ابلاغ

میسج ٹی وی عکاظ کے میلے میں

میسج ٹی وی کے دفتر میں حاضری ہوئی تو کامران رعد صاحب اپنی رفقاء بھائی فاروق صاحب، عبد المتین صاحب، ڈاکٹر محمد الیاس صاحب (اسلام آباد)، حافظ محمد بلال فاروقی، اور دیگر ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ حج بیت اللہ کی میدان عرفات سے براہ راست نشریات کا سلسلہ جاری تھا اور امیر حج کا خطبہ شروع ہونے والا تھا جو گزشتہ تین عشروں سے سعودی عرب کے مفتی اعظم ارشاد فرما رہے ہیں۔ مگر اس دفعہ ان کی علالت کی وجہ سے امام حرمین فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔

۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

ٹی وی پروگراموں کے طے شدہ اہداف

ہمارے بہت سے اینکرز کی یہ پالیسی اور طریق کار ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو بات کہنے کا موقع دینے کی بجائے ان سے اپنی بات کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور خاص طور پر مذہبی راہ نماؤں کے بارے میں تو یہ بات طے شدہ ہے کہ مذہب کی نمائندگی کے لیے چن چن کر ایسے حضرات کو سامنے لایا جاتا ہے اور ان سے بعض باتیں حیلے بہانے سے اس انداز سے کہلوائی جاتی ہیں کہ مذہب کے نام پر کوئی ڈھنگ کی بات پیش نہ ہو سکے۔اور جو بات بھی ہو وہ مذہب اور مذہبی اقدار پر عوامی یقین و اعتماد کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔ ۔ ۔

یکم جولائی ۲۰۱۶ء

پاکستانی میڈیا یا لندن کا ہائیڈ پارک؟

کہا جا رہا ہے کہ ایسا ماحول جان بوجھ کر ریٹنگ میں اضافے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے مگر مجھے اس سے زیادہ اس کی پشت پر خفیہ ہاتھوں کی یہ پلاننگ دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان میں سیاست اور مذہب دونوں کے ماحول کو ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری کر دیا جائے اور باہمی نفرت و بے اعتمادی کے ایسے بیج اس معاشرے میں بو دیے جائیں کہ مذہب اور سیاست کے دو مقدس الفاظ نعوذ باللہ گالی بن کر رہ جائیں۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی منیب الرحمن کے بقول رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کو بھی اسی قسم کی میڈیائی خرافات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۶ جون ۲۰۱۶ء

خطابت ۔ ضروریات اور دائرے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت گویائی سے نوازا ہے جس کے مختلف مدارج ہیں اور ایک انسان جب بہت سے انسانوں کوخطاب کر کے اپنے جذبات و احساسات اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے تو اسے خطابت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس خطابت میں جس قدر فصاحت ہو گی اور مخاطبین کو سمجھانے کا بہتر انداز ہو گا اسی قدر و ہ کمال کی حامل ہو گی۔ خطابت زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح دین کی ضروریات میں بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۲ء

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی میڈیا کی یلغار

غزوۂ احزاب میں مشرکین کا محاصرہ ناکام ہوا تو اس پر جناب سرور کائناتؐ نے صحابہ کرامؓ کو یہ بشارت دی کہ یہ مکہ والوں کی آخری یلغار تھی، اس کے بعد مشرکین عرب کو مدینہ منورہ کا رخ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی، اب جب بھی موقع ملا ہم ادھر جائیں گے۔ البتہ ہتھیاروں کی جنگ میں ناکامی کے بعد اب مشرکین ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے، عرب قبائل ہمارے خلاف شعر و ادب کی زبان میں منافرت پھیلائیں گے اور خطابت و شعر کے ہتھیاروں کو استعمال میں لائیں گے ۔ ۔ ۔

۱۹ جون ۲۰۰۲ء

الجزیرۃ ٹی وی ۔ عالمی ابلاغیات میں تازہ ہوا کا جھونکا

الجزیرہ ٹی وی خلیج عرب کی ریاست قطر کا ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل ہے جس کی نشریات عربی میں ہوتی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ اس نے خبروں تک رسائی اور انہیں بروقت دنیا کے سامنے لانے کی تکنیک میں اس حد تک محنت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے کہ مغرب کے اکثر ٹی وی چینل افغانستان کے بارے میں اس کے حوالہ سے خبریں دینے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ اس میں بنیادی طور پر اس بات کا بھی دخل ہے کہ طالبان حکومت نے صرف الجزیرہ ٹی وی کو ہی افغانستان میں رپورٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کے صحافتی کردار کا تسلسل

مولانا محمد علی جوہرؒ کا ’’کامریڈ‘‘ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کا ’’الہلال‘‘ ایک دور میں ہماری ملی امنگوں اور جذبات کی علامت ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں ملی حمیت کا جذبہ بیدار رکھنے اور انہیں عالمی استعمار کی سازشوں سے خبردار کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو داخلی محاذ پر درپیش فتنوں کی طرف رخ نہیں کیا اور اپنی تمام تر توجہ خارجی محاذ پر مرکوز رکھی۔ مگر مولانا ظفر علی خانؒ اور شورش کاشمیریؒ نے داخلی محاذ پر بھی بھرپور کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء