بنگلہ دیش

مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو گزشتہ روز پھانسی دے دی گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا قصور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ متحدہ پاکستان کے دور میں انہوں نے قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل کی جدوجہد میں حصہ لیا اور وطن عزیز میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا مطالبہ کرتے رہے۔ پاکستان کی سالمیت و وحدت کے خلاف بھارتی دخل اندازی سامنے آئی تو وہ اپنے ملک اور اس کے دستور کی حمایت و دفاع اور وحدت و خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد کا حصہ بنے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

عالم اسلام کے لیے سیکولر قوتوں کا پیغام!

بنگلہ دیش میں ملّا عبد القادر شہیدؒ کی پھانسی اور مصر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ بظاہر دو الگ الگ ملکوں کے واقعات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک ہی روح کار فرما ہے اور وہ ایسی جانی پہچانی قوت ہے جو اپنے اظہار کے لیے موقع و محل کے مطابق روپ بدلتی رہتی ہے۔ لادینیت بلکہ مذہبی دشمنی نے سوسائٹی سے مذہب کو بے دخل کرنے اور آسمانی تعلیمات پر مبنی اقدار و روایات کی بجائے انسانی خواہشات کی بالادستی کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ دو صدیوں میں کتنے پینترے بدلے ہیں ۔ ۔ ۔

یکم جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے عام انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر سکے گی۔ روزنامہ پاکستان میں 2 اگست کو آئی این پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت میں درخواست کی گئی تھی کہ چونکہ جماعت اسلامی کے منشور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو ریاست کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے، اس لیے جماعت اسلامی کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔

۴ اگست ۲۰۱۳ء

بنگلہ دیش کا سفر۔ (۲۰۰۴ء)

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۴ء