اسفار

حج ۲۰۱۵ء کا شاہی مہمان

اس مرتبہ عید الاضحی کی تعطیلات بحمد اللہ تعالیٰ حرمین شریفین اور مشاعر مقدسہ کی فضاؤں میں گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ دو ہفتے قبل اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانہ کی طرف سے پیغام ملا کہ اس سال خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کی میزبانی میں حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں آپ کا نام بھی شامل ہے، اس لیے پاسپورٹ بھجوا دیجیے۔ یہ پیشکش ایسی تھی کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حج ۲۰۱۵ء کا شاہی مہمان

۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء

دہلی میں تین روزہ قیام (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دو روز دیوبند میں قیام اور کانفرنس کی چار نشستوں میں شرکت کے بعد ہفتہ کی شام کو ہم دہلی پہنچے، جمعیۃ علماء ہند ہماری میزبان اور داعی تھی، کچھ حضرات کا قیام جمعیۃ کے دفتر میں رہا اور باقی دوستوں کو ترکمان گیٹ کے قریب دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ 15 دسمبر کا دن رام لیلا میدان میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی عمومی نشست میں گزر گیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے اڑھائی بجے تک مسلسل جاری رہی اور بھارت کے طول و عرض سے ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے اس میں شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہلی میں تین روزہ قیام (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۲۷ دسمبر ۲۰۱۳ء

سرہند شریف، سہارنپور، دیوبند (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

بدھ کو امرتسر اور لدھیانہ سے ہوتے ہوئے ہم رات چندی گڑھ پہنچے تھے، جمعرات کو صبح وہاں سے سرہند شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قبر پر حاضری کا پروگرام تھا مگر اس سے قبل چندی گڑھ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر مغلیہ دور سے چلے آنے والے ایک باغ میں جانا ہوا۔ پنجور گارڈن کے نام سے یہ باغ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور دور دراز سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے یہ باغ بنوایا تھا، قریب میں پنجور نامی بستی ہے جس کے حوالے سے یہ معروف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرہند شریف، سہارنپور، دیوبند (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

لدھیانہ اور چندی گڑھ میں (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دیوبند اور دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے 11 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم واہگہ بارڈر کراس کر کے بارہ بجے کے لگ بھگ انڈیا میں داخل ہوئے تو پروگرام یہ بنا کہ ظہر کی نماز امرتسر کی مسجد خیر دین میں ادا کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نماؤں نے جو دہلی اور دیوبند سے تشریف لائے ہوئے تھے اور امرتسر کے بس ٹرمینل پر پاکستان کے قافلہ کا انتظار کر رہے تھے، استقبال اور خیر مقدم کے مرحلہ سے فارغ ہوتے ہی تقاضہ کیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لدھیانہ اور چندی گڑھ میں (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

دیوبند کا سفر (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

جنوبی افریقہ جاتے ہوئے آخری وقت مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ دیوبند اور دہلی میں 13، 14 اور 15 دسمبر کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں جن میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا ایک بھرپور وفد جا رہا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اس وفد میں میرا نام بھی شامل کر رکھا ہے۔ میں نے اس کرم فرمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن اس وقت میں ویزے کے لیے پاسپورٹ ان کے سپرد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس لیے واپسی پر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبند کا سفر (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

ساؤتھ افریقہ کا سفر (۲۰۱۳ء)

سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ گزشتہ دو روز سے جنوبی افریقہ میں ہوں، وفد میں بیس کے لگ بھگ علماء کرام شامل ہیں ۔ ۔ ۔ کیپ ٹاؤن میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دامت برکاتہم کی راہ نمائی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں شرکت کے لیے ہماری حاضری ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ رات ہی دہلی سے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم کی قیادت میں علماء کرام کا ایک وفد پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ساؤتھ افریقہ کا سفر (۲۰۱۳ء)

یکم دسمبر ۲۰۱۳ء

برطانیہ میں حافظ الحدیث سیمینار

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی ان دنوں برطانیہ میں ہیں اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے دینی و روحانی اجتماعات میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے لندن میں بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا عزیز الحقؒ کی تعزیت کے لیے منعقدہ سیمینار میں شرکت کی جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بنگلہ دیش میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگردوں اور معتقدین کا ایک وسیع حلقہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ میں حافظ الحدیث سیمینار

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۲ء

قیام مدینہ کی کچھ حسین یادیں

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سفر سے میں یکم اگست کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا لیکن آتے ہی مختلف اداروں میں دورۂ تفسیر قرآن کے آخری اسباق میں مصروف ہوگیا اس لیے قارئین کی خدمت میں حاضری قدرے تاخیر سے ہو رہی ہے۔ الشریعہ اکادمی اور جامعہ مدینۃ العلم جناح کالونی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کے اسباق میں خود شروع کرا کے گیا تھا۔ اول الذکر میں دو پارے اور ثانی الذکر میں ایک پارہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قیام مدینہ کی کچھ حسین یادیں

۱۱ اگست ۲۰۱۲ء

معزول تیونسی صدر کے اثاثے، طالبان کیلئے امریکی امداد اور شام کی صورتحال

گزشتہ دو روز سے مدینہ منورہ میں ہوں، حرم نبوی کی برکات سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے استاذ محترم حضرت قاری محمد انور کا مہمان ہوں اور ان کے اکلوتے بیٹے برادرم قاری محمد اشفاق صاحب کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ قاری محمد انور صاحب کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے۔ ۱۹۵۹ء سے ۱۹۷۷ء تک گکھڑ میں مدرسہ تجوید القرآن کے صدر مدرس رہے ہیں، میں نے انہی دنوں ان سے قرآن کریم حفظ کیا تھا اور بحمد اللہ تعالیٰ اکتوبر ۱۹۶۰ء میں مکمل کر لیا تھا۔ اس کے بعد وہ کینیا کے شہر ممباسہ میں دو سال تک حفظ قرآن کریم کے استاذ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معزول تیونسی صدر کے اثاثے، طالبان کیلئے امریکی امداد اور شام کی صورتحال

یکم اگست ۲۰۱۲ء

بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشرتی مسائل

میں ۸ جولائی کو پاکستان سے روانہ ہوا تھا اور پانچ دن متحدہ عرب امارات میں گزار کر ۱۶ جولائی کو جدہ پہنچا ہوں۔ متحدہ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سی باتیں مشاہدے میں آئیں۔ پہلی بار ۱۹۸۵ء میں دوبئی آنا ہوا تھا اس کے بعد یہاں کے متعدد سفر ہوئے لیکن اس بار جب دوبئی آیا تو قدرے اطمینان کے ساتھ گھومنے پھرنے کا موقع ملا او ریوں لگا جیسے ۱۹۸۵ء میں کسی قصبے میں آیا تھا اور اب کسی بڑے بین الاقوامی شہر میں چل پھر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشرتی مسائل

۲۶ جولائی ۲۰۱۲ء

برطانوی ویزا حکام کی بلاجواز بدگمانی

شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں عام طور پر دینی مدارس میں تعطیلات ہوتی ہیں اور گزشتہ ربع صدی سے میرا معمول یہ رہا ہے کہ ان چھٹیوں کا زیادہ حصہ برطانیہ یا امریکہ میں گزارتا ہوں۔ مگر اس سال میرے پاس ان دونوں میں سے کسی ملک کا ویزا نہیں ہے اس لیے شارجہ میں گوجرانوالہ کے ایک دوست محمد فاروق شیخ کے گھر میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں جہاں چند روز کے لیے قیام پذیر ہوں۔ برطانہ میرا آنا جانا اس دور سے ہے جب وہاں جانے کے لیے ویزا پیشگی طور پر حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا تھا، لندن ایئرپورٹ پر مختصر انٹرویو کے بعد انٹری کی مہر لگ جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانوی ویزا حکام کی بلاجواز بدگمانی

۱۹ جولائی ۲۰۱۲ء

برمی مسلمانوں پر مظالم

میں گزشتہ دو روز سے شارجہ میں ہوں اور اپنے ایک پرانے دوست محمد فاروق شیخ کے ہاں چند روز آرام کے ارادے سے قیام پذیر ہوں، جمعرات تک یہاں رہوں گا اور پھر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ گزشتہ کالم میں مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقات کے حوالے سے میں نے برما کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں کی مظلومیت اور کسمپرسی کا ذکر کیا تھا، اس سلسلہ میں دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برمی مسلمانوں پر مظالم

۱۸ جولائی ۲۰۱۲ء

چند دن متحدہ عرب امارات میں

متحدہ عرب امارات میں پانچ دن گزار کر گزشتہ روز (جمعۃ المبارک) جدہ پہنچ گیا ہوں۔ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں کیں اور آرام اور سیر و سیاحت میں زیادہ وقت گزرا۔ شارجہ میں پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ کے پاس رہا جو گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جمعیۃ طلباء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے ایک دور میں صدر رہے ہیں۔ ۱۹۷۵ء کے دوران چند روز کے لیے میرے جیل کے رفیق بھی تھے، کم و بیش چھبیس سال سے شارجہ کی ایک کمپنی میں ملازم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند دن متحدہ عرب امارات میں

۱۶ جولائی ۲۰۱۲ء

کویت ایئرویز کا تجربہ (امریکہ کا سفر ۲٠۱۱ء)

کویت ایئرویز کے ذریعے زندگی میں پہلی بار سفر کا موقع ملا۔ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران مجھے دارالعلوم نیویارک میں اساتذہ و طلبہ کے لیے ’’دینی تعلیم کے معروضی تقاضے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی سات روزہ ورکشاپ میں شرکت کے لیے امریکہ آنا تھا۔ میں ہمیشہ قومی ایئرلائن سے سفر کو ترجیح دیتا ہوں مگر اس بار کویت ایئرویز کے ٹکٹ میں 20 ہزار روپے سے زائد رقم کی بچت دیکھ کر یہ ترجیح بدلنا پڑی۔ اس لیے کہ مجھ جیسے فقیر آدمی اور بلانے والے دینی اداروں کے لیے یہ فرق خاصا نمایاں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کویت ایئرویز کا تجربہ (امریکہ کا سفر ۲٠۱۱ء)

۱۸ نومبر ۲۰۱۱ء

تین صحابہ کرامؓ کی معافی

بروکلین نیویارک کی مکی مسجد میں تراویح کے دوران حافظ صاحبان نے گیارہواں پارہ پڑھا، تراویح کے بعد مجھے کچھ بیان کرنا تھا، میں نے انہی آیات کریمہ میں سے ایک واقعہ کا انتخاب کیا اور قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا۔ قارئین کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ تین صحابہ کرامؓ حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت ہلال بن امیہؓ اور حضرت مرارہ بن ربیعؓ کا ہے جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسلسل پچاس دن تک سوشل بائیکاٹ کی سزا دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین صحابہ کرامؓ کی معافی

۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

نیویارک کے مسلمانوں کی قرآن فہمی میں دلچسپی

میں ان دنوں نیویارک میں ہوں اور کوئنز کے علاقہ جمیکا میں واقع دارالعلوم نیویارک میں قیام پذیر ہوں۔ رات کو تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصے کے طور پر کچھ گزارشات پیش کر دیتا ہوں اور نماز فجر کے بعد ایک حدیث نبویؐ مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کا معمول ہے۔ اس کے علاوہ باقی دن رات کا وقت تھوڑے سے دیگر معمولات کے ساتھ سوتے جاگتے گزرتا ہے اور میرے لیے یہ دن پورے سال میں سب سے زیادہ آرام کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیویارک کے مسلمانوں کی قرآن فہمی میں دلچسپی

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

امریکہ میں چند روز

میں پروگرام کے مطابق ایک ماہ امریکہ میں گزار کر گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں۔ سات جولائی کو لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا اور ۱۰ اگست کی شام کو بذریعہ پی آئی اے لاہور پہنچ گیا۔ اس دوران میں نے نیویارک کے مختلف علاقوں لانگ آئی لینڈ، برونکس، بروکلین اور جمیکا کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی، سپرنگ فیلڈ، بالٹی مور، ڈیٹرائٹ، اٹلانٹا، ہیوسٹن، ڈیلاس اور برمنگھم وغیرہ میں علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ درجنوں دینی اجتماعات میں شرکت ہوئی، مختلف دینی مدارس کا دورہ کیا اور بحمد اللہ تعالیٰ پاکستان کی طرح ہی شب و روز مصروفیت رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں چند روز

۱۴ اگست ۲۰۱۱ء

امریکہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیاں

گزشتہ تین ہفتوں سے امریکہ میں ہوں اور ہفتہ عشرہ تک مزید یہاں رہ کر رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سفر میں دو تین تبدیلیاں واضح طور پر محسوس ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایئرپورٹس پر تلاشی اور چیکنگ میں سختی والا ماحول اب رفتہ رفتہ نرم پڑتا جا رہا ہے۔ نیویارک ایئرپورٹ پر امیگریشن چیکنگ اور تلاشی وغیرہ کا دورانیہ جو اس سے قبل تین چار گھنٹوں تک پھیل جاتا تھا اس بار چار پانچ منٹوں میں نمٹ گیا جبکہ تلاشی کی سرے سے نوبت ہی نہیں آئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیاں

۴ اگست ۲۰۱۱ء

امریکہ کے دینی مراکز

میں سات جولائی کو نیویارک پہنچا تھا، دو دن دارالعلوم نیویارک میں قیام رہا، نماز جمعہ کی امامت کی اور ہفتے کے روز گیارہ حفاظ کے آخری سبق کی تقریب میں شرکت کے بعد اتوار کو ورجینیا پہنچ گیا۔ مولانا عبد الحمید اصغر نے دارالہدٰی سے الگ ہونے کے بعد مدینۃ العلم کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی ہے جہاں بچیوں اور بچوں کو حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ساتھ اسکول کی تعلیم دی جاتی ہے اور طلبہ و طالبات کا رجحان بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وہاں دو روز مغرب کے بعد بیان ہوا اور ۱۳ جولائی کو بالٹی مور پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کے دینی مراکز

۲۹ جولائی ۲۰۱۱ء

انتہا پسندی اور اس کی خودساختہ تعریف

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ کا جون کا آخری شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے اور اس میں انتہا پسندی کے حوالے سے شائع ہونے والی دو خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکی کانگریس کی ’’ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی‘‘ نے گزشتہ دنوں اس مسئلہ پر انکوائری کا اہتمام کیا کہ امریکہ کی جیلوں میں محبوس مسلمان قیدیوں میں انتہاپسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتہا پسندی اور اس کی خودساختہ تعریف

۲۲ جولائی ۲۰۱۱ء

پی آئی اے کے ساتھ پرواز کے تجربات

فیصل آباد کے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے، جو اکثر بیرونی سفر کرتے رہتے ہیں، مجھ سے کئی بار کہا ہے کہ پی آئی اے کے ذریعے سفر سے پکی توبہ کر لوں مگر بار بار کے تلخ تجربے کے باوجود ابھی تک دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا اور پی آئی اے کے ذریعے سفر اب بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلہ میں دو دلچسپ حالیہ تجربات قارئین کے علم میں لانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پی آئی اے کے ساتھ پرواز کے تجربات

۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

ہجرت و پناہ گزینی، کل اور آج

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نیویارک نے جون ۲۰۱۱ء کے آخری شمارے میں پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت ایک کروڑ پچپن لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے ۸۰ فیصد کے میزبان غریب ممالک ہیں۔ جبکہ ۲۰۱۰ء کے دوران پونے تین کروڑ افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہجرت و پناہ گزینی، کل اور آج

۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

نیویارک کی امیگریشن / قرآن کریم کا مقصدِ نزول

۲۲ جولائی کو نیویارک پہنچا تھا اور کم و بیش چار پانچ دن مصروف رہنے کے بعد اب بالٹیمور میں ہوں۔ جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر ہمارے جیسے لوگوں کے لیے امیگریشن کا مرحلہ بہت سخت ہوتا ہے جس سے کم و بیش ہر دفعہ گزرنا پڑتا ہے، اس سال بھی اس آزمائشی مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ گزشتہ سال اہلیہ بھی ساتھ تھیں اور امیگریشن کے عملے نے ہم دونوں کو جہاز سے اترتے ہی قابو کر لیا تھا، میں اس صورتحال کا عادی تھا مگر اہلیہ کے لیے یہ پہلا موقع تھا وہ بہت گھبرائیں مگر میں نے تسلی دی کہ پریشان نہ ہونا دو تین گھنٹے کی پوچھ گچھ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیویارک کی امیگریشن / قرآن کریم کا مقصدِ نزول

۳ اگست ۲۰۱۰ء

امریکہ میں درس قرآن کی چند محافل

حسب سابق اس سال بھی رمضان المبارک کا پہلا جمعہ دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا میں پڑھایا اور دو تین روز تک تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصہ کے طور پر کچھ معروضات پیش کیں۔ اس کے علاوہ بالٹی مور، نیوجرسی، برونکس اور لانگ آئی لینڈ کی متعدد مساجد میں قرآن کریم کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے اعجاز کے بیسیوں پہلو مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں درس قرآن کی چند محافل

۸ ستمبر ۲۰۰۹ء

مشی گن کی قدیم ترین مسجد

امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں چار روزہ قیام کے دوران نصف درجن کے لگ بھگ مساجد میں حاضری ہوئی، ان میں سے اکثر میں بیان بھی ہوئے۔ آج کل رمضان المبارک کے حوالے سے روزوں، قرآن کریم کی تلاوت اور رمضان المبارک سے متعلقہ دیگر اعمال خیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان بیانات میں ابتداء سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بیان اردو میں ہوگا اور اردو نہ سمجھنے والوں کے لیے ایک کونے میں انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمے کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشی گن کی قدیم ترین مسجد

۳۱ اگست ۲۰۰۹ء

دورۂ امریکہ اور اردو کی عالمگیریت

نماز عشاء کے بعد میں نے گوجرانوالہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اگلے روز یعنی ہفتہ کو عصر کے وقت جبکہ پاکستان میں اتوار کو فجر کی نماز ادا ہو چکی ہو گی، میں نیویارک پہنچ گیا اور اس وقت دارالعلوم نیویارک میں قیام پذیر ہوں۔ اس دارالعلوم کے بارے میں اس کالم میں متعدد مواقع پر کچھ نہ کچھ عرض کر چکا ہوں۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے دوستوں مولانا محمد یامین اور بھائی برکت اللہ نے ۱۹۹۷ء میں یہ مدرسہ قائم کیا جو اس وقت تک کرایہ کی بلڈنگ میں ہے مگر اب اس کے لیے اپنی بلڈنگ خریدنے کا پروگرام بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورۂ امریکہ اور اردو کی عالمگیریت

۲۹ جولائی ۲۰۰۹ء

سوات کی صورتحال پر لندن میں ایک فکری نشست

ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست ۲۴ اپریل ۲۰۰۹ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ، جناب کامران رعد اور راقم الحروف نے خطاب کیا اور لندن کے مختلف علاقوں سے علماء کرام اور ارباب دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ آج کی عالمی تہذیبی کشمکش میں علماء کرام کو اپنی ذمہ داری پورے ادراک اور شعور کے ساتھ پوری کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات کی صورتحال پر لندن میں ایک فکری نشست

۶ مئی ۲۰۰۹ء

سوات کی صورتحال اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کا اضطراب

حسب توقع اس سارے سفر میں سوات کی صورتحال اور پاکستان کے حالات ہی باہمی ملاقاتوں میں زیادہ تر زیربحث رہے اور کم و بیش ایک بات سب جگہ مشترک پائی کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالتوں کا قیام وہاں کے لوگوں کی خواہش اور مطالبے کے حوالے سے بھی اور امن عامہ کے قیام اور بحالی کے پس منظر میں بھی بہت خوش کن بات ہے۔ لیکن اس پہلو پر تشویش کے اظہار کے ساتھ یہ خواہش بھی ہر جگہ موجود ہے کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد کرنے والوں بالخصوص مولانا صوفی محمد کو ایسی باتوں اور ایسے کاموں سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات کی صورتحال اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کا اضطراب

۳۰ اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ کا سفر (۲۰۰۹ء)

ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دعوت پر ’’تذکرہ خیر الوریٰ‘‘ کے عنوان سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے متعدد اجتماعات میں شرکت کے لیے ۵ مارچ سے ۹ مارچ تک ہانگ کانگ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ شجاع آباد ضلع ملتان میں ہمارے ایک بزرگ دوست مولانا رشید احمد تھے جن کا قائم کردہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ ایک عرصہ سے تعلیمی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہانگ کانگ کا سفر (۲۰۰۹ء)

اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ میں چار روز

ہانگ کانگ میں چار دن گزار کر آج وطن واپس جا رہا ہوں۔ اس وقت بینکاک کے ایئرپورٹ پر ہوں اور کراچی کے لیے فلائٹ میں دو گھنٹے کے وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں سالانہ اجتماعات میں شرکت کے لیے مجھے دعوت دی تھی اور ’’تذکرۂ خیر الورٰی‘‘ کے عنوان سے ان اجتماعات کا سلسلہ مسلسل چار روز تک جاری رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہانگ کانگ میں چار روز

۱۲ مارچ ۲۰۰۹ء

جنوبی افریقہ میں چند روز

جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان سے جانے والے حضرات میں (۱) علامہ ڈاکٹر خالد محمود (۲) مولانا محمد الیاس چنیوٹی (۳) مولانا محمد احمد لدھیانوی (۴) صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی (۵) مولانا مفتی شاہد محمود (۶) مولانا راشد فاروقی اور (۷) راقم الحروف شامل تھے۔ راشد فاروقی تو لیٹ ہوجانے کی وجہ سے کراچی سے فلائٹ نہ پکڑ سکے اور اگلے روز پہنچے جبکہ باقی ہم چھ حضرات ۳۰ اکتوبر کو کراچی سے امارات ایئرلائنز کے ذریعے دبئی اور پھر وہاں سے کم و بیش آٹھ گھنٹے کا فضائی سفر کرتے ہوئے اسی ایئرلائن سے جوہانسبرگ پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی افریقہ میں چند روز

۱۹ تا ۲۱ نومبر ۲۰۰۸ء

جنوبی افریقہ: مسلم جوڈیشیل کونسل اور ختم نبوت کانفرنس

گزشتہ روز جنوبی افریقہ کے ایک ہفتے کے سفر سے واپس پہنچا ہوں اور ابھی کراچی میں ہوں۔ یہ سفر جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کی دعوت پر ۳۱ اکتوبر سے کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں منعقد ہونے والی تین روزہ سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوا جس کا اہتمام انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے اہتمام سے کیا تھا۔ کانفرنس میں جنوبی افریقہ کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ سعودی عرب، برطانیہ، بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھی علماء کرام اور دینی رہنماؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی افریقہ: مسلم جوڈیشیل کونسل اور ختم نبوت کانفرنس

۸ نومبر ۲۰۰۸ء

’’وار آن ٹیرر‘‘ کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کا سوال

میں امریکہ سے حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا۔ امریکہ میں اپنے چالیس روزہ قیام کے دوران وہاں کے دوستوں کے تاثرات سے اس کالم میں قارئین کو آگاہ کرتا رہا ہوں۔ آخری چار روز میں نیویارک میں رہا، یہ دن وہ تھے جب جناب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہو چکے تھے اور ان کی حلف برداری ہو رہی تھی۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے تاثرات بھی اسی طرح کے ہیں جیسے یہاں ہیں، البتہ ایک فرق ہے کہ وہاں ملکی سیاسیات اور اس میں بیرونی دلچسپیوں اور مداخلت کا منظر زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’وار آن ٹیرر‘‘ کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کا سوال

۲۶ ستمبر ۲۰۰۸ء

دو انتہاؤں پر کھڑے مذہبی طبقات

مجھے امریکہ میں آئے تقریباً ایک ماہ ہوگیا ہے، اس دوران نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، ڈیٹرائیٹ، ہیوسٹن، ڈیلاس اور شارلٹ وغیرہ میں بہت سے احباب سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ میری یہاں ہر سفر میں کوشش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں، بالخصوص پاکستانیوں کی مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کروں اور انہیں بہتر بنانے کے لیے جو صورت سمجھ میں آئے اس کا دوستوں کے سامنے اظہار بھی کروں۔ میرا زیادہ تر تعلق پاکستانی حلقوں سے رہتا ہے اور دینی درسگاہیں اور مساجد میری جولانگاہ ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو انتہاؤں پر کھڑے مذہبی طبقات

۶ ستمبر ۲۰۰۸ء

ناسا مصلیٰ

ڈیٹرائٹ امریکہ کے اہم شہروں میں سے ہے اور مشی گن ریاست میں ہے۔ مجھے اب سے بیس برس قبل اس کے ایئرپورٹ سے کئی چکر لگانے کا موقع ملا تھا مگر شہر میں داخل ہونے اور مسلمان دوستوں سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس زمانے میں وزٹ پر آنے والوں کو بعض فضائی کمپنیوں کی طرف سے فضائی سفر کے سستے کوپن مل جایا کرتے تھے جن پر وہ اس فضائی کمپنی کے جہازوں پر کسی بھی روٹ پر سفر کر سکتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے یہ کوپن لندن سے غالباً ساڑھے تین سو پاؤنڈ میں ساٹھ کی تعداد میں خریدے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ناسا مصلیٰ

۵ ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

حسب سابق اس سال بھی امریکہ میں چاند کا مسئلہ زوروں پر ہے اور علمی و دینی مجالس میں ان دنوں زیادہ تر یہی مسئلہ زیربحث رہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جو فلکیات کے حساب کی بنیاد پر پہلے سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے دن کا اعلان کر دیتا ہے چنانچہ اس سال بہت پہلے سے ان کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ بروز پیر یکم ستمبر کو یکم رمضان المبارک ہوگی۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ چونکہ فلکیات کا حساب اس قدر سائینٹفک ہو چکا ہے کہ اس کے اندازوں میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

۳ ستمبر ۲۰۰۸ء

شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے

گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے

۲ ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ کا سفر (۲۰۰۸ء)

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر (۲۰۰۸ء)

ستمبر ۲۰۰۸ء

شریعہ بورڈ آف امریکہ

گزشتہ روز شریعہ بورڈ آف نیویارک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ شریعہ بورڈ نیویارک کے دفتر میں اس سے قبل بھی متعدد بار حاضری اور دوستوں کو اس حوالہ سے کام کرتے ہوئے دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی جمال الدین اور مولانا مفتی روح الامین جبکہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمد نعمان اس سلسلہ میں زیادہ سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کے علماء کرام میں سے مولانا عبد الرزاق عزیز اور مولانا قاری مطیع الرحمان آف آزاد کشمیر بھی ان کے ساتھ شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعہ بورڈ آف امریکہ

۲۵ اگست ۲۰۰۸ء

امریکہ میں قادیانی سرگرمیوں کی ایک جھلک

اگست اتوار سے میں امریکہ میں ہوں۔ گزشتہ سال دارالعلوم نیویارک کے مہتمم بھائی برکت اللہ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگلے سال آپ آئیں گے تو کم از کم ایک ہفتہ ہمارے پاس رہیں گے۔ بھائی برکت اللہ ایک عرصہ سے دارالعلوم نیویارک کے نام سے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ایک مدرسہ کا نظام چلا رہے ہیں، بہت باذوق اور زندہ دل دوست ہیں اور برصغیر کے کسی بھی ملک کے علماء کرام کو کسی نہ کسی بہانے دارالعلوم میں لانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں قادیانی سرگرمیوں کی ایک جھلک

۱۷ اگست ۲۰۰۸ء

لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے

میری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے لیے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو ذریعہ بناؤں مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بار ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اس کوشش پر نظر ثانی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اگست کے آغاز میں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا جس کے لیے میں نے ۲ اگست کو لاہور سے نیویارک تک پی آئی اے کی سیٹ بک کرالی اور ریٹرن ٹکٹ خرید لیا۔ فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے بھی جانا تھا وہ امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے

۸ اگست ۲۰۰۸ء

برطانیہ کے چند دینی اداروں میں حاضری

۳۱ مئی کی شام باٹلی سے برمنگھم پہنچا کیونکہ یکم جون کا دن جامعہ الہدٰی کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی کے ساتھ تعلیمی مشاورت کے لیے مخصوص تھا۔ میرے برطانیہ کے ہر سفر میں ایک دن اس کام کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ مولانا موصوف اپنی تمام مصروفیات ترک کر دیتے ہیں اور میں بھی اس روز کوئی اور مصروفیت نہیں رکھتا، اس کام میں اکثر اوقات مولانا اکرم ندوی بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں لیکن اس سال وہ نہ آسکے البتہ مولانا سعید یوسف خان اور مولانا قاری خبیب احمد عمر دن کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ اس مشاورت میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کے چند دینی اداروں میں حاضری

۸ جون ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں چند روز

۲۴ مئی کو برطانیہ پہنچا ہوں اور ۷ جون کو واپسی کی فلائیٹ ہے۔ اس دوران ساؤتھال براڈوے کی ابوبکر مسجد میں جمعۃ المبارک کے بیان کے بعد شام کو نوٹنگھم پہنچ گیا جبکہ جمعرات کو ورلڈ اسلامک فورم کے چیئر مین مولانا محمد عیسیٰ منصوری سے ملاقات ہوئی جو اسی روز انڈیا اور بنگلہ دیش کے سفر سے واپس پہنچے تھے۔ دن کا بیشتر حصہ ابراہیم کمیونٹی کالج میں گزرا اور میرے لیے یہ بات نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی کہ اسی روز مدینہ منورہ سے تشریف لانے والے ایک محترم بزرگ حضرت قاری بشیر احمد صاحب نے کالج میں آنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ میں چند روز

۴ جون ۲۰۰۶ء

برطانیہ اور امریکہ کا سفر (۲۰۰۵ء)

۱۱ ستمبر کو میں نے ان دوستوں سے عرض کیا کہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے علاقے میں جانا چاہتا ہوں اور وہاں کے مناظر کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے تاثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو وہاں یادگاری تقریب ہوگی، ا س موقع پر یا اس سے قبل وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔ رات نو بجے کے بعد وہاں چلیں گے اور جو دیکھنا ہوگا، دیکھ لیں گے۔ چنانچہ رات کو نو بجے کے بعد وہاں پہنچے تو ہزاروں افراد مختلف ٹولیوں کی صورت میں اس علاقے میں گھوم رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ اور امریکہ کا سفر (۲۰۰۵ء)

یکم دسمبر ۲۰۰۵ء

امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ امریکہ میں بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں یا برطانیہ میں ہوتا ہے۔ میں ۱۱ کتوبر کو امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا) میں ہوں۔ دارالہدٰی کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر بہت محبت کرتے ہیں اور احترام سے نوازتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ اصرار بھی ہوتاہے کہ جتنے دن امریکہ میں رہوں دارالہدٰی ہی میں رہوں۔ اس سال ۱۱ اکتوبر سے ۲۲ اکتوبر تک امریکہ میں رہنے کا پروگرام تھا، میں نے لندن سے نیویارک کے لیے ٹکٹ کروا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۵ء

خواتین کی دینی تعلیم اور اسلامی معاشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

چند روز سے برطانیہ میں ہوں اور مزید چند روز رہنے کا پروگرام ہے، ارادہ ہے کہ ۲۴ جون تک گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ دو روز قبل اتوار کو جامعہ الہدٰی نو ٹنگھم میں ایک خصوصی نشست تھی جس میں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے والدین کو بلایا گیا تھا اور جامعہ کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے مجھے طالبات کے والدین سے گفتگو کے لیے کہا۔ میں نے اس موقع پر دو امور کی طرف بطور خاص توجہ دلائی: ایک یہ کہ دینی ذمہ داریوں میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شریک ہیں اور فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سزا و جزا میں بھی ان کا برابر کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خواتین کی دینی تعلیم اور اسلامی معاشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

۱۹ جون ۲۰۰۵ء

امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان

اس بار امریکہ میں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا، صرف ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تقریباً بیس دن گزار کر واپسی ہو رہی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو لندن سے نیویارک کے لیے سیٹ بک کرالی تھی کہ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ (ورجینیا، امریکہ) کے پرنسپل مولانا عبدا لحمید اصغر کا پیغام ملا کہ آپ نیویارک کی بجائے سیدھے واشنگٹن آئیں کیونکہ نیویارک سے آنے جانے میں دو تین دن نیویارک میں صرف ہو جائیں گے اور ہمارے لیے وقت کم رہے گا اس لیے کہ ۲۲ اکتوبر کو امریکہ سے میری واپسی کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۴ء

آکسفورڈ میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی کا خطاب

آکسفورڈ آج کی دنیا کا بڑا تعلیمی و تہذیبی مرکز ہے، مجھے کبھی کبھی وہاں جانے کا موقع ملتا ہے اور اپنے تاثرات میں قارئین کو بھی ہر بار شریک کرتا ہوں۔ بھارت کے ممتاز مسلم دانش ور اور محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر خلیق احمد نظامی مرحوم کے فرزند ڈاکٹر فرحان احمد نظامی نے آکسفورڈ میں ایک علمی و فکری مرکز قائم کر رکھا ہے جس کے سرپرستوں میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور سلطان آف برونائی کے علاوہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ اور پروفیسر ڈاکٹر خلیق احمد نظامی مرحوم و مغفور بھی شامل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آکسفورڈ میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی کا خطاب

۱۰ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری

حرمین شریفین کی حاضری کے بعد لندن روانگی سے قبل ایک دو روز جدہ میں قیام رہا اور ایک بزرگ محدث کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناجی مدظلہ معمر علماء کرام میں سے ہیں اور حدیث نبویؐ کے ممتاز فضلاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک سو پندرہ برس ان کی عمر ہے اور اب سے پون صدی قبل کے اکابر محدثین سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو چکی ہے مگر گفتگو بے تکلفی سے کرتے ہیں۔ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی بھر حدیث نبویؐ کی خدمت میں مصروف رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری

۴ اکتوبر ۲۰۰۴ء

لندن میں علماء کرام سے ملاقاتیں

۱۹ ستمبر کو لندن پہنچا تو معلوم ہوا کہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی کینیڈا جاتے ہوئے چند روز کے لیے لندن رک گئے ہیں۔ کینیڈا میں ان کے عقیدت مندوں کا ایک حلقہ ہے جس کے اصرار پر وہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات کا بڑا حصہ وہاں گزارتے ہیں، درس قرآن کریم کی محافل ہوتی ہیں اور مسلسل تبلیغی اجتماعات چلتے رہتے ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسٰی منصوری میرے انتظار میں تھے، سال میں ایک آدھ بار یہاں آتا ہوں تو مختلف ضروری مسائل پر تبادلۂ خیالات ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لندن میں علماء کرام سے ملاقاتیں

۲۶ ستمبر ۲۰۰۴ء

سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ

یہ سطور مدینہ منورہ میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ ۱۹۹۸ء کے بعد چھ سال کے وقفے سے یہاں حاضری ہوئی ہے۔ ۱۹۸۴ء سے معمول تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے سال لندن سے واپسی پر حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہو جایا کرتی تھی مگر سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے اب یہ آسان نہیں رہا۔ پہلے لندن میں سعودی سفارت خانہ وزٹ پر برطانیہ آنے والوں کو واپسی پر سعودی ایئرلائن کے ذریعے سفر کی صورت میں عمرے کا ویزا دے دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ

۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

مدینے کا ایک اور سفر

چھ سال کے وقفہ کے بعد آج پھر مدینہ منورہ میں ہوں اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری کی سعادت حاصل کر چکاہوں۔پہلی بار ۱۹۸۴ء میں یہاں حاضری ہوئی تھی اس کے بعد وقتاً فوقتاً اس شرف باریابی سے بہرہ ور ہوتا رہا مگر گزشتہ چند سالوں میں سعودی حکومت کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے بریک لگ گئی۔ اور اصل بات تو بلاوے کی ہے، اﷲ تعالیٰ اور ان کے آخری رسولؐ کی بارگاہ میں یہ حاضری بلاوے پر ہی ہوتی ہے اور بحمد اﷲ یہ بلاوا آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدینے کا ایک اور سفر

۱۸ ستمبر ۲۰۰۴ء

ورجینیا، امریکہ کی معروف غار لورے کیورن کی سیر

میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ورجینیا، امریکہ کی معروف غار لورے کیورن کی سیر

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

۲۵ جون کو میں نے جمعہ کی نماز واشنگٹن ڈی سی کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی مسجد دارالہدٰی میں پڑھائی اور اس سے قبل خطبہ و بیان کا موقع بھی ملا۔ میں اس سے قبل کئی بار یہاں آچکا ہوں اور ہر بار یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تین بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ایک نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد مسجد کے ساتھ ملحقہ وسیع ہال میں دو بار نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

۴ جولائی ۲۰۰۴ء

نیویارک کی دینی سرگرمیاں

جمادی الاول کے آغاز میں مدرسے کے ششماہی امتحان کا آغاز تھا جو ایک ہفتہ جاری رہنا تھا، اس کے بعد ایک ہفتہ کی تعطیلات تھیں۔ میں نے یہ چھٹیاں برطانیہ میں گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا مگر ویزے کی درخواست دینے میں اتنی تاخیر ہوگئی کہ چھٹیوں کے اختتام سے قبل ویزا ملنے کا امکان مشکوک ہوگیا اس لیے ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کرانے کی بجائے میں نے امریکہ کے سفر کا ارادہ کر لیا جہاں سے دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) کے مولانا عبد الحمید اصغر کی دعوت پہلے سے موجود تھی کہ میں یہ تعطیلات ان کے ہاں گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیویارک کی دینی سرگرمیاں

۲۷ جون ۲۰۰۴ء

امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ۔۔۔

۱۹ جون کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے نیویارک آتے ہوئے راستہ میں جہاز دو گھنٹے کے لیے مانچسٹر میں رکا تو روزنامہ جنگ لندن دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی گزشتہ دنوں جب امریکہ کے صدر بش سے ملے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں اور وہاں قیام کو پسند کرتے ہیں مگر صدر بش نے انہیں بے ساختہ جواب دیا کہ وہ افغانستان جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اس سوال جواب کے پیچھے ماضی کی ایک پوری دنیا آباد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ۔۔۔

۲۶ جون ۲۰۰۴ء

امریکہ کا سفر ( جون ۲۰۰۴ء)

میں ایک بار پھر واشنگٹن (ڈی سی) میں ہوں اور یہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران میرا امریکہ کا تیسرا سفر ہے۔ اس دفعہ میرا امریکہ آنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ دو ہفتے کی یہ تعطیلات برطانیہ میں گزارنے کا پروگرام تھا مگر تقدیر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے اس لیے پروگرام اچانک تبدیل ہوا اور میں لندن کی بجائے واشنگٹن میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ بہت سے دوستوں کو حیرت ہوتی ہے اور بعض دوست یہ دریافت بھی کر لیتے ہیں کہ یہ بار بار امریکہ کا آنا جانا آخر کیا ہے، تمہیں ویزہ کیسے مل گیا ہے، امریکہ میں داخل کیسے ہو جاتے ہو اور تمہارا خرچہ کو ن برداشت کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر ( جون ۲۰۰۴ء)

۲۴ جون ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کا سفر (۲۰۰۴ء)

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنگلہ دیش کا سفر (۲۰۰۴ء)

مارچ ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کا قیام اور وطن واپسی

دبئی میں دو روزہ قیام کے حوالہ سے اپنے تاثرات کے کالم میں قارئین سے گزارش کی تھی کہ بقیہ حصہ اگلے کالم میں پیش کر وں گا۔ خیال تھا کہ واپسی دبئی کے راستے سے ہو گی اور کچھ دیگر حضرات سے ملاقات کا ارادہ بھی تھا اس طرح ایک قسط اور پیش کر سکوں گا مگر پروگرام میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی۔ ڈھاکہ کے نواح میں ’’مدھوپور‘‘ نامی ایک بستی میں ہمارے احباب کا ایک دینی ادارہ ’’جامعہ حلیمیہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ اس کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد ۹ جنوری کو ہو رہا تھا اور مدرسہ کے مہتمم حضرت مولانا عبد الحمید کا اصرار تھا کہ میں اس پروگرام میں شرکت کے لیے ضرور رکوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنگلہ دیش کا قیام اور وطن واپسی

۲۴ جنوری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے دینی مدارس

بنگلہ دیش میں گیارہ دن قیام کے بعد ۱۰ جنوری کو ہماری واپسی تھی، اس دوران ہم نے ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، ہاٹ ہزاری، ٹیسیا، درگاپور، مدھوپور اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی اور سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے میں راقم الحروف کے علاوہ لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل، لندن کے ڈائریکٹر مولانا مشفق الدین، دارالارقم کالج ایمسٹر (برطانیہ) کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق، اور دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا محمد سلمان ندوی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنگلہ دیش کے دینی مدارس

۲۳ جنوری ۲۰۰۴ء

چند دن بنگلہ دیش میں

۳۱ جنوری کو صبح دو بجے کے لگ بھگ امارات ایئرلائینز کے ذریعے دبئی سے ڈھاکہ کے لیے روانگی ہوئی، پونے چار گھنٹے کی اس فلائیٹ کو آٹھ بجے کے قریب ڈھاکہ ائیرپورٹ پر اترنا تھا لیکن سخت دھند کی وجہ سے ڈھاکہ کی فضا میں پہنچ جانے کے باوجود ائیرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ مل سکی۔ جہاز نے فضا میں چکر کاٹنا شروع کیے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد پائلٹ مسافروں کو صورتحال سے آگاہ کرتا رہا حتیٰ کہ آخر میں اعلان کر دیا گیا کہ اگر مزید نصف گھنٹہ تک ہم ڈھاکہ ایئرپورٹ پر نہ اتر سکے تو پھر ہمیں کلکتہ ایئرپورٹ پر اترنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند دن بنگلہ دیش میں

۵ جنوری ۲۰۰۴ء

متحدہ عرب امارات میں دو دن

میں اس وقت متحدہ عرب امارات میں ہوں اور شارجہ میں بیٹھا یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں۔ یکم جنوری ۲۰۰۴ء کو میر پور ڈھاکہ کے مدرسہ دارالرشاد میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں مجھے ’’نئی صدی میں علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر گزارشات پیش کر نے کی دعوت دی گئی اور مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا اصرار ہے کہ میں اس کے لیے ضرور حاضری دوں۔ مدرسہ میں اسباق کے دوران مجبوری کی اکا دکا چھٹیوں کے علاوہ زیادہ غیر حاضری کا عادی نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ عرب امارات میں دو دن

۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ء

امریکی مسلمانوں کا دین کی طرف رجوع

تقریباً ۴۸ روز کے قیام کے بعد گزشتہ ہفتے امریکہ سے واپسی ہوئی۔ ۱۸ ستمبر کو نیویارک پہنچا تھا اور ۴ نومبر کو شام واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر ۶ نومبر کو صبح ۹ بجے کے لگ بھگ لاہور واپس پہنچ گیا۔ یہ سفر امریکی دارالحکومت کے نواح میں واقع دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا کی دعوت پر کیا تھا جہاں سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ متعدد دینی عنوانات پر سلسلہ وار خطابات کا پروگرام تھا۔ احباب کی فرمائش پر بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوٰۃ کے بعض ابواب کا درس دیا اور نماز تراویح میں چند پارے سنانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی مسلمانوں کا دین کی طرف رجوع

۱۱ نومبر ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر ( ستمبر ۲۰۰۳ء)

امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر ( ستمبر ۲۰۰۳ء)

دسمبر ۲۰۰۳ء

آئی تھنک کا فتنہ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان دنوں امریکہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے قریب ورجینیا کے علاقہ میں ہیں۔ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور مختلف مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجتماع کے لیے دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر نے خاصی محنت کی تھی جس کی وجہ سے ورکنگ ڈے (منگل) ہونے کے باوجود بھرپور اجتماع ہوا اور مفتی صاحب کے خطاب اور سوال و جواب کی نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئی تھنک کا فتنہ

۶ اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟

میں اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہوں، یہاں مجھے ۱۸ ستمبر کو پہنچنا تھا مگر طوفان کی آمد کے باعث واشنگٹن کے ایئرپورٹس بند کر دیے گئے اور میں لندن سے واشنگٹن براہ راست آنے کی بجائے نیویارک کے راستہ سے ایک دن تاخیر کے ساتھ پہنچا۔ دارالہدٰی نے روزانہ مغرب کے بعد سیرت نبویؐ پر لیکچرز کا اہتمام کر رکھا ہے جو میرے یہاں قیام کے دوران جاری رہیں گے اور اس کے علاوہ چند احباب نے بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کے خصوصی درس کا بھی تقاضا کیا ہے جو آج شام سے ان شاء اللہ العزیز شروع ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟

۲۵ ستمبر ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر (مئی ۲۰۰۳ء)

۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔ اس کے بعد ویزے کی کوشش کرتا رہا مگر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا حتیٰ کہ مئی ۲۰۰۱ء میں مجھے پانچ سال کے لیے ملٹی پل ویزا مل گیا مگر ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے باعث حالات میں ایسی تبدیلی آئی کہ خواہش کے باوجود امریکہ کا سفر نہ کر سکا اور اب تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ کے مختصر سے مطالعاتی دورے کا موقع مل گیا۔ واشنگٹن میٹرو پولیٹن کے علاقے میں میرے ہم زلف محمد یونس صاحب سالہا سال سے بچوں سمیت قیام پذیر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر (مئی ۲۰۰۳ء)

جولائی ۲۰۰۳ء

مغرب اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا فیصلہ کن مورچہ

الحاج عبد الرحمان باوا تحفظ ختم نبوت کے محاذ کے سرگرم اور مشنری رہنما ہیں۔ پہلے برما میں قادیانیت کے خلاف مصروف عمل رہے، پھر مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا میدان بنایا، سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان آئے اور کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو منظم کرنے میں دن رات ایک کر دیا۔ لندن میں ختم نبوت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تو ان کا اور مولانا منظور احمد الحسینی کا انتخاب ہوا۔ دونوں نے مل کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو برطانیہ میں منظم کیا اور اسٹاک ویل کے علاقہ میں ختم نبوت سنٹر کے قیام میں اپنی توانائیاں صرف کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا فیصلہ کن مورچہ

۱۷ جون ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر (مئی ۲۰۰۳ء)

گزشتہ ماہ مجھے تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مئی کے دوران دو ہفتے امریکہ رہا اور واپسی پر تین چار دن برطانیہ میں گزار کر مئی کے آخر میں وطن واپس آگیا۔ اس سے قبل 1987ء سے 1990ء تک چار پانچ بار امریکہ جا چکا ہوں۔ اس دوران میں نے کم و بیش درجن بھر امریکی شہروں میں مختلف اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد امریکی اداروں میں جانے کا موقع بھی ملا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھا بلکہ اس کی ایک سو ساتویں منزل پر واقع سیر گاہ سے نیویارک کا نظارہ کرنے کے علاوہ عصر کی نماز بھی وہیں جماعت کے ساتھ ادا کی جسے دیکھنے کے لیے ایک ہجوم ہمارے گرد جمع ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر (مئی ۲۰۰۳ء)

۱۴ و ۱۵ جون ۲۰۰۳ء

تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراﷲ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال

امریکہ حاضری کا ایک مقصد ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے حالات اور تاثرات کا جائزہ لینا بھی ہے اس لیے جہاں بھی موقع ملتا ہے دوستوں سے اس کا تذکرہ کر دیتا ہوں اور ان کے تاثرات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مختلف محافل میں اس کا ذکر ہوا اور کئی دوستوں سے الگ بھی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں جو باتیں سامنے آئیں تحقیق و تمحیص کی چھلنی سے گزارے بغیر عوامی تاثرات کے طور پر ان میں سے بعض باتوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال

۲۶ مئی ۲۰۰۳ء

امریکہ کا سفر

مجھے امریکہ آئے آج دسواں روز ہے اور اس وقت نیویارک کے ساتھ جزیرہ لانگ آئی لینڈ میں اپنے پرانے دوست اور ساتھی مولانا عبد الرزاق عزیز کے پاس ایک دو روز کے لیے ٹھہرا ہوا ہوں۔ مولاناعبد الرزاق عزیز کا تعلق ہزارہ سے ہے، ایک عرصہ شیر شاہ کراچی کی مسجد طور کے خطیب رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنماؤ ں میں سے ہیں، میرے (انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہونے کے) بعد جمعیۃ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا سفر

۲۲ مئی ۲۰۰۳ء

امریکہ میں چند روز

میں اس وقت امریکی ریاست ورجینیا کے علاقہ سپرنگ فیلڈ (واشنگٹن ڈی سی کے قریب) کے ایک ادارہ ’’دارالہدٰی‘‘ میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ یہ ادارہ مولانا عبد الحمید اصغر نے قائم کیا ہے جو پیر طریقت حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے اس علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ مجھے تیرہ سال کے بعد امریکہ آنے کا اتفاق ہوا ہے، اس سے قبل ۱۹۸۷ مکمل تحریر امریکہ میں چند روز

۱۹ مئی ۲۰۰۳ء

موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

علماء کرام میری برادری ہے اس لیے ان سے گفتگو کرنے اور بہت سی گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ان کے شایان شان نہ ہو، اور یہ خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ کوئی بات کسی نازک مزاج پر گراں گزر گئی تو پھر وہی کچھ نہ ہو جائے جو ایسے مواقع پر ہوجایا کرتا ہے۔ اس لیے پیشگی معذرت خواہی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں جو موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہوں گی اور جن میں تین امور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

۱۷ نومبر ۲۰۰۱ء

چند لمحے احمد شاہ باباؒ کے مزار پر

احمد شاہ ابدالیؒ کو افغان عوام محبت و عقیدت سے احمد شاہ باباؒ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اسی عقیدت سے اس عظیم افغان فرمانروا کی قبر پر حاضری بھی دیتے ہیں جس نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں قندھار میں افغان سلطنت کی بنیاد رکھی اور صرف ربع صدی کے عرصہ میں اس کی سرحدیں دریائے آمو سے دریائے سندھ تک اور تبت سے خراسان تک وسیع کر کے 51 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ احمد شاہ ابدالیؒ 1724ء میں ملتان میں پیدا ہوا۔ افغانستان کے ابدالی قبیلہ کے پوپلزئی خاندان کی سدوزئی شاخ سے اس کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند لمحے احمد شاہ باباؒ کے مزار پر

۲۹ مارچ ۲۰۰۱ء

افغانستان میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور امکانات

ایک معاملہ میں میرے سوال پر افغان قونصل جنرل ملا رحمت اللہ کاکازادہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ مئی کے اوائل میں کراچی میں افغان مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف حلقوں سے رابطے قائم کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان مصنوعات کی نمائش ہو جبکہ پاکستانی مصنوعات کا افغانستان میں عمومی تعارف کرانے کے لیے کابل، قندھار اور دیگر شہروں میں ان کی نمائش کا اہتمام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے طالبان حکومت ہر ممکن سہولیات مہیا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور امکانات

۲۷ مارچ ۲۰۰۱ء

افغانستان پر پابندیوں کے عملی اثرات

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی تاجر اپنی اشیاء کو افغان مارکیٹ میں جس پرچون نرخ پر فروخت کر رہا ہے وہ ہماری کاسٹ سے بھی کم ہے اور اس صورتحال میں ہم ایرانی مال کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہے اس لیے وہ اپنے صنعتکاروں اور تاجروں کو نئی منڈیاں بنانے کے لیے ہر قسم کی سہولت دے سکتی ہے، جبکہ ہماری معیشت پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا کنٹرول ہے اس لیے ہماری حکومت چاہے بھی تو ہمیں وہ سہولتیں اور ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دے سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر پابندیوں کے عملی اثرات

۲۴ مارچ ۲۰۰۱ء

امیر المؤمنین ملا محمد عمر سے ملاقات

دور سے دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ شاید گھر کے اندر باری باری حضرات کو ملاقات کے لیے بلایا جا رہا ہے اور یہ حضرات اپنی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ لیکن جب قریب ہوئے تو دیکھا کہ ملا محمد عمر بھی انہی لوگوں کے ساتھ خالی زمین پر آلتی مالتی مارے بیٹھے ہیں اور ان سے گفتگو کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں پہلے بھی دیکھ رکھا تھا اس لیے پہچان لیا لیکن مجھے مولانا درخواستی کو یہ بتانا پڑا کہ یہ صاحب جنہوں نے درمیان سے اٹھ کر ہمارے ساتھ معانقہ کیا ہے یہی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امیر المؤمنین ملا محمد عمر سے ملاقات

۲۱ مارچ ۲۰۰۱ء

دوبئی کے چند دینی و علمی مراکز میں حاضری

دوبئی پہلے بھی کئی بار جا چکا ہوں مگر اس بار خاصے عرصہ کے بعد جانے کا اتفاق ہوا۔ نو روزہ قیام کے دوران میرے میزبانوں محمد فاروق الشیخ، حافظ بشیر احمد چیمہ، مفتی عبد الرحمان اور چوہدری رشید احمد چیمہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ وقت نکال کر مجھے مختلف مقامات پر لے جا سکیں۔ چنانچہ ان کی توجہات کے باعث میں نے خاصا مصروف وقت گزارا اور کوشش رہی کہ ذاتی معلومات اور استفادہ کے ساتھ ساتھ اپنے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کی کچھ چیزیں جمع کر سکوں جس کے لیے ان دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دوبئی کے چند دینی و علمی مراکز میں حاضری

۳۰ جنوری ۲۰۰۱ء

حافظ قرآن کریم کا ایک اور بڑا اعزاز

اس سال برطانیہ سے واپسی سے ایک روز قبل لیسٹر کی اسلامک دعوہ اکیڈمی کی سالانہ تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور اکیڈمی کی تعلیمی پیش رفت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ اکیڈمی لیسٹر کے نوجوان عالم دین مولانا محمد سلیم دھورات نے قائم کی ہے اور نو سال قبل ایک گھر میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب ایک خوبصورت بلڈنگ میں منتقل ہو چکا ہے جو پہلے بوڑھوں کی دیکھ بھال کے کام آتی تھی مگر مولانا سلیم دھورات نے اسے خرید کر مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ قرآن کریم کا ایک اور بڑا اعزاز

یکم دسمبر ۲۰۰۰ء

۱۰ اکتوبر کے ’’الاہرام‘‘ پر ایک نظر

مرکزی سرخی مصر کے صدر حسنی مبارک اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی ملاقات کے بارے میں ہے جس میں اسرائیل کی تازہ صورتحال، نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حالیہ وحشیانہ تشدد، اور چند روز میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کے اہم نکات زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ ہی صفحۂ اول پر خبر ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس میں کم و بیش ستر بادشاہوں اور حکومتی سربراہوں کی شرکت متوقع ہے۔ اور مصری صدر کی اہلیہ سوزان مبارک کی سربراہی میں فلسطینی شہداء کے خاندانوں کی امداد کے لیے فنڈ کے قیام کا اعلان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۰ اکتوبر کے ’’الاہرام‘‘ پر ایک نظر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۰ء

افغانستان کے اخبارات پر ایک نظر

اخبار انیس کا 12 اگست کا شمارہ میرے سامنے ہے اور چونکہ یہ دن افغانستان میں ’’یوم استقلال‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اس لیے زیادہ تر مضامین اور کچھ خبریں اسی حوالہ سے ہیں۔ ’’یوم استقلال‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف افغانستان کی جنگ آزادی میں کامیابی اور برطانیہ کی طرف سے افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جو اگست 1919ء میں ’’معاہدہ راولپنڈی‘‘ کی صورت میں تسلیم کی گئی تھی۔ اس سے قبل افغانستان پر برطانوی فوجوں کی یلغار رہتی تھی اور متعدد بار کابل، قندھار اور جلال آباد پر برطانوی فوجوں کا قبضہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کے اخبارات پر ایک نظر

۳۰ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان میں این جی اوز کا کردار

دوسری شکایت یہ کہ این جی اوز میں بین الاقوامی اداروں کے انتظامی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یعنی ان کے فراہم کردہ فنڈز میں سے افغان عوام کی ضروریات پر رقم کم خرچ ہوتی ہے اور ان اداروں کے اپنے دفاتر، عملہ کی تنخواہوں، آمد و رفت اور دیگر ضروریات پر اس سے کہیں زیادہ رقوم خرچ ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جناب سہیل فاروقی نے بتایا کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا سالانہ فنڈ 200 ملین ڈالر ہے مگر اس کا 80 فیصد انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے اور صرف 20 فیصد رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو پاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں این جی اوز کا کردار

۲۹ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان کے عدالتی اور تعلیمی نظام پر ایک نظر

مولانا پیر محمد روحانی نے بتایا کہ ہم انٹرمیڈیٹ تک ضروریات دین اور ضروری عصری علوم کا مشترکہ نصاب مرتب کر رہے ہیں جو سب طلبہ اور طالبات کے لیے لازمی ہوگا اور اس کے بعد طلبہ کے ذوق و صلاحیت اور ملکی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ شعبوں کی تعلیم کا نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے زیرو پوائنٹ سے کام شروع کیا ہے اور دھیرے دھیرے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں اس لیے بہت سا خلاء دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جب ہم آگے بڑھیں گے اور یہ نظام تکمیل تک پہنچے گا تو سب لوگ مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کے عدالتی اور تعلیمی نظام پر ایک نظر

۲۷ اگست ۲۰۰۰ء

کابل میں ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کا قیام

اپنے میزبان کے ساتھ کابل کے ایک روڈ پر گزرتے ہوئے ’’دعلومو اکادمی‘‘ کے بورڈ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ علوم کی تحقیق و ریسرچ کا ادارہ ہے جو طالبان کی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے اپنے میزبان سے عرض کیا کہ یہ تو میرے اپنے ذوق اور شعبہ کا کام ہے جس کا کابل کے حوالہ سے ایک عرصہ سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے اس ادارہ کو ضرور دیکھنا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے بات کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کابل میں ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کا قیام

۲۶ اگست ۲۰۰۰ء

افغان نائب صدر ملا محمد حسن سے ملاقات

افغان نائب صدر نے کہا کہ ہمارا یہ عزم اور فیصلہ ہے کہ افغانستان کی حدود میں اسلام اور صرف اسلام کا نفاذ ہوگا لیکن ہم دوسرے کسی ملک کے معاملہ میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہماری خواہش ضرور ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ممالک میں اسلام نافذ کریں اور اگر کوئی مسلم ملک اس مقصد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو ہم اس سے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن اپنی طرف سے کسی ملک پر انقلاب مسلط کرنے اور مسلم ملکوں کے معاملات میں مداخلت کا کوئی پروگرام ہم نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کو ایسا خطرہ محسوس کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان نائب صدر ملا محمد حسن سے ملاقات

۲۲ اگست ۲۰۰۰ء

دو دن کابل کی آزاد فضا میں

اب مجھے تیسری بار کابل جانے اور دو روز قیام کرنے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگرچہ مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے مگر طالبان اہلکاروں نے جس ہمت اور محنت کے ساتھ اپنی ناتجربہ کاری پر قابو پایا ہے اور ایثار و استقامت کے ساتھ معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اس کے اثرات کابل میں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ کابل کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، بازاروں کی چہل پہل میں اضافہ ہوا ہے، چھ بجے سرشام کابل کے راستے بند ہو جانے کی بجائے اس کی مدت رات دس بجے تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو دن کابل کی آزاد فضا میں

۲۰ اگست ۲۰۰۰ء

جبری شادیاں اور برطانیہ کی مسلم کمیونٹی

ان دنوں برطانیہ میں جبری شادیوں پر بحث کا بازار گرم ہے اور مختلف عدالتوں میں مقدمات کے ساتھ ساتھ اخبارات و جرائد اور محافل و مجالس میں بھی گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ مغرب میں لڑکا اور لڑکی اپنا شریک حیات چننے میں آزاد ہیں اور اس میں ماں باپ کا کوئی اہم رول نہیں ہوتا جبکہ ہمارے ہاں رشتے کا چناؤ اور شادی کا اہتمام عام طور پر ماں باپ کرتے ہیں اس لیے ان روایات کا ٹکراؤ مغرب میں رہنے والے مسلمان خاندانوں کے لیے لاینحل مسئلہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جبری شادیاں اور برطانیہ کی مسلم کمیونٹی

ستمبر ۱۹۹۹ء

بارہ ربیع الاول کو ساؤتھال میں المہاجرون ریلی

۲۶ جون کو برمنگھم جانے کے لیے ایک بجے کے لگ بھگ ابوبکرؓ مسجد ساؤتھال براڈوے سے نکلا، مجھے اڑھائی بجے وکٹوریہ کوچ اسٹیشن سے بس پکڑنا تھی جس کی سیٹ دو روز قبل ریزرو کرالی تھی۔ خیال تھا کہ وقت پر پہنچ جاؤں گا مگر ساؤتھال براڈوے کے بس اسٹاپ پر لوکل بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک طرف سے اسلام زندہ باد کے نعروں اور تلاوت قران کریم کی آواز کانوں میں پڑنے لگی۔ تعجب سے ادھر ادھر دیکھا کہ یہ آوازیں کدھر سے آرہی ہیں، معلوم ہوا کہ ’’المہاجرون‘‘ کی ریلی ہے جو اس تنظیم نے اسلام کے تعارف کے لیے منعقد کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بارہ ربیع الاول کو ساؤتھال میں المہاجرون ریلی

۴ جولائی ۱۹۹۹ء

لاہور سے ہیتھرو

دوحہ سے لندن کی فلائٹ میں قطر کا عربی روزنامہ ’’الشرق‘‘ مل گیا۔ یہ بین الاقوامی معیار کا روزنامہ ہے جس میں ہر ذوق کے قاری کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ کوئی نیا اخبار سامنے آتا ہے تو میں اس پر مجموعی طور پر ایک نظر ڈالنے کے علاوہ مراسلات کا صفحہ توجہ سے دیکھتا ہوں۔ اس سے اس اخبار کے قارئین کی ذہنی سطح اور اس ملک کی رائے عامہ کے رجحانات کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس خیال سے مراسلات کے صفحہ کی چھان بین کی تو اپنے ذوق کے دو مراسلے سامنے آگئے، دونوں کا تعلق خاندانی نظام کے حوالہ سے درپیش مشکلات سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور سے ہیتھرو

۱۵ جون ۱۹۹۹ء

لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘

’’المہاجرون‘‘ نے ۲۶ جولائی کو ٹریفالیگر اسکوائر لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ المہاجرون مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پرجوش نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کے سربراہ شیخ عمر بکری محمد ہیں۔ شیخ عمر کا تعلق شام سے ہے اور دینی حلقوں کے خلاف ریاستی جبر سے تنگ آکر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ شافعی المذہب سنی عالم ہیں، شریعہ کالج کے نام سے لندن میں ادارہ قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوانوں کو قرآن و سنت، فقہ اور اسلام کے اجتماعی نظام کی تعلیم دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘

۸ اگست ۱۹۹۸ء

ساؤتھال لندن میں مسلمانوں کی مذہبی جدوجہد

مغربی لندن میں ساؤتھال کا علاقہ ایشین آبادی کا علاقہ کہلاتا ہے جہاں پاکستان اور بھارت سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور آبادی کی اکثریت انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں مسلمان، ہندو اور سکھ تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، زیادہ تعداد سکھ کمیونٹی کی بتائی جاتی ہے اس کے بعد مسلمان اور ہندو ہیں۔ اور اب صومالیہ سے آنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے اس علاقہ میں آباد ہونے سے آبادی میں مسلمانوں کا تناسب خاصا بڑھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ساؤتھال لندن میں مسلمانوں کی مذہبی جدوجہد

۲۳ جولائی ۱۹۹۸ء

برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ میں ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے ساتھ جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا ان میں سے چند کا تذکرہ قارئین کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں ہمارا قیام تھا اور اس کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہمارے میزبان تھے۔ یہ ادارہ نوٹنگھم کے وسط میں ’’فارسٹ ہاؤس‘‘ نامی ایک بڑی بلڈنگ خریدکر قائم کیا گیا ہے جہاں پہلے محکمہ صحت کے دفاتر تھے۔ خوبصورت اور مضبوط بلڈنگ ہے، چار منزلہ عمارت میں اڑھائی سو کے لگ بھگ کمرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

۲۵ جون ۱۹۹۸ء

صومالیہ، مشرقی افریقہ کا افغانستان

صومالیہ غلامی کے دور میں تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک پر برطانیہ کی عملداری تھی، دوسرا حصہ فرانس کے قبضہ میں تھا، جبکہ تیسرے پر اٹلی کی آقائی کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آزادی کے بعد برطانوی و صومالی لینڈ نے مشترکہ جمہوریت قائم کر لی جبکہ فرانسیسی صومالیہ بدستور الگ حیثیت رکھتا ہے۔ صومالیہ کا اکثر علاقہ بنجر ہے، کچھ حصہ کاشت ہوتا ہے، کیلا زیادہ پیدا ہوتا ہے، مویشیوں اور کھالوں کی تجارت بھی ہوتی ہے، اور اب کچھ معدنی ذخائر اور تیل کا سراغ لگا ہے جو ابھی تحقیقی و تجزیہ کے مراحل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صومالیہ، مشرقی افریقہ کا افغانستان

جنوری ۱۹۹۴ء

تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت

تاشقند وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست ازبکستان کا دارالحکومت ہے اور ہماری کئی تاریخی اور قومی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ وسطی ایشیا کا یہ خطہ، جسے علمی حلقوں میں ماوراء النہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، صدیوں تک علومِ اسلامیہ بالخصوص فقہ حنفی کا مرکز رہا ہے اور اسے امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، صاحب ہدایہ امام برہان الدین مرغینائیؒ اور فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ جیسے اساطینِ علم وفضل کی علمی جولانگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر پاکستان کی قومی تاریخ میں بھی تاشقند کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت

اگست ۱۹۹۳ء

افغانستان میں پانچ دن

حرکۃ الجہاد الاسلامی پاکستان کی دعوت پر مجھے ملک کے سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۳۱ مئی سے ۴ جون تک پانچ روز افغانستان کی سرزمین پر گزارنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل بھی چودہ سالہ افغان جہاد کے دوران حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی دعوت اور پروگرام کے مطابق ارگون، باڑی، راغبیلی، ژاور اور خوست کے دیگر محاذوں پر کئی بار گیا ہوں لیکن جہاد افغانستان کی کامیابی اور مجاہدین کی باقاعدہ حکومت کے قیام کے بعد یہ میرا پہلا دورۂ افغانستان تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں پانچ دن

جون ۱۹۹۲ء

امریکہ میں یورپی آبادکاروں کا’’یوم تشکر‘‘

اٹلانٹا (جارجیا) کا ائیرپورٹ امریکہ کے بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس ائیرپورٹ پر بسا اوقات ایک گھنٹہ میں سو سے زیادہ فلائٹیں اترتی ہیں۔ اتنے بڑے ائیر پورٹ پر آنے والے مسافر کی فلائیٹ کا نمبر اور وقت کا صحیح علم نہ ہو تو مسافر کو لینے کے لیے ائیر پورٹ پر آنے والے حضرات کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے جس کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا۔ میں ۱۹ نومبر کو شام ساڑھے چھ بجے ٹورانٹو سے اٹلانٹا پہنچا اور حسب معمول بیگیج کلیم کے لاؤنج تک آگیا جہاں سے افتخار رانا صاحب مجھے وصول کیا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں یورپی آبادکاروں کا’’یوم تشکر‘‘

۱۹۸۹ء غالباً

شکاگو میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

شکاگو امریکہ کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، دنیا کے مختلف حصوں میں یکم مئی کو، جو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، دراصل شکاگو ہی کے ایک افسوسناک واقعہ کی یادگار ہے کہ یہاں محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ شہادت کے اسلامی تصور سے ناآشنا لوگ انہیں ’’شہدائے شکاگو‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ان کی یاد ہر سال محنت کشوں کے عالمی دن کی صورت میں یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدور برادری میں منائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شکاگو میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

۱۹۸۹ء غالباً

خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

کینیڈا میں پانچ دن

گزشتہ سال شکاگو میں ’’عالمی ختم نبوت و حجیت حدیث کانفرنس‘‘ کے موقع پر ٹورانٹو سے آنے والے احباب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے وہاں آنے کی دعوت دی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے وہاں جانا تھا اس لیے میں نے بھی شکاگو میں کینیڈا کے قونصلیٹ جنرل میں ویزا کی درخواست دے دی مگر ویزہ نہ مل سکا اور متعلقہ حکام نے کہا کہ آپ ویزا پاکستان سے ہی لگوا کر آئیں، چنانچہ مولانا چنیوٹی صاحب تشریف لے گئے اور میں نہ جاسکا۔ اس سال اسلام آباد میں کینیڈا کے سفارت خانہ سے ویزا لیا اور بیرونی سفر میں ٹورانٹو حاضری کا پروگرام بھی شامل کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کینیڈا میں پانچ دن

۱۹۸۸ء غالباً

چند روز حرمین شریفین کی فضاؤں میں

لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر عمرہ کا ارادہ تھا، سعودی عرب کے سفارت خانہ سے رابطہ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی عمرہ کے ویزا پر پابندی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے مولانا سید عبد القادر آزاد کی سربراہی میں سفارتخانہ کے حکام سے ملاقات کی تو ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء میں سے واپسی پر عمرہ ادا کرنے کے خواہشمند حضرات کو وزٹ ویزا دے دیا گیا۔ چنانچہ ۲۳ ستمبر کو KLM کی فلائٹ سے پہلے لندن سے ایمسٹرڈیم اور پھر وہاں سے جدہ کا سفر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند روز حرمین شریفین کی فضاؤں میں

۲۳ اکتوبر ۱۹۸۷ء

مہدی سوڈانی کا تعارف اور امام سراج وہاج سے ایک ملاقات

میرے نیویارک کے سفر کے مقاصد میں بلیک مسلم تحریک کے مختلف گروپوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور کسی صحیح العقیدہ گروپ کے ساتھ رابطہ کی کوشش کرنا بھی تھا۔ چنانچہ اس میں اس حد تک کامیابی حاصل ہو سکی کہ حلقہ اسلامی شمالی امریکہ کے امیر جناب عبد الشکور کی وساطت سے بلیک مسلم تحریک کے ایک اہم راہنما امام سراج وہاج کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی۔ اور ’’انصار اللہ‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ایک اور بلیک مسلم گروپ کے بارے میں عربی زبان میں ایک کتابچہ میسر آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مہدی سوڈانی کا تعارف اور امام سراج وہاج سے ایک ملاقات

۲ اکتوبر ۱۹۸۷ء

امریکہ میں پاکستانیوں کی سرگرمیاں

نیویارک کے علاقہ بروکلین میں مقیم پاکستانی ان دنوں پاکستان سوسائٹی کے سالانہ انتخابات کی گہماگہمی میں مصروف ہیں۔ ایک طرف جناب عبد الشکور کا گروپ ہے اور دوسری طرف جناب محمد الیاس اور ان کے رفقاء سرگرم عمل ہیں۔ جناب عبد الشکور پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم راہنما کی حیثیت سے پاکستان میں معروف ہیں اور یہاں حلقہ اسلامی شمالی امریکہ کے امیر کے منصب پر فائز اپنے مشن کے لیے مصروفِ کار ہیں، سرگرم، پرجوش اور مرنجان مرنج شخصیت کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں پاکستانیوں کی سرگرمیاں

۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء

نیویارک میں پاکستان کا قومی دن ۔ عوامی پریڈ، راگ و رنگ اور نظریۂ پاکستان

۲۲ اگست کو صبح نماز کے بعد فندق الاسلامی ہوٹل سے قاہرہ ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سورج نکل رہا تھا اور ایئرپورٹ پر پہنچنے تک پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر جلوہ گر ہو چکا تھا۔ آٹھ بجے کے ایل ایم ایئرلائن کی ایمسٹرڈیم (نیدرلینڈ کا دارالحکومت) کے لیے فلائٹ تھی جو ساڑھے بارہ بجے وہاں پہنچی، وہاں بھی وقت ساڑھے بارہ ہی تھا۔ یہاں سے نیویارک کے لیے دوسری فلائیٹ کا وقت شام چھ بجے کا تھا جس نے آٹھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد نیویارک پہنچنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیویارک میں پاکستان کا قومی دن ۔ عوامی پریڈ، راگ و رنگ اور نظریۂ پاکستان

۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے بارے میں سالانہ کانفرنس کی تجویز

دوبئی سے قاہرہ روانگی سے قبل میں نے اپنے تاثراتی مضمون میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بعض مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا تھا اور جب قاہرہ پہنچا تو یہاں بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی سالانہ کانفرنس شروع تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومتِ مصر کرتی ہے اور اس میں بیرونِ مصر کام کرنے والے مصریوں کے سرکردہ نمائندوں کے علاوہ حکومت کے ذمہ دار حضرات بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس وقت مصر کا قومی اخبار ’’الاہرام‘‘ میرے سامنے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے بارے میں سالانہ کانفرنس کی تجویز

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی چوتھی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی ہے۔ یہ کانفرنس پانچ روز جاری رہی، اس کے افتتاحی اجلاس سے صدرِ مصر جناب حسنی مبارک نے اور اختتامی اجلاس سے وزیراعظم جناب ڈاکٹر عاطف صدقی نے خطاب کیا۔ اس دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں نے کانفرنس کے شرکاء کے سامنے مصری حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

مجھے ۹ اگست سے ۱۷ اگست تک متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران دوبئی، شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی میں متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ پاکستانی باشندوں کی مختلف تقریبات میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات اس دورہ کی میزبان تھی اور جمعیۃ کی طرف سے دیگر اجتماعات کے علاوہ یوم پاکستان کے موقع پر ۱۴ اگست کو ابوظہبی کی قدیمی جامع مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر جلسۂ عام کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

مجھے نیویارک پہنچے آج ساتواں روز ہے۔ محترم مولانا میاں محمد اجمل قادری بھی تین روز قبل یہاں پہنچ چکے ہیں۔ میاں صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے کنیڈا چلے گئے تھے اور ایک ہفتہ تک وہاں مختلف شہروں میں مسلمان راہنماؤں اور شہریوں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ انہوں نے متعدد اجتماعات سے خطاب کیا اور اس کے بعد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن اور ایک اور شہر مشی گن سے ہوتے ہوئے نیویارک پہنچے ہیں اور اب ہم دونوں مل کر اس وسیع و عریض شہر کے مختلف حصوں میں دوستوں سے ملاقاتیں اور اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

ستمبر ۱۹۸۷ء

جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کے سربراہ مولانا محمد فہیم سے ملاقات

سوات سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین مولانا محمد فہیم کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کا دوبارہ متفقہ طور پر امیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ مولانا موصوف ۱۹۸۰ء سے، جب سے جمعیۃ اہل السنۃ قائم ہوئی ہے، اس کے امیر چلے آرہے ہیں۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ للدعوۃ والارشاد متحدہ عرب امارات کی سطح پر گزشتہ سات برس سے کام کر رہی ہے اور اس میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماء اور دینی کارکن شریک ہیں۔ تمام ریاستوں میں جمعیۃ کی باقاعدہ شاخیں کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کے سربراہ مولانا محمد فہیم سے ملاقات

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات

گزشتہ شمارہ میں دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں ایک مختصر اور سرسری رپورٹ پیش کر چکا ہوں۔ مجھے چونکہ تقریبات کے آخری دن دیوبند پہنچنے کا موقع ملا تھا اس لیے زیادہ تفصیلات قلمبند نہ ہو سکیں۔ غالباً دارالعلوم کا دفتر اہتمام تقریبات کی تفصیلی رپورٹ باضابطہ طور پر جلد جاری کر رہا ہے جس سے قارئین تقریبات کی تفصیلات سے آگاہ ہو سکیں گے۔ آج کی معروضات میں دیوبند، دہلی، سہارنپور اور بھارت کے دیگر شہروں میں حاضری کے سلسلہ میں اپنے ذہنی تاثرات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات

۱۸ مارچ ۱۹۸۰ء