مفتی اعظم سعودی عرب کا خطبہ حج اور او آئی سی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۲۰۰۲ء

اس سال بیس لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں نے سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ حفظ اللہ تعالیٰ کی امامت میں حج ادا کیا۔ دنیا مختلف علاقوں سے آنے والے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان منیٰ میں چار پانچ روز تک خیموں میں اکٹھے رہے، عرفات کے میدان میں ۹ ذی الحجہ کو وقوف کیا، مزدلفہ میں رات گزاری، جبل رحمت پر حاضری دی، شیطان کو کنکریاں ماریں، منیٰ میں لاکھوں جانور ذبح کیے، اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی، اور زم زم کے بابرکت پانی سے اپنے سینے اور آنکھیں ٹھنڈی کیں۔

فتح مکہ کے بعد ۹ ہجری کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود حج کے لیے تشریف نہیں لا سکے تھے اور اسلامی تاریخ کے اس سب سے پہلے حج کی امامت کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مقرر کیا تھا۔ چنانچہ ان کی امارت و امامت میں مسلمانوں نے یہ حج ادا کیا، جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جناب رسول اللہؐ کے نمائندہ کی حیثیت سے اس موقع پر اہم اعلانات فرمائے تھے۔ اس سے اگلے سال ۱۰ ہجری کو حج کی امامت خود جناب رسول اللہؐ نے فرمائی اور وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو حجۃ الوداع کے خطبہ کے عنوان سے انسانی حقوق اور عالمگیریت کے سب سے پہلے باضابطہ منشور کے طور پر تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہے۔ اس کے بعد حضرات خلفائے راشدینؓ حج میں مسلمانوں کی امامت کرتے رہے اور پھر یہ معمول بن گیا کہ خلیفۃ المسلمین خود یا ان کے مقرر کردہ کوئی نمائندہ حج کے امیر ہوتے اور جناب رسول اللہؐ کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے مسجد نمرہ میں ظہر و عصر کی نماز اکٹھی پڑھاتے اور امامت کرنے کے ساتھ ساتھ خطبہ بھی ارشاد فرماتے۔

اس سال یہ سعادت سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی ہے جو عظیم داعی الشیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ تعالیٰ کے خاندان سے ہیں اور اسی نسبت سے آل الشیخ کہلاتے ہیں۔ سعودی عرب میں آل سعود اور آل شیخ کی اصطلاحات عام طور پر دیکھنے سننے میں آتی ہیں۔ یہ دو خاندانوں کے نام ہیں۔ ایک حکمران خاندان ہے جو آل سعود کہلاتا ہے جبکہ دوسرا الشیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان ہے جو آل شیخ کہلاتا ہے۔ سعودی مملکت کے قیام کے وقت سے ان دو خاندانوں میں شراکت اقتدار اور تعاون کا یہ معاہدہ چلا آرہا ہے کہ مذہبی اور عدالتی امور میں آل شیخ کی بالادستی ہے اور ان کے فیصلوں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے جبکہ سیاسی و معاشی اور دیگر اجتماعی معاملات آل سعود کے کنٹرول میں ہیں۔

آل شیخ کے ایک محترم بزرگ الشیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ تک تو آل شیخ کےکنٹرول کی صورتحال بہت واضح تھی کہ وہ سعودی عرب کے چیف جسٹس تھے اور شاہ فیصل شہید کے ماموں بھی تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک حق گو، خدا ترس اور بے باک عالم دین تھے اس لیے وہ کسی بات کی پرواہ کیے بغیر حکومتی حلقوں کو کسی بھی غلط اور غیر شرعی بات پر ٹوک دیا کرتے تھےا ور چیف جسٹس کی حیثیت سے فیصلہ بھی صادر کر دیا کرتے تھے۔ مگر ان کی وفات کے بعد اس منصب کو ’’قاضی القضاۃ‘‘ کی بجائے ’’مفتی اعظم‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا اور اس پر ایک بزرگ عالم دین الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن بازؒ فائز ہوئے جن کا تعلق آل شیخ سے نہیں تھا، البتہ وہ علمی و دینی طور پر اسی خانوادہ کے فیض یافتہ تھے۔ اور اب ان کی وفات کے بعد آل شیخ کے ایک بزرگ الشیخ عبد العزیز اس منصب پر فائز ہوئے ہیں جن کی امامت میں اس سال مسلمانان عالم نے فریضۂ حج ادا کیا ہے۔

