برما

اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمۂ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

۲۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

اراکان اور کشمیر میں مماثلت

میانمار (برما) کی حکمران پارٹی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے کہ روہنگیا (اراکان) اور کشمیر کے تنازعات ملتے جلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح بھارت کو کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا ہے اسی طرح ہمیں بھی روہنگیا میں مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہے۔ آنگ سان سوچی نے تو یہ بات بھارتی حکمرانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کی ہے جو ایک مفروضہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان اور کشمیر میں مماثلت

۱۲ ستمبر ۲۰۱۷ء

عید الاضحیٰ کے موقع پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی اپیل

چودہ اگست کو اہل پاکستان نے اور پندرہ اگست کو انڈیا کے باشندوں نے یوم آزادی منایا کہ اس دن انہیں فرنگی استعمار سے آزادی ملی تھی۔ مگر اسی خطہ کے دو کونوں کے لاکھوں عوام ابھی آزادی کو ترس رہے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر کے باشندوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا جو ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے۔ جبکہ اراکان (برما) کے باشندوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں بھی پاکستان کا حصہ بنایا جائے اور اس کے بعد سے وہ مسلسل اس معصوم خواہش کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عید الاضحیٰ کے موقع پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی اپیل

۱۷ اگست ۲۰۱۷ء

اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے حوالہ سے دنیا بھر میں اضطراب بڑھ رہا ہے اور مختلف ممالک میں اس کا عملی اظہار بھی ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اس پر بحث جاری ہے اور متعدد مسلم ممالک کے ادارے اور تحریکات اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی اس سلسلہ میں عملی اقدامات کا عندیہ دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اراکانی مسلمانوں کا مسئلہ عالمی فورم پر اٹھانے اور وہاں کے مہاجر مسلمانوں کو پاکستان میں پناہ دینے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

۱۰ جون ۲۰۱۵ء

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

ایک برس سے جاری بودھ مسلمان فسادات کے باعث تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ خطہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر بٹ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت مندوں کو اب روزانہ کی بنیاد پر خوراک تقسیم ہوتی ہے اور اکہتر ہزار سے زائد افراد کو پناہ دینے کے لیے عارضی خیمے قائم ہیں۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں کم و بیش آٹھ لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے تعین کے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

جولائی ۲۰۱۳ء

برما کے مسلمانوں کی حالت زار

برما جسے اب سرکاری طور پر ’’میانمار‘‘ کہا جاتا ہے، بدھ اکثریت کا ملک ہے جو بنگلہ دیش کے پڑوس میں واقع ہے اور طویل عرصہ تک متحدہ ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ برطانوی استعمار نے اسے ایک الگ ملک کی حیثیت دی تھی، جبکہ اراکان مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جو صدیوں تک ایک آزاد مسلم ریاست کے طو رپر اس خطے کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کا ساحلی شہر چٹا گانگ بھی ایک زمانے میں اراکان میں شامل تھا مگر نوآبادیاتی دور میں برطانوی استعمار نے چٹا گانگ کو بنگال میں اور اراکان کو برما میں شامل کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برما کے مسلمانوں کی حالت زار

اگست ۲۰۱۲ء

اراکان کا مختصر تاریخی پس منظر

میانمر (برما) کے صوبہ اراکان کے مہاجر مسلمانوں کی ایک رفاہی تنظیم جمعیۃ خالد بن ولید الخیریہ کے علماء کا ایک وفد ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مظلوم اراکانی مہاجر مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اراکان مسلم اکثریت کی پٹی ہے جہاں کے مسلمان ایک عرصہ سے ریاستی جبر کا شکار ہو کر اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں لیکن کوئی بین الاقوامی ادارہ حتیٰ کہ مسلم حکومتیں بھی رسمی لیپاپوتی سے ہٹ کر ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کا مختصر تاریخی پس منظر

۱۲ ستمبر ۲۰۰۹ء

اراکان کے نئے قوانین اور مسلمانوں کی مشکلات

اراکان کے بارے میں دائرہ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ ’’زیریں برما کا انتہائی مغربی حصہ جو کوہستان اراکان، یوما اور خلیج بنگال کے درمیان واقع ہے۔ ۱۱۹۹ھ (۱۷۸۴ء) تک اراکان ایک خودمختار مملکت تھی اس کے بعد یہ برطانوی حکومت کے تحت ۱۸۲۶ء سے برما کا حصہ بن گئی۔‘‘ اراکان مسلم اکثریت کا صوبہ ہے لیکن برما میں شامل ہونے کے بعد اس خطہ کے مسلمانوں کو کسی دور میں بھی امن اور سکون میسر نہیں آیا اور اب بھی وہ برما (میانمار) کی حکومت کے مظالم کا نشانہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے نئے قوانین اور مسلمانوں کی مشکلات

۱۰ دسمبر ۲۰۰۰ء

برما کے مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد

گزشتہ روز برما کے علاقہ اراکان سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین گوجرانوالہ تشریف لائے اور ان سے اراکان کے ان مسلمانوں کے حالات کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا جو ایک عرصہ سے ریاستی جبر و تشدد کا مسلسل نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اب وہاں کے بہت سے نوجوانوں اور علماء نے اپنے دینی تشخص کے تحفظ اور آزادی کے حصول کے لیے ’’حرکۃ الجہاد الاسلامی‘‘ کے نام سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان صاحب نے حالات کا کچھ تذکرہ کیا اور اس کے ساتھ ایک کتابچہ دیا جس کا عنوان ہے ’’برمی جمہوریت اپنے مظالم کے آئینے میں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برما کے مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد

۱۷ جنوری ۱۹۹۹ء

برمی مسلمانوں پر مظالم

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برمی مسلمانوں پر مظالم

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء