عقیدہ

عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ پر ہے لیکن تاریخی تناظر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن کے آنے سے مذہب تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت یہ ہے کہ ایک شخص نے نئی نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا جسے قبول کرنے سے امت مسلمہ نے مجموعی طور پر انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اور اس پر ایمان لانے والے پہلے مذہب کا حصہ رہنے کی بجائے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے، اور ان کا مذہب ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر متعارف ہوا ۔ ۔ ۔

۹ و ۱۰ جون ۲۰۱۶ء

تسلیمہ نسرین کا نیا مشورہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

قادیانیوں کا ایک مغالطہ

قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت محمد رسول اللہؐ کی پیروی میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مگر یہ بات محض ایک مغالطہ ہے اور میں جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہؐ کے دور میں تین بندوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یمامہ کے مسیلمہ کذاب، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، یمن کے اسود عنسی، جبکہ ایک خاتون سجاح بھی نبوت کی دعوے دار تھی ۔ ۔ ۔

۱۵ جنوری ۲۰۱۶ء

واجد شمس الحسن کی تقریر

لاہور ہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر اپنی اس تقریر کی وضاحت کریں جو انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں قادیانیوں کے سالانہ عالمی اجتماع میں کی ہے، جس میں انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی غلطی قرار دیتے ہوئے قادیانیوں کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔

۱ ستمبر ۲۰۱۵ء

تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے دائرے

میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ جون ۲۰۱۵ء

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق فتنوں کے ہجوم اور یلغار کے دور میں دو آدمی اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک وہ شخص جو شہری آبادی سے الگ تھلگ دور دراز علاقے میں بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں زندگی گزار دے، اور دوسرا وہ شخص جو گھوڑے کی لگام پکڑے دین کے دشمنوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار رہے۔ چنانچہ فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہنا، ان کے مقابلہ اور سدّباب کے ساتھ اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ اپریل ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت

یہ مسئلہ امت میں چودہ سو سال سے متفقہ چلا آرہا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں، اور اس کی تشریح خود حضورؐ نے فرما دی ہے کہ ان کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ جبکہ نبی اکرمؐ نے اس کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ جھوٹے مدعیان نبوت بڑی تعداد میں ظاہر ہوں گے جو دجال اور کذاب ہوں گے۔ امت مسلمہ کا عقیدۂ ختم نبوت پر اسی تشریح کے مطابق ایمان و عقیدہ چلا آرہا ہے ۔ ۔ ۔

۳ فروری ۲۰۱۳ء

قادیانیت کے سو سال

قادیانی مذہب کے پیروکاروں کے لیے 26 مئی کا دن بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اس لیے کہ اس روز قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لاہور میں وفات پائی تھی۔ جبکہ 2008ء کا یہ سال اس سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ مرزا صاحب کی وفات کو پوری ایک صدی مکمل ہو رہی ہے کیونکہ ان کی وفات اب سے ایک سو برس قبل 26 مئی 1908ء کو ہوئی تھی۔ قادیانی مذہب کے پیروکار اس مناسبت سے دنیا کے مختلف حصوں میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ 2008ء کے پورے سال کو محیط ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ مئی ۲۰۰۸ء

خوارج اور ان کا طرز استدلال

امت مسلمہ میں جس گروہ نے سب سے پہلے سنت نبویؐ اور تعامل صحابہؓ کو نظر انداز کر کے قرآن کریم کو براہ راست سمجھنے اور اپنے فہم و استدلال کی بنیاد پر قرآن کریم کے احکام و قوانین کے تعین کا راستہ اختیار کیا وہ ’’خوارج‘‘ کا گروہ ہے۔ خوارج کے بارے میں خود جناب نبی اکرمؐ کی پیشگوئی موجود ہے کہ میری امت میں ایک گروہ ایسا آئے گا جو قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کرے گا، اس کی نمازیں اور روزے بھی عام مسلمانوں کو تعجب میں ڈالنے والی ہوں گی، لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ قرآن کریم کے نام پر لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔ ۔ ۔

۱۷ تا ۲۱ اپریل ۲۰۰۱ء

چودھری غلام احمد پرویز کے عقائد و نظریات

قرآن کریم میں آنحضرتؐ کے زندگی بھر کے تمام تر اعمال و افعال، ارشادات و اقوال اور فیصلوں میں سے صرف چار پانچ باتوں پر گرفت کی گئی۔ یہ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان چند باتوں پر گرفت کے ساتھ حضورؐ کے باقی تمام ارشادات، اعمال اور فیصلوں کی توثیق ہو جائے۔ چنانچہ قرآن کریم کے آخر وقت تک نازل ہوتے رہنے اور چند باتوں کے علاوہ باقی تمام امور پر خاموش رہنے سے ان سب کی توثیق ہوگئی ہے۔ اس لیے لطیف چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ حدیث و سنت کو جو ’’وحی حکمی‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ و ۲۷ اپریل ۱۹۹۹ء

’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

ویلس دی فارد 1934ء میں غائب ہوگیا اور ایلیجاہ محمد نے اس کی جگہ سنبھال کر یہ اعلان کیا کہ فارد اصل میں خود اللہ تھے (نعوذ باللہ) جو انسانی شکل میں آئے تھے اور اب ایلیجاہ محمد کو اپنا رسول بنا کر واپس چلے گئے ہیں۔ ایلیجاہ محمد نے کہا کہ وہ خدا کا رسول بلکہ خاتم المرسلین ہے اور اب دنیا کی نجات اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ نے بتایا ہے کہ جب وہ ایلیجاہ محمد کے دست راست کے طور پر مختلف اجتماعات میں خطاب کیا کرتے تھے تو خطبہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ یہ کلمہ شہادت پڑھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔

۲۲ اگست ۱۹۹۸ء

کرنل قذافی کی دعوت اور لوئیس فرخان

لوئیس فرخان کا گروپ ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے فارو محمد کے خدا ہونے اور ایلیجاہ محمد کے پیغمبر ہونے کے ساتھ خالص نسل پرستانہ عقائد و روایات کا مسلسل پرچار کر رہا ہے۔ ’’دی فائنل کال‘‘ کے نام سے ایک میگزین لوئیس فرخان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں پابندی کے ساتھ ایلیجاہ محمد کی تصویر کے ساتھ یہ عقیدہ درج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ 1930ء میں فارو محمد کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور وہی مسیح اور مہدی ہے جس کا عیسائیوں اور مسلمانوں کو انتظار ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ جولائی ۱۹۹۸ء

پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی شخص کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس نے مسیح ہونے کا دعوٰی کر کے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور دوسرے پناہ گزینوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اخبار نے اس شخص کا نام نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتا ہے اور ان دنوں ایسٹ لندن کےعلاقہ لیٹن سٹون میں رہائش پذیر ہے۔ اخبار نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ اس شخص کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جو عقیدت مند کے روپ میں اس کے پاس گیا اور اس سے بہت سی معلومات حاصل کیں ۔ ۔ ۔

۴ جولائی ۱۹۹۸ء

ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو

سوال۔ ذکری فتنہ کیا ہے، اس کا آغاز کب ہوا اور اس کا بانی کون تھا؟ جواب۔ ذکری فتنہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا فتنہ ہے، تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل نور محمد اٹکی نامی ایک شخص نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ اس فتنہ کے پیروکار اسلام کے پانچوں بنیادی ارکان کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام اسلامی عبادات کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور نور محمد اٹکی کو نبی، مہدی وغیرہ مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنا خود ساختہ کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ‘‘ بنایا ہوا ہے، ان کے نزدیک نماز پڑھنا کفر ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ مئی ۱۹۹۲ء