عصر حاضر

’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات

رابطہ عالم اسلامی کے ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کویت یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمود فہد القشعان نے ایک دلچسپ کہاوت سے گفتگو کا آغاز کیا اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتدال، وسطیت اور توازن کی اہمیت و ضرورت پر خوبصورت گفتگو کی۔ ان کی زبان سے یہ کہاوت سن کر مجھے اپنے آبائی شہر گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ صوفی نذیر احمد کشمیری مرحوم یاد آگئے جن سے میں نے یہ کہانی نصف صدی قبل پنجابی زبان میں متعدد بار سن رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۹ء

’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر چند تعارفی دروس

معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی کے رئیس مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر ان کے ہاں کچھ تعارفی دروس کا اہتمام ہو جائے، ملک کے مختلف علاقوں کے دیگر متعدد احباب کی طرف سے بھی ایک عرصہ سے یہ فرمائش جاری ہے۔ خود میرا حال یہ ہے کہ، کسی تکلف کے بغیر، خود کو اس کا پوری طرح اہل نہیں سمجھتا اور بہت سے امور میں تشنگی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن اس کی دن بدن بڑھتی ہوئی ضرورت و اہمیت کے باوجود اس سلسلہ میں ایسے عمومی دائرے میں اس کی تکمیل کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۹ء

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۸ء

علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ تا ۲۴ جون ۲۰۱۸ء

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

اسلامی علوم کے ان شعبوں میں علمی و فکری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ جو بات خوشی اور اطمینان کا باعث بن رہی ہے، یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فضلاء میں میل جول بڑھ رہا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے اور ان کا اہتمام کرنے والے اساتذہ و طلبہ میں دونوں طرف کے فضلاء شریک ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز میں دینی مدارس کے فضلاء کی تعداد روز افزوں ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ و فضلاء کی دلچسپی اس میں مسلسل بڑھ رہی ہے جو ہمارے پرانے خواب کی تعبیر ہے کہ قدیم و جدید علوم کے ماہرین یکجا بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ و ۴ جنوری ۲۰۱۷ء

اسلام اور جدیدیت کی کشمکش

انسان کے ذمہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آسائش تلاش کرے، اسباب فراہم کرے، اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقے دریافت کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی نوعی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ کائنات کو وجود میں لانے والے خالق و مالک کی مرضی معلوم کرے اورا س کی مرضی و منشاء کی تکمیل کے لیے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی زندگی کے لیے، جو اصلی اور دائمی حیات ہے، فکرمند ہو اور اسے بہتر بنانے کو زندگی کا مقصد قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۶ء

مذہب اور وحی کی طرف واپسی کا سفر

موجودہ صدی کو عام طور پر مذہب کی طرف واپسی کی صدی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دو صدیاں انسانی سوسائٹی نے وحی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف میں گزاری ہیں اور اس کے تلخ معاشرتی نتائج و ثمرات کا سامنا کرتے ہوئے اب اہل دانش سوسائٹی میں مذہبی اقدار و روایات کی واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ دو ماہ قبل امریکہ کی ہنٹنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پاکستان تشریف لائے، وہ اہل سنت کے معروف متکلم اور عقائد کے امام ابومنصور ماتریدیؒ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۶ء

قدیم و جدید علوم کی بحث

قرآن کریم حادث کے مقابلہ میں بلاشبہ قدیم ہے اور وہ ہمارا اعتقادی مسئلہ ہے، لیکن جدید کے مقابلے میں قرآن کریم یا حدیث و سنت کو قدیم قرار دینا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ یہ پرانے علوم ہیں جن کا زمانہ گزر چکا ہے اور آج ان کی جگہ نئے علوم و فنون نے لے لی ہے۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ قرآن و سنت قیامت تک کے لیے ہیں اور ماضی کی طرح حال کا زمانہ، بلکہ آنے والا مستقبل بھی قرآن و سنت کے دائرہ کار میں شامل ہے، اور قرآن کریم کی ٹرم قیامت تک باقی رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۵ء

بین الاقوامی قوانین اور اسلام

معاہدہ شخصی ہو، گروہی ہو یا بین الاقوامی ہو، اصول ہر جگہ ایک ہی ہے کہ ہمیں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے اسلام کے اس واضح اور صریح حکم پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہم اپنے مسلمان ہونے اور پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ہونے کے تقاضوں سے وفا نہیں کر سکیں گے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے گرد بین الاقوامی معاہدات کا جال جس طرح بن دیا گیا ہے، ان معاہدات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات سے پہلے ہمیں اس جال اور اس کے پیچھے بیٹھے شکاریوں پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۱۵ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۱۵ء

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

ڈاکٹر محمد الظواہری نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ دی ہیں کہ ان سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ہر ایک پر تبصرہ کرنا مشکل سا ہو گیا ہے، لیکن اس سے اتنی بات ضرور واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام، جہاد اور جمہوریت کے حوالے سے اس طرح کی کنفیوژن کم وبیش پورے عالم اسلام میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے او رنفاذ اسلام کے خواہاں دینی حلقے ہر مسلم ملک میں اسی قسم کی ذہنی وفکری کشمکش سے دوچار ہیں جو ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ

عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اس قسم کے تکفیری اور متشدد گروہوں کو دیکھ کر خوارج کے اس دور کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ میں علماء کرام سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بات بات پر تکفیر اور اس کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی نفسیات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خوارج کی تاریخ کا مطالعہ اوران کے مقابلے میں اہل سنت کے ائمہ کرام خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آج کے متشدد گروہوں کی نفسیات اور ذہنیت کو پوری طرح سمجھنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

دورِ جدید اور علماء کرام۔ تین غور طلب باتیں

میں نے گزشتہ عشرہ سعودی عرب میں گزارا۔ ۱۲ جولائی کو جدہ پہنچا تھا اور ۲۲ جولائی کو جدہ سے سفر کر کے ایک روز قبل نیویارک آگیا ہوں۔ اس دوران بیت اللہ شریف کی حاضری، عمرہ اور روضۂ اطہر پر صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ میرے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان خان شاہد، میرے ایک برادر نسبتی حافظ عبد العزیز اور میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد جدہ میں مقیم ہیں۔ قاری شاہد خان کے بچے ارسلان خان نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جبکہ حافظ عبد العزیز کی بچی کا نکاح تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۰ء

شریعت کے نفاذ کی ضرورت کیوں؟ ڈاکٹر نوح فلڈمین کے خیالات

ڈاکٹر نوح فلڈمین (Noha Feldman) امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے استاد ہیں اور نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن سے بھی تعلق رکھتے ہیں، شریعت اسلامیہ ان کی اسٹڈی کا خصوصی موضوع ہے اور وہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن میں ?Why Sharia (شریعہ کیوں؟) کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا جس کے کچھ اقتباسات ٹوکیو کے جناب حسن خان نے دہلی سے شائع ہونے والے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ کی ۴ دسمبر کی اشاعت میں اپنے ایک مضمون میں درج کیے ہیں۔ وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۰ء

اسلامی احکام و مسائل اور آج کی دنیا

اس دفعہ سہ ماہی امتحان کی تعطیلات کے موقع پر تین دن کے لیے کراچی حاضری کا پروگرام بنا تو میں نے یہ سوچ کر کہ کبھی کبھار کراچی آنے کا موقع ملتا ہے بہت ٹائٹ قسم کا شیڈول بنا لیا، بہت سے دوستوں کے تقاضے جمع تھے، میں نے سب کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن پہلی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً و شیبۃ‘‘ کی عملی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ کہنے کو تو میں نے وہ شیڈول جیسے کیسے بنا لیا لیکن واپسی پر خود کو پہلی کیفیت پر واپس لانے میں ایک ہفتہ لگ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۹ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث و مباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی طور پر کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائرہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و سوالات نے مسلمان علماء کو معقولات کی طرف متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ و ۲۲ مئی ۲۰۰۸ء

دارالعلوم کراچی کا تدوینِ حدیث منصوبہ / عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں

۸ دسمبر کو دو روز کے لیے کراچی حاضری کا اتفاق ہوا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک سیمینار کے لیے بطور خاص دعوت دی جو ’’عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر آواری ٹاورز میں منعقد ہو رہا تھا۔ اس سیمینار کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک سنٹر جوہر ٹاؤن لاہور نے دارالعلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم و ٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے کیا۔ یہ سیمینار ۸ اور ۹ دسمبر دو دن جاری رہا۔ انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کے نام سے جامعہ خیر المدارس ملتان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک ادارہ قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ نومبر۲۰۰۷ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل دین ہے مگر مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے، اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سر کا، یہ محض معاشرتی رواج ہے، جبکہ حجاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھا۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے یہ بھی کہا ہے کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں ہے، یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص جرائم کی سزا کو حدود اللہ کہا جائے، وغیرہ ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں اہل علم کی ذمہ داری

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر پہلو تاریخ کے حوالہ سے اہم اور قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہے اسی لیے اس کے تحفظ اور اسے تاریخ کے ریکارڈ میں پوری تفصیل کے ساتھ لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ اہمیت ’’حجۃ الوداع‘‘ کو حاصل ہے اس لیے کہ اس روز جناب نبی اکرمؐ کے اس مشن کی عملی تکمیل ہوئی تھی جس کا اعلان آپؐ نے نبوت ملنے اور پہلی وحی نازل ہونے کے بعد صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ کے سامنے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات

ہم اکیسویں صدی عیسوی میں رہ رہے ہیں، ساتویں صدی میں جو چیزیں تھیں وہ قطعی طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج روز مرہ کا معمول ہیں لیکن چودہ سو سال پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم میں سے بعض لوگ اسلام کی پہلی صدی کے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اسی ماحول میں سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون اور تعلیمات صرف چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کی مناسبت سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۵ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

پہلی بات جسے میں ’’بے خبری کا بحران‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں، یہ ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی غالب اکثریت آج کے عالمی حالات اور ماحول دونوں سے بے خبر ہے۔ ہمیں نہ دنیا کے جغرافیے کا علم ہے اور نہ تاریخ کا۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ افراد کی بات نہیں کرتا۔ دوچار فی صد حضرات ضرور اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن مجموعی صورت حال یہی ہے جو میں نے عرض کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نوجوان علماء کو اس بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے کہ جب یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفوں نے مسلمانوں کے عقائد واعمال میں دراندازی شروع کی، ان کے اثرات ہمارے ہاں پھیلنے لگے اور ان فلسفوں نے ہمارے عقائد کو متاثر کرنا چاہا تو اس وقت کے باشعور علماء اسلام نے ان فلسفوں سے آگاہی حاصل کی، ان پر عبور حاصل کیا اور ان فلسفوں کی زبان اور اصطلاحات استعمال کر کے انہی کے دلائل سے اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۲ء

اکیسویں صدی اور علمائے کرام

دنیا بھر میں اکیسویں صدی کی آمد آمد کا غلغلہ ہے اور ہر جگہ نئی عیسوی صدی کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے اور مختلف حوالوں سے اکیسویں صدی کے تقاضوں پر بحث ہو رہی ہے۔ ہم نے تو اپنی نئی ہجری صدی کا آغاز بیس سال قبل کیا تھا اور اس موقع پر بھی عالم اسلام میں بہت تیاریاں ہوئی تھیں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا، اب نئی عیسوی صدی کے آغاز پر دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

مگر کونسا اسلام؟

آج اسلام دنیا کی ضرورت بن گیا ہے اور مروجہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سسٹم کی ناکامی کے بعد اب آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کیے بغیر نسل انسانی کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی اگر محفوظ حالت میں کسی مذہب کے پاس موجود ہیں تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ لیکن کنفیوژن اس بات نے پیدا کر رکھا ہے کہ کتابوں میں جو اسلام ملتا ہے اس کا موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں اور معاملات سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء