عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ برطانیہ میں بھی یہی صورتحال رہی اور عید الفطر ایک روز منانے کی عوامی خواہش اور تمنا ایک بار پھر دم توڑ گئی۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور اگلے سال پھر وہی باتیں دہرانے اور علماء کرام اور رؤیت ہلال کمیٹی کو جلی کٹی سنانے کے لیے مواقع کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی۔

رؤیتِ ہلال کیوں، سائنسی حسابات کیوں نہیں؟

پہلی بات یہ ہے کہ رمضان اور عید کا چاند آنکھوں سے دیکھنے پر کیوں زور دیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں سائنسی آلات اور حساب کا اعتبار کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ صوموا لرؤیتہ و افطروا لرؤیتہ (رواہ مسلم) کہ چاند دیکھ کر رمضان شروع کرو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ۔ ورنہ سائنسی آلات اور سائنسی حساب سے علماء کرام کو کوئی ضد نہیں ہے اور وہ سورج کے طلوع و غروب کے اوقات، نمازوں کے اوقات کے تعین، اور دیگر معاملات میں سائنسی حساب کتاب کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ البتہ چاند کے مہینہ کے آغاز کے لیے ’’رؤیت‘‘ کو ضروری سمجھتے ہیں جس میں ان کی اپنی رائے کا کوئی دخل نہیں بلکہ جناب رسول اللہؐ کے ارشاد کی وجہ ہے کہ جہاں انہوں نے رؤیت کا حکم دیا ہے وہاں رؤیت ضروری ہے اور جہاں اس کا حکم نہیں دیا وہاں معروف اور مروجہ حساب کتاب کا لحاظ رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔

آخر سورج کے غروب اور طلوع کے ساتھ بھی تو شرعی احکام اور عبادات کا تعلق ہے، کیا علماء کرام کے کسی طبقے نے کبھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم سورج کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتا دیکھ کر روزہ کے افطار اور نماز مغرب کے وقت کے آغاز کا فتویٰ دیں گے؟ وہاں وہ ماہرین فلکیات کے مرتب کردہ نقشوں اور مروجہ گھڑیوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح انہیں چاند کے بارے میں ماہرین فلکیات کے نقشوں کو فیصلے کا مدار قرار دینے میں بھی کوئی انکار نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ اس کے بارے میں آنحضرتؐ کا حکم باقی معاملات سے مختلف اور جداگانہ ہے کہ آپؐ نے چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے آغاز اور چاند دیکھ کر ہی عید کرنے کا حکم دے رکھا ہے اس لیے علماء کرام رمضان اور عید کے لیے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔

کیا عالم اسلام میں ایک روز عید ممکن ہے؟

دوسری بات یہ ہے کہ کیا عالم اسلام میں ایک روز عید ممکن ہے؟ اس سلسلہ میں اصولی طور پر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پورے عالم اسلام کا مطلع ایک نہیں ہے۔ مثلاً پاکستان اور سعودی عرب کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق ہے اور سعودی عرب میں سورج پاکستان سے دو گھنٹے بعد غروب ہوتا ہے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ چاند ایسے وقت میں طلوع ہو کہ پاکستان میں نظر نہ آئے اور سعودی عرب میں نظر آجائے لہٰذا پاکستان اور سعودی عرب میں ایک دن یا بسا اوقات دو دن کا فرق بھی ہو سکتا ہے اور یہ بات سائنسی حساب کتاب میں تسلیم شدہ ہے۔ اسی طرح پورے عالم اسلام میں اوقات کے فرق کو دیکھ کر اندازہ کر لیجیے کہ انڈونیشیا سے مراکش تک اوقات کے فرق کی ترتیب کیا ہے۔ لہٰذا یہ بات تو طے شدہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کا مطلع ایک نہیں ہے اور ایک دن یا کبھی کبھار دو دن کا فرق پڑ جانا معمول کی بات ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مطلع کے اس اختلاف کا شرعاً اعتبار ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں فقہاء میں اختلاف ہے۔ فقہائے احناف کا معتبر قول یہ ہے کہ رؤیت ہلال میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں ہے، چنانچہ فتاویٰ دارالعلوم مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ دیوبند حصہ سوم صفحہ ۴۹ میں حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمانؒ فرماتے ہیں کہ

’’صحیح و مختار مذہب کے موافق اختلاف مطالع ہلال صوم و فطر میں معتبر نہیں، اہل مغرب کی رؤیت سے اہل مشرق پر حکم ثابت ہو جاتا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی حضرت مفتی صاحب نے ’’در مختار‘‘ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حنابلہ اور مالکیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ چنانچہ اگر اس قول کو اختیار کر لیا جائے تو کوئی الجھن باقی نہیں رہ جاتی اور عالم اسلام میں کسی جگہ بھی چاند نظر آجائے تو پورے عالم اسلام میں رمضان المبارک اور شوال المکرم کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور عید ایک روز منائی جا سکتی ہے۔

لیکن رؤیت کے نظام اور اس کے فیصلہ کے طریق کار کا مسئلہ پھر حل طلب رہ جاتا ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا اور اس فیصلے کا نفاذ کس کی ذمہ داری ہوگی؟ کیونکہ اس وقت خلافت عثمانیہ اور مغل حکومت کے خاتمہ کے بعد سے پورے عالم اسلام میں کوئی ایسا نظام اور ادارہ موجود نہیں ہے جو عالم اسلام کے حوالہ سے کسی اجتماعی فیصلے کا مجاز ہو یا کسی فیصلے کے عملی نفاذ کی اتھارٹی رکھتا ہو۔ اس لیے میرے نزدیک عید ایک دن نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ کوئی مرکزی نظام اور اتھارٹی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر مسلک اور علاقہ کے علماء کرام اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ چنانچہ اس صورتحال کا خاتمہ اس سے پہلے ممکن نظر نہیں آتا کہ خلافت اسلامیہ کا باقاعدہ قیام ہو اور وہ شرعی اتھارٹی کے طور پر رؤیت ہلال کا انتظام کر کے اس کے اعلان کی ذمہ داری قبول کرے کیونکہ پھر کسی علاقہ کے علماء کرام کے لیے جداگانہ فیصلے کا جواز باقی نہیں رہ جائے گا اور پورا عالم اسلام ایک روز عید منا سکے گا۔

کیا پاکستان میں ایک روز عید ممکن ہے؟

تیسری گزارش یہ ہے کہ یہ بات عام ذہنوں میں الجھن کا باعث بنی ہوئی ہے کہ پاکستان تو ایک ملک ہے، یہاں ایک روز متفقہ عید کیوں نہیں ہوتی؟ جبکہ مرکزی سطح پر رؤیت ہلال کمیٹی بھی قائم ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام موجود ہیں اور انہی کے فیصلے پر چاند کے دیکھے یا نہ دیکھے جانے کا اعلان ہوتا ہے۔ مگر اس کے باوجود صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پرواہ نہیں کی جاتی اور عام طور پر ایک روز قبل عید منائی جاتی ہے۔

اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اس کا تھوڑا سا پس منظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان کے اس علاقہ کے لوگ جہاں زیادہ تر پشتون آباد ہیں اپنے آپ کو کلچر اور ثقافت کے لحاظ سے افغانستان کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں اور اپنی روایات و اقدار میں اپنے افغان بھائیوں کے قریب رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ افغانستان میں ہمیشہ سے ایک روز پہلے عید ہوتی ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ وہاں کی غالب اکثریت حنفی ہے اور وہ احناف کے اصول کے مطابق اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرتے ہوئے سعودی عرب میں رؤیت ہلال کے اعلان پر عید کر لیتے ہیں، یا یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ افغانستان کی مغربی سرحد کا پاکستان کے ساتھ وقت کا اتنا فرق موجود ہے کہ پاکستان میں نظر نہ آنے والا چاند افغانستان کے مغربی حصے میں اسی روز نظر آ سکتا ہے، اس لیے وہ ایک روز پہلے چاند دیکھ لیتے ہیں۔ اس لیے جب افغانستان میں عید ہو جاتی ہے تو افغانستان کی سرحد سے ملنے والے پاکستانی علاقوں میں عید نہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستان کی سطح پر مرکزیت کی ضرورت

چوتھی گزارش یہ ہے کہ ہمارے ہاں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اور صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی میں اختلاف نے خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اس سال دو یا تین عیدوں کا ہونا ایک حد تک اس کا شاخسانہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ ان دونوں کمیٹیوں میں اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے اور اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اگر صوبہ سرحد کی کمیٹی نے شہادتوں کی بنیاد پر رؤیت ہلال کا فیصلہ کر لیا تھا تو مرکزی کمیٹی کو اسے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے تھا اور صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلہ پر اس کی ذمہ داری کی بنیاد پر ملک بھر میں عید کا اعلان کیا جا سکتا تھا۔

ہمارے خیال میں اس معاملہ کو فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل اس ساری صورتحال کا جائزہ لے کر رؤیت ہلال کمیٹی کے لیے کوئی ایسا نظام کار اور ضابطہ اخلاق طے کر دیں جس کی پابندی مرکزی اور صوبائی کمیٹیوں کے لیے ضروری ہو۔ ان کمیٹیوں کا باہمی اختلاف ایک ہی ملک بلکہ ایک ہی صوبہ اور علاقہ میں دو یا تین عیدوں کا باعث نہ بنتا رہے او رکم از کم پاکستان کے تمام مسلمان تو ایک ہی دن متفقہ طور پر عید منا سکیں۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ راقم الحروف نے اس مسئلہ کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں کا ایک مختصر واقعاتی جائزہ پیش کیا ہے اور آخری تجویز کے علاوہ کسی معاملہ میں اپنی رائے نہیں دی، ہاں کوئی صاحب علم اس سلسلہ میں اظہار خیال کریں گے تو مزید معروضات اور مختلف امور پر اپنی رائے پیش کرنے کا موقع بھی آجائے گا۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء