اختلافات کا دائرہ اور اہلِ علم و دانش کا اسلوب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مئی ۲۰۰۰ء

مجھے راجہ انور صاحب کے کالم کا انتظار تھا اور میری خواہش بھی تھی کہ ایسے مسائل پر سنجیدہ گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ اس سے مسائل کے تجزیہ و تنقیح اور توضیح و تشریح کے ضروری گوشے بے نقاب ہوتے ہیں اور عقل و استدلال کی بنیاد پر رائے قائم کرنے والے حضرات زیادہ بہتر انداز میں کسی نتیجہ تک پہنچنے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔

راجہ صاحب کے ساتھ اس گفتگو میں بنیادی طور پر دو نکات زیر بحث ہیں۔ ایک ’’مذہبی کج بحثی‘‘ کے حوالہ سے کہ راجہ صاحب کو شکایت ہے کہ مذہبی لوگوں میں برداشت اور دوسرے فریق کی رائے کے احترام کا مادہ کم ہوتا ہے جس سے مذہبی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور مذہبی بحث و مباحثہ افہام و تفہیم کے ماحول کا باعث بننے کی بجائے تنازعات کی شدت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ مجھے راجہ صاحب کی رائے سے اتفاق ہے لیکن ایک استثناء کے ساتھ کہ سب اہل دین اور اصحاب علم کے بارے میں یہ تاثر قائم کر لینا درست نہیں ہے۔ کیونکہ ارباب علم و دانش کا ایک بڑا طبقہ ہر دور میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے جو اختلافی مسائل اور مذہبی تنازعات پر بحث کے دوران سنجیدگی اور متانت کا دامن ہاتھ نہیں چھوڑتے اور اسی وجہ سے ان کے علمی اور تحقیقی انداز گفتگو کے مثبت اثرات و نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ مجھے چونکہ ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے اور ان سے استفادہ کا موقع بھی ملا ہے اس لیے ’’مذہبی کج بحثی‘‘ کے حوالہ سے راجہ صاحب کے اس تاثر کو ’’کلی اور عمومی تاثر‘‘ کے طور پر قبول کرنے میں مجھے تامل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک دو ذاتی واقعات کا تذکرہ شاید نامناسب نہ ہو اور ممکن ہے اس سے راجہ صاحب محترم کے اس تاثر کی شدت کو کم کرنے میں کچھ مدد مل جائے ۔

ایک واقعہ میرے استاذ محترم مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو قادیانیت کے خلاف اہل اسلام کے بہت بڑے اور کامیاب مناظر تھے اور اسی وجہ سے انہیں ’’فاتح قادیان‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ گزشتہ صدی عیسوی کی چھٹی دہائی کا قصہ ہے کہ وہ گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں علماء اور طلبہ کو قادیانیت کے سلسلہ میں تربیتی کورس کرانے کی غرض سے چند روز کے لیے تشریف لائے۔ میں ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھا اور قادیانیت کے عقائد کے بارے میں ابتدائی تیاری میں نے حضرت مولانا محمد حیاتؒ کے اس تربیتی کورس میں شامل ہو کر کی۔ کورس کے دوران ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا موضوع زیر بحث تھا۔ مولانا مرحوم نے قادیانیوں کے چند دلائل کا ذکر کیا اور ان کے جوابات سمجھائے پھر مجھے کہا میں اٹھ کر تقریر کی شکل میں ان کی گفتگو کا خلاصہ بیان کروں۔

یہ میرا نوجوانی کا دور تھا اور میں ایک دینی مدرسہ کا طالب علم تھا اس لیے گفتگو کا انداز فطری طور پر جذباتی اور جارحانہ تھا۔ چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بات کا حوالہ دینے کا موقع آیا تو میں نے اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا کہ ’’مرزا بھونکتا ہے‘‘۔ مولانا محمد حیاتؒ نے فورًا یہ کہہ کر مجھے ٹوک دیا کہ ’’ناں بیٹا ناں ایسا نہیں کہتے، وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے اس لیے بات یوں کرو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں لیکن ان کی یہ بات اس وجہ سے غلط ہے۔‘‘ استاذ محترمؒ کا یہ جملہ ذہن کے ساتھ کچھ اس طرح چپک گیا کہ اس نے سوچ کا زاویہ اور گفتگو کا انداز بدل کر رکھ دیا۔ اس لیے آج بھی جب اس واقعہ کی یاد ذہن میں تازہ ہوتی ہے تو مولانا محمد حیاتؒ کے لیے دل کی گہرائی سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے۔

دوسرا واقعہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا ہے جو میرے سب سے بڑے استاذ اور مربی ہیں۔ ان کا اپنا ذوق یہ ہے کہ اہل سنت، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، قادیانی، منکرین حدیث اور دیگر مذہبی گروہوں کے درمیان اختلافی مسائل پر انہوں نے پچاس کے لگ بھگ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے بعض خاصی ضخیم بھی ہیں لیکن ان کا انداز تحریر علمی، تحقیقی اور شستہ ہے۔ اس پر ایک تاریخی شہادت کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کے معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم ایک دور میں منکرین حدیث میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے حدیث رسولؐ کے حجت ہونے کے خلاف ’’دو اسلام‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں احادیث نبویہؐ پر اعتراضات کیے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں برصغیر کے بہت سے سرکردہ علماء نے کتابیں لکھیں اور والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے بھی ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتاری کے بعد ملتان سنٹرل جیل میں اسارت کے دوران ’’صرف ایک اسلام‘‘ کے نام سے اس کا جواب تحریر کیا۔

ڈاکٹر برق مرحوم نے ’’دو اسلام‘‘ کے اگلے ایڈیشن میں ان جوابی کتابوں کا تذکرہ کیا اور اعتراف کیا کہ ان میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی کتاب ’’صرف ایک اسلام‘‘ نے اپنے تحقیقی انداز اور شستگی کے باعث انہیں یعنی ڈاکٹر برق کو اپنی بہت سی باتوں پر ازسرنو غور کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ خیر اس کے بعد تو کایا ہی پلٹ گئی اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم بالآخر اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرتے ہوئے حدیث کی تاریخ اور حجیت پر ایک مستقل کتاب لکھ کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین۔

اس سلسلہ میں میرا واقعہ یوں ہے کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں ایک بار رؤیت ہلال میں شہادت کے مسئلہ پر علماء کرام میں اختلاف پیدا ہوگیا اور اخبارات و رسائل میں مضامین و بیانات شائع ہونے لگے۔ مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ اہل حدیث مکتب فکر کے بڑے علماء میں سے تھے، بڑے مناظر تھے اور خالص مناظرانہ مزاج رکھتے تھے۔ بعد میں میری ان سے خاصا عرصہ نیازمندی رہی ہے اور میں ان کی شفقت اور دعاؤں سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ اس زمانے میں ان کاایک مضمون غالباً ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع ہوا جو ہمارے موقف کے برعکس تھا۔ میں نے اپنے طور پر اس کا جواب لکھا اور تصحیح کے لیے والد صاحب کو دکھایا جس پر مجھے ان کی سخت ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا اور یوں یاد پڑتا ہے کہ شاید انہوں نے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ بھی اٹھایا مگر بات صرف ہاتھ اٹھانے تک رہ گئی۔

میں نے اس جوابی مضمون میں مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ کے مضمون کا ایک جملہ اس انداز سے لکھا تھا کہ ’’حافظ عبد القادر لکھتا ہے‘‘۔ والد صاحب نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’وہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے؟ ہو سکتا ہے عمر میں تمہارے باپ سے بھی بڑا ہو اس لیے اس طرح لکھو کہ مولانا حافظ عبد القادر روپڑی یوں لکھتے ہیں مگر مجھے ان کی اس بات سے اختلاف ہے۔‘‘

اس لیے راجہ انور صاحب سے گزارش ہے کہ اختلاف کو علم و دانش کے دائرے تک محدود رکھنے اور مخالفین کی رائے اور شخصیت کا احترام کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔ بات صرف ان تک رسائی کی ہے جو تعلقات، نمود و نمائش، نفانفسی، اور چھینا چھپٹی کے اس دور میں روز بروز مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ اور میرے نزدیک اس حوالہ سے ہمارا اصل المیہ یہی ہے ورنہ جہاں تک اختلاف کا تعلق ہے تو وہ انسانی فطرت کا اظہار اور عقل و دانش کا خوش ذائقہ ثمر ہے جو اپنی جائز حدود کے اندر اور جائز طریقہ سے ہو تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق امت کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ اور اسے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کیا خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ کے درمیان مسائل میں اختلاف نہ ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل اچھی نہ لگتی کیونکہ اس طرح امت ہر مسئلہ میں ایک لگے بندھے راستے پر چلنے کی پابند ہو جاتی۔ اب اختلاف ہے اور ایک ایک مسئلہ میں چار چار پانچ پانچ اقوال ہیں، تنوع ہے، چوائس ہے اور امت کے ارباب علم و دانش اپنے اپنے فہم، ذوق، ضرورت، حالات اور سہولت کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں جس سے علم و دانش کی دنیا رنگارنگ کے خوشنما پھولوں کے ایک چمنستان کا روپ اختیار کر گئی ہے۔