عصر حاضر

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۸ء

علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

۲۲ تا ۲۴ جون ۲۰۱۸ء

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

اسلامی علوم کے ان شعبوں میں علمی و فکری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ جو بات خوشی اور اطمینان کا باعث بن رہی ہے، یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فضلاء میں میل جول بڑھ رہا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے اور ان کا اہتمام کرنے والے اساتذہ و طلبہ میں دونوں طرف کے فضلاء شریک ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز میں دینی مدارس کے فضلاء کی تعداد روز افزوں ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ و فضلاء کی دلچسپی اس میں مسلسل بڑھ رہی ہے جو ہمارے پرانے خواب کی تعبیر ہے کہ قدیم و جدید علوم کے ماہرین یکجا بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

۳ و ۴ جنوری ۲۰۱۷ء

اسلام اور جدیدیت کی کشمکش

انسان کے ذمہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آسائش تلاش کرے، اسباب فراہم کرے، اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقے دریافت کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی نوعی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ کائنات کو وجود میں لانے والے خالق و مالک کی مرضی معلوم کرے اورا س کی مرضی و منشاء کی تکمیل کے لیے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی زندگی کے لیے، جو اصلی اور دائمی حیات ہے، فکرمند ہو اور اسے بہتر بنانے کو زندگی کا مقصد قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور جدیدیت کی کشمکش

جولائی ۲۰۱۶ء

مذہب اور وحی کی طرف واپسی کا سفر

موجودہ صدی کو عام طور پر مذہب کی طرف واپسی کی صدی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دو صدیاں انسانی سوسائٹی نے وحی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف میں گزاری ہیں اور اس کے تلخ معاشرتی نتائج و ثمرات کا سامنا کرتے ہوئے اب اہل دانش سوسائٹی میں مذہبی اقدار و روایات کی واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ دو ماہ قبل امریکہ کی ہنٹنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پاکستان تشریف لائے، وہ اہل سنت کے معروف متکلم اور عقائد کے امام ابومنصور ماتریدیؒ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب اور وحی کی طرف واپسی کا سفر

۲۷ اپریل ۲۰۱۶ء

قدیم اور جدید تعلیم

قرآن کریم حادث کے مقابلہ میں بلاشبہ قدیم ہے اور وہ ہمارا اعتقادی مسئلہ ہے، لیکن جدید کے مقابلے میں قرآن کریم یا حدیث و سنت کو قدیم قرار دینا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ یہ پرانے علوم ہیں جن کا زمانہ گزر چکا ہے اور آج ان کی جگہ نئے علوم و فنون نے لے لی ہے۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ قرآن و سنت قیامت تک کے لیے ہیں اور ماضی کی طرح حال کا زمانہ، بلکہ آنے والا مستقبل بھی قرآن و سنت کے دائرہ کار میں شامل ہے، اور قرآن کریم کی ٹرم قیامت تک باقی رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قدیم اور جدید تعلیم

نا معلوم

بین الاقوامی قوانین اور اسلام

معاہدہ شخصی ہو، گروہی ہو یا بین الاقوامی ہو، اصول ہر جگہ ایک ہی ہے کہ ہمیں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے اسلام کے اس واضح اور صریح حکم پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہم اپنے مسلمان ہونے اور پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ہونے کے تقاضوں سے وفا نہیں کر سکیں گے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے گرد بین الاقوامی معاہدات کا جال جس طرح بن دیا گیا ہے، ان معاہدات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات سے پہلے ہمیں اس جال اور اس کے پیچھے بیٹھے شکاریوں پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی قوانین اور اسلام

۲۸ اگست ۲۰۱۵ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

۱۲ اپریل ۲۰۱۵ء

علوم اسلامیہ میں تحقیق کے جدید تقاضے

پہلی بات یہ ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے حوالہ سے تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں ہم ایک عرصہ سے تحفظات اور دفاع کے دائرے میں محصور چلے آرہے ہیں۔ مستشرقین نے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اعتراضات اور شکوک و شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا تو ہم ان کے جوابات میں مصروف ہوگئے اور تحقیق کے میدان میں ابھی تک ہمارا رخ وہی ہے۔ کم و بیش تین صدیاں گزر گئی ہیں کہ ہماری علمی کاوشوں کی جولانگاہ کم و بیش یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علوم اسلامیہ میں تحقیق کے جدید تقاضے

جولائی ۲۰۱۴ء

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

ڈاکٹر محمد الظواہری نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ دی ہیں کہ ان سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ہر ایک پر تبصرہ کرنا مشکل سا ہو گیا ہے، لیکن اس سے اتنی بات ضرور واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام، جہاد اور جمہوریت کے حوالے سے اس طرح کی کنفیوژن کم وبیش پورے عالم اسلام میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے او رنفاذ اسلام کے خواہاں دینی حلقے ہر مسلم ملک میں اسی قسم کی ذہنی وفکری کشمکش سے دوچار ہیں جو ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

دسمبر ۲۰۱۲ء

ائمہ وخطبا کی مشکلات ۔ مسائل اور ذمہ داریاں

آج کل خطباء کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے، جو دن بدن بڑھتا جارہاہے کہ لوگ جمعۃ المبارک کے دن بالکل خطبہ کے وقت آتے ہیں خطبہ سنتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اورچلے جاتے ہیں۔حاضرین کو گفتگو سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، اکثر مساجد میں یہی ہوتاہے۔ اس کی ایک وجہ میں عرض کرتاہوں۔آج سے دس پندرہ سال پہلے جنگ اخبار لندن میں ایک نوجوان کا مراسلہ شائع ہوا، اس نے لکھا کہ اب ہم نے یہاں مساجد میں جانا کم کردیاہے جس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ خطیب صاحب جس موضوع پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں وہ ہماری دلچسپی کا موضوع نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ائمہ وخطبا کی مشکلات ۔ مسائل اور ذمہ داریاں

جولائی ۲۰۱۲ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ

عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اس قسم کے تکفیری اور متشدد گروہوں کو دیکھ کر خوارج کے اس دور کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ میں علماء کرام سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بات بات پر تکفیر اور اس کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی نفسیات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خوارج کی تاریخ کا مطالعہ اوران کے مقابلے میں اہل سنت کے ائمہ کرام خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آج کے متشدد گروہوں کی نفسیات اور ذہنیت کو پوری طرح سمجھنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ

اگست ۲۰۱۰ء

دورِ جدید اور علماء کرام۔ تین غور طلب باتیں

میں نے گزشتہ عشرہ سعودی عرب میں گزارا۔ ۱۲ جولائی کو جدہ پہنچا تھا اور ۲۲ جولائی کو جدہ سے سفر کر کے ایک روز قبل نیویارک آگیا ہوں۔ اس دوران بیت اللہ شریف کی حاضری، عمرہ اور روضۂ اطہر پر صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ میرے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان خان شاہد، میرے ایک برادر نسبتی حافظ عبد العزیز اور میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد جدہ میں مقیم ہیں۔ قاری شاہد خان کے بچے ارسلان خان نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جبکہ حافظ عبد العزیز کی بچی کا نکاح تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورِ جدید اور علماء کرام۔ تین غور طلب باتیں

یکم اگست ۲۰۱۰ء

اسلامی احکام و مسائل اور آج کی دنیا

اس دفعہ سہ ماہی امتحان کی تعطیلات کے موقع پر تین دن کے لیے کراچی حاضری کا پروگرام بنا تو میں نے یہ سوچ کر کہ کبھی کبھار کراچی آنے کا موقع ملتا ہے بہت ٹائٹ قسم کا شیڈول بنا لیا، بہت سے دوستوں کے تقاضے جمع تھے، میں نے سب کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن پہلی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً و شیبۃ‘‘ کی عملی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ کہنے کو تو میں نے وہ شیڈول جیسے کیسے بنا لیا لیکن واپسی پر خود کو پہلی کیفیت پر واپس لانے میں ایک ہفتہ لگ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی احکام و مسائل اور آج کی دنیا

۱۶ فروری ۲۰۰۹ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث و مباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی طور پر کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائرہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و سوالات نے مسلمان علماء کو معقولات کی طرف متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

۲۱ و ۲۲ مئی ۲۰۰۸ء

دارالعلوم کراچی کا تدوینِ حدیث منصوبہ / عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں

۸ دسمبر کو دو روز کے لیے کراچی حاضری کا اتفاق ہوا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک سیمینار کے لیے بطور خاص دعوت دی جو ’’عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر آواری ٹاورز میں منعقد ہو رہا تھا۔ اس سیمینار کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک سنٹر جوہر ٹاؤن لاہور نے دارالعلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم و ٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے کیا۔ یہ سیمینار ۸ اور ۹ دسمبر دو دن جاری رہا۔ انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کے نام سے جامعہ خیر المدارس ملتان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک ادارہ قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم کراچی کا تدوینِ حدیث منصوبہ / عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں

۱۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات

ہم اکیسویں صدی عیسوی میں رہ رہے ہیں، ساتویں صدی میں جو چیزیں تھیں وہ قطعی طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج روز مرہ کا معمول ہیں لیکن چودہ سو سال پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم میں سے بعض لوگ اسلام کی پہلی صدی کے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اسی ماحول میں سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون اور تعلیمات صرف چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کی مناسبت سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات

اپریل ۲۰۰۵ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

پہلی بات جسے میں ’’بے خبری کا بحران‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں، یہ ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی غالب اکثریت آج کے عالمی حالات اور ماحول دونوں سے بے خبر ہے۔ ہمیں نہ دنیا کے جغرافیے کا علم ہے اور نہ تاریخ کا۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ افراد کی بات نہیں کرتا۔ دوچار فی صد حضرات ضرور اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن مجموعی صورت حال یہی ہے جو میں نے عرض کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

ستمبر ۲۰۰۳ء

عالمی تہذیبی جنگ اور ہمارے محاذ

حکمران طبقوں اور مغرب کی تہذیب و ترقی سے مرعوب حلقوں کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ اسلام کی کوئی ایسی نئی تعبیر و تشریح کی جائے جس میں ہماری عیاشی، مفادات اور موجودہ زندگی کے طور طریقوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔ سود کی حرمت کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت نہیں چل سکتی۔ شراب کی بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دقیانوسی باتیں ہیں۔ ناچ گانے اور عریانی و فحاشی کی مخالفت کریں تو کلچر اور تہذیب کا سوال سامنے آ جاتا ہے۔ اور نماز روزے کی پابندی کی طرف توجہ دلائیں تو زندگی کی مصروفیات کا بہانہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی تہذیبی جنگ اور ہمارے محاذ

اگست ۲۰۰۸ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نوجوان علماء کو اس بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے کہ جب یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفوں نے مسلمانوں کے عقائد واعمال میں دراندازی شروع کی، ان کے اثرات ہمارے ہاں پھیلنے لگے اور ان فلسفوں نے ہمارے عقائد کو متاثر کرنا چاہا تو اس وقت کے باشعور علماء اسلام نے ان فلسفوں سے آگاہی حاصل کی، ان پر عبور حاصل کیا اور ان فلسفوں کی زبان اور اصطلاحات استعمال کر کے انہی کے دلائل سے اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نومبر ۲۰۰۲ء

اکیسویں صدی اور علمائے کرام

دنیا بھر میں اکیسویں صدی کی آمد آمد کا غلغلہ ہے اور ہر جگہ نئی عیسوی صدی کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے اور مختلف حوالوں سے اکیسویں صدی کے تقاضوں پر بحث ہو رہی ہے۔ ہم نے تو اپنی نئی ہجری صدی کا آغاز بیس سال قبل کیا تھا اور اس موقع پر بھی عالم اسلام میں بہت تیاریاں ہوئی تھیں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا، اب نئی عیسوی صدی کے آغاز پر دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکیسویں صدی اور علمائے کرام

۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

مگر کونسا اسلام؟

آج اسلام دنیا کی ضرورت بن گیا ہے اور مروجہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سسٹم کی ناکامی کے بعد اب آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کیے بغیر نسل انسانی کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی اگر محفوظ حالت میں کسی مذہب کے پاس موجود ہیں تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ لیکن کنفیوژن اس بات نے پیدا کر رکھا ہے کہ کتابوں میں جو اسلام ملتا ہے اس کا موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں اور معاملات سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مگر کونسا اسلام؟

۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء