افغانستان

امارت اسلامی افغانستان کا خاتمہ اور نئی افغان حکومت کے رجحانات

جہاں تک شرعی قوانین کے نفاذ کو جہاد افغانستان کا منطقی تقاضا قرار دینے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی استعمار کے خلاف جہاد کا اعلان ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ کمیونزم کا کافرانہ نظام نافذ ہوگیا ہے اور اسے ختم کر کے شرعی نظام کا نفاذ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اگر اب بھی افغانستان میں صدر داؤد کے دور کے قوانین نے ہی واپس آنا ہے تو سرے سے اس جنگ کی شرعی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے جو جنگ کمیونسٹ نظام کے خاتمہ کے لیے ’’جہاد افغانستان‘‘ کے نام سے لڑی گئی تھی اور جس میں موجودہ شمالی اتحاد میں شامل اہم راہنما بھی پیش پیش تھے ۔ ۔ ۔

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

امریکہ کی ترجیح اول بھارت ہے جو ایک بڑی تجارتی منڈی، دفاعی پارٹنر، اور مادر پدر آزاد مغربی تہذیب سے ہم آہنگی کی بنا پر امریکہ و مغرب کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔ بھارت کے مشورے پر امریکہ نے شمالی اتحاد کی سرپرستی کی اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی۔ بھارت اسرائیل گہرے روابط بھی امریکہ کے جھکاؤ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور اب شمالی اتحاد کے سرپرست کے طور پر بھارت کابل میں اپنی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ ہمارا ایٹمی پروگرام اور عالم اسلام سے تعلقات بھی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے ہیں ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ پاکستان کیوں مجبور تھا؟

افغانستان کے مسئلہ میں حکومت پاکستان کی موجودہ پالیسی کو عالمی جبر کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ مگر اس بے بسی اور مجبوری کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یہ بات سرفہرست دکھائی دیتی ہے کہ امیر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے ہوئے قرضے ہمارے لیے وبال جان بن گئے ہیں اور قرضوں کے اس خوفناک جال نے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ قومی پالیسیوں اور ملی مفادات کو بھی جکڑ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم شمال مغربی سرحد پر ایک دوست حکومت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ ایک ٹی وی پینل انٹرویو

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پی جے میر صاحب نے پروگرام کنڈکٹ کیا، ان کا پہلا سوال مجھ سے تھا کہ کیا آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو دوسرا سوال ہوا کہ طالبان کی حمایت کس وجہ سے کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا اس لیے کہ طالبان ایک جائز موقف کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لیے میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس پر لارڈ نذیر احمد صاحب نے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کے حوالہ سے طالبان کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

جلسہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر اور جماعت اسلامی کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ بعض حاضرین کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پہلا موقع ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مشترکہ فورم سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ گلاسگو کی مقامی آبادی افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف دو بار مظاہرہ کر چکی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں راقم الحروف نے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا امداد الحسن نعمانی، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبد اللطیف خالد چیمہ، اور شیخ عبد الواحد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر متوقع امریکی حملہ اور عالمی منظر نامہ

افغانستان پر امریکہ کے فوری حملہ کا خطرہ ٹل جانے کے بعد عالمی میڈیا کا رخ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان پر بحث و تمحیص کی طرف بتدریج مڑ رہا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے 11 ستمبر کے المناک واقعات کے باعث بنے۔ اور اس وقت بھارت اور اسرائیل دونوں کی وہ کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں جو انہوں نے 11 ستمبر کے حادثات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی حملوں اور مداخلت کی زد میں لانے کے لیے شروع کی تھیں ۔ ۔ ۔

۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر پرویز مشرف کی خود فریبی

پاکستان کے ساتھ اس وقت امریکہ کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی نظریاتی وحدت کو توڑنا چاہتا ہے، ان کی باہمی دوستی کو دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو ختم کرنا چاہتا ہے، اور چین کے خلاف اپنے مجوزہ حصار کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ حاصل ہوجانے کے بعد امریکہ کی ترجیحات بدستور وہی رہیں گی جو پہلے چلی آرہی ہیں اور جن ترجیحات میں پاکستان کو بھارت پر ترجیح دینا یا کم از کم اس کے برابر رکھنا بھی امریکی مفادات سے قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

احمد شاہ ابدالیؒ کے مزار پر حاضری ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

احمد شاہ ابدالیؒ کو افغان عوام محبت و عقیدت سے احمد شاہ باباؒ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اسی عقیدت سے اس عظیم افغان فرمانروا کی قبر پر حاضری بھی دیتے ہیں جس نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں قندھار میں افغان سلطنت کی بنیاد رکھی اور صرف ربع صدی کے عرصہ میں اس کی سرحدیں دریائے آمو سے دریائے سندھ تک اور تبت سے خراسان تک وسیع کر کے 51 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ احمد شاہ ابدالیؒ 1724ء میں ملتان میں پیدا ہوا۔ افغانستان کے ابدالی قبیلہ کے پوپلزئی خاندان کی سدوزئی شاخ سے اس کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔

۲۹ مارچ ۲۰۰۱ء

افغانستان میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور امکانات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

ایک معاملہ میں میرے سوال پر افغان قونصل جنرل ملا رحمت اللہ کاکازادہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ مئی کے اوائل میں کراچی میں افغان مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف حلقوں سے رابطے قائم کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان مصنوعات کی نمائش ہو جبکہ پاکستانی مصنوعات کا افغانستان میں عمومی تعارف کرانے کے لیے کابل، قندھار اور دیگر شہروں میں ان کی نمائش کا اہتمام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے طالبان حکومت ہر ممکن سہولیات مہیا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ۔ ۔

۲۷ مارچ ۲۰۰۱ء

افغانستان پر اقتصادی پابندیوں کے اثرات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی تاجر اپنی اشیاء کو افغان مارکیٹ میں جس پرچون نرخ پر فروخت کر رہا ہے وہ ہماری کاسٹ سے بھی کم ہے اور اس صورتحال میں ہم ایرانی مال کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہے اس لیے وہ اپنے صنعتکاروں اور تاجروں کو نئی منڈیاں بنانے کے لیے ہر قسم کی سہولت دے سکتی ہے، جبکہ ہماری معیشت پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا کنٹرول ہے اس لیے ہماری حکومت چاہے بھی تو ہمیں وہ سہولتیں اور ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دے سکتی ۔ ۔ ۔

۲۴ مارچ ۲۰۰۱ء

قندھار کا سفر اور ملا محمد عمر سے ملاقات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۱ء)

دور سے دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ شاید گھر کے اندر باری باری حضرات کو ملاقات کے لیے بلایا جا رہا ہے اور یہ حضرات اپنی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ لیکن جب قریب ہوئے تو دیکھا کہ ملا محمد عمر بھی انہی لوگوں کے ساتھ خالی زمین پر آلتی مالتی مارے بیٹھے ہیں اور ان سے گفتگو کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں پہلے بھی دیکھ رکھا تھا اس لیے پہچان لیا لیکن مجھے مولانا درخواستی کو یہ بتانا پڑا کہ یہ صاحب جنہوں نے درمیان سے اٹھ کر ہمارے ساتھ معانقہ کیا ہے یہی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر ہیں ۔ ۔ ۔

۲۱ مارچ ۲۰۰۱ء

جہاد افغانستان میں امریکہ کا کردار

جنوبی ایشیا کے دینی حلقوں نے روس کے خلاف جو جنگ لڑی ہے وہ دراصل کمیونزم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور پروگرام کے خلاف تھی، اور اپنے عقائد و روایات اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے تھی۔ اب اس خطہ کے دینی حلقوں کو یہی خطرہ امریکہ کی طرف سے درپیش ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی آڑ میں مسلمانوں کو اسلام کے معاشرتی کردار اور اسلامی عقائد و احکام کے عملی نفاذ کے حق سے محروم کر دینا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۷ جنوری ۲۰۰۱ء

افغانستان کی تعمیر نو ۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کے خیالات

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران طالبان کی حکومت افغانستان کی پہلی حکومت ہے جو پاکستان کے حق میں ہے اور دہلی کی بجائے اسلام آباد سے وابستگی رکھتی ہے۔ طالبان حکومت کے بیشتر افراد پاکستان کے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور پاکستان سے محبت رکھتے ہیں، اس لیے پاکستان کو اس حکومت کے بچانے کے لیے خود اپنے مفاد کے خاطر بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور روس گزشتہ دو عشروں میں صرف ایک بات پر متفق ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے اور ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔

۱۶ دسمبر ۲۰۰۰ء

افغانستان کے اخبارات پر ایک نظر ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

اخبار انیس کا 12 اگست کا شمارہ میرے سامنے ہے اور چونکہ یہ دن افغانستان میں ’’یوم استقلال‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اس لیے زیادہ تر مضامین اور کچھ خبریں اسی حوالہ سے ہیں۔ ’’یوم استقلال‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف افغانستان کی جنگ آزادی میں کامیابی اور برطانیہ کی طرف سے افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جو اگست 1919ء میں ’’معاہدہ راولپنڈی‘‘ کی صورت میں تسلیم کی گئی تھی۔ اس سے قبل افغانستان پر برطانوی فوجوں کی یلغار رہتی تھی اور متعدد بار کابل، قندھار اور جلال آباد پر برطانوی فوجوں کا قبضہ ہوا ۔ ۔ ۔

۳۰ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان میں این جی اوز کا کردار ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

دوسری شکایت یہ کہ این جی اوز میں بین الاقوامی اداروں کے انتظامی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یعنی ان کے فراہم کردہ فنڈز میں سے افغان عوام کی ضروریات پر رقم کم خرچ ہوتی ہے اور ان اداروں کے اپنے دفاتر، عملہ کی تنخواہوں، آمد و رفت اور دیگر ضروریات پر اس سے کہیں زیادہ رقوم خرچ ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جناب سہیل فاروقی نے بتایا کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا سالانہ فنڈ 200 ملین ڈالر ہے مگر اس کا 80 فیصد انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے اور صرف 20 فیصد رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو پاتی ہے ۔ ۔ ۔

۲۹ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان کا عدالتی اور تعلیمی نظام ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

مولانا پیر محمد روحانی نے بتایا کہ ہم انٹرمیڈیٹ تک ضروریات دین اور ضروری عصری علوم کا مشترکہ نصاب مرتب کر رہے ہیں جو سب طلبہ اور طالبات کے لیے لازمی ہوگا اور اس کے بعد طلبہ کے ذوق و صلاحیت اور ملکی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ شعبوں کی تعلیم کا نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے زیرو پوائنٹ سے کام شروع کیا ہے اور دھیرے دھیرے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں اس لیے بہت سا خلاء دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جب ہم آگے بڑھیں گے اور یہ نظام تکمیل تک پہنچے گا تو سب لوگ مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔

۲۷ اگست ۲۰۰۰ء

اکیڈمی آف سائنسز کابل ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

اپنے میزبان کے ساتھ کابل کے ایک روڈ پر گزرتے ہوئے ’’دعلومو اکادمی‘‘ کے بورڈ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ علوم کی تحقیق و ریسرچ کا ادارہ ہے جو طالبان کی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے اپنے میزبان سے عرض کیا کہ یہ تو میرے اپنے ذوق اور شعبہ کا کام ہے جس کا کابل کے حوالہ سے ایک عرصہ سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے اس ادارہ کو ضرور دیکھنا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے بات کرنی ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ اگست ۲۰۰۰ء

افغان نائب صدر ملا محمد حسن سے ملاقات ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

افغان نائب صدر نے کہا کہ ہمارا یہ عزم اور فیصلہ ہے کہ افغانستان کی حدود میں اسلام اور صرف اسلام کا نفاذ ہوگا لیکن ہم دوسرے کسی ملک کے معاملہ میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہماری خواہش ضرور ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ممالک میں اسلام نافذ کریں اور اگر کوئی مسلم ملک اس مقصد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو ہم اس سے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن اپنی طرف سے کسی ملک پر انقلاب مسلط کرنے اور مسلم ملکوں کے معاملات میں مداخلت کا کوئی پروگرام ہم نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کو ایسا خطرہ محسوس کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

۲۲ اگست ۲۰۰۰ء

دو دن کابل میں ۔ (دورۂ افغانستان ۲۰۰۰ء)

اب مجھے تیسری بار کابل جانے اور دو روز قیام کرنے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگرچہ مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے مگر طالبان اہلکاروں نے جس ہمت اور محنت کے ساتھ اپنی ناتجربہ کاری پر قابو پایا ہے اور ایثار و استقامت کے ساتھ معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اس کے اثرات کابل میں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ کابل کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، بازاروں کی چہل پہل میں اضافہ ہوا ہے، چھ بجے سرشام کابل کے راستے بند ہو جانے کی بجائے اس کی مدت رات دس بجے تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔

۲۰ اگست ۲۰۰۰ء

افغان مہاجرین کا مسئلہ

محترم میجر (ر) سہیل پرویز نے گزشتہ روز اپنے کالم میں افغان مہاجرین کے حوالہ سے ایک خوبصورت سوال اٹھایا ہے کہ ’’کلہ بہ زئی؟‘‘ (یعنی واپس کب جاؤ گے؟)۔ میجر صاحب کا ارشاد ہے کہ افغان مہاجرین جب روسی جارحیت کا شکار ہونے کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا خیرمقدم کیا تھا لیکن ان مہاجرین میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں آگئے جنہوں نے پاکستان میں جائیدادیں خریدنے اور کاروبار بڑھانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ اور اب یہ لوگ پاکستانی قوم کے لیے وبال جان بنتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔

یکم فروری ۲۰۰۰ء

امارت اسلامی افغانستان پر اقتصادی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امارت اسلامی افغانستان کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے اور ان پابندیوں سے براہ راست متاثر ہونے والے پاکستان کے سوا کسی مسلمان ملک کو اس پر رسمی احتجاج کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ سلامتی کونسل میں موجود ملائیشیا نے بھی ایک برادر مسلم ملک کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی بجائے اس اجلاس سے غیر حاضری کو ترجیح دی ہے جس میں اقتصادی پابندیوں کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس سے افغانستان کی عالمی نقشہ پر نمودار ہونے والی واحد اسلامی نظریاتی ریاست کے خلاف عالمی صف بندی کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔

۵ جنوری ۲۰۰۰ء

امیر امان اللہ خان اور افغانستان میں مغربی ثقافت کی ترویج

امیر امان اللہ خان افغانستان میں سیاسی اور ثقافتی انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے جدید کلچر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ یورپی ثقافت کو افغانستان میں طاقت کے زور پر رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عزیز ہندی کے بقول امان اللہ خان نے سردار محمود خان یاور کے ذمہ لگا رکھا تھا کہ وہ ان کے واپس آنے تک افغانستان میں رائے عامہ کو ثقافتی انقلاب کے لیے ہموار کرنے کی کوشش کریں اور خاص طور پر آزاد خیالی اور برہنہ روئی کا پرچار کریں۔ برہنہ روئی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کے لیے پردہ کو ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔

۹ دسمبر ۱۹۹۹ء

افغانستان میں طالبان کی حکومت اور برطانیہ کے مسلم دانشور

مقررین نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ طالبان کے تمام تر خلوص، جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود کسی نظام کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں تجربہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسے اقدامات نہ کر بیٹھیں جو آج کی دنیا میں اسلامی نظام کے بہتر تعارف کی بجائے اس کی بدنامی کا باعث بن جائیں۔ ان اہل دانش کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی نظام کے حوالہ سے بہت سے امور کا طے ہونا باقی ہے جو ظاہر ہے کہ اجتہاد کے ذریعے اہل اجتہاد کے ہاتھوں طے ہوں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

جہاد افغانستان کی کامیابی اور کابل میں مجاہدین کی مشترک حکومت کے قیام کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو یہ امید تھی کہ اب افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوگی اور مجاہدین کی جماعتیں اور قائدین مل جل کر افغانستان کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کا ایک مثالی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے جو دیگر مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے عزم و حوصلہ میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بعض افغان راہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور ہوسِ اقتدار نے عالم اسلام کی آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے ۔ ۔ ۔

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

یاسر عرفات اور جہادِ افغانستان

فلسطین کی آزاد حکومت کے سربراہ جناب یاسر عرفات گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرنے کے علاوہ افغان مجاہدین کی آزاد عبوری حکومت کے راہنماؤں سے بھی ملے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ان کا یہ دورہ ان عالمی کوششوں کا ایک حصہ تھا جو افغان مجاہدین کو نجیب انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔

۳۰ جون ۱۹۸۹ء

متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔

۲ جون ۱۹۸۹ء

جہادِ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی سازش

افغان مجاہدین روسی افواج کو سرحدوں سے باہر دھکیلنے کے بعد روسی جارحیت کے بچے کھچے اثرات اور روس کے چھوڑے ہوئے اسلحہ اور اس کے محافظوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں مگر کابل پر افغان مجاہدین کی نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوجانے کا خوف امریکہ، روس، بھارت اور اسرائیل کو مضطرب کیے ہوئے ہے اور عالمی سطح پر یہ سازشیں ہو رہی ہیں کہ افغان مجاہدین کی جدوجہد کو آخری مرحلہ میں سبوتاژ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔

۳۱ مارچ ۱۹۸۹ء

خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

افغان حریت پسندوں کا جہادِ آزادی: پس منظر، ثمرات اور توقعات

آج سے آٹھ سال قبل جب روس نے افغانستان کو اپنی مسلح فوجی یلغار کا نشانہ بنایا تو روس کی عظیم فوجی قوت، افغانستان میں کمیونسٹ لابی کے مؤثر اور مسلسل ورک، اور دینی حلقوں کے نمایاں خلفشار و انتشار کو دیکھتے ہوئے یہ بات عام طور پر زبانوں پر آگئی تھی کہ اب بخارا، تاشقند اور سمرقند کی طرح افغانستان کا یہ خطہ بھی روس کے زیر تسلط مسلم ریاستوں کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ کیونکہ بظاہر افغانستان میں کوئی ایسی قوت دکھائی نہیں دے رہی تھی جو کمیونسٹ لابی کے تسلط اور روسی افواج کی مداخلت کا سامنا کر سکے ۔ ۔ ۔

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

جہادِ افغانستان اور عالمِ اسلام

جہاد اسلام کے بنیادی احکام میں سے ایک حکم ہے جس پر ملت اسلامیہ کی سطوت و شوکت اور غلبہ و اقتدار کا دارومدار ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے جہاد کے احکام و مسائل اسی تفصیل و اہتمام کے ساتھ ذکر فرمائے ہیں جس تفصیل و اہتمام کے ساتھ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر احکام شرعیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرونِ اولیٰ میں اسلام کے احکام کا ذکر جب بھی ہوتا تھا جہاد کا ذکر ان کے ساتھ ہوتا تھا اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد میں فکری یا عملی طور پر کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔

۲۱ اگست ۱۹۸۷ء

افغان صدر محمد داؤد کا دورۂ پاکستان

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

خان عبد الولی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور افغانستان

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی افواج کے اجتماع کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد جناب عبد الولی خان کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے وہی باتیں دہرائی ہیں جو وہ اور ان کے پیشرو حکمران اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں، لیکن موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر بھٹو صاحب کی یہ نئی مہم اپنے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ پر غوروخوض کی دعوت دیتی ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء