امریکہ

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ نے ۱۹۹۱ء کے دوران عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک منصوبہ طے کیا تھا جو وائس آف امریکہ سے نشر ہوا اور روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ربع صدی کے بعد اسے ارباب فکر و دانش کی خدمت میں اس گزارش کے ساتھ ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے اور اس وقت ہم کس مرحلہ سے گزر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء

امریکہ بنام امریکہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تین امریکی ریاستوں کے جذبات اور اپیل کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی عوام بالخصوص وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو وہ تبدیلیاں ہضم نہیں ہو رہیں جو امریکہ کے موجودہ عالمی کردار کے تسلسل کی وجہ سے سامنے آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل واشنگٹن نے آزادی کےبعد امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکی حکومت کو تلقین کی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور خود کو امریکہ کے قومی معاملات تک محدود رکھے ۔ ۔ ۔

۱۷ جون ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز`

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ جون ۲۰۱۷ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی ایک داستان

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان اس خارجہ پالیسی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ جبکہ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو اس مہارت کے ساتھ اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ میں پھنسایا گیا کہ ان کے تمام تر خلوص و دیانت کے باوجود ایک تلخ سوال ان کی سیاسی بصیرت و فراست کے اس باب کا ہمیشہ کے لیے عنوان بن گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب انہیں امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی تو انہوں نے یہ دونوں دعوتیں قبول کر کے توازن قائم رکھنے کی بجائے صرف امریکہ کی دعوت قبول کر کے اپنے ملک کو امریکی کیمپ کے ساتھ وابستہ کیوں کر لیا تھا؟ ۔ ۔ ۔

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کے خیالات

نیوٹ گنگرچ کے اس بیان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ڈپلومیسی کا لحاظ کیے بغیر اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو تین چار باتیں واضح طور پر کہہ دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ مغربی تہذیب کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے، دوسری یہ کہ اسلامی شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی، تیسری یہ کہ شریعت کے قوانین پر یقین رکھنے والے مسلمان مغرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں، اور چوتھی بات یہ کہ مغرب جس روشن خیالی کی بات کرتا ہے اس کا مطلب شریعت کے احکام و قوانین سے دستبرداری ہے اور جس سے کم پر مغرب راضی نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۶ اگست ۲۰۱۶ء

ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

افغان طالبان افغانستان کی مکمل خودمختاری کے ساتھ جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کے عزم پر بدستور قائم ہیں۔ یہ دونوں باتیں نئے عالمی امریکی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ عالمی حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست نہ صرف دنیا میں استعماری عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں خودمختاری اور اسلامیت کے جذبات کے فروغ کا ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔ اسی لیے عسکری کاروائی کے ذریعہ افغان طالبان کی حکومت کو ختم کیا گیا ۔ ۔ ۔

۲۶ مئی ۲۰۱۶ء

امریکی غلامی کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاد افغانستان میں فریق بن کر غلطی کی تھی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر بھی غلطی کی ہے، آئندہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی عرب ایران کشمکش کے تناظر میں کہی ہے۔ جہاں تک اپنی غلطیوں کو محسوس کرنے، ان کا اعتراف کرنے اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کے عزم کا تعلق ہے، خواجہ صاحب کا یہ ارشاد خوش آئند ہے اور قومی سیاست میں اچھی پیش رفت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔

۲۳ جنوری ۲۰۱۶ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

امریکی فوجی اسکول کے نصاب میں اسلام کی کردار کشی

ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی شکایت سامنے آنے پر جنرل مارٹن نے اس کورس کا نوٹس لیا ہے اور اسے قابل اعتراض اور دوسرے مذاہب کے احترام کے بارے میں امریکی اقدار کے منافی قرار دے کر اس کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مذکورہ کورس کے حوالے سے ان رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس کورس کے ذریعے امریکی فوجیوں سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اعتدال پسندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ ان کے مذہب کو اپنا دشمن تصور کریں ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۲ء

صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں

وہ لابیاں جو ان تھنک ٹینکس کی طے کردہ پالیسیوں کو مجاز اداروں سے منظور کرانے کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر متحرک رہتی ہیں، وہ وہی ہیں جو گورے صدروں کے دور میں تھیں بلکہ جو صدر بش کے دور میں تھیں۔ ادارے بھی وہی ہیں، لابیاں بھی وہی ہیں، امریکی مفادات بھی وہی ہیں، امریکی قوم کی نفسیات بھی وہی ہے، میڈیا بھی وہی ہے اور اسے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے خفیہ ہاتھ بھی وہی ہیں۔ اس لیے امریکہ کی بین الاقوامی پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع کرنا خود کو فریب میں مبتلا کرنے والی بات ہوگی ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۹ء

امریکہ کا سفر (۲۰۰۸ء)

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ اور مسئلہ فلسطین

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے ا ب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم وکرم پرچھوڑدیں۔ اور اسرائیل جوکچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کردیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لاناچاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۸ء

’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟‘‘

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو جریدے ہفت روزہ ’’نیویارک عوام‘‘ نے ستمبر ۲۰۰۷ء کے پہلے شمارے میں امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ارج کیسی کی ایک تقریر کی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے نیشنل گارڈ ایسوسی ایشن کی ایک سو انتیسویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی نظریاتی جنگ کئی عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک اعتدال پسند مسلمان انتہا پسند مسلمانوں پر بالادستی حاصل نہ کر لیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۹ نومبر ۲۰۰۷ء

قومی نصاب سازی کا معیار اور سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی چارج شیٹ

جہاں تک نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا تعلق ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ وزارت تعلیم نے ملک کے کروڑوں عوام اور ارباب علم و دانش کے جذبات کا احترام کیا ہے اور اس کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو عذر پیش کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے اور اس نے ایک اور نازک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قومی نصاب سازی کا معیار یہی ہے کہ کسی صاحب کو انٹرنیٹ سے اپنے ذوق کی کوئی نظم مل گئی اور اس نے اسے اٹھا کر نصاب میں شامل کر دیا؟ ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’’قومی نصاب کمیٹی‘‘ میں منظوری کے مراحل سے گزری ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ دسمبر ۲۰۰۵ء

برطانیہ اور امریکہ کا سفر (۲۰۰۵ء)

۱۱ ستمبر کو میں نے ان دوستوں سے عرض کیا کہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے علاقے میں جانا چاہتا ہوں اور وہاں کے مناظر کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے تاثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو وہاں یادگاری تقریب ہوگی، ا س موقع پر یا اس سے قبل وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔ رات نو بجے کے بعد وہاں چلیں گے اور جو دیکھنا ہوگا، دیکھ لیں گے۔ چنانچہ رات کو نو بجے کے بعد وہاں پہنچے تو ہزاروں افراد مختلف ٹولیوں کی صورت میں اس علاقے میں گھوم رہے تھے ۔ ۔ ۔

یکم دسمبر ۲۰۰۵ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ سابق صدرجنرل محمد ایوب خان کے خیالات

اس گفتگو میں ایک پاکستانی سیاستدان نے مسٹر ہالبروک سے کہا کہ امریکہ ہمارا آقا نہ بنے بلکہ دوست بنے اور دوستوں کی طرح ہمارے ساتھ معاملات کرے۔ یہ بات بھی صدائے بازگشت ہے پاکستان کے سابق صدر جناب محمد ایوب خان مرحوم کے اس رد عمل کی جو انہوں نے پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ دوستی کی پرخلوص کوششوں اور امریکہ کی طرف سے اس کے کم از کم الفاظ میں غیر مثبت جواب پر ظاہر کیا تھا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل جو کتاب شائع کی اس کا نام ہی ’’آقا نہیں دوست‘‘ ہے ۔ ۔ ۔

نا معلوم

امریکی صدروں کے مذہبی رجحانات

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرشراب کو ترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

امریکہ کا سفر۔ ( ستمبر ۲۰۰۳ء)

امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر (مئی ۲۰۰۳ء)

۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔ اس کے بعد ویزے کی کوشش کرتا رہا مگر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا حتیٰ کہ مئی ۲۰۰۱ء میں مجھے پانچ سال کے لیے ملٹی پل ویزا مل گیا مگر ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے باعث حالات میں ایسی تبدیلی آئی کہ خواہش کے باوجود امریکہ کا سفر نہ کر سکا اور اب تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ کے مختصر سے مطالعاتی دورے کا موقع مل گیا۔ واشنگٹن میٹرو پولیٹن کے علاقے میں میرے ہم زلف محمد یونس صاحب سالہا سال سے بچوں سمیت قیام پذیر ہیں ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر ۔ (مئی ۲۰۰۳ء)

گزشتہ ماہ مجھے تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مئی کے دوران دو ہفتے امریکہ رہا اور واپسی پر تین چار دن برطانیہ میں گزار کر مئی کے آخر میں وطن واپس آگیا۔ اس سے قبل 1987ء سے 1990ء تک چار پانچ بار امریکہ جا چکا ہوں۔ اس دوران میں نے کم و بیش درجن بھر امریکی شہروں میں مختلف اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد امریکی اداروں میں جانے کا موقع بھی ملا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھا بلکہ اس کی ایک سو ساتویں منزل پر واقع سیر گاہ سے نیویارک کا نظارہ کرنے کے علاوہ عصر کی نماز بھی وہیں جماعت کے ساتھ ادا کی جسے دیکھنے کے لیے ایک ہجوم ہمارے گرد جمع ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔

۱۴ و ۱۵ جون ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ ۔ جنگ کا تیسرا ہفتہ

اب ایک اور ہلاکو خان دجلہ کے پانیوں کو عراقی مسلمانوں کے خون سے سرخ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا منظر ایک بار پھر تاریخ کے مطالعہ کے ذریعہ ذہنوں میں تازہ کر لینا چاہیے۔ تاریخی عمل کے اس ادراک کے ساتھ کہ قوموں کی زندگی میں یہ مراحل آیا ہی کرتے ہیں اور قوموں کو اپنے تاریخی سفر میں ایسی گھاٹیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے، اور اس یقین کے ساتھ کہ جہاں تک ایمان و عقیدہ اور اسلام کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ کے سقوط جیسے سانحوں اور زلزلوں میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے ۔ ۔ ۔

۷ اپریل ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ!

امریکہ نے عراق کو غیر مسلح کرنے میں دس سال صرف کیے اور گزشتہ بیس سال کے دوران صرف اس کام کے لیے ساری صلاحیتیں استعمال کی گئیں کہ عراق کوئی مؤثر ہتھیار نہ بنا سکے اور کوئی ایسا ہتھیار حاصل نہ کرسکے جو اس پر حملہ کی صورت میں امریکی فوجیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہو۔ عراق کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسے اسلحہ کی تیاری سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں گھسیٹا گیا۔ اس کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کی گئی تاکہ وہ کسی جنگ کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ ۔ ۔

۲۶ مارچ ۲۰۰۳ء

اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

ایک معاصر اخبار نے این این آئی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن مارکی کیپٹر (Marcy Kaptur) نے اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینے کے موقف سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسامہ بن لادن مذہبی طور پر آزادی کی جنگ لڑنے والے انقلابی رہنماؤں کی طرح ہیں جیسا کہ امریکہ میں 1770ء میں ورماؤنٹ ملیشیا نے برطانوی سامراج کے خلاف اسی طرح کی جدوجہد کی تھی۔ مارکی کیپٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اوہایو ڈسٹرکٹ سے گیارہویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۱ مارچ ۲۰۰۳ء

امریکی استعمار، عالم اسلام اور بائیں بازو کی جدوجہد

عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کے حوالے سے اسلامی احکام وقوانین کی مخالفت اور ان کے خلاف مکروہ اور معاندانہ پراپیگنڈا بھی امریکی مہم کا حصہ ہے جس کے بارے میں امریکی قیادت کے ذمہ دار حضرات کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں۔ اس لیے ہم پورے شعور اور شرح صدر کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان، عراق اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف امریکی عزائم اور یلغار صرف اور صرف معاشی مفادات کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں مذاہب کے درمیان کشمکش اور مغربی تہذیب کو زبردستی مسلط کرنے کی مہم بھی بنیادی اسباب کے طور پر پوری طرح کار فرما ہیں ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۳ء

عقیدۂ ختم نبوت اور امریکی مطالبات

مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۲ء

مسلم دنیا میں جمہوریت اور امریکہ کا دوغلاپن

امریکہ کے نزدیک جمہوریت کوئی اصول اور فلسفہ نہیں ہے کہ وہ اسے دنیا کے ہر خطہ میں اور ہر حال میں کارفرما دیکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جسے امریکہ اور مغربی ممالک اپنے فلسفہ و ثقافت کے فروغ اور مفادات کے حصول و تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اور جمہوریت کے اولین دعوے داروں کے اسی طرز عمل اور رویہ نے خود جمہوریت کی افادیت کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں دیکھ لیجیے، خلیج عرب کے ممالک میں رائے عامہ، شہری آزادیاں، جمہوری حکومتیں اور حکومت و پالیسی سازی میں عوام کی نمائندگی شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ۔ ۔

۴ فروری ۲۰۰۲ء

جمہوریت‘ مسلم ممالک اور امریکہ

امریکہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے، بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں‘ وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے‘ عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۲ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ پاکستان کیوں مجبور تھا؟

افغانستان کے مسئلہ میں حکومت پاکستان کی موجودہ پالیسی کو عالمی جبر کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ مگر اس بے بسی اور مجبوری کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یہ بات سرفہرست دکھائی دیتی ہے کہ امیر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے ہوئے قرضے ہمارے لیے وبال جان بن گئے ہیں اور قرضوں کے اس خوفناک جال نے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ قومی پالیسیوں اور ملی مفادات کو بھی جکڑ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم شمال مغربی سرحد پر ایک دوست حکومت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ ایک ٹی وی پینل انٹرویو

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پی جے میر صاحب نے پروگرام کنڈکٹ کیا، ان کا پہلا سوال مجھ سے تھا کہ کیا آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو دوسرا سوال ہوا کہ طالبان کی حمایت کس وجہ سے کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا اس لیے کہ طالبان ایک جائز موقف کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لیے میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس پر لارڈ نذیر احمد صاحب نے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کے حوالہ سے طالبان کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

یہ جنگ فراڈ ہے ۔ برطانوی صحافی جان پلجر کا تجزیہ

امریکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے کے ثبوت پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں مگر یہ بات دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خود مغرب کی رائے عامہ امریکہ کے اس دعویٰ کو کسی واضح دلیل کے بغیر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور عام آدمی حتیٰ کہ بچوں پر بھی یہ حقیقت کھلتی جا رہی ہے کہ اصل قصہ کچھ اور ہے اور امریکہ اپنے اصل اہداف پر پردہ ڈالنے کے لیے اسامہ بن لادن اور طالبان کا نام استعمال کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

جلسہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر اور جماعت اسلامی کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ بعض حاضرین کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پہلا موقع ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مشترکہ فورم سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ گلاسگو کی مقامی آبادی افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف دو بار مظاہرہ کر چکی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں راقم الحروف نے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا امداد الحسن نعمانی، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبد اللطیف خالد چیمہ، اور شیخ عبد الواحد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲ نومبر ۲۰۰۱ء

کیا امریکہ عالمی قیادت کا اہل ہے؟

دہشت گردی کا کوئی بھی حامی نہیں ہے اور دنیا کے سب باشعور انسان اس کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دہشت گردی کے ساتھ اس کے اسباب و محرکات اور عوامل کی بیخ کنی بھی ضروری ہے۔ اس عالمی مہم کی قیادت کے لیے کسی ایسے ملک کو آگے آنا چاہیے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔ ہیروشیما، ناگاساکی، ویت نام، فلسطین، افغانستان اور سوڈان کے نہتے شہریوں پر بم برسانے اور مشرق وسطیٰ کے عوام کی سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق کا خون کرنے والے ملک کے ہاتھ میں دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کی قیادت کا پرچم آخر کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر متوقع امریکی حملہ اور عالمی منظر نامہ

افغانستان پر امریکہ کے فوری حملہ کا خطرہ ٹل جانے کے بعد عالمی میڈیا کا رخ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان پر بحث و تمحیص کی طرف بتدریج مڑ رہا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے 11 ستمبر کے المناک واقعات کے باعث بنے۔ اور اس وقت بھارت اور اسرائیل دونوں کی وہ کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں جو انہوں نے 11 ستمبر کے حادثات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی حملوں اور مداخلت کی زد میں لانے کے لیے شروع کی تھیں ۔ ۔ ۔

۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔ مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر پرویز مشرف کی خود فریبی

پاکستان کے ساتھ اس وقت امریکہ کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی نظریاتی وحدت کو توڑنا چاہتا ہے، ان کی باہمی دوستی کو دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو ختم کرنا چاہتا ہے، اور چین کے خلاف اپنے مجوزہ حصار کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ حاصل ہوجانے کے بعد امریکہ کی ترجیحات بدستور وہی رہیں گی جو پہلے چلی آرہی ہیں اور جن ترجیحات میں پاکستان کو بھارت پر ترجیح دینا یا کم از کم اس کے برابر رکھنا بھی امریکی مفادات سے قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کے حملے اور امریکی قیادت کی آزمائش

گیارہ ستمبر کو امریکہ کے دو بڑے شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں جو قیامت صغریٰ بپا ہوئی ہے اس نے ظاہری طور پر دکھائی دینے والے معروضی حقائق کا نقشہ ایک بار پھر پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی تاریخ نے کئی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ حالات و واقعات کا ظاہری منظر کچھ اور نظر آرہا ہے مگر سمندر کی پرسکون سطح کی تہہ میں کسی طوفان نے جب انگڑائی لی ہے تو سطح سمندر اور اس پر نظر آنے والا پورا منظر ہی تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

امریکہ کا خدا بیزار سسٹم

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ فروری ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں سینٹ کے ریاستی ارکان نے ایک یادگاری سکہ پر ’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں امریکہ کے قدیم باشندوں ’’ریڈ انڈین‘‘ کے اعزاز اور توقیر کے لیے ایک سلور ڈالر جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر جنگلی بھینس کی تصویر کے ساتھ In God We Trust (ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں) کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۱ء

جہاد افغانستان میں امریکہ کا کردار

جنوبی ایشیا کے دینی حلقوں نے روس کے خلاف جو جنگ لڑی ہے وہ دراصل کمیونزم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور پروگرام کے خلاف تھی، اور اپنے عقائد و روایات اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے تھی۔ اب اس خطہ کے دینی حلقوں کو یہی خطرہ امریکہ کی طرف سے درپیش ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی آڑ میں مسلمانوں کو اسلام کے معاشرتی کردار اور اسلامی عقائد و احکام کے عملی نفاذ کے حق سے محروم کر دینا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۷ جنوری ۲۰۰۱ء

محترمہ ہیلری کلنٹن ! کچھ غصہ اور دکھائیے

نیویارک ٹائمز کی 26 اکتوبر 2000ء کو شائع کردہ ایک خبر کے مطابق امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن نے دو مسلمان تنظیموں کی طرف سے انتخابی مہم کے لیے دی جانے والی رقوم واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ہیلری کلنٹن نے ان مسلمان تنظیموں کے عہدے داروں کے اسرائیل مخالف نظریات کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ امریکہ میں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں کی تعداد امریکہ میں یہودیوں کے برابر ہوگئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ نومبر ۲۰۰۰ء

سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی، خدشات و تاثرات

بعض احباب کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان آل سعود اگر اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے تو کوئی اور سیاسی قوت اس درجہ کی نہیں جو موجودہ سعودی عرب کو متحد رکھ سکے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ملک تقسیم ہو جائے گا اور تیل سے مالا مال علاقوں پر مغربی اقوام کے مستقل تسلط کے علاوہ حجاز مقدس ایک الگ ریاست کی شکل میں سامنے آسکتا ہے جس کے پاس اپنے وسائل نہیں ہوں گے اور وہ ویٹی کن سٹی طرز کی ایک مذہبی اسٹیٹ بن کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔

۱۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن پر امریکی حملہ

ہم امریکی صدر بل کلنٹن سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف کیا ہے؟ کیا کسی کے خلاف ہتھیار اٹھانا مطلقاً دہشت گردی ہے؟ اور کیا اپنی آزادی، خود مختاری، اور حقوق کے لیے جابر اور ظالم قوتوں کو ہتھیار کا جواب ہتھیار کی زبان میں دینا بھی دہشت گردی کہلاتا ہے؟ اگر امریکی صدر کی منطق یہی ہے تو ہم بصد احترام یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ خود امریکہ نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور ہتھیار اٹھا کر برطانوی حکمرانوں کو امریکہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کیا تھا ۔ ۔ ۔

۲۹ اگست ۱۹۹۸ء

امریکی جرائم اور شہر سدوم

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نسل انسانی کا ایک بڑا حصہ آسمانی تعلیمات سے انکار پر ڈتا ہوا ہے اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ کے مادر پدر آزاد کلچر اور ’’فری سیکس سوسائٹی‘‘ کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس دو نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی پوری توانائیاں ، وسائل اور صلاحیتیں وقف کر چکا ہے۔ امریکی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے، اس لیے کہ امریکی ایک قوم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔

۹ مارچ ۱۹۹۸ء

پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنما

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے 1987ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔

مئی ۱۹۹۴ء

افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

مجھے نیویارک پہنچے آج ساتواں روز ہے۔ محترم مولانا میاں محمد اجمل قادری بھی تین روز قبل یہاں پہنچ چکے ہیں۔ میاں صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے کنیڈا چلے گئے تھے اور ایک ہفتہ تک وہاں مختلف شہروں میں مسلمان راہنماؤں اور شہریوں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ انہوں نے متعدد اجتماعات سے خطاب کیا اور اس کے بعد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن اور ایک اور شہر مشی گن سے ہوتے ہوئے نیویارک پہنچے ہیں اور اب ہم دونوں مل کر اس وسیع و عریض شہر کے مختلف حصوں میں دوستوں سے ملاقاتیں اور اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۸۷ء

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

امریکی صدر رچرڈ نکسن سے استعفیٰ کا مطالبہ

واٹر گیٹ اسکینڈل کے سلسلہ میں غلط بیانی کے اعتراف کے ساتھ ہی امریکہ کے صدر نکسن کو امریکہ کے قومی حلقوں حتیٰ کہ خود اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے استعفیٰ کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق اب مسٹر نکسن کے لیے استعفیٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کا قصور یہ ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے کچھ ذمہ دار شہریوں کے فون خفیہ طور پر ٹیپ کیے گئے، بات عدالت تک پہنچی تو عدالت کے مطالبہ کے باوجود نکسن نے ٹییپ عدالت کے حوالے کرنے اور اپنی پوزیشن صاف کرنے میں تامل کیا ۔ ۔ ۔

۹ اگست ۱۹۷۴ء

تیل، ایک کارگر ہتھیار

سعودی عرب کے شاہ فیصل نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقے خالی نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کو خود ارادیت کا حق نہیں دیا جاتا، سعودی عرب تیل کے ہتھیار سے مؤثر طور پر کام لینے، مصری مفادات کو تقویت پہنچانے اور عرب اتحاد کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے عرب ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے تیل کی سپلائی بحال نہ کی تو انہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ۔ ۔

۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء

پاکستان میں امریکی سفیر جوزف ایس فارلینڈ کی سرگرمیاں

پاکستان میں پہلے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوتے ہی امریکہ بہادر نے جب سی آئی اے کے مشہور و معروف کارندے اور انڈونیشیا میں خانہ جنگی کرانے والے سورما مسٹر جوزف ایس فارلینڈ کو پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو تاڑنے والی نگاہوں نے اسی وقت دیکھ لیا تھا کہ یہ حضرت آگے چل کر کیا گل کھلائیں گے۔ اسی لیے جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں نے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ مسٹر فارلینڈ کو واپس بھیج دیا جائے ورنہ یہ صاحب ملک و ملت کے لیے خطرہ بن جائیں گے ۔ ۔ ۔

۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء