پاکستان ۔ دینی مدارس

مذہب کا کارڈ اور دینی مدارس کے طلبہ

’’آزادی مارچ‘‘ کے لیے مولانا فضل الرحمان اور جمعیۃ علماء اسلام کی ملک گیر سرگرمیاں دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور مختلف دوستوں کے متنوع سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے ان سرگرمیوں کے آغاز پر ایک کالم میں لکھا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا موقف اور رخ دونوں میرے خیال میں درست ہیں مگر رفتار اور لہجے کے حوالہ سے کچھ تحفظات ذہن میں موجود ہیں، یہ تحفظات ابھی تک قائم ہیں یا ان میں کچھ فرق پڑا ہے اس کے بارے میں کچھ دنوں کے بعد ہی عرض کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب کا کارڈ اور دینی مدارس کے طلبہ

۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ء

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

۲۳ جولائی ۲۰۱۹ء

آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ۱۶ جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کاروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

۱۹ جولائی ۲۰۱۹ء

دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

جامعہ خیر المدارس ملتان میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، رائیس الاخیار حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا مرکز ہے، آج یہاں ملک بھر کے أخیار کا اجتماع ہے اور اس میں حاضری و شرکت کا موقع فراہم کرنے پر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں، مجھے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں اور ان کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے کچھ عرض کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

اپریل ۲۰۱۹ء

خطبائے کرام سے چند گزارشات

چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خطبائے کرام سے چند گزارشات

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

۲۷ اگست ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

اگست ۲۰۱۸ء

دینی مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

وہ طلبہ اور طالبات خوش قسمت ہیں جو کسی بھی مدرسہ میں اور کسی بھی درجہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر وہ طلباء اس لحاظ سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو دینی اور عصری تعلیم دونوں اکٹھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دونوں تعلیمیں ہماری ضرورت ہیں اور قرآن کریم نے ’’فی الدنیا حسنۃ‘‘ اور ’’فی الآخرۃ حسنۃ‘‘ کی دعا سکھا کر یہ سبق دیا ہے کہ دین و دنیا دونوں ضروری ہیں۔ انسان جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہے، ہم عصری علوم میں جو کچھ سیکھتے ہیں وہ ہمارے جسم کی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے اور دینی علوم میں جسم کے ساتھ ساتھ روح کی ضروریات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۲ جولائی ۲۰۱۸ء

دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

5 اکتوبر کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کی جگہ وفاق کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس موقع پر ملک بھر سے دینی مدارس کے سرکردہ حضرات جمع ہو رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کرام اور دینی مدارس کی وحدت و مرکزیت، تعلیمی ترقی اور علمی وقار کی علامت ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی شاندار روایات اور تسلسل کے مطابق ملک و قوم اور دین و مسلک کی خدمات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

۵ اکتوبر ۲۰۱۷ء

قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

عید الاضحیٰ گزر گئی ہے اور دیگر قومی شعبوں کی طرح اکثر و بیشتر دینی مدارس بھی اپنی چھٹیاں گزار کر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ عید الاضحیٰ پر دینی مدارس کی ایک مصروفیت یہ ہوتی ہے کہ ملک کے دیگر رفاہی اداروں کے ساتھ وہ بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں جو ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں، اس لیے کہ سوسائٹی کے دیگر مستحقین کی طرح دینی مدارس کے مسافر اور نادار طلبہ بھی زکوٰۃ و صدقات اور قربانی کی کھالوں کا اہم مصرف ہیں۔ اور معاشرہ میں دینی تعلیم کے فروغ کے خواہاں مسلمان اس مد میں ان سے بھرپور تعاون کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

۹ ستمبر ۲۰۱۷ء

نیا سرکاری جال اور دینی حلقوں کا ردعمل

دستور پاکستان ایک بار پھر زیربحث ہے اور ’’خود بدلتے نہیں آئین کو بدل دیتے ہیں‘‘ کے مصداق دستور کی وہ دفعات جو ہماری سیاسی قیادت کے گروہی مفادات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، انہیں بدل دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ جبکہ دستور میں ترمیم و تبدیلی کی جب بھی کسی حوالہ سے بات ہوتی ہے، وہ عالمی اور قومی سیکولر عناصر بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو دستور کی اسلامی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیا سرکاری جال اور دینی حلقوں کا ردعمل

۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری اقدامات

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ میں پیشگوئی کے طور پر اپنی امت کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ تم بھی یہود و نصارٰی کے نقش قدم پر چلو گے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں یا کریں گے تم اس سے بالشت بھر بھی پیچھے نہیں رہو گے۔ چنانچہ یہی کچھ ہو رہا ہے، مغربی اقوام جو کچھ کرتی ہیں وہی کچھ کرنا ہمارے ہاں معاشرتی فریضہ قرار پا جاتا ہے اور مغرب کی بالادستی میں چلنے والے ادارے جو کہہ دیتے ہیں اس پر عملدرآمد ہماری ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس تعمیل حکم میں ہم معاشرتی ضروریات اور زمینی حقائق تک کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری اقدامات

۲۰ اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کی مہم

8 اگست منگل کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ضلع بھر کے دیوبندی علماء اور سرگرم کارکنوں کا بھرپور کنونشن ہوا جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ مجددیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم نے کی۔ کنونشن سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اور دیگر سرکردہ زعماء نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کی مہم

۱۱ اگست ۲۰۱۷ء

’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

عام طور پر ایک مغالطہ پایا جاتا ہے کہ درس نظامی کا یہ نصاب بغداد کے ملا نظام الدین طوسیؒ کا مرتب کردہ ہے جو وہاں کے مدرسہ نظامیہ میں رائج رہا، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ دراصل لکھنو کے ملا نظام الدین سہالویؒ کا مرتب کردہ نصاب ہے جو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کے معاصر تھے۔درس نظامی کے نصاب میں اس وقت کی دینی اور قومی ضروریات کے حوالہ سے تمام ضروری دینی و عصری علوم و فنون شامل تھے جن کی ایک چھت کے نیچے تعلیم دی جاتی تھی۔ ملک کے تمام لوگ حتٰی کہ غیر مسلم بھی یہی نصاب پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

۲۸ جولائی ۲۰۱۷ء

جامعہ فتحیہ لاہور میں ’’احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ کا پروگرام

بتایا جاتا ہے کہ 1857ء کے ہنگاموں کے بعد جب دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا تو لاہور میں سب سے پہلے نیلا گنبد میں رحیم بخش مرحوم نامی تاجر کی مساعی سے ’’مدرسہ رحیمیہ‘‘ قائم ہوا تھا اور پھرا نجمن حنفیہ اور انجمن حمایت اسلام کے تحت مختلف مدارس کا آغاز ہوا۔ اسی دوران اچھرہ میں وہاں کے ایک مخیر بزرگ میاں امام الدینؒ (وفات 1906ء) نے اپنے لائق فرزند حافظ فتح محمدؒ کے لیے 1875ء میں ’’مدرسہ فتحیہ‘‘ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ فتحیہ لاہور میں ’’احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ کا پروگرام

۵ مئی ۲۰۱۷ء

مولانا جالندھری پر اکابر کا اعتماد

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی مبینہ الزامات و اعتراضات سے برأت اور اکابر کی طرف سے ان پر اعتماد کے اظہار سے ملک بھر کے سنجیدہ علمی، مسلکی اور دینی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ وہ مہم دم توڑ گئی ہے جو قاری صاحب محترم کے خلاف نہیں بلکہ وفاق المدارس کے خلاف تھی اور اس کی ڈوریاں خداجانے کہاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک بھر کے دیوبندی حلقوں، مراکز، مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کی وحدت و مرکزیت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا جالندھری پر اکابر کا اعتماد

۷ جنوری ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کی مشکلات اور اساتذہ و طلبہ کا عزم

اب سے ڈیڑھ سو برس قبل جب دینی مدارس کے قافلہ کا سفر شروع ہوا تو تاریخ کے سامنے یہ منظر تھا کہ متحدہ ہندوستان 1857ء کی جنگ آزادی میں اہل وطن کی ناکامی بلکہ خانماں بربادی کے زخموں سے چور ہے ، خاص طور پر مسلمانوں کا ملی وجود اپنی تہذیبی روایات و اقدار اور دینی تشخص کے تحفظ و بقا کے لیے کسی اجتماعی جدوجہد کی سکت کھو چکا ہے۔ بیرونی استعمار کے ہاتھوں اپنے تعلیمی، سیاسی، معاشی، انتظامی، معاشرتی و ثقافتی تشخص اور ملی اداروں سے محروم ہو کر اس خطہ کے مسلمان پھر سے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر کھڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی مشکلات اور اساتذہ و طلبہ کا عزم

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟

دینی مدارس کا نظام ایک بار پھر ریاستی اداروں کے دباؤ کی زد میں ہے اور یہ کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئی ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اپنے آزادانہ کردار سے دستبردار ہو کر خود کو بیوروکریسی کے حوالہ کر دیں۔ چنانچہ روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے بعد وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟

اکتوبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

اگر حکومت خود بھی دینی تعلیم نہ دے اور جو ادارے یہ تعلیم دے رہے ہیں ان کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے یا مداخلت کر کے ان میں اپنا مشکوک ایجنڈا شامل کرتی رہے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ بتدریج دینی تعلیم کو ہی ختم کردینا چاہتی ہے۔ اور ماضی میں جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ طرز کے بیسیوں مدارس کے حوالے سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ دینی مدارس کے بارے میں اس قسم کی کوئی پالیسی جب بھی سامنے آتی ہے تو پہلا تاثر یہی ابھرتا ہے کہ یہ اقدامات دینی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ دینی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

۲۰ ستمبر ۲۰۱۶ء

باہمی تنازعات کے تصفیہ کی ایک قابل تقلید مثال

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ تلمذ، ارادت، محبت اور عقیدت رکھنے والے حضرات گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے ملک بھر میں اپنی اپنی جگہ پریشانی سے دوچار تھے کہ ان کے محترم فرزندوں میں اختلاف ہوا تو وہ بڑھتے بڑھتے باہمی جھگڑے کے ساتھ ساتھ حضرت درخواستیؒ کے قدیمی تعلیمی و روحانی مرکز جامعہ مخزن العلوم والفیوض خانپور کی دو اداروں میں تقسیم کا باعث بن گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر باہمی تنازعات کے تصفیہ کی ایک قابل تقلید مثال

۴ ستمبر ۲۰۱۶ء

دینی اداروں میں یوم آزادی کی تقریبات

قیام پاکستان کے فورًا بعد اس کی مخالفت کرنے والے سرکردہ علماء کرام بالخصوص ان کے دو بڑے راہ نماؤں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرف سے واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ یہ اختلاف پاکستان کے قیام سے پہلے تھا جبکہ پاکستان بن جانے کے بعد یہ اختلاف باقی نہیں رہا۔ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے تو یہاں تک فرما دیا تھا کہ مسجد تعمیر ہونے سے پہلے اس کے نقشہ اور سائز کے بارے میں اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو وہ جیسے بھی بنے مسجد ہی ہوتی ہے اور اس کا احترام سب کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اداروں میں یوم آزادی کی تقریبات

۲۳ اگست ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

یہ چند ضروریات بالکل عام سطح کی ہیں جن کا ماحول عملاً موجود ہے اور جن کا تقاضہ ملک بھر میں عام طور پر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اگر ملک کے دستوری تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے مطابق انتظامی و عدالتی نظام کو بھی قومی اور معاشرتی ضرورت سمجھ لیا جائے تو ان ضروریات کا دائرہ بہت پھیل جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف ان معاشرتی دینی ضروریات کو دیکھ لیں اور دوسری طرف ریاستی تعلیمی نظام پر نظر ڈال لیں کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

۲۷ جولائی ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

۳ اپریل ۲۰۱۶ء کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین لاکھوں کی تعداد میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے جمع ہو کر ملکی صورتحال اور دینی مدارس کی معاشرتی جدوجہد کے حوالہ سے اپنے موقف اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار کر رہے ہیں جو بلاشبہ اہل حق کی جدوجہد اور تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ آج دینی مدارس کی یہ محنت اپنے علمی و فکری ماحول اور دینی و تہذیبی اثرات و نتائج کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سطح پر بحث و گفتگو کا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

اپریل ۲۰۱۶ء

مدارس کے متعلق وزراء کے حوصلہ افزا تاثرات

وفاقی وزیر مذہبی امور اوقاف و حج سردار محمد یوسف نے اس موقع پر مختلف قومی مسائل پر اظہار خیال کیا اور بطور خاص مدارس دینیہ کے حوالہ سے حوصلہ افزا گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس کو خواہ مخواہ دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے حالانکہ دینی مدارس دہشت گردی کی جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اگر مدارس میں پڑھنے والے کچھ لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے والے بہت سے حضرات بھی دہشت گردی کے اس عمل کا حصہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس کے متعلق وزراء کے حوصلہ افزا تاثرات

۲۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

دینی تعلیم عورت کا بھی حق ہے

قرآن کریم کی کسی آیت کی جو تشریح کسی صحابیؓ نے کی ہے اس کا بھی وہی مقام ہے اور جو تفسیر کسی صحابیہؓ سے مروی ہے وہ بھی وہی درجہ رکھتی ہے۔ حدیث کی روایت میں جو درجہ مرد صحابہؓ کی روایت کا ہے وہی درجہ خاتون صحابیاتؓ کی روایت کا بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ گھر کے اندر اور خاندانی نظام کے حوالہ سے صحابیاتؓ بالخصوص امہات المومنین کی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی طرح فقہی مسائل اور فتاویٰ میں بھی امہات المومنین سے رجوع کیا جاتا تھا اور ان کے فتویٰ کو تسلیم کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تعلیم عورت کا بھی حق ہے

یکم اکتوبر ۲۰۱۵ء

مدارس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

تیسری بات یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ تربیت اور تجربے کی مشق بھی کرتے رہیں۔ سکول و کالج میں سائنس پڑھاتے ہوئے جہاں لیکچر میں تھیوری پڑھائی جاتی ہے وہاں لیبارٹری میں پریکٹیکل بھی کرایا جاتا ہے۔ ہم سبق میں تھیوری تو پڑھتے ہیں مگر عملی زندگی میں اس کے پریکٹیکل کی مشق نہیں کرتے۔ مثلاً قدوری یا فقہ کی کسی کتاب میں نماز کی ترتیب اور آداب تو پڑھ لیتے ہیں مگر اپنی نماز میں اس کا اہتمام کرنے کی فکر نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

۵ اگست ۲۰۱۵ء

دینی طلبہ کا ایک سنجیدہ مسئلہ

عید الفطر کی تعطیلات ختم ہوتے ہی دینی مدارس میں تعلیمی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز تک داخلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات نئے سال کی تعلیمی ترجیحات طے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ سال فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے لیے نئی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے روزگار اور مختلف قومی شعبوں میں دینی خدمات کے حوالہ سے ذہن سازی اور منصوبہ بندی ہماری ترجیحات میں عمومی طور پر شامل نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی طلبہ کا ایک سنجیدہ مسئلہ

۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء

دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ

دینی مدارس کو این جی اوز کا ہی ایک وسیع نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ ہزاروں دینی مدارس ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ رہائش، خوراک اور علاج وغیرہ کی سہولتیں بھی انہیں بلا معاوضہ مہیا کی جا رہی ہیں۔ اس تعلیم میں قرآن و حدیث اور دیگر دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم اور کمپیوٹر ٹریننگ بھی شامل ہے۔ اصحاب ثروت اپنی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات وغیرہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو مستحق طلبہ اور طالبات پر خرچ کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ

۴ جولائی ۲۰۱۵ء

’’ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں‘‘

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ منفرد مزاج کے بزرگ تھے۔ مشکل بات کو سادہ انداز میں بیان کرنے کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ عام طور پر چھوٹی چھوٹی مثالوں اور کہاوتوں کے ذریعہ بات سمجھاتے تھے اور واقعی سمجھا دیا کرتے تھے۔ میں نے جن بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا اور استفادہ کیا ہے ان میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ ہمیشہ تلقین فرمایا کرتے تھے کہ بات سادہ لہجے میں کہو، آسان الفاظ میں کہو، اور علم و خطابت کا رعب جمانے کی بجائے اصل بات سمجھانے کی کوشش کیا کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں‘‘

۲۶ مئی ۲۰۱۵ء

نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں

کچھ عرصہ سے نوجوان علماء کی سرگرمیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی سامنے آرہی ہے جس کا ذکر وقتاً فوقتاً اس کالم میں کرتا رہتا ہوں اور خاص طور پر میرے لیے اس میں اطمینان کے دو تین پہلو نمایاں ہیں: ایک یہ کہ دینی مدارس کے نئے فضلاء اور نوجوان علماء کرام میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے اور فارغ نہ بیٹھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔ دوسرا یہ کہ سرگرمیوں کا رخ امت کے اجتماعی مسائل و ضروریات کی طرف مڑ رہا ہے جو اس سے بھی اچھی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں

۸ اپریل ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

دینی مدارس ایک بار پھر بین الاقوامی اور قومی سطح پر اعتراضات اور تنقید کے ساتھ ساتھ قومی پالیسی کے تحت بعض متوقع اہم اقدامات کا ہدف ہیں اور میڈیا اور لابنگ کے محاذ پر سیکولر لابیاں اس صورتحال کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کرنے میں پوری چابکدستی کے ساتھ مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

فروری ۲۰۱۵ء

تبدیلی کا نعرہ اور دینی مدارس

اعجاز چودھری صاحب نے اس کنونشن کا مقصد یہ بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف علماء کرام سے راہ نمائی حاصل کرنا چاہتی ہے اس لیے سرکردہ علماء کرام کو اس اجتماع میں شرکت کی زحمت دی گئی ہے۔ چنانچہ ایک طالب علم کے طور پر میں بھی حاضر ہوا ہوں اور محترم عمران خان صاحب کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جب ملک کے نظام میں تبدیلی کی کوئی بات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبدیلی کا نعرہ اور دینی مدارس

۳۱ جنوری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس ایک بار پھر موضوع بحث

دینی مدرسہ ایک بار پھر عالمی اور ملکی ماحول میں مختلف سطحوں پر موضوع بحث ہے، اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گفتگو ہو رہی ہے۔ 16 دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد اس بحث میں شدت آگئی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی قومی پالیسی سامنے آنے کے بعد دہشت گردی کے ساتھ مدرسہ کے مبینہ تعلق کو اجاگر کرنے میں بہت سی سیکولر لابیاں اور حلقے از سرِ نو متحرک ہوگئے ہیں۔ چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ معروضی صورت حال میں اس مسئلہ کے ضروری پہلوؤں پر ایک بار نظر ڈال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ایک بار پھر موضوع بحث

۱۱ جنوری ۲۰۱۵ء

عالمی تناظر میں دینی مدارس کا کردار

۲۳ مئی کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دستار بندی کی سالانہ تقریب تھی جس میں پاکستان شریعت کونسل صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عبد القیوم حقانی مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے تفصیلی خطاب کیا اور جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کی۔ جامعہ نصرۃ العلوم ۱۹۵۲ء سے دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اس کا تعارف پورے برصغیر کے علمی و دینی حلقوں میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی تناظر میں دینی مدارس کا کردار

۲۷ مئی ۲۰۱۴ء

دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں

شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں۔ اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قراء کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں

۲۴ مئی ۲۰۱۴ء

قومی سلامتی پالیسی اور مدارس

دینی مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے ایجنڈے کا وقتاً فوقتاً حکومتی پالیسیوں کے ذریعہ اظہار ہوتا رہتا ہے اور مدارس کی کردار کشی کی مہم کے ساتھ ساتھ انہیں کسی نہ کسی طرح سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے پورے جنوبی ایشیا میں کام کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ، اسلامی عقائد و افکار کا تحفظ اور دینی اقدار و روایات کی پاسداری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی سلامتی پالیسی اور مدارس

اپریل ۲۰۱۴ء

دینی مدارس کا کردار اور تحفظات

جب سے دینی مدارس قائم ہیں ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی جاری ہے جو ظاہر ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس لیے کہ دینی مدارس جس ایجنڈے پر مصروفِ کار ہیں وہ آج کی ان قوتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے جو عالمی اور علاقائی سطح پر تسلط رکھتی ہیں۔ اور وہ دینی مدارس کے کام کو اس تسلط کے باقی رہنے میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ دینی مدارس اپنے قیام سے اب تک ایک ہی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہیں کہ انسانی سوسائٹی کا تعلق وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ جڑا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا کردار اور تحفظات

۱۹ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی مدارس کا نصاب و نظام ۔ والد محترمؒ اور عم مکرمؒ کے رجحانات

دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں بہت سے دوست مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس حوالے سے آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف اور طرز عمل کیا تھا؟ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آیا ہوگا، اس لیے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی رجحانات اور طریق کار کی بابت کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب و نظام ۔ والد محترمؒ اور عم مکرمؒ کے رجحانات

جنوری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کے نصاب ونظام میں اصلاح

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریاتِ زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے۔ اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے نصاب ونظام میں اصلاح

۳۰ نومبر ۲۰۱۲ء

جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ

جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ

۱۹ اگست ۲۰۱۲ء

دینی مدارس میں تربیتی کورسز کا خوش آئند رجحان

ربع صدی کے بعد شعبان العظم کے دو ہفتے اپنے ملک میں گزارنے کا موقع ملا ہے ورنہ ان دنوں عام طور پر برطانیہ یا امریکہ میں ہوتا ہوں۔ مگر برطانیہ گزشتہ تین سال سے ویزا دینے سے انکاری ہے اور امریکہ کا ملٹی پل ویزا بھی ختم ہو چکا ہے۔ برطانیہ کے ویزا آفس کے حکام کو شبہ ہے کہ میں کہیں برطانیہ میں رہ نہ جاؤں، جبکہ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کم و بیش پچیس بار جا کر واپس آجانے کے باوجود اگر میں انہیں وہاں رہ نہ جانے کی تسلی نہیں کرا سکا تو اور کون سی صورت ممکن ہے کہ میں انہیں اطمینان دلا سکوں؟ بہرحال ’’رموز مملکت خویش خسروان دانند‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں تربیتی کورسز کا خوش آئند رجحان

۶ جولائی ۲۰۱۲ء

دینی مدارس میں تعلیم و تربیت ۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا ایک اہم خطاب

جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کے صدر اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ۲ دسمبر کو ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے، جامعہ قاسمیہ قاسم ٹاؤن میں علماء کے ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کیا اور جامعہ قاسمیہ کی نئی سبزی منڈی والی شاخ میں جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ جامعہ قاسمیہ کے مہتمم مولانا قاری گلزار احمد قاسمی نے صبح کے ناشتے میں علماء کرام کی بڑی تعداد کو جمع کر رکھا تھا جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ ہم نے حضرت مفتی صاحب کے ساتھ ناشتہ کیا اور ان کے فکر انگیز خطاب سے مستفید ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں تعلیم و تربیت ۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا ایک اہم خطاب

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۵ دسمبر ۲۰۱۱ء)

دینی مدارس اور دورِ جدید کے مسائل و تقاضے

اس دفعہ دارالعلوم جمیکا نیویارک کے مہتمم مولانا محمد یامین اور ان کے رفقاء کار بھائی برکت اللہ اور مولانا حافظ اعجاز احمد کی دعوت پر میں نے عید الاضحٰی کی تعطیلات دارالعلوم نیویارک میں گزاریں۔ عید کے دوسرے روز اسلام آباد سے کویت ایئرویز کے ذریعے سفر کرتا ہوا شام کو نیویارک پہنچا اور ۱۹ نومبر کو واپسی کے سفر کا آغاز کر کے ان سطور کی اشاعت تک گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہمارے مخلص ساتھیوں بھائی برکت اللہ اور مولانا محمد یامین نے اپنے دیگر رفقاء کے تعاون سے اب سے کوئی چودہ برس قبل یہ ادارہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور دورِ جدید کے مسائل و تقاضے

۲۲ و ۲۳ نومبر ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کے خلاف مغربی حکمرانوں کی مہم

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسٹر جارج ڈبلیو بش کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر اتحادی فوجوں کی لشکر کشی کا ہمیشہ دفاع کیا ہے۔ مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ عراق پر فوج کشی ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کے جس الزام میں کی گئی تھی، وہ غلط ثابت ہوا ہے اور عراق میں کہیں بھی اس قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کا سراغ نہیں ملا، تو مسٹر ٹونی بلیئر نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ اس کے باوجود عراق پر ہمارا حملہ ضروری تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے خلاف مغربی حکمرانوں کی مہم

نومبر ۲۰۱۱ء

ماڈل دینی مدرسوں کا حشر

جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار کا ماحول تبدیل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر متوازی ماڈل دینی مدارس کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور کروڑوں روپے خرچ کر کے چند ماڈل دینی مدارس تعمیر کیے گئے تھے جن میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے سہولتوں اور مفادات کے پرکشش اعلانات بھی ہوئے تھے۔ مگر ان ماڈل مدرسوں کا کیا حشر ہوا؟ اس کی جھلک روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ماڈل دینی مدرسوں کا حشر

نومبر ۲۰۱۱ء

ماڈل مدارس ۔ چند غور طلب پہلو

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے ماڈل مدرسے میں پانچ سال بعد بھی تعلیمی سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔ ۸ کنال رقبہ پر تعمیر مدرسے میں نشئیوں، آوارہ کتوں اور بلیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔ سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر شہروں میں طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم سے روشناس کروانے کے لیے ماڈل دینی مدرسے تعمیر کروائے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ماڈل مدارس ۔ چند غور طلب پہلو

۳۰ ستمبر ۲۰۱۱ء

ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل

۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اختتام تھا، ہم نے روایتی طرز کی کوئی تقریب رکھنے کی بجائے اس روز علماء کرام اور خطباء و ائمہ کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجد اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے بلکہ ان ائمہ و خطباء کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل

۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج

حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ ختم بخاری شریف کی تقریبات میں خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس لیے ہم نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں اس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور طے کیا ہے کہ بخاری شریف کا آخری سبق بھی معمول کے عام اسباق کی طرح ہوا کرے گا اور اس کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ہم نے تو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں یہ سلسلہ کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا اور اب ہمارے ہاں اس کے لیے کوئی خاص تقریب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج

۲۰ جون ۲۰۱۱ء

مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۱۹ جون ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

مدارس کے اردگرد رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے تعلقات و روابط کا عمومی ماحول قابل اطمینان نہیں ہوتا۔ مدرسہ میں آنے جانے والوں کے ساتھ گفتگو اور ضروری معاملات میں ان کی راہنمائی کے حوالہ سے بھی عمومی طور پر ہمارے طلبہ کا طرز عمل ’’آئیڈیل‘‘ نہیں ہوتا اور کسی مدرسہ میں جانے والا اجنبی شخص وہاں چند لمحے گزارنے کے بعد کسی خوشگوار موڈ میں وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ بعض مدارس کا ماحول یقیناً اس سے مختلف ہوگا لیکن جب مدارس کے عمومی ماحول کی بات کی جائے گی تو تاثر کم و بیش وہی ہوگا جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

۸ جون ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

نومبر ۲۰۱۰ء

دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز ہی پر سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانیٔ دارالعلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

۱۷ جون ۲۰۱۰ء

مساجد ومدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے- لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور موذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مساجد ومدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

جنوری ۲۰۱۰ء

دینی مدارس پر چھاپوں کا نیا راؤنڈ

جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور دیگر متعدد مدارس پر چھاپوں کے بعد دینی مدارس کے خلاف کاروائی کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مدارس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں طلبہ کو مبینہ دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور حکمرانوں کے بقول دہشت گرد ان مدارس کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل جنوبی پنجاب کے بہت سے مدارس پر چھاپے مارے گئے تھے لیکن ان چھاپوں سے کچھ حاصل نہ ہوا اور اساتذہ و طلبہ کی تفصیلی تلاشیوں کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ ان غریبوں کے پاس کتابوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس پر چھاپوں کا نیا راؤنڈ

نومبر ۲۰۰۹ء

دینی مدارس ۔ کردار اور توقعات

۲۳ نومبر کو ادارہ علوم اسلامی بارہ کہو اسلام آباد کے سالانہ اجتماع میں حاضری کا موقع ملا، اس موقع پر دورۂ حدیث سے فارغ ہونے والے طلبہ اور حفاظ کی دستار بندی کے علاوہ مختلف امتحانات میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ ادارہ مولانا فیض الرحمان عثمانی کی سربراہی میں کئی برسوں سے مصروف عمل ہے اور اس کا امتیاز یہ ہے کہ درس نظامی کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول و کالج کی بھی معیاری تعلیم دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ۔ کردار اور توقعات

۳۰ نومبر ۲۰۰۸ء

وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا اجلاس

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ۱۲ نومبر بدھ کو صبح گیارہ بجے دفتر وفاق ملتان میں صدر وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوا جو نماز اور کھانے کے وقفے کے ساتھ رات سات بجے تک جاری رہا۔ جبکہ اجلاس کی ایک نشست کی صدارت نائب صدر وفاق حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں دینی مدارس کے عمومی معاملات کے ساتھ ساتھ نصابات اور امتحانات کے حوالہ سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا اجلاس

۱۴ نومبر ۲۰۰۸ء

دینی اداروں کی ضرورت

دینی مدارس میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا ہماری عملی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ یعنی ہمیں اپنی پریکٹیکل لائف میں دینی تعلیم کی کہاں کہاں ضرورت پڑتی ہے اور کس کس جگہ یہ ہمارے کام آتی ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنی ذات کی پہچان کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم کوئی چیز دنیا میں دیکھتے ہیں تو یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے، کیوں ہے اور کس نے بنائی ہے? ایک قلم کی مثال لے لیں۔ پہلی بات تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ قلم کس چیز سے بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اداروں کی ضرورت

ستمبر ۲۰۰۸ء (غالباً‌)

موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

۲ اگست کو صبح مجھے لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا، چھ بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائٹ تھی اس لیے یکم اگست کو جمعہ پڑھا کر شام ہی لاہور حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ والد محترم مدظلہ کی خدمت میں ایک روز قبل حاضر ہو آیا تھا، مجھ سے اکثر ملکی حالات کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ حالات روز بروز مزید بگڑ رہے ہیں اور بظاہر صورتحال میں اصلاح کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی، یہ سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے سفر کے بارے میں بتایا، واپسی کا پوچھا تو عرض کیا کہ حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک تک ان شاء اللہ واپسی ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

۱۰ اگست ۲۰۰۸ء

دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

ڈاکٹر ممتاز احمد ہمارے فاضل دوست ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں، ہیمپسٹن یونیورسٹی ورجینیا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ان کی تحقیق و تدریس کا خصوصی موضوع ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی تحقیقاتی رپورٹوں سے بین الاقوامی حلقوں میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راقم الحروف کے ایک بہت پرانے مضمون کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو ان کی فائل میں محفوظ تھا۔ یہ مضمون ’’دینی مدارس کا جرم؟‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء کو شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

۹ جون ۲۰۰۸ء

اسلام کا تصور علم اور دینی مدارس کا کردار

اسلام نے علم کو نافع اور ضار کے درجوں میں تقسیم کیاہے۔ یہ نفع وضرر دنیا و آخرت دونوں حوالوں سے ہے۔ آج کے عالمی تعلیمی نظام اور اسلا م کے فلسفہ تعلیم میں یہی جوہری فرق ہے کہ آج کی دنیا کے نزدیک نفع وضرر صرف اس دنیا کے حوالے سے ہے۔ جو بات دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے اور شخصی، طبقاتی یا اجتماعی زندگی کی کامیابی کے لیے مفید ہے، وہ تعلیمی نظام کا حصہ ہے۔ لیکن اسلام اس دنیا کے ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ آخرت کی فوز و فلاح اور اس ابدی زندگی میں نجات کو اپنے تعلیمی و تربیتی نظام کا اساسی ہدف قرار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا تصور علم اور دینی مدارس کا کردار

جنوری ۲۰۰۸ء

کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

آج ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دینی مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اور جن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا ہمارا عملی زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے اور ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ضروریات میں سے وہ کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں؟یہ سوال اٹھانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان مدارس کی تعلیمات کا ہماری عملی زندگی اور اس کی ضروریات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان مدارس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ مدارس قوم کی کوئی مثبت خدمت کرنے کی بجائے غیر ضروری مضامین پر قوم کے ایک بڑے حصے کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

دسمبر ۲۰۰۷ء

دینی مدارس کا حمیت وغیرت پر مبنی کردار

گزشتہ ماہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تو ایک خوشگوار خبر سننے کو ملی، وہ یہ کہ گزشتہ برسوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے دینی مدارس کی مالی امداد اور خطیر رقوم کے ذریعہ دینی مدارس کو تعاون کی حکومتی پیشکش کے جواب میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے پابندی لگا دی کہ وفاق سے ملحق کوئی مدرسہ سرکاری امداد قبول نہیں کرے گا اور سرکاری امداد قبول کرنے والے مدارس کا وفاق کے ساتھ الحاق ختم کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا حمیت وغیرت پر مبنی کردار

جون ۲۰۰۷ء

بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے آٹھ دس روز کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا اور مختلف شہروں میں علمائے کرام اور دینی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم، ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اور مدینہ مسجد آکسفورڈ میں اجتماعات سے خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء کے ہاں جانے اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی کا بھی اتفاق ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

فروری ۲۰۰۷ء

پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے بڑے مدارس کے سرکردہ حضرات نے حکومت کی یہ ہدایت مسترد کر دی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا دیا جائے۔ خبر کے مطابق حکومت نے چار غیر ملکی طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کو خط لکھا ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اور جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

اگست ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران مجھے دو ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، کم و بیش ہر سال ان دنوں برطانیہ جاتا ہوں اور متعدد دینی مراکز اور تعلیمی مدارس کے پروگراموں میں شرکت ہوتی ہے، اس سال ابراہیم کمیونٹی کالج لندن، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ، مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم، مدینہ مسجد آکسفورڈ اور ابوبکر اسلامک سنٹر ساؤتھ آل لندن کے پروگراموں میں شرکت کے علاوہ بریڈ فورڈ، نوٹنگھم، برنلی، کراؤلی، رچڑیل اور ویکفیلڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

جولائی ۲۰۰۶ء

دینی مدارس: علمی وفکری دائرے میں وسعت کی ضرورت

معلومات کی وسعت، تنوع اور ثقاہت کا مسئلہ بھی غور طلب ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر کی معلومات محدود، یک طرفہ اور سطحی ہوتی ہیں۔ الاّ یہ کہ کسی کا ذوق ذاتی محنت اورتوجہ سے ترقی پاجائے اور وہ ا س سطح سے بالا ہو کر کوئی کام کر دکھائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیق، مطالعہ اور استدلال واستنباط کے فن کو ایک فن اور علم کے طور پر دینی مدارس میں پڑھایا جائے اور طلبہ کو اس کام کے لیے باقاعدہ طور پر تیار کیاجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس: علمی وفکری دائرے میں وسعت کی ضرورت

اپریل ۲۰۰۶ء

دینی مدارس: درپیش چیلنجز اور موزوں حکمت عملی

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تعاون سے دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ’’دینی مدارس: تشخص اور ادارتی نشوونما‘‘ کے عنوان سے دس روزہ تربیتی پروگرام چل رہا ہے، اس کا آغاز ۱۱ مارچ کو ہوا اور ۲۰ مارچ تک جاری رہے گا۔ مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے اساتذہ اس میں شریک ہیں اور ممتاز ارباب فکر و دانش انہیں اپنے تجربات اور افکار سے آگاہ کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس میں اساتذہ کے سامنے کچھ گزارشات پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس: درپیش چیلنجز اور موزوں حکمت عملی

۱۹ مارچ ۲۰۰۶ء

دینی مدارس اور عصر حاضر

حاضرین کرام! یہ میرے ایک بہت پرانے خواب کی تعبیر کا آغاز ہے جو آج آپ موجودہ شکل میں الشریعہ اکادمی میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک مدت سے میں یہ سوچ رہا تھا کہ درس نظامی کے فضلا کے لیے کسی ایسے کورس اور تربیت گاہ کا اہتمام ہونا چاہیے جس میں انھیں دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے آگاہ کیا جائے اور اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اس دور کے لوگوں کی نفسیات اور ذہنی سطح کو سمجھتے ہوئے ان کے سامنے دین کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور عصر حاضر

اکتوبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ مطالعہ پاکستان، انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کا میٹرک کے درجے میں امتحان نہیں دیا، اس لیے اس سند کو میٹرک کے مساوی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اس سند کے حاملین بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ

ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ اگست ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا کام شروع ہونے کے بعد اس وجہ سے رک گیا ہے کہ وفاقی وزارت اوقاف نے اس سلسلہ میں جو فارم فراہم کیے ہیں ان میں دینی مدارس سے ان کی آمدنی کے ذرائع اور کوائف بھی طلب کیے گئے ہیں اور انہیں اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ چندہ دینے والے معاونین کے نام بھی حکومت کو فراہم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ

ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر

لندن کے بم دھماکوں کے بعد پاکستان میں دینی مدارس کے خلاف نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے، مدارس پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، میڈیا میں دینی مدارس اور علماء کے خلاف کردار کش پروپیگنڈے کی مہم زوروں پر ہے اور وفاقی کابینہ دینی مدارس کے نئے کردار کو متعین کرنے کے لیے اجلاس کر چکی ہے۔ جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کو یکم دسمبر تک بہرحال رجسٹریشن کرانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر

اگست ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

جون ۲۰۰۵ء

دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال

دینی مدارس کی قیادت کو آج کے اس خوفناک چیلنج کا ادراک واحساس کرنا چاہیے جو عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مسلم امہ کو درپیش ہے اور جس میں انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے عنوان سے مسلمانوں کے عقائد وافکار، تہذیب وثقافت، خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مسلم ممالک کے اسلامی تشخص کو پامال کر دینے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ اس کشمکش کے علمی، اعتقادی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا، فکر وفلسفہ اور علم وتحقیق کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اس یلغار کا سامنا کرنا اور مسلمانوں کو اس سیلاب بلا سے محفوظ رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال

اگست ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کی اسناد اور ملکی یونیورسٹیوں کا طرز عمل

یہ سطور حیدر آباد سندھ میں بیٹھا قلم بند کر رہا ہوں، گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا تھا، شریعت کونسل کے رہنما مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی کی تصنیف ’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی کا پروگرام تھا۔ قریشی صاحب حیدرآباد کی مرکزی دینی درسگاہ جامعہ مفتاح العلوم کے مدرس اور نائب مہتمم ہیں، انہوں نے یہ مقالہ ڈاکٹریٹ کے لیے لکھا ہے جس پر سندھ یونیو رسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اسناد اور ملکی یونیورسٹیوں کا طرز عمل

۵ اپریل ۲۰۰۴ء

مدارس اور مغربی حکومتیں

دینی مدارس کے بارے میں مغربی ممالک کی دلچسپی اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کے سفارت کار، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے دینی اداروں کے ساتھ روابط اور ان کے حوالہ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مالی تعاون اور فنی امداد کی پیشکشیں ہو رہی ہیں، اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں اجتماعی دھارے میں لانے کے عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں اور انہیں معاشرہ کا ’’کارآمد حصہ‘‘ بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس اور مغربی حکومتیں

اپریل ۲۰۰۴ء

پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر تسلیم کر رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک کی متعدد یونیورسٹیاں وفاق المدارس کے فضلاء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت دے رہی ہیں۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے کہ اس سند کے حامل کو تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ۔ مکمل تحریر پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

اپریل ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے اہداف و مقاصد، مائیکل سیمپل کی گوجرانوالہ آمد

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دفتر کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ ۱۸ مارچ جمعرات کو اسلام اباد سے کسی این جی او کا ایک وفد مدرسہ دیکھنے آرہا ہے، آپ کو بھی موجود رہنا چاہیے۔ میرا معمول یہ ہے کہ صبح سات بجے سے گیارہ بجے تک مدرسے میں میرے اسباق ہوتے ہیں اس کے بعد گھر واپس آجاتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر اس دوران وفد آگیا تو میں شریک ہو جاؤں گا لیکن جب جمعرات کو دس بجے کے لگ بھگ یہ وفد پہنچا تو معلوم ہوا کہ برطانوی ہائی کمیشن کے حضرات ہیں اور ان کے ساتھ ’’انسان‘‘ نامی ایک این جی او کے چند ساتھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے اہداف و مقاصد، مائیکل سیمپل کی گوجرانوالہ آمد

۲۲ مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس پر چھاپے اور حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کی گرفتاری

گزشتہ جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس پر پولیس کے اچانک چھاپوں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مدظلہ العالی کی گرفتاری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ خطباء کرام اور دینی راہنماؤں نے حضرت شاہ صاحب مدظلہ کی گرفتاری اور دینی مدارس کے خلاف حکومتی کاروائیوں پر شدید احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس پر چھاپے اور حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کی گرفتاری

فروری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟

وفاق المدارس کے نصاب میں جو ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ خوش آئند ہیں اور ان کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی لیکن یہ ناکافی اور وقتی ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ کم از کم نصف صدی تک کی ممکنہ صورت حال اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی طے کی جائے اور بجائے اس کے کہ ہر تین چار سال کے بعد جزوی تبدیلیاں کی جاتی رہیں، پچاس سال کے لیے ایک اصولی لائحہ عمل کا تعین کیا جائے۔ مثلاً ہم نے کچھ عرصہ قبل مڈل کی سطح کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟

جنوری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے لیے امریکی امداد

روزنامہ پاکستان لاہور یکم دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سفیر محترم کرسٹوف برومر نے پشاور کے معروف دینی ادارے دار العلوم سرحد کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب کو جدید بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا کہ امریکہ پاکستان کے دینی مدارس کی مدد کرنا چاہتا ہے، اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے لیے امریکی امداد

جنوری ۲۰۰۴ء

فکری ومسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو

فکری تربیت سے مراد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ جب ایک خاص نصاب کی تعلیم پاکر سوسائٹی میں جاتے ہیں اور انہیں آج کے مسائل اور حالات سے سابقہ پیش آتا ہے تو ان کی فکر اور سوچ کیا ہو؟ ان کا نصب العین اور زندگی کا مقصد کیا ہو؟ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی فکری نصب العین بن جاتا ہے جس کے ارد گرد اس کی زندگی کی ساری تگ ودو گھومتی ہے۔ طالب علمی کے دوران میں اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ترجیح قائم ہو جاتی ہے کہ میں نے تو یہ کام کرنا ہے، اور پھر وہ ساری زندگی اسی میں لگا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فکری ومسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو

جنوری ۲۰۰۴ء

مدارس آرڈیننس نافذ کرنے کا نیا سرکاری پروگرام

دینی مدارس کے بارے میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے اعلانات کے باوجود تذبذب اور گومگو کی فضا ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور مختلف حوالوں سے یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ حکومت ریگولیشن اور رجسٹریشن کے نام پر اس آرڈیننس کو ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر نفاذ کے مرحلہ تک لانے کی تیاریاں کر رہی ہے جسے دینی مدارس کے تمام وفاقوں نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق صوبہ سرحد کی حکومت نے پچھلے دنوں وفاقی حکومت سے استفسار کیا کہ جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس آرڈیننس نافذ کرنے کا نیا سرکاری پروگرام

۱۱ دسمبر ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کے جداگانہ نظام و نصاب کا مقصد

رجب المرجب کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں دینی مدارس کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ختم بخاری شریف، تقسیم اسناد، دستار بندی اور سالانہ اجتماعات کے عنوان سے یہ تقریبات شعبان المعظم کے اختتام تک جاری رہیں گی جن میں مختلف دینی و تعلیمی موضوعات پر گفتگو کے علاوہ مدارس کے منتظمین اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹیں پیش کریں گے اور آئندہ عزائم کا تذکرہ کریں گے۔ میں اسی حوالہ سے دو روز سے حیدر آباد سندھ میں ہوں اور نصف درجن سے زائد دینی مدارس کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے جداگانہ نظام و نصاب کا مقصد

۴ ستمبر ۲۰۰۳ء

دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

۴ اگست ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ

اخباری اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینٹ کے چیئرمین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے متحدہ مجلس عمل کے متعدد منتخب ارکان پارلیمنٹ کی ان تعلیمی اسناد کو چیلنج کر دیا گیا ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے ملک کے آئین میں ترامیم کرتے ہوئے جو نئے ضابطے نافذ کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کردی گئی تھی جس کے تحت جو شہری بی اے نہیں ہے وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ

جولائی ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کے خلاف امریکی امداد

ہفت روزہ ضرب مومن کراچی نے ۲ تا ۸ مئی ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ امریکہ نے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی نسل کو ان دینی مدارس میں جانے سے روک سکے گا جہاں سے مجاہدین اپنی تنظیموں میں نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں۔ یو ایس ایڈ ایجنسی نے پاکستان میں اسکولوں کی تعمیر نو اور تعلیمی نظام کے استحکام کے لیے پانچ سال کا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت ایک ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے خلاف امریکی امداد

جون ۲۰۰۳ء

جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

دینی مدارس کی ان خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالاخدمات اور کارکردگی کا تسلسل و اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں، اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔ ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

۳ فروری ۲۰۰۳ء

دینی مدارس اور ورلڈ سولائزیشن وار

پچھلے دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کے سالانہ اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا اور عام طور پر دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار کے حوالے سے عام ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ خانپور، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، دارالعلوم ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا، جامعہ رشیدیہ ساہیوال، جامعہ عثمانیہ شورکوٹ، جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی، جامعہ مدینۃ العلم فیصل آباد، جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور ورلڈ سولائزیشن وار

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

دینی مدارس اور آج کے سوالات

جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور آج کے سوالات

ستمبر ۲۰۰۲ء

مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات

گزشتہ روز ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ وفاق میں شامل ایک تعلیمی ادارہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، مگر وفاق المدارس کے کسی اجلاس میں حاضری کا پہلی بار اتفاق ہوا۔ وفاق کا قیام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ کی مساعی سے عمل میں آیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات

۲۵ جولائی۲۰۰۲ء

دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

جب تک ریاستی نظام معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

۲۴ جولائی ۲۰۰۲ء

مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ

دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پانچوں وفاقوں نے ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور جن کے تحت دینی مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کا پابند کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دینی مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کو مدرسہ تعلیمی بورڈ کی کلیئرنس کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ

۲۷ جون ۲۰۰۲ء

دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں علماء کرام کے دو گروپوں سے ملاقات کے دوران اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دینی مدارس میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں بند کیا جا رہا ہے البتہ ہم دینی مدارس کو جدید ترین نظام تعلیم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے موجودہ نصاب میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت دینی مدارس کے خلاف ایکشن لے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل

۲ جنوری ۲۰۰۲ء

جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے رمضان المبارک کے دوران لاہور کے تین دینی مراکز کا دورہ کیا اور علماء و طلبہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن، جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ اور جامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن تشریف لے گئے، اساتذہ، طلبہ اور مسجد کے نمازیوں سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کراچی میں دارالعلوم کورنگی کا دورہ کیا اور اساتذہ و طلبہ سے بعض امور پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ء

درس نظامی کے بارے میں امریکی دانشور کے خیالات

گزشتہ دنوں امریکی دانشور پروفیسر جان وال برج کے لیکچر کے کچھ اقتباسات لاہور کے ایک قومی اخبار میں نظر سے گزرے جس میں انہوں نے ’’درس نظامی‘‘ کے نصاب و نظام کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ پروفیسر موصوف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسلام اور دیگر مشرقی علوم کے معروف سکالر ہیں اور انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں ’’اقبال میموریل لیکچر ۲۰۰۱ء‘‘ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس خطاب کا اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی نے کیا تھا اور تقریب کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر درس نظامی کے بارے میں امریکی دانشور کے خیالات

۲۸ اپریل ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان) کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب تعلیم

اپریل ۲۰۰۱ء

دینی نظامِ تعلیم ۔ اصلاحِ احوال کی ضرورت اور حکمتِ عملی

جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جن دینی مدارس کے بارے میں آج ہم بحث و گفتگو کر رہے ہیں وہ اس وقت عالمی سطح کے ان اہم موضوعات میں سے ہیں جن پر علم و دانش اور میڈیا کے اعلیٰ حلقوں میں مسلسل مباحثہ جاری ہے۔ مغرب اور عالم اسلام کے درمیان تیزی سے آگے بڑھنے والی تہذیبی کشمکش میں یہ مدارس اسلامی تہذیب و ثقافت اور علوم و روایات کے ایسے مراکز اور سرچشموں کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں جو مغربی تہذیب و ثقافت کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت اور ایڈجسٹمنٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی نظامِ تعلیم ۔ اصلاحِ احوال کی ضرورت اور حکمتِ عملی

۸ اگست ۲۰۰۰ء

دینی مدارس اور نظامِ تعلیم کا اجتماعی دھارا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورہ کے دوران قاہرہ میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کے بارے میں بھی کچھ باتیں کی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان کی حکومت دینی مدارس کے نظام میں اصلاح کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا پروگرام ہے کہ دینی مدارس کو ملک کے اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لایا جائے۔ دینی مدارس اور انہیں اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لانے کی خواہش کا ایک عرصہ سے قومی حلقوں میں اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور نظامِ تعلیم کا اجتماعی دھارا

۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء

دینی مدارس کا معاشرتی کردار ۔ دو الزامات کا جائزہ

آج دینی مدارس اور درسگاہیں دنیا بھر کی اعلیٰ دانش گاہوں، اداروں، لابیوں اور میڈیا سنٹروں کا موضوع بحث ہیں اور معاشرہ میں ان کے کردار اور ضرورت کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ یہ درسگاہیں جنہیں دینی مدارس کے نام سے یاد کیا جاتا ہےاس سطح پر موضوع گفتگو ہیں کہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ جیسے نشریاتی ادارے ان کے بارے میں پروگرام پیش کرتے ہیں، ایمنسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ان کے بارے میں رپورٹیں جاری کرتے ہیں، بین الاقوامی پریس ان مدارس کے کردار کو موضوع بحث بنا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا معاشرتی کردار ۔ دو الزامات کا جائزہ

دسمبر ۱۹۹۹ء

دینی مدارس کا مقصد قیام اور معاشرتی کردار

ان دنوں دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اختتام ہے، اس مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں میں سالانہ امتحانات کے علاوہ ختم بخاری شریف کی تقریبات اور سالانہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ اور چونکہ کچھ عرصہ سے یہ دینی مدارس عالمی میڈیا کی طرف سے کردار کشی کی مہم کا ایک بڑا ہدف ہیں اس لیے ان مجالس میں دینی مدارس کے قیام کے اسباب اور معاشرہ میں ان کے کردار کے حوالہ سے بھی گفتگو ہوتی ہے۔ راقم الحروف کو گزشتہ دنوں جامعہ علوم اسلامیہ میر پور آزاد کشمیر، جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا مقصد قیام اور معاشرتی کردار

۳ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

عکاظ کا میلہ کوئی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ اس کی حیثیت ایک کلچرل فیسٹیول کی ہوتی تھی جس میں ناچ گانا بھی ہوتا تھا، شراب نوشی بھی ہوتی تھی، دنگل بھی ہوتے تھے، شعر و خطابت کے مقابلے بھی ہوتے تھے، خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، اور عرب کی جاہلی معاشرت کا ہر اچھا اور برا پہلو اس میں نمایاں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کا ایک ذریعہ بھی ہوتا تھا۔ اس لیے حضورؐ وہاں تشریف لے گئے اور ان سب سرگرمیوں کے باوجود وہاں آئے ہوئے مختلف قبائل کے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

۱۸ مئی ۱۹۹۹ء

درس نظامی کا دینی نصاب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

میرے متعدد سوالات کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ طالب علم کسی بھی دینی مدرسہ میں پڑھتے ہوئے اس تعلیمی پروگرام میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ اس کے مدرسہ کی تعلیم میں کوئی حرج ہوتا ہے اور نہ ہی کسی دینی مدرسہ کے نظام میں کوئی مداخلت ہوتی ہے جس سے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ طالب علم کو زیادہ تر انہی مضامین کا امتحان دینا ہے جن کی تعلیم وہ دینی مدرسہ میں حاصل کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر درس نظامی کا دینی نصاب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

۲۹ جولائی ۱۹۹۸ء

حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ

’’دینی مدارس، انسانی حقوق اور مغربی لابیاں‘‘ کے عنوان سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم نے اس شمارے میں شامل کرنے کے لیے مضامین کے انتخاب میں اس ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں اور میڈیا کی موجودہ مہم کے پس منظر اور مقاصد کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ناگزیر تبدیلیوں اور تعلیم کے جدید ذرائع اور مواقع سے دینی تعلیم کے لیے استفادہ کے امکانات کا جائزہ بھی قارئین کے سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ

جولائی ۱۹۹۶ء

دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

روزنامہ جنگ لاہور ۴ دسمبر ۱۹۹۴ء کے مطابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے دینی مدارس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور فرقہ وارانہ کردار کے حامل مدارس کی بندش کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں نئے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور پرانے مدارس کی رجسٹریشن کی تجدید کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کی شرط عائد کر دی ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ اس اجازت کے بغیر کسی نئے مدرسہ کو رجسٹرڈ نہ کیا جائے اور نہ ہی پہلے سے قائم کسی مدرسہ کی رجسٹریشن کی تجدید کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

جنوری ۱۹۹۵ء

ہمارے دینی مدارس

دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سالانہ تعطیلات گزارنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے نئے مرحلہ کا آغاز ماہِ گزشتہ کے وسط میں کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں دینی مدارس کا تعلق مختلف مذہبی مکاتبِ فکر سے ہے اور ہر مذہبی مکتب فکر کے دینی ادارے اپنے اپنے مذہبی گروہ کے تشخص و امتیاز کا پرچم اٹھائے نئی نسل کے ایک معتد بہ حصہ کو اپنے نظریاتی حصار اور فقہی دائروں میں جکڑنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے دینی مدارس

جولائی و ستمبر ۱۹۹۰ء

آزادیٔ مساجد و مدارس اور علماء کا موقف

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمود ایم این اے نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو راولپنڈی میں وفاق کی مجلس شوریٰ اور دیگر مکاتیب فکر کے ذمہ دار علماء کرام کا ایک مشترکہ کنونشن طلب کیا ہے جس میں مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کو بعض سرکاری اقدامات سے درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے گا اور ان خطرات کے سدباب کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کے بارے میں علماء کرام کے موقف پر ایک سرسری نگاہ ڈال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادیٔ مساجد و مدارس اور علماء کا موقف

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن ۔ اہم فیصلے اور قراردادیں

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن ۔ اہم فیصلے اور قراردادیں

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

دینی مدارس کا جرم؟

لاہور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حکومت نے تمام دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کے مطابق اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب صرف یہ بات فیصلہ طلب ہے کہ قومی تحویل میں لینے کے بعد دینی مدارس کا نظام وفاقی حکومت چلائے گی یا صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب کے اڑھائی سو مدرسے قومیائے جائیں گے اور مدارس کو اول دوم اور سوم تین مدارج میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا جرم؟

۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء