افغان طالبان

ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

افغان طالبان افغانستان کی مکمل خودمختاری کے ساتھ جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کے عزم پر بدستور قائم ہیں۔ یہ دونوں باتیں نئے عالمی امریکی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ عالمی حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست نہ صرف دنیا میں استعماری عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں خودمختاری اور اسلامیت کے جذبات کے فروغ کا ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔ اسی لیے عسکری کاروائی کے ذریعہ افغان طالبان کی حکومت کو ختم کیا گیا ۔ ۔ ۔

۲۶ مئی ۲۰۱۶ء

ملا محمد عمر مجاہدؒ

ملا محمد عمرؒ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد میں شریک رہے ہیں، اس میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی۔ لیکن وہ گمنامی کے اندھیروں میں اس وقت ایک چمکدار ستارے کی مانند نمودار ہوئے جب سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان بین الاقوامی طاقتوں کی طے شدہ پالیسی کے مطابق ایک نئی اور وسیع تر خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا۔ کابل پر قبضے کی بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین اور تحلیل شدہ سابقہ سرکاری افغان فوج کے مختلف گروپ افغانستان کے بہت سے علاقوں میں باہم برسر پیکار تھے ۔ ۔ ۔

یکم اگست ۲۰۱۵ء

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک دور مری میں مکمل ہوگیا ہے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ دونوں وفد اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کا کردار اس میں واضح ہے کہ یہ مذاکرات مری میں ہوئے ہیں اور اس سے قبل پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کابل کے ساتھ مسلسل روابط بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے ایک عرصہ سے تگ و دو کی جا رہی تھی اور امید و بیم کے کئی مراحل درمیان میں آئے ۔ ۔ ۔

۱۶ جولائی ۲۰۱۵ء

موجودہ صورت حال اور افغان طالبان کا موقف

امارت اسلامی افغانستان کی اعلیٰ سطحی قیادت ان دنوں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کو اپنے موقف اور پالیسیوں کے حوالہ سے بریف کرنے کے لیے ان سے رابطوں میں مصروف ہے جو ایک خوشگوار امر ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ افغان طالبان کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا طرح طرح کی خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو عموماً منفی اور کردار کشی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ خود افغان طالبان کا میڈیا محاذ اس حوالہ سے بہت کمزور ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۱۴ء

افغان طالبان کی سرگرمیاں

افغان طالبان اور امریکہ کے مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کی حالت میں ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ جناب سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے اور ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار سرِدست صرف اتنا ہے کہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے حالیہ دوؤہ کابل کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال کرانے میں مدد دے گا ۔ ۔ ۔

۲۳ جولائی ۲۰۱۳ء

قطر میں افغان طالبان کا دفتر

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے۔ کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔

۲۸ جون ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ۔ مقاصد و اہداف

افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے، انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے، مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۱۳ء

جہادی تحریکات اور ان کا مستقبل

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلانات بھی موجود تھے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۱ء

وہی قاتل، وہی مخبر، وہی منصف ٹھہرے

امریکہ نے جب اقوام متحدہ کے سامنے اپنا کیس رکھا اور اس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے این او سی مانگا تو دلیل اور دانش نے ڈرتے ڈرتے وہاں بھی عرض کیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف طے کر لی جائے اور اس کی حدود متعین کرلی جائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی زد میں وہ مظلوم اور مجبور اقوام نہ آجائیں جو اپنی آزادی اور تشخص کے لیے قابض اور مسلط قوتوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ مگر دلیل اور دانش کی آنکھوں پر یہ کہہ کر پٹی باندھ دی گئی کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا، ابھی امریکہ کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرنی ہے ۔ ۔ ۔

۵ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

امریکہ کی ترجیح اول بھارت ہے جو ایک بڑی تجارتی منڈی، دفاعی پارٹنر، اور مادر پدر آزاد مغربی تہذیب سے ہم آہنگی کی بنا پر امریکہ و مغرب کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔ بھارت کے مشورے پر امریکہ نے شمالی اتحاد کی سرپرستی کی اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی۔ بھارت اسرائیل گہرے روابط بھی امریکہ کے جھکاؤ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور اب شمالی اتحاد کے سرپرست کے طور پر بھارت کابل میں اپنی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ ہمارا ایٹمی پروگرام اور عالم اسلام سے تعلقات بھی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے ہیں ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۰۱ء

دہشت گردی یا حریت پسندی؟

طالبان کو مغرب کے نظام و فلسفہ اور تہذیب کے لیے خطرہ سمجھ لیا گیا کیونکہ (١) خانہ جنگی سے نجات (٢) اسلامی قوانین کے ذریعے معاشرتی جرائم پر کنٹرول (٣) لاء اینڈ آرڈر کی مثالی صورت حال (٤) منشیات کا مکمل خاتمہ اور (٥) بیرونی قرضوں کے بغیر سادگی اور قناعت کے ساتھ نظام حکومت چلانے کی جو روش انہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنا لی تھی اگر انہیں اس پر آٹھ دس سال تک چلنے کا موقع دیا جاتا تو دنیا کے سامنے فی الواقع ایک ایسی ریاست اور معاشرے کا نقشہ عملی طور پر آجاتا جس کے سامنے مغربی فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت کا چراغ زیادہ دیر تک نہ جل سکتا ۔ ۔ ۔

۲۵ نومبر ۲۰۰۱ء

ہمارے دانشوروں کی سوچ تاریخ کے آئینے میں

سلطان ٹیپوؒ سمجھ رہا تھا کہ انگریزوں نے اس کی سلطنت پر حملہ تو ویسے بھی کرنا ہے مگر وہ اس کے لیے فرانسیسیوں کی موجودگی کا بہانہ کر رہے ہیں، اس لیے اس نے انگریزوں کی کوئی بھی شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ سلطان ٹیپوؒ کی فوج کے فرانسیسی افسر خود سلطان ٹیپوؒ کے پاس آئے اور کہا کہ اگر اس سے انگریزوں کا غصہ وقتی طور پر ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آپ ہمیں ان کے حوالے کر دیں۔ اس وقت بھی کسی نہ کسی دانشور، ڈپلومیٹ، یا فقیہ عصر نے سلطان ٹیپوؒ کو یہ مشورہ ضرور دیا ہوگا کہ کوئی حرج کی بات نہیں، وقت نکالو اور سر پر آئی ہوئی جنگ کو سردست ٹالنے کی کوشش کرو ۔ ۔ ۔

۱۹ نومبر ۲۰۰۱ء

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔ مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۰۱ء

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے خواب کی تعبیر!

خواب کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نبوت کے اجزاء یعنی وحی کی اقسام میں سے صرف ایک قسم باقی رہ گئی ہے جو اچھے خواب کی صورت میں ہے، اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بسا اوقات اپنے نیک بندوں کو آنے والے حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ مگر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ حجت اور دلیل صرف پیغمبر کا خواب ہے، یا وہ خواب جو کسی مومن نے دیکھا اور رسول اللہؐ نے سن کر اس کی توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔

۱۱ اپریل ۲۰۰۱ء

افغانستان میں سرمایہ کاری کے امکانات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

ایک معاملہ میں میرے سوال پر افغان قونصل جنرل ملا رحمت اللہ کاکازادہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ مئی کے اوائل میں کراچی میں افغان مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف حلقوں سے رابطے قائم کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان مصنوعات کی نمائش ہو جبکہ پاکستانی مصنوعات کا افغانستان میں عمومی تعارف کرانے کے لیے کابل، قندھار اور دیگر شہروں میں ان کی نمائش کا اہتمام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے طالبان حکومت ہر ممکن سہولیات مہیا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ۔ ۔

۲۷ مارچ ۲۰۰۱ء

افغانستان پر اقتصادی پابندیوں کے اثرات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی تاجر اپنی اشیاء کو افغان مارکیٹ میں جس پرچون نرخ پر فروخت کر رہا ہے وہ ہماری کاسٹ سے بھی کم ہے اور اس صورتحال میں ہم ایرانی مال کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہے اس لیے وہ اپنے صنعتکاروں اور تاجروں کو نئی منڈیاں بنانے کے لیے ہر قسم کی سہولت دے سکتی ہے، جبکہ ہماری معیشت پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا کنٹرول ہے اس لیے ہماری حکومت چاہے بھی تو ہمیں وہ سہولتیں اور ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دے سکتی ۔ ۔ ۔

۲۴ مارچ ۲۰۰۱ء

قندھار کا سفر اور ملا محمد عمر سے ملاقات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

دور سے دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ شاید گھر کے اندر باری باری حضرات کو ملاقات کے لیے بلایا جا رہا ہے اور یہ حضرات اپنی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ لیکن جب قریب ہوئے تو دیکھا کہ ملا محمد عمر بھی انہی لوگوں کے ساتھ خالی زمین پر آلتی مالتی مارے بیٹھے ہیں اور ان سے گفتگو کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں پہلے بھی دیکھ رکھا تھا اس لیے پہچان لیا لیکن مجھے مولانا درخواستی کو یہ بتانا پڑا کہ یہ صاحب جنہوں نے درمیان سے اٹھ کر ہمارے ساتھ معانقہ کیا ہے یہی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر ہیں ۔ ۔ ۔

۲۱ مارچ ۲۰۰۱ء

مشکلات ومصائب میں سنت نبویؐ

کفار کی طرف سے ان کے خلاف یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ان کے ساتھ لین دین نہیں ہوگا، ان سے رشتہ داری قائم نہیں کی جائے گی، ان کے پاس خوراک وغیرہ کی کوئی چیز نہیں جانے دی جائے گی اور ان کی معاشی ناکہ بندی ہوگی۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کا اندازہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے اس ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم درختوں کے پتے کھا کر گزارے کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۱ء

افغانستان کی تعمیر نو ۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کے خیالات

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران طالبان کی حکومت افغانستان کی پہلی حکومت ہے جو پاکستان کے حق میں ہے اور دہلی کی بجائے اسلام آباد سے وابستگی رکھتی ہے۔ طالبان حکومت کے بیشتر افراد پاکستان کے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور پاکستان سے محبت رکھتے ہیں، اس لیے پاکستان کو اس حکومت کے بچانے کے لیے خود اپنے مفاد کے خاطر بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور روس گزشتہ دو عشروں میں صرف ایک بات پر متفق ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے اور ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔

۱۶ دسمبر ۲۰۰۰ء

افغانستان میں این جی اوز کا کردار ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

دوسری شکایت یہ کہ این جی اوز میں بین الاقوامی اداروں کے انتظامی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یعنی ان کے فراہم کردہ فنڈز میں سے افغان عوام کی ضروریات پر رقم کم خرچ ہوتی ہے اور ان اداروں کے اپنے دفاتر، عملہ کی تنخواہوں، آمد و رفت اور دیگر ضروریات پر اس سے کہیں زیادہ رقوم خرچ ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جناب سہیل فاروقی نے بتایا کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا سالانہ فنڈ 200 ملین ڈالر ہے مگر اس کا 80 فیصد انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے اور صرف 20 فیصد رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو پاتی ہے ۔ ۔ ۔

۲۹ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان کا عدالتی اور تعلیمی نظام ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

مولانا پیر محمد روحانی نے بتایا کہ ہم انٹرمیڈیٹ تک ضروریات دین اور ضروری عصری علوم کا مشترکہ نصاب مرتب کر رہے ہیں جو سب طلبہ اور طالبات کے لیے لازمی ہوگا اور اس کے بعد طلبہ کے ذوق و صلاحیت اور ملکی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ شعبوں کی تعلیم کا نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے زیرو پوائنٹ سے کام شروع کیا ہے اور دھیرے دھیرے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں اس لیے بہت سا خلاء دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جب ہم آگے بڑھیں گے اور یہ نظام تکمیل تک پہنچے گا تو سب لوگ مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔

۲۷ اگست ۲۰۰۰ء

اکیڈمی آف سائنسز کابل ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

اپنے میزبان کے ساتھ کابل کے ایک روڈ پر گزرتے ہوئے ’’دعلومو اکادمی‘‘ کے بورڈ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ علوم کی تحقیق و ریسرچ کا ادارہ ہے جو طالبان کی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے اپنے میزبان سے عرض کیا کہ یہ تو میرے اپنے ذوق اور شعبہ کا کام ہے جس کا کابل کے حوالہ سے ایک عرصہ سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے اس ادارہ کو ضرور دیکھنا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے بات کرنی ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ اگست ۲۰۰۰ء

افغان نائب صدر ملا محمد حسن سے ملاقات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

افغان نائب صدر نے کہا کہ ہمارا یہ عزم اور فیصلہ ہے کہ افغانستان کی حدود میں اسلام اور صرف اسلام کا نفاذ ہوگا لیکن ہم دوسرے کسی ملک کے معاملہ میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہماری خواہش ضرور ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ممالک میں اسلام نافذ کریں اور اگر کوئی مسلم ملک اس مقصد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو ہم اس سے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن اپنی طرف سے کسی ملک پر انقلاب مسلط کرنے اور مسلم ملکوں کے معاملات میں مداخلت کا کوئی پروگرام ہم نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کو ایسا خطرہ محسوس کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

۲۲ اگست ۲۰۰۰ء

دو دن کابل میں ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

اب مجھے تیسری بار کابل جانے اور دو روز قیام کرنے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگرچہ مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے مگر طالبان اہلکاروں نے جس ہمت اور محنت کے ساتھ اپنی ناتجربہ کاری پر قابو پایا ہے اور ایثار و استقامت کے ساتھ معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اس کے اثرات کابل میں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ کابل کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، بازاروں کی چہل پہل میں اضافہ ہوا ہے، چھ بجے سرشام کابل کے راستے بند ہو جانے کی بجائے اس کی مدت رات دس بجے تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔

۲۰ اگست ۲۰۰۰ء

طالبان کی اسلامی حکومت اور ڈاکٹر جاوید اقبال

معاصر قومی اخبار روزنامہ نوائے وقت نے یہ خوشگوار انکشاف کیا ہے کہ فرزند اقبالؒ ڈاکٹر جاوید اقبال نے گزشتہ دنوں افغانستان کا دورہ کیا ہے اور واپسی پر اکوڑہ خٹک میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کے اسلامی انقلاب کی تعریف کی ہے اور اسے ایک کامیاب انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح طالبان نے افغانستان میں امن قائم کیا آج کے دور میں اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان میں طالبان اور ان کے طرزِ حکومت کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے آواز اٹھائیں گے ۔ ۔ ۔

۱۳ اپریل ۲۰۰۰ء

امارت اسلامی افغانستان پر اقتصادی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امارت اسلامی افغانستان کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے اور ان پابندیوں سے براہ راست متاثر ہونے والے پاکستان کے سوا کسی مسلمان ملک کو اس پر رسمی احتجاج کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ سلامتی کونسل میں موجود ملائیشیا نے بھی ایک برادر مسلم ملک کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی بجائے اس اجلاس سے غیر حاضری کو ترجیح دی ہے جس میں اقتصادی پابندیوں کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس سے افغانستان کی عالمی نقشہ پر نمودار ہونے والی واحد اسلامی نظریاتی ریاست کے خلاف عالمی صف بندی کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔

۵ جنوری ۲۰۰۰ء

میاں محمد شہباز شریف ۔ خدیو پنجاب؟

ہم میاں شہباز شریف سے با ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ جو کردار ادا کرنا چاہیں بڑے شوق سے کریں، انہیں ہر رول ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ میں ہر کردار کے لیے ایک مخصوص باب ہوتا ہے، اس کا مطالعہ بھی کر لیں۔ اور بطور خاص ’’خدیو مصر‘‘ اسماعیل پاشا کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔ خدیو مصر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو برطانیہ کی فوجیں مصر پر قابض ہوئی تھیں، لیکن خدیو پنجاب کے منصوبوں میں یہ کردار کس ملک کی فوج کے لیے تجویز کیا گیا ہے؟ میاں صاحب خود ہی وضاحت فرمادیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء

طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان مذاکرات کی کامیابی

آج صبح دو اچھی خبریں پڑھنے کو ملیں اور ذہن کی اسکرین پر خوشی کی کرنیں جھلملانے لگیں۔ ایک خبر اشک آباد میں طالبان اور شمالی اتحاد کے مذاکرات کی کامیابی کی ہے جو کم و بیش سبھی اخبارات نے شائع کی ہے جبکہ دوسری خبر مولانا سمیع الحق کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کی پیشکش ہے۔ ایک مضمون میں راقم الحروف نے عرض کیا تھا کہ استعماری قوتوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ افغانستان شمال اور جنوب میں تقسیم ہو جائے اور شمال میں ایک ایسی ریاست قائم ہو جو کابل کی نظریاتی اسلامی حکومت اور وسطی ایشیا کی نو آزاد مسلم ریاستوں کے درمیان ’’بفر اسٹیٹ‘‘ کا کام دے ۔ ۔ ۔

۲۱ مارچ ۱۹۹۹ء

طالبان دوراہے پر!

دونوں راستے بالکل واضح ہیں۔ ایک طرف مروجہ عالمی نظام ہے، امریکی قیادت ہے، بین الاقوامی ادارے ہیں، اور انہی کے زیر سایہ چلنے والی مسلم حکومتیں ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اسلامی تحریکات ہیں، اسلام کے غلبہ کا عزم ہے، اور ایڈجسٹمنٹ کی بجائے مروجہ نیٹ ورک کو کلیتاً مسترد کرتے ہوئے اسلام کے اجتماعی اور عالمی کردار کا احیاء ہے۔ پہلا راستہ سہولتوں کا، آسائشوں کا اور موجودہ عالمی سسٹم سے بے پناہ فائدے حاصل کرنے کا ہے۔ جبکہ دوسرا راستہ ایثار کا، قربانی کا اور فقر و فاقہ کا ہے۔ ایک راستہ شاہ فہد کا جبکہ دوسرا اسامہ بن لادن کا ہے ۔ ۔ ۔

۱۱ مارچ ۱۹۹۹ء

ایرانی سفیر کے طالبان حکومت سے چار مطالبات

اگر طالبان کی حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق افغان عوام کو امن اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہی وقتی طور پر بدنامی کا باعث بننے والی سخت پالیسیاں اپنے نتائج کے لحاظ سے باقی دنیا کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتی ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ طالبان اپنے دعوؤں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تو تاریخ کے عجائب گھر میں ابھی بہت سے خانے خالی ہیں، کسی ایک میں وہ بھی فٹ ہو جائیں گے۔ لیکن اس کا فیصلہ ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے جس کا سب کو حوصلے کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

۲۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

افغان سفارت خانے میں دو گھنٹے

افغان سفیر نے کہا کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اس پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔ اس سے ان کی مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کے مختلف گروہوں اور طبقات کی نمائندگی حاصل ہو، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ خالص اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کی تنہا حکومت نہ رہے اور اس میں سیکولر اور کمیونسٹ عناصر کو بھی شریک اقتدار کیا جائے تاکہ طالبان اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے پروگرام پر عمل نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۱۹۹۸ء

مگر کونسا اسلام؟

آج اسلام دنیا کی ضرورت بن گیا ہے اور مروجہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سسٹم کی ناکامی کے بعد اب آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کیے بغیر نسل انسانی کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی اگر محفوظ حالت میں کسی مذہب کے پاس موجود ہیں تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ لیکن کنفیوژن اس بات نے پیدا کر رکھا ہے کہ کتابوں میں جو اسلام ملتا ہے اس کا موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں اور معاملات سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔

۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء

افغانستان میں طالبان کی حکومت اور برطانیہ کے مسلم دانشور

مقررین نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ طالبان کے تمام تر خلوص، جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود کسی نظام کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں تجربہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسے اقدامات نہ کر بیٹھیں جو آج کی دنیا میں اسلامی نظام کے بہتر تعارف کی بجائے اس کی بدنامی کا باعث بن جائیں۔ ان اہل دانش کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی نظام کے حوالہ سے بہت سے امور کا طے ہونا باقی ہے جو ظاہر ہے کہ اجتہاد کے ذریعے اہل اجتہاد کے ہاتھوں طے ہوں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء