ادبیات

شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت

شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں۔ نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے ، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۴ء

شیطان کا پچھتاوا

حافظ ابن حجر المکی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابلیس نے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ملاقات کے موقع پر گزارش کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس کی قبولیت کی سفارش کر دیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابلیس سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آدمؑ کی قبر کو سجدہ کر دے تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ابلیس کو یہ بات بتائی تو وہ غصے میں آگیا اور کہا کہ میں نے زندہ آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا تو اب اس کی قبر کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتا ہوں؟ ۔ ۔ ۔

۱۷نومبر ۲۰۱۱ء

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی

شیخ صفدرؒ بھی ہم سے جدا ہو گئے۔ علم و دین پر وہ آخر فدا ہو گئے۔ علم تھا ان کا سب سے بڑا مشغلہ۔ ذوق و نسبت میں اس کی فنا ہو گئے۔ وہ جو توحید و سنت کے منّاد تھے۔ شرک و بدعت پہ رب کی قضا ہو گئے۔ خواب میں ملنے آئے مسیح ناصریؐ۔ شرف ان کو یہ رب سے عطا ہو گئے۔ بو حنیفہؒ سے ان کو عقیدت رہی۔ اور بخاریؒ کے فن میں سَوا ہو گئے۔ شیخ مدنی ؒ سے پایا لقب صفدری۔ اور اس کی علمی نہج کی ادا ہو گئے۔ میانوالی کا اک بطل توحید تھا۔ جس کی صحبت میں وہ با صفا ہو گئے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۹ء

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کے صدمہ نے بے ساختہ چند اشعار کا روپ دھار لیا تھا جو بعض جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور اب ایک طویل عرصہ کے بعد عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ان کے ساتھ عقیدت ومحبت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں نوک قلم پر آگئی ہے۔ ’’اشعار موزوں ہو گئے‘‘ کا جملہ عمداً استعمال نہیں کر رہا کہ وزن، قافیہ اور ردیف کے فن سے قطعی طو رپر نا آشنا ہوں ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۸ء

آہ! رخصت ہوا شیخ درخواستیؒ

مجھے شعر و شاعری کے ساتھ ایک سامع اور قاری کی حیثیت سے زیادہ کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی عروض و قافیہ کے فن سے آشنا ہوں۔ تاہم شاید یہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ عقیدت و محبت کا کرشمہ ہے کہ گزشتہ روز گلاسگو میں ان کی وفات کی خبر ملی تو طبیعت بہت بے چین رہی۔ گلاسگو سے لندن واپس آتے ہوئے دورانِ سفر جذباتِ غم مندرجہ ذیل اشعار کی صورت اختیار کر گئے جو میری زندگی کی پہلی کاوش ہے۔ اہلِ فن سے معذرت کے ساتھ یہ منظوم جذباتِ غم پیش خدمت ہیں ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۱۹۹۴ء