گزشتہ دنوں سعودی حکومت کے اس اعلان پر ہم نے ردعمل کا اظہار کیا تھا کہ حج کے اجتاع میں امریکہ کے خلاف تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ حج مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہوتا ہے جس میں عالم اسلام کے اجتماعی اور ملی مسائل کا زیربحث آنا ضروری ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے دور سے یہ سنت چلی آرہی ہے کہ حج کے اجتماع میں مسلمانوں کے اجتماعی اور عالمی مسائل کے حوالہ سے ان کی اجتماعی راہنمائی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اور آج عالم اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ امریکی تسلط ہے اس لیے یہ بات کہنا کہ حج کے اجتماع میں امریکہ کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے خود حج کی اجتماعیت اور فلسفہ کے منافی ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبۂ حج میں اس ضرورت کو محسوس کیا ہے اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں مسلمانوں کی دینی و فکری راہنمائی کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ ہمارا مقصد بھی یہی تھا کہ حج کے عالمی اجتماع میں ملت اسلامیہ کی ملی و دینی مسائل میں راہنمائی کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کی مشکلات کیا ہیں اور ان مشکلات و مسائل کو حل کرنے کے لیے انہیں کیا کچھ کرنا چاہیے۔ الشیخ عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے خطبۂ حج میں جو کچھ فرمایا اس کے چند اہم حصے درج ذیل ہیں:

  • آج دنیا بھر کے مسلمان ظلم کا شکار ہیں، اسلام مظلوم کی مدد کا سبق دیتا ہے اور اس کے دفاع کے لیے کہتا ہے۔ تمام مسلمانوں کو مظلوم فلسطینیوں کا دفاع کرنا چاہیے۔ اسلام ظلم کی مذمت کرتا ہے مگر کچھ لوگ ان مظالم سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ اسلام کا مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا ہے۔ اسلام اللہ کی غلامی کا درس دیتا ہے اور انسانوں کو ظلم سے بچا کر عدل کا سبق دیتا ہے۔ اسلام مساوات کا مذہب ہے اور ہر قسم کے علاقائی، نسلی، لسانی و گروہی تعصبات کا خاتمہ کرتا ہے۔
  • اسلام ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو انسانوں کو تباہ کرنے والا اسلحہ بنا رہے ہیں۔ یہ اسلحہ اور بارود انسانیت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہتھیار انسانوں کے حقوق کے خاتمے اور انسانیت کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مستقبل میں ان ہتھیاروں کی وجہ سے پوری انسانیت تباہی کی زد پر ہے اور اسلحہ انسانیت کی تکریم اور عزت کو پامال کرنے کی علامت ہے۔
  • دہشت گردی ناانصافی اور ظلم کے برابر ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کو ایسے عظیم مذہب کے ساتھ کیسے منسلک کیا جا سکتا ہے جو انسانی زندگی کا بہت زیادہ احترام کرتا ہے اور جنگ کی بجائے امن کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام بچوں، عورتوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل سے سختی سے روکتا ہے۔ یہ معاہدوں اور سمجھوتوں کا احترام کرتا ہے اور ہر وقت حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔
  • ان دنوں اسلامی ممالک میں اہم واقعات سرزد ہو رہے ہیں جو ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہب کے دفاع کے لیے متحد ہو جائیں اور اپنے مذہب پر سختی سے کاربند رہیں۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے گناہوں کی شامت کے باعث ہے۔ کمزور عقائد، مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے اس کا سب ہیں۔ ہم ہر چیز کا الزام اپنے دشمنوں پر کیوں عائد کریں؟
  • مسلمان غیروں پر بھروسہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ساری نعمتیں عطا کی ہیں جن سے ہم معاشی خود کفالت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے وہ غیروں کے پنجے سے معاشی آزادی حاصل کریں۔ آج مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے اور دنیا کے اندر جغرافیائی لحاظ سے بہترین خطے میں ہر قسم کی نعمتیں اور طاقت کے ذرائع انہیں عطا کیے ہیں۔ یہ سب ان کے پاس ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمان گروہ بندیوں کا شکار ہیں، مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، مسلمانوں کے دلوں میں بزدلی گھر کر چکی ہے اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی وجہ سے آج وہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔
  • سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان اور داعی ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر مسلمان دینی ذمہ داری کو محسوس کر لیں اور ہر مسلمان دوسرے کی فکر کرنے کی بجائے اپنی اپنی فکر کرے اور اپنے خاندان اور اپنی رعیت کے جو لوگ اس کے ماتحت ہیں ان کی فکر کرے تو اس سے ایک بہت بڑی اصلاح کی صورت اور بہت بڑی تبدیلی ہم اپنے معاشروں میں پیدا کر سکتے ہیں۔
  • مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے دین کی دعوت کو عصری زبان میں، اس زبان میں کہ جو آج کے انسان سمجھتے ہیں، نہایت سادہ پیرائے میں ان لوگوں تک پہنچائیں جو اس دین میں داخل نہیں ہیں۔ ہمیں ان لوگوں تک دین کی دعوت کو اپنے عمل کے ذریعہ اور آسان زبان میں حکمت کے ساتھ پہنچانا چاہیے۔
  • آج اس دین کے دشمن چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی نئی نسل کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیں۔ آج غیر مسلم میڈیا اور مسلمانوں کے دشمن ہر طریقے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نئی نسل طرح طرح کی برائیوں میں پڑ جائے، انہیں شراب کی لت لگ جائے اور وہ رقص و سرود میں مبتلا ہو جائیں اور اس طرح سے جو ان کی تخلیقی اور عملی صلاحیتیں یا وہ صلاحیتیں کہ جن کی وجہ سے وہ اس امت کو عروج کی طرف اور ترقی کی طرف لے جا سکتے ہیں ان پر وار کیا جائے اور ان صلاحیتوں کو ختم کر دیا جائے۔ دشمن کی چال یہ ہے کہ امت مسلمہ کی نئی نسل کو بے عمل بنا دے اور اسے غفلت میں مبتلا کر دے۔
  • مسلمان اپنے معاملات کے اندر خود کفیل ہوں، اپنی معیشت کے معاملہ میں وہ دوسروں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اس طرح کے اقدامات کیے جائیں کہ مسلمان استعمار اور غیروں سے نجات حاصل کریں۔ خاص طور پر معاشی معاملات میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں اور اتنے معیار اور مادی مواقع عطا کیے ہیں کہ اس حکمت عملی کو آسانی سے اختیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ معاشی خود کفالت حاصل کریں اور غیروں کے پنجہ اور ان کے قبضہ سے آزادی حاصل کریں۔
  • مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں، اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور اچھے مسلمان بنیں۔ اسی طرح آج مسلم ممالک کے حکمران اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کا عہد کریں۔ وہ دوسروں کی بجائے اپنی رعیت اور گھر والوں کی فکر کریں اور ان کا خیال کریں تو وہ مسلمان معاشروں میں اصلاح کر سکتے ہیں اور اس سے اسلامی معاشروں میں انقلاب بپا ہوگا۔

ہم سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو عالم اسلام کے اجتماعی ضمیر کی آواز سمجھتے ہیں، وقت کی پکار تصور کرتے ہیں اور دین و ملت کی صحیح نمائندگی قرار دیتے ہوئے انہیں حق اور اہل حق کی ترجمانی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ مسلم حکمرانوں کی عالمی تنظیم او آئی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حج کے موقع پر بیس لاکھ مسلمانوں کے عالمی اجتماع میں دیے گئے اس خطبہ کو پوری ملت اسلامیہ کی اجتماعی اپیل تصور کرتے ہوئے او آئی سی کے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور اسے او آئی سی کی آئندہ پالیسیوں کی بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا جائے۔

درجہ بندی: