مدیران جرائد نے شرکت کی۔ 19 اپریل کو سیمینار کے دوسرے اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل مقالہ پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے کی۔)

مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے دار ہے۔

انسانی معاشرہ میں آج تک جتنے قوانین، ضابطوں اور اصولوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔

  1. ایک حصہ ان اصولوں اور قوانین و ضوابط پر مشتمل ہے جن کی تشکیل خود انسانی ذہن کی ہے۔ شخصی آمریت، بادشاہت، طبقاتی حکمرانی اور جماعتی ڈکٹیٹرشپ کے مراحل سے گزرتے ہوئے انسانی ذہن آج سولائزیشن اور جمہوریت کے نام سے ارتقا کی آخری منزل سے ہمکنار ہو چکا ہے۔
  2. دوسرا حصہ اس نظام حیات کے تدریجی مراحل سے عبارت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر مختلف مراحل طے کرتا ہوا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی پر مکمل ہوگیا ہے۔ جبکہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ کا پیش کردہ نظام حیات قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی صورت میں موجود ہے۔

مغرب کا دانشور دنیا کو یہ نوید دے رہا ہے کہ انسانی معاشرہ کی فلاح و بہبود کے لیے انسانی ذہن جو کچھ سوچ سکتا تھا وہ سوچ چکا ہے اور اس کی کاوشوں کی معراج آج کے مغربی معاشرہ کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے، اب اس سے آگے بڑھنا انسانی ذہن کے بس میں نہیں ہے، اس لیے اس سے بہتر کسی نظام حیات کی توقع انسانی ذہن سے نہیں کرنی چاہیے۔ مغربی دانشور کا یہ کہنا بالکل درست ہے لیکن درست ہونے کے باوجود نامکمل ہے اس لیے کہ مغربی دانشور کے سامنے صرف انسانی ذہن کی کاوشیں ہیں اور وحی الٰہی کے تدریجی مراحل یا تو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں یا اس نے جان بوجھ کر اس حقیقت سے گریز اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ حالات کی اصل تصویر یوں ہے کہ ایک طرف انسانی ذہن کے تشکیل کردہ نظام ہائے حیات ہیں جن کی آخری اور ترقی یافتہ شکل مغربی فلسفہ و تہذیب کی صورت میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر تسلط جمائے ہوئے ہے، اور دوسری طرف وحی الٰہی کا پیش کردہ نظام حیات ہے جس کا مکمل نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ اب یہ دونوں نظام ہائے حیات اپنی کشمکش کے ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہونے والے ہیں جس کی تیاریوں اور ریہرسل کے مناظر اس وقت بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

مغرب کا فلسفہ حیات اس فکر میں ہے کہ اس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران انسانی معاشرہ پر جو تسلط قائم کیا ہے وہ کمزور نہ ہونے پائے بلکہ اس کے دائرے میں وسعت پیدا ہو۔ جبکہ وحی الٰہی کی بنیاد پر تشکیل پانے والا نظام حیات دنیا بھر کے اہل دین کی خواہشات اور آرزوؤں کی گہرائیوں سے ابھر کر سطح ارض پر جلوہ نمائی کے لیے بے تاب ہے اور کھلی آنکھیں رکھنے والے دور افق پر طلوع سحر کے آثار دیکھ رہے ہیں۔

مغربی فلسفہ حیات جو خود کو سیکولرزم، جمہوریت، سولائزیشن، آزادی اور انسانی حقوق کے دلکش لیبلز سے مزین کیے ہوئے ہے انسانی زندگی کے ساتھ وحی الٰہی کے ایسے تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جو انسانی معاشرہ کے کسی بھی اجتماعی دائرہ کے لیے حدود کار کا تعین کرتا ہو۔ اور وہ زندگی کے اجتماعی امور کے حوالہ سے انسانی عقل ہی کو آخری اور فیصلہ کن اتھارٹی قرار دے کر اجتماعی عقل کی خدائی کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ یہ فلسفہ دراصل اس یورپ کا فلسفہ ہے جس نے کلیسا، بادشاہت اور جاگیرداری کے مشترکہ مظالم کی چکی میں صدیوں تک پستے رہنے کے بعد اس گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہت اور جاگیرداری کے حق میں کلیسا اور پادریوں کے جانبدارانہ و ظالمانہ کردار سے متنفر و دلبرداشتہ ہو کر رد عمل کے طور پر مذہب اور وحی الٰہی کی رہنمائی سے ہی انکار کر بیٹھا۔

آج دنیا کے پانچ آباد براعظموں میں سے تین یعنی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پر اس فلسفہ کی حکمرانی ہے۔ جبکہ ایشیا اور افریقہ میں تسلط قائم کرنے کے لیے اس کے پیروکار مسلسل ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یورپ کے باشندوں نے کولمبس اور واسکوڈی گاما کی صورت میں دنیا کے دوسرے براعظموں میں آباد اور داخل ہونے کے لیے جس مہم کا آغاز کیا تھا اس کے نتیجہ میں امریکہ اور آسٹریلیا میں یورپی آباد کار مقامی آبادیوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آج ان دو براعظموں پر یورپی آباد کار ہی حکمران ہیں جبکہ اصل اور قدیمی آبادی کا ان ممالک کے اجتماعی نظام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ مگر افریقہ اور ایشیا نے یورپی آبادکاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے یورپین حکمرانوں کو ان براعظموں میں اپنے مفادات کی حفاظت اور یورپی فلسفہ کی حکمرانی کے لیے ایک درمیانی نسل جنم دینا پڑی جو افریقہ اور ایشیا کے ممالک پر اس وقت حکمران ہے اور مغربی آقاؤں کی خواہشات و ہدایات اور اپنے ممالک کے عوام کے مفادات و نظریات کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ گئی ہے۔ آج ہمارا اصل المیہ یہی حکمران طبقے ہیں جو جسمانی اعتبار سے ایشیائی اور افریقی ہیں مگر ذہن، سوچ اور تربیت کے لحاظ سے یورپین ہیں۔ ان حکمرانوں کے ذریعے سے افریقہ اور ایشیا کے عوام سے یورپین آبادکاروں کو قبول نہ کرنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔

عالمی تناظر سے ہٹ کر وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے اس کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو واقعات کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی میں مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور جنگ آزادی کے آخری مراحل میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کر کے تقسیم ہند کی راہ ہموار کی، اس طرح دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود نمودار ہوگیا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن عزیز میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مغربی فلسفہ کو ہی منزل قرار دے لیا گیا اور ملک میں مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی حکمرانی یا قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ایک طویل کشکش کا آغاز ہوگیا۔ اس کشمکش میں ایک طرف برطانوی حکمرانوں کی پیدا کردہ حکمرانوں کی دوغلی نسل ہے جو اپنی ہی طرح کا نظام پاکستان پر مسلط رکھنا چاہتی ہے اور اس کی پشت پر پورا مغرب اپنے تمام تر وسائل اور توانائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نظریاتی حلقے اور کارکن ہیں جو جنگ آزادی اور قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ جمہوریت، سیکولرزم، سولائزیشن، انسانی حقوق اور آزادی کے حوالہ سے پیش کیے جانے والے مغربی فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مغربی فلسفہ آج ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہے اور اس کے پیروکار اسلامی فلسفہ حیات کو اجتماعی نظام سے بے دخل کرنے کے لیے کن کن مورچوں سے ہم پر حملہ آور ہیں؟ اس کے عملی نقشہ پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لیے واقعات کی ایک ترتیب پیش خدمت کی جا رہی ہے جس سے اس نقشہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

  • پاکستان کے دینی حلقوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کا اعلان کرنے والی قرارداد مقاصد، اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے کی دفعہ، اور تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دستور پاکستان میں شامل ہے۔ لیکن ان کے باوجود نوآبادیاتی نظام ملک میں تسلسل کے ساتھ موجود ہے اور اسے نہ صرف آ ئینی تحفظ حاصل ہے بلکہ جب بھی اس نظام کے کسی بنیادی حصہ کو اپنی جگہ سے ہلانے کی کوشش ہوتی ہے پورا اجتماعی نظام اس کی حفاظت کے لیے مستعد ہو جاتا ہے۔
  • 1987ء میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے جو شرائط پیش کیں اور جن کے پورا نہ ہونے کے باعث یہ امداد بدستور بند چلی آرہی ہے، ان میں ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور منشیات کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے منافی قوانین نافذ نہ کرنے، اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین ختم کرنے، اور قادیانیوں کے جداگانہ تشخص کے لیے کیے گئے اقدامات کو رول بیک کرنا بھی شامل ہے۔ انسانی حقوق کے منافی قوانین سے مراد مغرب کی نظر میں سنگسار کرنے، ہاتھ کاٹنے، کوڑے لگانے اور مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کے قرآنی احکام ہیں جس کی قانونی تشریح کی ایک جھلک ہم پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والی اس بحث کے حوالہ سے دیکھ چکے ہیں کہ مجرم کو کھلے بندوں سزا دینا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین سے مراد جداگانہ الیکشن کا قانون ہے جسے ختم کرانے کے لیے مغربی لابیاں اس وقت اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔
  • قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کے لیے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے ملک گیر تحریک چلی۔ اس کے لیے تمام مکاتب فکر نے مشترکہ مہم کا اہتمام کیا، سینٹ آف پاکستان نے ایک مرحلہ پر اسے منظور بھی کر لیا لیکن قومی اسمبلی میں منظوری کے فیصلہ کن مرحلہ میں اس کا کیا حشر ہوا؟ یہ اسلامائزیشن کی تاریخ کا ایک دلخراش باب ہے۔ قرآن و سنت کی بالادستی کو سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کے متاثر نہ ہونے کی شرط کے ساتھ مشروط کر کے مغربی فلسفہ کی جے (بالادستی) کا اعلان کر دیا گیا۔ اور پاکستان میں متعین امریکی سفیر نے اس پر کھلے بندوں اطمینان کا اظہار کر کے ان زیر زمین کہانیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی جو شریعت بل کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے امریکی سفارت خانہ کی درون خانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
  • قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت کی حیثیت دے کر ان کے جداگانہ تشخص کے تعین کے لیے کیے گئے آ ئینی و قانونی اقدامات پر مغربی لابیوں نے انسانی حقوق کے نام سے الگ شور مچا رکھا ہے۔ اور جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے ان اقدامات کو قادیانیوں کے انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کے علاوہ یہ مسئلہ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ایجنڈے پر اس وقت بھی موجود ہے۔
  • شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ دستور پاکستان کے بعض بنیادی فیصلوں کا ناگزیر تقاضہ ہے لیکن مغرب کے مسلسل دباؤ نے اس کا راستہ روک رکھا ہے۔
  • وفاقی شرعی عدالت نے سود سے تعلق رکھنے والے قوانین کو غیر شرعی قرار دے کر ان کے خاتمہ کے لیے وفاق پاکستان کو ایک متعین وقت دے دیا مگر یہ مغربی ممالک اور لابیوں اور ذرائع ابلاغ کا مسلسل پراپیگنڈا اور دباؤ ہی تھا جس نے حکومت پاکستان کو اس فیصلہ پر عملدرآمد سے روکا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر مجبور کر دیا۔
  • گستاخی رسولؐ دنیا کے ہر مذہب میں ناقابل معافی جرم ہے۔ خود بائبل میں مذہبی پیشوا کی توہین پر موت کی سزا کا حکم ہے اور اسلام بھی گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون پیش کرتا ہے۔ لیکن جب سے پاکستان میں یہ قانون نافذ ہوا ہے مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیاں اس کے خلاف مسلسل حرکت میں ہیں اور اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی راہ نماؤں کے وفد کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تحریری طور پر جو مطالبات دیے ہیں ان میں آٹھویں آ ئینی ترمیم، جداگانہ انتخاب اور گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کا خاتمہ شامل ہے۔ بلکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان شرائط و مطالبات کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کر کے اس سلسلہ میں اپنے دباؤ کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
  • آٹھویں آ ئینی ترمیم کا خاتمہ مغربی لابیوں کی محنت کا ایک مستقل موضوع ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ آ ئینی ترمیم وفاقی شرعی عدالت، جداگانہ الیکشن کے قانون، امتناع قادیانیت آرڈیننس، حدود آرڈیننس، اور دیگر اسلامی قوانین کو دستوری تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس ترمیم کے خاتمہ سے ان تمام امور کے خاتمہ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
  • ذمہ دار حلقوں کا یہ انکشاف بھی صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چند سال قبل ملک میں شروع کی جانے والی مسجد مکتب اسکیم کا تعلیمی پروگرام بھی امریکی دباؤ کے تحت ختم کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس طرح نئی نسل مولوی کے زیر اثر آ کر بنیاد پرست ہو جائے گی۔

یہ ہے اس مسلسل اور مربوط محنت کی ایک جھلک جو ہمارے معاشرہ پر مغربی فلسفہ کی گرفت کو قائم رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس محنت کے پیچھے امریکہ ہے، پورا مغرب ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ہیں، انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے محافظ طبقے ہیں، اسلامی نظام کے نفاذ سے اپنے مفادات کو خطرہ محسوس کرنے والے طاقتور گروہ ہیں، اور قومی زندگی کے مختلف اجتماعی شعبوں میں اہم حیثیت رکھنے والے افراد ہیں۔ ان سب کی مشترکہ تگ و دو کے اس نتیجہ کو ایک واقعی حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ دینی حلقے جو 1947ء کے بعد سے 1984ء تک اسلامائزیشن کے محاذ پر سست رفتار سہی مگر کچھ نہ کچھ پیش رفت کرتے دکھائی دے رہے تھے اب دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں۔ اور اس دفاعی لائن کے پیچھے بھی ان کی صفوں میں اشتراک و اتحاد نہیں ہے، ترتیب نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہے، مسائل کے ادراک و تجزیہ کا ذوق نہیں ہے اور ترجیحات کو درست کرنے کا احساس نہیں ہے۔

معافی کا خواستگار ہوں کہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے عالم اسلام اور پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور مغربی فلسفہ کی کشمکش کا تعارف قدرے تفصیل کے ساتھ آپ حضرات کے سامنے لانا پڑا۔ لیکن جب مغربی فلسفہ کی یلغار کے حوالہ سے دینی صحافت کی ذمہ داریوں پر بحث مقصود ہے تو اس یلغار کے مالہ و ما علیہ پر ایک نظر ڈال لینا ضروری تھا۔ اس پس منظر میں دینی صحافت کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ

  • اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش کے عالمی تناظر میں دنیا کے واقعات، حقائق، مسائل اور مشکلات کو سامنے لائے اور اپنے قارئین کو ان سے آگاہ کرے۔
  • اسلام کے خلاف کام کرنے والی لابیوں اور تنظیموں کی نشاندہی کرے اور ان کے طریق واردات کو بے نقاب کرے۔
  • انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جائزہ لے کر علمی و تحقیقی انداز میں ان کا جواب دے۔
  • مغربی تہذیب و فلسفہ نے انسانی معاشرہ کو جن پریشانیوں، مشکلات اور مسائل سے دوچار کر رکھا ہے، تجزیہ و تحقیق کے حوالہ سے ان کو سامنے لائے اور پورے اعتماد و حوصلہ کے ساتھ ان خرابیوں کو اجاگر کر کے رائے عامہ کو ان سے روشناس کرائے۔
  • دینی حلقوں کے انتشار کو کم کرنے اور باہمی مشاورت و اشتراک عمل کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔
  • اپنے محدود دائرہ پر قناعت کرنے کے بجائے اسے وسعت دینے کا اہتمام کرے اور ان مقامات تک موثر رسائی کی راہ نکالے جو مغربی فلسفہ کی اس یلغار کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  • علماء کرام، خطباء، مبلغین اور دینی کارکنوں کی غالب اکثریت جو دینی مدارس میں فکری تربیت اور ذہن سازی کے فقدان کے باعث مذکورہ فکری و نظریاتی کشمکش اور اس کے تقاضوں سے بے خبر ہے، اس کی ذہن سازی اور فکری راہنمائی و تربیت کو اپنی ترجیحات میں بنیادی اہمیت دے۔

یہ سارے وہ کام ہیں جو موجودہ حالات میں دینی صحافت کی ذمہ داریوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دینی صحافت کا موجودہ ڈھانچہ اپنی ہیئت اور ترجیحات کے حوالہ سے ان امور کو اہمیت نہیں دے پارہا جس کی ضرورت ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ دینی صحافت کے موجودہ دائرہ کار پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہمارے ملک میں شائع ہونے والے دینی جرائد کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

  1. بعض جرائد مختلف دینی جماعتوں کے آرگن کے طور پر شائع ہوتے ہیں۔
  2. بعض جرائد اسلام کے حوالہ سے کام کرنے والی بعض شخصیات کے ترجمان ہیں۔
  3. بعض جرائد علمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
  4. اور بعض جرائد وہ ہیں جو مسالک اور مکاتب فکر کے حوالہ سے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔

ظاہر بات ہے کہ ان کی ترجیحات بھی اپنے اپنے مقاصد کے حوالہ سے یقیناً مختلف ہیں۔ ایسے جرائد جو جماعت، شخصیت، ادارہ اور مسلک کی ترجیحات کے دائروں سے بے نیاز ہو کر عالم اسلام کی مشکلات و مسائل، مغربی فلسفہ کی یلغار، اسلامائزیشن کے تقاضوں اور سیکولر لابیوں کی سرگرمیوں کی بنیاد پر اپی ترجیحات کا آزادانہ تعین کر سکیں، ہمارے معاشرہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور جو چند ایک ہیں خود ہمارے دینی حلقوں کا رویہ ان کے ساتھ حوصلہ افزائی کا نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی جرائد جن دائروں میں کام کر رہے ہیں وہ خدانخواستہ غیر ضروری ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے ہر کام کی ضرورت اپنے دائرہ میں مسلم ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ ترجیحات کا معاملہ مختلف ہے۔ اور میں بصد احترام یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام اور اسلامی تحریکات کے حوالہ سے مغربی فلسفہ اور لابیوں کی ہمہ جہت یلغار کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے دینی جرائد کی موجودہ ترجیحات مجموعی طور پر درست نہیں ہیں اور ہمیں ان پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے۔

میں نے جب محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب، ڈائریکٹر دعوہ اکیڈمی کی خدمت میں دینی جرائد کے مدیران کے اس سیمینار کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی تو میرے پیش نظر یہی بات تھی کہ ہمیں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر باہمی مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کرنی چاہیے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لینا چاہیے کہ عالم اسلام اور پاکستان کے حوالہ سے دینی صحافت سے ایک باشعور مسلمان کی توقعات کیا ہو سکتی ہیں؟ وہ توقعات اور ضروریات ہم کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟ اس راستہ کی مشکلات اور رکاوٹیں کیا ہیں؟ اور ضروریات اور کام کے درمیان جو خلا دکھائی دے رہا ہے اس کو پر کرنے کے لیے ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ میں ڈاکٹر غازی صاحب اور ان کے رفقاء کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری اس تجویز کو قبول کیا اور اس سیمینار کا اہتمام کر کے دینی جرائد کے باہمی رابطہ و ملاقات کے کار خیر کا آغاز کر دیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازتے ہوئے مثبت ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔

اس موقع پر میں اپنی تجویز کا دوسرا حصہ سیمینار کے معزز شرکاء کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھوں گا جو دعوۃ اکیڈمی کے لیے نہیں بلکہ شرکائے سیمینار کے لیے ہے کہ مشاورت کو مستقل شکل دینے کی کوئی عملی صورت نکالنی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم مختلف مقامات پر سال میں دو تین دفعہ جمع ہو کر مسائل اور ضروریات کا جائزہ لے لیا کریں تو باہمی مشاورت اور رابطہ کی برکت سے ہمارے کام کی ترجیحات اور تربیت کو خودبخود صحیح سمت مل جائے گی اور ہم اپنے موجودہ کام کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کر سکیں گے۔

اس مقصد کے لیے اگر کوئی ہلکی پھلکی سی سوسائٹی تشکیل دے لی جائے تو مناسب رہے گا۔ سوسائٹی سے میری مراد ٹریڈ یونین طرز کی کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے جو حقوق و مفادات اور مراعات کی دوڑ میں معاصر تنظیموں کے ساتھ شریک ہو۔ بلکہ خالصتاً علمی و فکری قسم کی سوسائٹی کا قیام مقصود ہے جو دینی جرائد کے درمیان مفاہمت اور اشتراک کی فضا پیدا کرے، ایک اسٹڈی سرکل کے طور پر پیش آمدہ مسائل کا تجزیہ کر کے دینی جرائد سے وابستہ افراد کی بریفنگ اور راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر کے دینی صحافت میں اچھا لکھنے والے افراد کا اضافہ کرے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ شرکائے سیمینار طویل سمع خراشی پر معذرت قبول کرتے ہوئے میری گزارشات اور تجویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے۔

محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی، محترم محمد افتخار کھوکر، اور الدعوۃ اکیڈمی کے دیگر رفقاء کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ توفیق عمل عطا کریں اور اسلام و عالم اسلام کو درپیش مسائل و مشکلات میں امت مسلمہ کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