پاکستان ۔ دستور و قانون

دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے بارے میں مبینہ خدشات

پہلی بات یہ ہے کہ یہ خدشات و خطرات کیسے سامنے آئے ہیں اور کیوں محسوس کیے جا رہے ہیں؟ قادیانی امت کے سربراہ مرزا مسرور احمد کا ایک ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ پاکستان میں حالات کی مبینہ تبدیلی کے تناظر میں کیا یہ توقع ہے کہ قادیانیوں کا مرکز پاکستان میں واپس چلا جائے گا؟ اس کے جواب میں انہوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارا اصل مرکز تو قادیان ہے اور دوسری یہ کہ پاکستان میں ہمارا مرکز واپس جائے یا نہ جائے مگر پاکستان کا دستور ضرور تبدیل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے بارے میں مبینہ خدشات

۲۸ اگست ۲۰۱۹ء

نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

گزشتہ ماہ کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

۱۳ مارچ ۲۰۱۹ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل

ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل

۲۵ فروری ۲۰۱۸ء

اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیے گئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی پر مشتمل اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے انکوائری کے دوران بہت سے دیگر قومی اور دینی مسائل کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کے خدوخال کو بھی موضوع بحث بنایا تھا اور سرکردہ علماء کرام سے اس سلسلہ میں متنوع سوالات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس وقت ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح کی عدلیہ کا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے بارے میں تصور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۷ء

اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاقیں دینے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت ہند سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس دوران قانون سازی کرے۔ یہ مسئلہ کافی عرصہ سے بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور ہم اس سے قبل ان صفحات میں اس پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور اب اس کا ذکر کرنے کا مقصد دینی و علمی حلقوں کو اس طرف ایک بار پھر توجہ دلانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال

ستمبر ۲۰۱۷ء

آزاد کشمیر میں شرعی عدالتوں کے نظام کا تحفظ ضروری ہے

۱۰ جولائی کو پلندری جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان کے بیٹے کا ولیمہ تھا، اس موقع پر آزاد کشمیر کے بعض سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی کہ ریاست آزاد و جموں کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر ججز اور قاضی صاحبان پر مشتمل جو دو رکنی عدالتیں کام کر رہی ہیں، ان کی بساط دھیرے دھیرے لپیٹی جا رہی ہے اور ہائیکورٹ کی سطح پر جو شرعی عدالت مصروف عمل ہے اس کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس سامنے آچکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزاد کشمیر میں شرعی عدالتوں کے نظام کا تحفظ ضروری ہے

اگست ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

آزاد کشمیر کے چند سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی ہے کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر میں سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم کی حکومتوں کے دور میں حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ اور دیگر اکابر علماء کرام کی مساعی سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقدمات کی سماعت کے لیے جج اور قاضی کے اشتراک سے دو رکنی عدالت کا جو نظام شروع ہوا تھا، اور جس سے لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق طے ہونے کا سلسلہ چلا آرہا ہے، اسے ختم کرنے اور ہائی کورٹ کی سطح پر قائم شرعی عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر بعض اقدامات عمل میں آچکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

۲۴ جولائی ۲۰۱۷ء

قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

اپنی نوعیت کے لحاظ سے بلاشبہ یہ بل تاریخی نوعیت کا ہے جس کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے ایک عرصہ سے تقاضہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت ملک بھر میں ہر سطح کی عدالتوں میں مقدمات کی جو بھرمار ہے اور جس طرح کوئی تنازع اپنے حل کے لیے سالہا سال تک عدالتوں کی فائلوں میں دبا رہتا ہے اس کے پیش نظر یہ مصالحتی او رپنچایتی سسٹم ایک اہم قومی ضرور ت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نچلی سطح پر عام نوعیت کے تنازعات کے تصفیہ کے لیے اس قسم کے سسٹم موجود ہیں جن کو دستوری اور قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

۸ فروری ۲۰۱۷ء

قرآن کریم اور پاکستان کا تعلق

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد اپنی بیسیوں تقاریر و بیانات میں اس کا اظہار کیا۔ بلکہ ایک موقع پر قائد اعظمؒ سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا دستور ہمارے پاس پہلے سے قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے اور وہی ہمارے دستور و قانون کی بنیاد ہوگا۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قرآن کریم جس طرح چودہ سو سال قبل سیاسی و معاشرتی حوالہ سے قابل عمل تھا اسی طرح وہ آج بھی قابل عمل ہے اور ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور پاکستان کا تعلق

۳۱ مارچ ۲۰۱۶ء

ناموسِ رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی؟

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی، البتہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ناموسِ رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی؟

۳۱ جنوری ۲۰۱۶

سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بینچ اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تجارتی معاہدہ

ہمارے جیسے کچھ لوگ ملک میں فکری، معاشرتی اور دینی و قومی مسائل کا جو واویلا کرتے رہتے ہیں اس کا دائرہ کار کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ ’’توجہ دلاؤ تحریک‘‘ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی عوامی تحریک کا اس کے سوا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ بڑی دینی اور نظریاتی جماعتوں کی قیادت مل بیٹھے اور ملک کو درپیش سنگین مسائل کا احساس و ادراک کرتے ہوئے رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنے کا کوئی راستہ نکالے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بینچ اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تجارتی معاہدہ

۹ نومبر ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

۲۰ جون ۲۰۱۵ء

قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

۱۸ اپریل ۲۰۱۵ء

اکیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات

اکیسویں آئینی ترمیم کے بارے میں قوم کے دو بڑے طبقوں کے تحفظات اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ وکلاء برادری نے بعض حوالوں سے اکیسویں آئینی ترمیم کو ملکی دستور کے بنیادی ڈھانچے اور جمہوری و شہری حقوق کے منافی قرار دیا ہے اور اس پر اپنے تحفظات کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ جبکہ دینی جماعتوں نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں کو صرف مذہبی حوالہ سے ہونے والی دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت تک محدود کرنے کو مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات

یکم مارچ ۲۰۱۵ء

تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل نے تین طلاقیں اکٹھی دینے کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے جس پر بعض حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس پر بحث و تمحیص ہو رہی ہے۔ یہ تجویز دراصل مشرف حکومت کے دوران حدود آرڈیننس میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے کی جانے والی ترامیم کے موقع پر سرکردہ علماء کرام کی ایک کمیٹی کی طرف سے ستمبر 2006ء کے دوران سامنے آئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش

۲۹ جنوری ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

پاکستان کی نظریاتی شناخت اور قومی وحدت کے مخالف عالمی حلقوں کو ملک کے اندر ایسے ’’بوسٹر‘‘ ہمیشہ میسر رہے ہیں جو دستور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے اور اس کی خدانخواستہ ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ بین الاقوامی سیکولر حلقوں کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کے دستور کی بنیاد پاکستانی قوم کی مذہبی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ پر ہے اور اس میں قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے، جو اگرچہ عملاً دکھائی نہیں دے رہی لیکن دستور پاکستان میں اس کی موجودگی بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

اکتوبر ۲۰۱۴ء

دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

۲۸ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

۲۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ

دستور کے حوالہ سے اہلِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ

۱۰ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

نومبر ۲۰۱۳ء

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی جدوجہد

قومی اسمبلی میں مسلمانوں کے اس اجتماعی مطالبہ کا ذکر ہوا تو بھٹو مرحوم نے کمال دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ عنوان سے پیش کرنے کی بجائے قوم کی اجتماعی سوچ کا رُخ دیا۔ اور قائد حزب اختلاف کے مشورہ سے طے کیا کہ قومی اسمبلی کے پورے ایوان کو خصوصی کمیٹی کا عنوان دے کر اس فورم پر قادیانی امت کے دونوں گروہوں کے قائدین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے، اور ملک کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو کمیٹی کی طرف سے کیس پیش کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی جدوجہد

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء

تحریک طالبان اور دستور پاکستان

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک طالبان اور دستور پاکستان

۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء

سزائے موت ختم کرنے کی مہم

ثناء نیوز کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب مشیر عالم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماتحت عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے قید کے قیدیوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔ کراچی کے نجی سکول کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ اعلیٰ اور ماتحت عدالتیں اپنی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش صحیح خطوط پر ہو تو ملزمان سزا سے نہیں بچ سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت ختم کرنے کی مہم

۵ ستمبر ۲۰۱۳ء

سزائے موت ختم کرنے کی مہم اور آسمانی تعلیمات

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے دفتر سے فون پر مجھ سے پوچھا گیا کہ حکومت ملک کے قانونی نظام میں موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل لانے کی تیاری کر رہی ہے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے اجمالاً عرض کیا کہ: اگر ایسا کیا گیا تو یہ قرآن کریم کے صریح حکم سے انحراف ہوگا اس لیے کہ قرآن کریم میں قصاص کے قانون کو مسلمانوں کے فرائض میں شمار کیا گیا ہے (البقرہ ۱۷۸)، پھر یہ دستور پاکستان کے بھی منافی ہوگا اس لیے کہ دستور میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت ختم کرنے کی مہم اور آسمانی تعلیمات

۶ نومبر ۲۰۱۲ء

قومی خواتین کمیشن کا قیام

روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی خواتین کمیشن کا قیام

فروری ۲۰۱۲ء

خواتین کے حقوق کا بل

روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق: خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خواتین کے حقوق کا بل

جنوری ۲۰۱۲ء

پاکستان میں نفاذ شریعت کی متفقہ دستاویزات

نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد کے سلسلے میں 1947ء میں قرارداد مقاصد منظور کی گئی۔ 1951ء میں تمام مسالک کے علماء نے کراچی میں جمع ہو کر متفقہ طور پر 22 دستوری نکات مرتب کیے۔ اور 24 ستمبر 2011ء کو ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے پلیٹ فارم پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین نے لاہور میں اکٹھے ہو کر نفاذ شریعت کے حوالہ سے دینی حلقوں کا متفقہ موقف دہرایا اور اس موقع پر 22 نکاتی دستوری خاکے کی آج کے حالات کے تقاضوں کے مطابق تشریح و توضیح کی جسے ملی مجلس شرعی پاکستان کے نائب صدر مولانا زاہد الراشدی نے قومی پریس کے لیے جاری کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ شریعت کی متفقہ دستاویزات

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۱ء

توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات

توہین رسالت پر موت کی سزا کے بارے میں امت میں عمومی طور پر یہ اتفاق تو پایا جاتا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے لعین وشقی شخص کی سزاموت ہی ہے۔ مگر اس کی فقہی اور عملی صورتوں پر فقہائے امت میں اختلاف ہر دور میں موجود رہا ہے کہ مسلمان کہلانے والے گستاخ رسول کو موت کی یہ سزا مستقل حد کی صورت میں دی جائے گی یا ارتداد کے جرم میں اسے یہ سزا ملے گی۔ اور اس کے لیے توبہ کی سہولت وگنجائش موجود ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات

اکتوبر ۲۰۱۱ء

جوڈیشری سسٹم کو اسلامی شریعت کے مطابق چلانے کی ضرورت

اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ایک شعبہ ’’شریعہ اکیڈمی‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے لیکن ہماری ’’الشریعہ اکادمی‘‘ گوجرانوالہ میں اور اس میں دو تین فرق ہیں: (۱) ایک فرق تو ’’الف لام‘‘ کا ہے جو دونوں کے نام میں واضح ہے۔ (۲) دوسرا یہ کہ وہ بڑا اور سرکاری ادارہ ہے اور ہم چھوٹے سے غیر سرکاری ادارے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ (۳) تیسرا فرق طریقِ کار کا سمجھ لیں کہ وہ ادارہ سرکاری حدود کے دائرے میں اپنا کام کر رہا ہے اور ہم قدرے آزاد ماحول میں اس خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جوڈیشری سسٹم کو اسلامی شریعت کے مطابق چلانے کی ضرورت

۲۴ اپریل ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ مختلف طبقات کا موقف

ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر سزا کو آزادیٔ رائے، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانشور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست و حکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالتؐ قانون ۔ مختلف طبقات کا موقف

مارچ ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری

وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری

مارچ ۲۰۱۱ء

قرآن کریم اور دستور پاکستان

کیا قرآن کریم خود کسی اسلامی ریاست کے لیے دستور کی حیثیت نہیں رکھتا اور کیا قرآن کریم کو ریاست ومملکت کے تمام معاملات میں بالادستی حاصل نہیں ہے؟ خطبہ حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ تمھارے معاملات کو قرآن کریم کے مطابق چلاتا رہے‘‘ تو یہ قرآن کریم کی اسی حیثیت کا اعلان تھا کہ وہ اسلامی ریاست کا دستور ہے اور ریاست و حکومت کے تمام معاملات کا اسی دستور کے دائرے میں رہنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور دستور پاکستان

جون ۲۰۱۰ء

صدر اور وزیر اعظم کا عدالتی استثنا

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۱ مئی ۲۰۱۰ء کی ایک خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں صدر، وزیر اعظم اور گورنروں کو عدالتی کاروائی سے مستثنٰی قرار دینے کو غیر اسلامی قرار دینے اور قرآن و سنت سے متصادم دیگر قوانین کو کالعدم قرار دینے سے متعلق انجمن اصلاح معاشرہ کے امیر حاجی گل احمد کی آئینی درخواست کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس زاہد حامد پر مشتمل بنچ نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر اور وزیر اعظم کا عدالتی استثنا

جون ۲۰۱۰ء

اٹھارہویں آئینی ترمیم ۔ چند گزارشات

قومی اسمبلی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں خطاب بھی فرما دیا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیمی بل کے اس مسودہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستوری اتفاق کے بعد یہ دوسرا قومی اتفاق ہے جس پر کم و بیش سب سیاسی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور کہا ہے کہ اس اتفاق کے بعد قوم ایک بڑے بحران سے نکل آئی ہے۔ بادی النظر میں ایسا ہی دکھائی دیتا ہے اور ہماری خواہش اور دعا ہے کہ خدا کرے ایسا ہی ہو، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اٹھارہویں آئینی ترمیم ۔ چند گزارشات

۹ اپریل ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دستور و قانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آجاتی ہے۔ لیکن جمہوریت، رائے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

اپریل ۲۰۱۰ء

این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل

عدالت عظمیٰ نے ’’قومی مفاہمت آرڈیننس‘‘ (NRO) کو دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر ختم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا ہے اس پر ہر محبت وطن شہری خوش ہے اور اب کسی حد تک یہ توقع نظر آنے لگی ہے کہ قومی سیاست میں کرپشن، بددیانتی اور ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے افسوسناک رجحانات میں کمی آئے گی اور ملک میں صحت مند سیاست کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل

جنوری ۲۰۱۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

دسمبر ۲۰۰۹ء

دستورِ پاکستان میں مجوزہ ترامیم ۔ پاکستان شریعت کونسل کی گزارشات

پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مرکزی امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں دستورِ پاکستان پر نظرِثانی کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اور ارکان کی خدمت میں مندرجہ ذیل یادداشت پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ’’دستورِ پاکستان میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے معزز و محترم سربراہ اور قابل صد احترام اراکین کی خدمت میں پاکستان شریعت کونسل کی جانب سے ہدیۂ سلام مسنون اور پرخلوص دعاؤں کے ساتھ چند ضروری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستورِ پاکستان میں مجوزہ ترامیم ۔ پاکستان شریعت کونسل کی گزارشات

۷ نومبر ۲۰۰۹ء

دستوری ترامیم کی بحث اور دینی جماعتوں کا مطلوبہ کردار

دستور پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کی جانے والی سترہویں ترمیم پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی اپنے کام میں مصروف ہے اور اس کے بارے میں مختلف اطراف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ پارلیمانی کمیٹی صرف سترہویں ترمیم کے خاتمہ کا طریق کار طے کرنے تک محدود نہیں ہے جس سے اس کی ذمہ داری پورے دستور کی ’’اوورہالنگ‘‘ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستوری ترامیم کی بحث اور دینی جماعتوں کا مطلوبہ کردار

۵ اگست ۲۰۰۹ء

ایوننگ کورٹس کی تجویز شرعی عدالتوں کی افادیت

پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ تجویز مسترد کر دی ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کا بوجھ کم کرنے اور عوام کو جلد انصاف مہیا کرنے کے لیے شام کی عدالتیں (ایوننگ کورٹس) قائم کی جائیں۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون جناب فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون اور سیکرٹریز قانون نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایوننگ کورٹس کی تجویز شرعی عدالتوں کی افادیت

۲۰۰۹ء

سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

مولانا صوفی محمد کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کے معاہدہ کے تحت سوات اور ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے اور عدالتوں میں مختلف مقامات کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ مولانا صوفی محمد خود ان فیصلوں اور مقدمات کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

اپریل ۲۰۰۹ء

بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی

روزنامہ پاکستان لاہور کی خبر کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتیں بحال کر دی گئی ہیں، اور بلوچستان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر جناب لشکری رئیسانی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دیوانی کیسوں کے متعلق جلد اقدامات اٹھانے کے خواہاں ہیں اس لیے عوام کی خواہش پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتوں کو بحال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس سے زیادہ کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان شرعی عدالتوں کی ہیئت اور طریق کار کیا ہے اس کے بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی

فروری ۲۰۰۹ء

مجوزہ نجی شرعی عدالتیں ۔ اہمیت اور امکانات

پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کی ضرورت اور اس کے لیے اس سے قبل کی جانے والی مساعی کے بارے میں چند معروضات گزشتہ کالموں میں پیش کر چکا ہوں۔ اور آج اس حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے عالمی اور قومی تناظر میں اس کی اہمیت و ضرورت اور امکانات کی کیا صورتحال ہے اور اگر ہم آج کے ماحول میں اس کارِ خیر کی شروعات کرنا چاہیں تو وہ کس طرح کی جا سکتی ہے؟ پہلے ان مساعی پر ایک سرسری نظر پھر سے ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس سے قبل اس سلسلہ میں سامنے آچکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجوزہ نجی شرعی عدالتیں ۔ اہمیت اور امکانات

۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء

شرعی عدالتوں کا قیام

۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان اور اس کی اصولی وضاحت کے حوالہ سے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک مضمون کے اقتباسات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ آج اس سلسلہ میں ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے دو روزہ کنونشن کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۹ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی عدالتوں کا قیام

۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۹ء

پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۵ء میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں حکومتی رویے سے مایوس ہو کر ملک بھر میں پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور طے کیا تھا کہ جو مقدمات اور تنازعات قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں اور جن میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق تحکیم، پنچایت اور ثالثی کے ذریعے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرا سکتے ہیں، ان میں عام مسلمانوں کو اپنے مقدمات کے فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں کرانے کے لیے سہولت اور نظام فراہم کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک دو گزشتہ کالموں میں اس کا ذکر کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر

۴ جنوری ۲۰۰۹ء

جمعیۃ علماء اسلام اور شرعی عدالتیں

عید الاضحٰی کی تعطیلات میں مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا جہاں علاقہ کے علماء کرام کے سالانہ اجتماع میں شرکت اور گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے، پہلے چند سال ضلع صوابی کے مقام باجہ میں ہوتا رہا، اس سال صوابی سے آگے ضلع بونیر کی حدود میں طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں ہوا، علاقہ بھر کے علماء کرام جمع تھے، دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب مدظلہ العالی اور راقم الحروف کے علاوہ بہت سے دیگر علماء کرام نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام اور شرعی عدالتیں

جنوری ۲۰۰۹ء

وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں مولانا عطاء الرحمن اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں نکاح و طلاق کے قوانین میں جن ترامیم کی سفارش کی ہے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی تکمیل کے بعد کونسل میں ہی نظرثانی کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

دسمبر ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

دستور پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری دین قرار دیا گیا ہے، قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے اور قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزاے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو، کیونکہ قرآن وسنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت کے خاتمے کی بحث

اگست ۲۰۰۸ء

سزائے موت کی معافی ۔آئینی اور اسلامی نقطۂ نظر

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا یہ پہلو بطور خاص اجاگر کیا جا رہا ہے کہ شاید وزیراعظم کی طرف سے اس سلسلہ میں صدر کو بھیجی جانے والی سمری میں سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس سے پاکستان کے قانونی نظام میں سزائے موت کو کلیۃً ختم کیا جانا مقصود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت کی معافی ۔آئینی اور اسلامی نقطۂ نظر

۲ جولائی ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے قیدیوں کو عمر قید کی سزا

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں سمری صدر کو بھجوائی جا رہی ہے۔ اس پر ایک طرف سزائے موت کے قیدیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن دوسری طرف ان مقتولین کے گھروں میں ایک بار پھر صف قائم بچھ گئی ہے جن کے جگرگوشوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت کے ان قیدیوں کو م مکمل تحریر سزائے موت کے قیدیوں کو عمر قید کی سزا

جولائی ۲۰۰۸ء

عدالتی بحران اور وکلا برادری کی جدوجہد

کیونکہ وہ ملک کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ چرچ آف انگلینڈ کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور چرچ آف انگلینڈ کیتھولک نہیں ہے، اس لیے اس کا سربراہ کیتھولک نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ بادشاہت کے قواعد وضوابط میں یہ بات باقاعدہ طور پر شامل ہے کہ چونکہ برطانیہ کا بادشاہ چرچ کا بھی سربراہ ہوتا ہے، اس لیے اس کا تعلق کیتھولک فرقہ سے نہیں ہوگا۔ اگر اس نزاکت کا برطانیہ کے نظام میں لحاظ رکھا گیا ہے اور وہاں اس پابندی کا اہتمام ضروری سمجھا گیا ہے تو ہمارے ہاں بھی اس اصولی موقف کے احترام میں کوئی حجاب محسوس نہیں کیا جانا چاہیے، مکمل تحریر عدالتی بحران اور وکلا برادری کی جدوجہد

اپریل ۲۰۰۷ء

حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

مارچ ۲۰۰۷ء

ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد اب ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور قانون کے طور پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے۔ مگر حکمران طبقے اس ’’دھکا شاہی‘‘ میں کامیاب ہوجانے کے بعد بھی اندر سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے ضمیر کی ملامت ان بیانات کی صورت میں مسلسل سامنے آرہی ہے جو وہ حدود شرعیہ اور دینی حلقوں کے بارے میں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

جنوری ۲۰۰۷ء

’’حسبہ بل‘‘ کی راہ میں رکاوٹیں

سرحد کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے ’’حسبہ بل‘‘ کی دوبارہ منظوری کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے گورنر سرحد کو اس وقت تک اس بل پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے جب تک اس کے بارے میں عدالت عظمیٰ کوئی فیصلہ نہیں کر دیتی۔ دوسری طرف سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب محمد اکرم درانی نے کہا ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق از سر نو ترتیب دیا گیا تھا اور اس میں اپوزیشن کی ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے اس لیے اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’حسبہ بل‘‘ کی راہ میں رکاوٹیں

جنوری ۲۰۰۷

حدود آرڈیننس میں ترامیم ۔ چند حقائق

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حدود کیا ہیں؟ ان کے لیے آرڈیننس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آرڈیننس کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ اہم اعتراضات کیا ہیں؟ تحفظ نسواں بل کے ذریعے اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ اس حوالہ سے موجودہ قانونی صورتحال کیا ہے؟ اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس میں ترامیم ۔ چند حقائق

۲۴ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۰۶ء

تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کا نفاذ اور مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام

’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے کراچی کنونشن کے بعد اس سلسلہ میں جدوجہد نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے وہ بہت سے حوالوں سے غور طلب ہے اور دینی حلقوں سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ حکمران حلقوں نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کر لیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے، وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خیال میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے نافذ شدہ ایکٹ پر نظرثانی کی کوئی گنجائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کا نفاذ اور مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام

۱۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

تحفظ حقوق نسواں بل اور اسلامی نظریاتی کونسل

اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت اجلاس میں ’’تحفظ نسواں بل‘‘ کی حمایت کی ہے اور اسے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کوئی باقاعدہ رائے قائم نہیں کی البتہ انہوں نے اور کونسل کے بعض ارکان نے ذاتی طور پر صدر جنرل پرویز مشرف کو اس بل کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ حقوق نسواں بل اور اسلامی نظریاتی کونسل

۳ دسمبر ۲۰۰۶ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کر لیا ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دینی حلقوں کے متفقہ موقف اور اس سلسلہ میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی مشاورت سے قائم ہونے والی ’’علماء کمیٹی‘‘ کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بلکہ حدود قرآنی میں عملاً ردوبدل کے باوجود اس بل کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ اور مقتدر ترین حلقوں کی طرف سے تحدی کے انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی قانون کے معاملات میں دینی حلقوں یا بقول ان کے انتہا پسندوں کی کوئی بات نہیں چلنے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام

دسمبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل

مغربی معاشرہ اور قوانین میں رضامندی کا زنا سرے سے جرم ہی تصور نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتناعی قانون انسانی حقوق کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام اسے سنگین ترین جرم قرار دیتا ہے اور سنگسار کرنے اور سو کوڑوں کی سخت ترین سزا اس جرم پر تجویز کرتا ہے۔ اس واضح تضاد کو مغربی سوچ کے مطابق دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حدود آرڈیننس کے اس حصے کو یا تو بالکل ختم کر دیا جائے، اور اگر اسے کلیتاً ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ایسے قانونی گورکھ دھندوں میں الجھا دیا جائے کہ ایک ’’شو پیس‘‘ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل

اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کی بحث

حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے حوالہ سے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں راقم الحروف کو بھی شریک ہونے کا موقع ملا، اس کی تھوڑی سی تفصیل قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں معاشرتی جرائم کی شرعی سزاؤں یعنی حدود شرعیہ کا ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے ایک قانونی پیکج نافذ کیا گیا تھا جو سیکولر حلقوں کے اعتراض و تنقید کا مسلسل ہدف بنا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے منسوخ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس میں ترامیم کی بحث

اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل

قومی اسمبلی میں ’’تحفظ خواتین بل‘‘ کے نام سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل نے اسے مسترد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا عندیہ ایک عرصہ سے دیا جا رہا تھا اور بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کے مطالبہ پر ان ترامیم کی تیاری پر مسلسل کام ہو رہا تھا جس کا نتیجہ تحفظ خواتین بل کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس سے ملک میں حدود شرعیہ کے نفاذ و بقا کا مسئلہ بحث و مباحثہ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل

ستمبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات

یہ بات درست ہے کہ حدود آرڈیننس کا وہ حصہ جس کا تعلق تطبیق ونفاذ کی عملی صورتوں سے ہے، حرف آخر نہیں ہے اور موجودہ عدالتی نظام کے پس منظر میں ان میں سے بعض باتوں پر نظر ثانی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ یکطرفہ بات ہے۔ اس لیے ’’حدود‘‘ کے نفاذ کو جس عدالتی نظام کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے، وہ بجائے خود محل نظر ہے اور نیچے سے اوپر تک اس کی ہر سطح اور ماحول چیخ چیخ کر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہاہے۔ حدود آرڈیننس کے نفاذ سے جو مشکلات اور شکایات عملی طور پر سامنے آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات

جولائی ۲۰۰۶ء

وفاقی شرعی عدالت بحران کی زد میں

وفاقی شرعی عدالت ان دنوں بحران کا شکار ہے اور روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس نسیم سکندر نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا منصب قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے، انہیں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس اعجاز یوسف کی سبکدوشی کے بعد صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعہ چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی شرعی عدالت بحران کی زد میں

جون ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین جناب محمد میاں سومرو نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۷ء کے بعد تیار ہونے والی رپورٹوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ اس کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ رولنگ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق نمٹاتے ہوئے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

جولائی ۲۰۰۵ء

وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

جون ۲۰۰۵ء

بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۲۰۰۵ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے محترم جسٹس چوہدری مزمل احمد خان نے گوجرانوالہ میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے موقع پر روزنامہ جنگ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لڑکی بالغ ہو، اس کا کوئی شناختی کارڈ بنا ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں یا کسی مسجد میں نکاح کیا ہو، اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام

فروری ۲۰۰۵ء

حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

فروری ۲۰۰۵ء

عورت کو طلاق کا حق دینے کی تجویز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مشیر نیلو بختیار کی سربراہی میں قائم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے عورت کو طلاق کا حق دینے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے اس لیے وہ اسے مسترد کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کو طلاق کا حق دینے کی تجویز

اگست ۲۰۰۴ء

گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین گیلانی نے فیصل آباد کے ایک نو عمر جوڑے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لو میرج کیسوں میں عدالتوں کی ہمدردیاں والدین کے ساتھ ہوتی ہیں مگر قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا ساتھ دیتا ہے، ایسی صورتحال میں عدالتیں معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے اس فعل کو روک سکتی ہیں اور نہ ایسے جوڑوں سے کوئی زبردستی کر سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

اپریل ۲۰۰۴ء

مسیحی جوڑے کا نکاح اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

ماہنامہ نصرت العلوم کے ستمبر کے شمارے میں ہم نے لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر کیا تھا جس میں ایک مسیحی جوڑے کے نکاح کے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ چونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں بالغ لڑکے اور لڑکی کو باہمی رضا مندی سے شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے، اس لیے اگر وہ خود کو کورٹ میں میاں بیوی کے طور پر رجسٹرڈ کرا لیں تو ان کے لیے نکاح کے حوالہ سے مذہبی قوانین اور اور طریق کار کی پابندی ضروری نہیں رہتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحی جوڑے کا نکاح اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

نومبر ۲۰۰۳ء

پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ شاداب نے جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ایک خبر شائع کی ہے جو علمی و دینی حلقوں کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ صائمہ نامی ایک مسیحی لڑکی نے گھر سے بھاگ کر ایک مسیحی نوجوان سے شادی کر لی جس پر لڑکی کی ماں نے عدالت میں اس لڑکے کے خلاف اغوا کا کیس درج کرا دیا اور ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی شادی مسیحی مذہب کے قوانین کے مطابق رسومات کی ادائیگی کے ساتھ نہیں ہوئی اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

ستمبر ۲۰۰۳ء

شریعت ایکٹ اور گورنر سرحد

اخباری اطلاعات کے مطابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے متفقہ طور پر منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے جبکہ سرحد کابینہ کے تجویز کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو اس اعتراض کے ساتھ واپس بھجوا دیا ہے کہ اس میں عدالتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور آئینی حدود سے تجاوز کیا گیا ہے۔ سرحد اسمبلی نے شریعت ایکٹ ۷ جون ۲۰۰۳ء کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے اقلیتی ارکان نے بھی شریعت ایکٹ کی حمایت کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت ایکٹ اور گورنر سرحد

اگست ۲۰۰۳ء

سرحد اسمبلی کا شریعت ایکٹ

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں ’’شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری دی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف پروپیگنڈے کی ایک نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ شریعت ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سرحد میں دستور کے مطابق صوبائی اختیارات کی حدود میں تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور قرآن و سنت کے احکام کی روشنی میں انتظامی و عدالتی امور چلائے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرحد اسمبلی کا شریعت ایکٹ

جولائی ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں شرعی قوانین کے نفاذ میں درپیش مشکلات

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اسلامی اصلاحات کے عمل کا آغاز کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی نے گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں جو نفاذ شریعت کونسل صوبہ میں نفاذ اسلام کے سلسلہ میں سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، اور اس رپورٹ کی روشنی میں سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ لایا جا رہا ہے جس میں صوبائی دائرہ اختیار کی حدود میں تمام اسلامی قوانین اور اقدامات کو شامل کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبہ سرحد میں شرعی قوانین کے نفاذ میں درپیش مشکلات

۳۰ مارچ ۲۰۰۳ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مارچ ۲۰۰۲ء

محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

ہمارے فاضل جج صاحبان اس پورے پراسیس سے آنکھیں بند کرتے ہوئے محبت اور رضامندی کی شادیوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ادب کے ساتھ ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ محبت اور رضامندی دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس محبت اور رضامندی تک پہنچنے کے جو مراحل مروج ہیں، کیا قرآن و سنت نے ان مراحل کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

۵ ستمبر ۲۰۰۰ء

قرارداد مقاصد اور اس کے تقاضے

قیام پاکستان کے بعد ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہوگا یا سیکولر؟ جن لوگوں نے پاکستان کی تحریک میں مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کے قیام، جداگانہ مسلم تہذیب، دو قومی نظریہ، اسلامی احکام و قوانین پر مبنی اسلامی سوسائٹی کی تشکیل، اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے وعدوں و نعروں کی فضا میں ایک نئے اور الگ ملک کے شہری کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا، ان کا تقاضہ و مطالبہ تھا کہ ملک کا دستور اسلامی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرارداد مقاصد اور اس کے تقاضے

۲۴ فروری ۲۰۰۰ء

وفاقی شرعی عدالت کے دو متضاد فیصلے

ممکن ہے فاضل عدالت کو یا ان کے سامنے دلائل پیش کرنے والے فاضل وکیل کو حضرت امام مالکؒ کے اس قول سے دھوکہ ہوا ہو۔ لیکن انہوں نے گواہوں کے ضروری نہ ہونے کے بارے میں تو حضرت امام مالکؒ کا قول دیکھ لیا مگر نکاح کے حوالہ سے حضرت امام مالکؒ کے نزدیک جو شرط ضروری ہے اس کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوئی، حالانکہ وہ شرط دو گواہوں کی موجودگی سے زیادہ سخت ہے۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ نکاح کے انعقاد کے لیے گواہوں کی موجودگی ضروری نہیں ہے مگر نکاح کی تشہیر اور اس کا اعلان شرط ہے جس کے بغیر ان کے نزدیک نکاح منعقد نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی شرعی عدالت کے دو متضاد فیصلے

۲۷ جنوری ۲۰۰۰ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

اس سارے عمل کا اصل مقصد توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ اگر کہیں اس جرم کا ارتکاب ہو تو کوئی شخص الٹا خود پھنس جانے کے خوف سے ایف آئی آر درج کرانے کی جرأت نہ کرے۔ اور اگر کوئی آدمی جرأت کر کے پیش قدمی کر ہی لے تو کمیٹیوں کے چکر میں معاملہ اس قدر الجھ جائے کہ مقدمہ کی باضابطہ کاروائی کی نوبت ہی نہ آئے۔ ورنہ ہمارے ہاں اس کے علاوہ دیگر بعض جرائم پر بھی موت کی سزا کا قانون نافذ ہے ااور ان قوانین کا بھی بسا اوقات غلط استعمال ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

۳ جون ۱۹۹۹ء

مروجہ قوانین کی اسلامائزیشن کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ

اب دستور کے مطابق ملک میں رائج تمام قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کے سپرد کی جا چکی ہے جس میں متعدد قوانین اور ان کی مختلف شقوں کا جائزہ لے کر ان کی شرعی حیثیت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اور کونسل نے جن قوانین اور دفعات کو قرآن و سنت سے متصادم محسوس کیا ہے ان کی جگہ متبادل قوانین کے مسودہ جات بھی رپورٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ دستور کے مطابق پارلیمنٹ اس بات کی پابند ہے کہ حتمی رپورٹ اس کے حوالے ہونے کے بعد دو سال کے اندر اس کے مطابق قانون سازی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مروجہ قوانین کی اسلامائزیشن کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ

۶ دسمبر ۱۹۹۸ء

قرآن و سنت کی بالادستی اور پندرہویں آئینی ترمیم کا بل

دستور پاکستان میں پندرہویں ترمیم کا بل جسے شریعت بل کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینٹ میں جا چکا ہے اور حکومتی حلقے اس بات کا اعتماد کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ بل سینٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے دستور کا حصہ بن جائے گا۔ جبکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کو سینٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے اور وہ قومی اسمبلی میں بعض ایسی جماعتوں کا ووٹ حاصل نہیں کر سکی جن سے حکومت حمایت کی توقع کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن و سنت کی بالادستی اور پندرہویں آئینی ترمیم کا بل

۲۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء

قرآن و سنت کی بالادستی کا دستوری سفر

قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا فیصلہ اعلیٰ ایوانوں میں اس سے قبل بھی ایک سے زائد بار ہو چکا ہے لیکن اصل مسئلہ موجودہ نو آبادیاتی سسٹم کا ہے کہ اس نے اس فیصلہ کو کبھی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ اور جب بھی قرآن و سنت کی بالادستی کے کسی فیصلے نے یہ ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے کی کوشش کی وہ کسی نہ کسی جال میں پھنس کر رہ گیا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا اقدام ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری کا تھا جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان مرحوم نے دستور ساز اسمبلی سے منظور کرائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن و سنت کی بالادستی کا دستوری سفر

۱۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

جنوری ۱۹۹۴ء

سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ اور ۱۹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے جو چیف جسٹس جناب جسٹس تنزیل الرحمان، جناب جسٹس فدا محمد خان اور جناب جسٹس میر ہزار خان پر مشتمل تھا، یہ فیصلہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے کنوینر جناب محمد اسماعیل قریشی اور دیگر تین شہریوں کی درخواست پر صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

جولائی ۱۹۹۰ء

شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

جون ۱۹۹۰ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جس کے قیام کی گنجائش ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی تھی کہ پاکستان میں مروجہ قوانین کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر خلافِ اسلام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے اور قانون سازی کے اسلامی تقاضوں کے سلسلہ میں قانون ساز اداروں کی راہنمائی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی

اپریل ۱۹۹۰ء

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

۵ جنوری ۱۹۹۰ء

عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ

عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آچکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی اہل علم و دانش اور اصحاب فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ

۳۱ مارچ ۱۹۸۹ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

ہم ان سطور میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے زیادہ مسرت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ایسی مؤثر پیش رفت ہو جس سے ملک کے قانونی، عدالتی اور معاشی نظام میں کوئی عملی تبدیلی بھی نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ گیارہ سال سے اس ضمن میں ہونے والے اسلامی اقدامات اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور انہی تجربات کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقے اس نئے او ربظاہر بہت اہم اقدام کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۵

’’شریعت بل‘‘ میں مسلم لیگی ارکان کی پیش کردہ ترامیم

سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کی پہلی خواندگی مکمل ہو چکی ہے اور سینٹ کے آئندہ اجلاس کے موقع پر پرائیویٹ دن کی کارروائی میں اس کی دوسری خواندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس مرحلہ پر شریعت بل میں ترامیم کے دو نوٹس سینٹ کے سیکرٹریٹ کو دیے گئے ہیں۔ ایک نوٹس سینیٹر قاضی حسین احمد، سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور سینیٹر عبد الرحیم میردادخیل کی طرف سے جن کا تعلق متحدہ شریعت محاذ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ میں مسلم لیگی ارکان کی پیش کردہ ترامیم

۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء

’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

سوال: سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل کے بارے میں اس وقت قومی حلقوں میں جو بحث جاری ہے اس کی روشنی میں شریعت بل کی افادیت اور ضرورت پر کیا آپ کچھ روشنی ڈالیں گے؟ جواب: جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے وہ تو واضح ہے کہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں دی جانے والی مسلسل قربانیوں کا مقصد محض چہروں اور ناموں کی تبدیلی نہیں تھا۔ بلکہ تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور تحریک نظامِ مصطفٰیؐ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک کا نظام تبدیل ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء

’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

عدالتِ شرعیہ کے لیے طریق کار

واضح رہے کہ اہل اسلام و اہل دین، جو اپنے تنازعات اور جھگڑوں کو اسلامی اور شرعی نقطۂ نظر سے طے کرانا چاہتے ہیں، ہر دو فریق اپنی مرضی سے عدالت شرعیہ کو حکم اور ثالت تسلیم کریں گے۔ اور تحریری طور پر حسب ضابطہ ثالثی نامہ شرعی عدالت میں پیش کریں گے جس میں یہ ذکر ہوگا کہ شریعت کا فیصلہ ہمیں بہرصورت منظور رہے گا۔ اس کے بعد شرعی عدالتیں ان تنازعات و مقدمات کو فیصلہ کے لیے قبول کریں گی۔ عدالت شرعیہ کا وجود صرف عامۃ المسلمین کے باہمی اختلافات اور تنازعات کے ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتِ شرعیہ کے لیے طریق کار

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ (۱) کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ (۲) جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے حق پرست اکابر شروع سے ہی اس دستور کو غیر اسلامی سمجھتے اور قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور ان کا جو آج موقف ہے وہی ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء سے قبل تھا۔ چنانچہ جمعیۃ کے آرگن سہ روزہ ترجمان اسلام کے مارشل لاء ۱۹۵۸ء سے قبل کے چند پرچوں سے بعض اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام نہ صرف یہ کہ ۱۹۵۶ء کے دستور کو غیر اسلامی سمجھتی تھی بلکہ جمعیۃ کی جدوجہد کا محور ہی اس دستور کو تبدیل کر کے خالص شرعی آئین نافذ کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء