فکر و فلسفہ

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام

۱۹ نومبر ۲۰۱۶ء

مولانا مفتی محمودؒ کا طرز استدلال

اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو استدلال کی جو قوت و صلاحیت عطا فرمائی تھی اس کا اعتراف سب حلقوں میں کیا جاتا تھا۔ ہمارے ایک مرحوم و مخدوم بزرگ کہا کرتے تھے کہ مفتی صاحبؒ سامنے نظر آنے والے لکڑی کے ستون کو دلائل کے ساتھ سونے کا ستون ثابت کرنا چاہیں تو دیکھنے والا شخص ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ سیاسی، علمی، اور فکری سب قسم کے معاملات میں مفتی صاحبؒ کی اس خداداد صلاحیت کا ہم نے یکساں اظہار ہوتے دیکھا ہے۔ چنانچہ اس موقع پر خود ان کی زبان سے براہ راست سنی ہوئی بعض باتیں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کا طرز استدلال

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارھویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جارہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جارہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

۲۵ فروری ۲۰۱۶ء

علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان

علامہ محمد اقبالؒ نے کہا تھا کہ پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی نئی ریاست میں نفاذِ اسلام پارلیمنٹ کے ذریعہ ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان کرتے ہوئے منتخب پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی حدود میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ ملک کے دینی حلقوں نے اجتماعی طور پر اقبالؒ کے اس تصور کو قبول کر لیا مگر اقبالؒ کے پاکستان کا نعرہ لگانے والے بہت سے لوگ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دینے کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی کہہ کر پاکستان کے دستور کی اس نظریاتی اساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان

۱۱ اپریل ۲۰۱۴ء

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور علامہ محمد اقبالؒ

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا دور وہ ہے جب اورنگزیب عالمگیرؒ کی نصف صدی کی حکمرانی کے بعد مغل اقتدار کے دورِ زوال کا آغاز ہوگیا تھا اور شاہ ولی اللہؒ کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایک طرف برطانوی استعمار اس خطہ میں پیش قدمی کر رہا ہے اور دوسری طرف جنوبی ہند کی مرہٹہ قوت دہلی کے تخت کی طرف بڑھنے لگی ہے۔ جبکہ علامہ اقبالؒ کو اس دور کا سامنا تھا جب انگریزوں کی غلامی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد برصغیر کے باشندے اس سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور علامہ محمد اقبالؒ

اپریل ۲۰۱۳ء

حضرت شیخ الہند اور نظریہ عدمِ تشدد

مولانا فضل الرحمان پشاور میں بھرپور ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کے انعقاد کے بعد اب ۳۱ مارچ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں شیخ الہند سیمینار کے عنوان سے مورچہ زن ہو رہے ہیں جبکہ مولانا سمیع الحق ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کے محاذ کو مسلسل گرم رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ روز پارلیمنٹ کے سامنے دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر کے ارکان پارلیمنٹ کو عوامی جذبات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شیخ الہند اور نظریہ عدمِ تشدد

۳۱ مارچ ۲۰۱۲ء

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

سب سے پہلے تو اِس خطاب یعنی ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’’الف‘‘ ہزار کو کہتے ہیں۔ ’’الفِ ثانی‘‘ یعنی دوسرا ہزاریہ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد جو دوسرا ہزاریہ شروع ہوا تھا مجدد صاحب اس کے آغاز میں آئے۔ وہ دسویں صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہوئے اور ان کی محنت کا جو دورانیہ ہے وہ گیارہویں صدی کے پہلے تین عشرے ہیں۔ ۱۰۳۲ء تک حضرت مجدد الفؒ ثانی نے اپنی علمی و دینی خدمات سر انجام دیں۔ چنانچہ انہیں دوسرے ہزاریے کا مجدد کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

۲۰۱۲ء (غالباً‌)

حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیمی نظریہ

شیخ الہند اکادمی نے ۲۰ دسمبر کو الحمرا ہال لاہور میں ’’شیخ الہند سیمینار‘‘ منعقد کر کے سال رواں ۱۴۳۳ھ کو حضرت شیخ الہند کے سال کے طور پر منانے کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس موقع پر عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں شیخ الہند سیمینار منعقد کر کے نئی نسل کو اہل حق کی جدوجہد سے متعارف کرایا جائے گا اور دور حاضر کے حالات اور مسائل کے تناظر میں حضرت شیخ الہند کے افکار اور تعلیمات کو فروغ دینے کی منظم جدوجہد کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیمی نظریہ

۲۳ و ۲۴ دسمبر ۲۰۱۱ء

ہمارے معاشی مسائل اور مولانا مفتی محمودؒ کے افکار و خیالات

بنیادی طور پر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جو قریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں، ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں، اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے معاشی مسائل اور مولانا مفتی محمودؒ کے افکار و خیالات

نومبر ۲۰۱۰ء

اسلامی قانون سازی میں امام ابو حنیفہؒ کا اسلوب

امام صاحبؒ نے اپنے شاگرد علماء سے خطاب کیا کہ بھئی میں نے تم لوگوں کو پڑھایا ہے اور تمہیں تیار کیا ہے۔ تم میں سے چالیس تو وہ ہیں جو قاضی بننے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ان میں سے دس وہ ہیں جو قاضیوں کی تربیت و نگرانی کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ میں نے رجال کار تیار کیے ہیں تاکہ حکومتی مناصب پر جو لوگ فائز ہوں وہ اہلیت کے حامل ہوں۔ اب میں تمہیں امت کے حوالے کر رہا ہوں۔ یعنی امام صاحب نے دوسرے لفظوں میں یہ کہا کہ صرف یہ مطالبہ کر دینا کافی نہیں ہے کہ اسلام نافذ کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی قانون سازی میں امام ابو حنیفہؒ کا اسلوب

نامعلوم

حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا فقہی و سیاسی ذوق

مجھ سے یہ کہا گیا ہے کہ اِمام صاحبؒ کی زندگی کے سیاسی پہلوؤں پر بات کروں۔ یہ ایک مستقل اور لمبی گفتگو کا موضوع ہے لیکن میں اِس وقت صرف دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے نزدیک حضرت امام ابو حنیفہؓ کی جدوجہد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے علمی دنیا کو، افتاء کی دنیا کو، استنباط کی دنیا کو اور فتویٰ و رائے کی دنیا کو مشاورت اور اجتماعیت کا رنگ دیا۔ استنباط اور اجتہاد امام صاحبؒ سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور بعد میں بھی اور یہ اپنے دائرے میں قیامت تک ہوتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا فقہی و سیاسی ذوق

نامعلوم

عصرِ حاضر میں امام ابو حنیفہؓ کے طرزِ فکر کی اہمیت

یہ سیمینار حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حوالے سے ہے اس لیے میں اِن تین اسلامی شخصیات کے تعارف کے حوالے سے یہ بات مزید لمبی نہیں کرتا۔ لیکن ایک طالب علم کے طور پر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انقلاب اور حکومتی نظام میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ، فقہ اور قانون میں حضرت امام ابو حنیفہؒ ، جبکہ فکر و فلسفے میں حضرت شاہ ولی اللہؒ ۔ میں علماء سے درخواست کیا کرتا ہوں کہ ان شخصیات کا بطور خاص مطالعہ کریں۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر گہرائی سے ان شخصیات اسٹڈی کو کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عصرِ حاضر میں امام ابو حنیفہؓ کے طرزِ فکر کی اہمیت

۲۰۱۰ء (غالباً)

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ۔ مولانا سید سلمان ندوی کے خیالات

سلمان ندوی نام کے تین بزرگ اس وقت ہمارے معاصر اہل علم و دانش میں معروف ہیں۔ ایک ڈاکٹر سید سلمان ندوی ہیں جو معروف کتاب ’’سیرت النبیؐ‘‘ کے مصنف علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند ہیں اور ڈربن یونیورسٹی جنوبی افریقہ میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں۔ دوسرے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی ہیں جو رشتہ میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے نواسے لگتے ہیں اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ الحدیث ہیں۔ جبکہ تیسرے مولانا سلمان ندوی میرپور ڈھاکہ میں دارالارشاد کے نام سے ایک علمی ادارے کے ذریعے دینی و علمی خدمات میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ۔ مولانا سید سلمان ندوی کے خیالات

۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء

اقبالؒ کا تصور اجتہاد

علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ ۔ ۔ ۔ علامہ محمد اقبالؒ فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علمائے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کا تصور اجتہاد

نومبر ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب

اسلام آباد میں ’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس کے موقع پر حافظ محمد ریاض درانی سکیرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے یہ خوش خبری سنائی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے فتاویٰ کا پہلا حصہ جمیعت پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گیا ہے اور وہ میرے لیے اس کا نسخہ ساتھ لائے ہیں۔ یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی اس لیے کہ مدت سے اس بات کی تمنا تھی کہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فتاویٰ کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ کسی طرح اشاعت پذیر ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب

۶ ستمبر ۲۰۰۱ء

امام ولی اللہ دہلویؒ کے خواب کی عملی تعبیر!

خواب کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نبوت کے اجزاء یعنی وحی کی اقسام میں سے صرف ایک قسم باقی رہ گئی ہے جو اچھے خواب کی صورت میں ہے، اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بسا اوقات اپنے نیک بندوں کو آنے والے حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ مگر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ حجت اور دلیل صرف پیغمبر کا خواب ہے، یا وہ خواب جو کسی مومن نے دیکھا اور رسول اللہؐ نے سن کر اس کی توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام ولی اللہ دہلویؒ کے خواب کی عملی تعبیر!

۱۱ اپریل ۲۰۰۱ء

ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

ڈاکٹر مراد ہوف مین جرمنی کے دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، نیز مراکش اور الجزائر میں سفیر کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر انفرمیشن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مضامین و مقالات میں اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اس ثقافتی جنگ کے اسباب و علل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مستقبل کے امکانات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی جدوجہد کے اہداف

مجھے 1960ء میں حضرت درخواستیؒ کو قرآن کریم حفظ کا آخری سبق سنا کر ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا اور پھر ان کی وفات تک عقیدت و محبت اور وفاداری کا سلسلہ قائم رہا۔ ان کے ساتھ سفر و حضر اور جلوت و خلوت کی رفاقت کے اس طویل سلسلہ کی بے شمار یادیں ہیں جن کا تذکرہ شروع کردوں تو کسی ایک پہلو کا بھی اس محفل میں شاید احاطہ نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا ارادہ ہے، اور چونکہ میں خود اس مورچے اور محاذ کا آدمی ہوں اس لیے طبعی طور پر اسی پہلو کو گفتگو کے لیے ترجیح دینا زیادہ پسند کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی جدوجہد کے اہداف

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء

مسئلہ کشمیر اور سردار محمد عبد القیوم خان

گزشتہ کالم میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ ایک دو ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قارئین کو شریک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سردار صاحب کے ساتھ میری ملاقاتوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مظفر آباد کے اقتدار کے لیے ان کی آنکھ مچولی کی سیاست بسا اوقات میری سمجھ سے بالاتر ہو جاتی ہے لیکن آج کے سیاستدانوں کی مجموعی کھیپ کو سامنے رکھتے ہوئے دو حوالوں سے ان کا وجود غنیمت محسوس ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ باخبر اور صاحب مطالعہ سیاست دان ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور سردار محمد عبد القیوم خان

۳۰ جون و یکم جولائی ۲۰۰۰ء

قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے لیے ناکام اور ناکافی قرار دیتے ہوئے ترکی میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا اور مغربی قوانین اور نظام مختلف شعبوں میں نافذ کیے۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مغربی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے اسلامی نظام کو پاکستان کی منزل قرار دیا اور اس کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اور اس طرز فکر و نظریہ اور ہدف و مقصد کے لحاظ سے دونوں لیڈروں کا رخ ایک دوسرے سے بالکل الٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء

سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات

ڈاکٹر محمد المسعری نے کہا کہ طالبان کو اپنا نظام باقاعدہ طور پر تشکیل دینا چاہیے، اس کا اعلان کرنا چاہیے اور اس کے لیے عالم اسلام کے دانشوروں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ طالبان نے اپنے داخلی نظام کی بنیاد فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری پر رکھی ہے مگر میرے خیال میں انہیں فتاویٰ عالمگیری کی بجائے اس کے مرتب کرنے والے حکمران سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے اس وقت کے منتخب اربابِ علم و دانش کو جمع کر کے اس دور کے تقاضوں کے مطابق فتاوٰی عالمگیری کے نام سے ایک نظام مرتب کرایا اور اسے نافذ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات

۳ و ۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ اور حضرت ابو حازمؒ کے درمیان مکالمہ

اہل دنیا اور اصحاب اقتدار کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ علم کی ضرورت کو محسوس کریں، اہل علم کو تلاش کر کے ان سے رابطہ رکھیں، ان سے استفادہ کریں، ان کی دعائیں لیں، ان کا احترام کریں اور ان کی نصیحتوں کو غور سے سنیں۔ جبکہ خود اہل علم کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کی صورت یہ ہے کہ وہ علم کے وقار کو قائم رکھیں، اسے اہل دنیا اور اصحاب اقتدار تک رسائی کا ذریعہ نہ بنائیں، استغناء اور بے نیازی کا دامن نہ چھوڑیں، علم کے بدلے دنیا حاصل کرنے کا راستہ اختیار نہ کریں، اور ہر حال میں حق گوئی کو اپنا شعار بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ اور حضرت ابو حازمؒ کے درمیان مکالمہ

یکم جولائی ۱۹۹۹ء

حکومت کو زکوٰۃ کی ادائیگی اور علامہ ابوبکر بن مسعودؒ الکاسانی

علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے حکمران زکوٰۃ وصول کر کے اسے صحیح مصارف پر خرچ نہیں کرتے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ ان کو زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے سے مال کے مالک کی زکوٰۃ شرعاً ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ اس ضمن میں انہوں نے تین بزرگوں کے قول الگ الگ نقل کیے ہیں۔ فقیہ ابوجعفر ہندوانیؒ کا کہنا ہے کہ چونکہ مسلم حکمرانوں کو زکوٰۃ وصول کرنے کی ولایت حاصل ہے اس لیے انہوں نے جس سے زکوٰۃ وصول کی ہے اس کی زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے۔ اگر وہ زکوٰۃ صحیح مصرف پر خرچ نہیں ہوئی تو اس کا وبال ان حکمرانوں پر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکومت کو زکوٰۃ کی ادائیگی اور علامہ ابوبکر بن مسعودؒ الکاسانی

۱۸ مارچ ۱۹۹۹ء

زکوٰۃ کی جبری کٹوتی، سپریم کورٹ اور مولانا مفتی محمودؒ

حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں جب مال کی کثرت ہوئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ سونا چاندی یعنی نقد رقوم میں زکوٰۃ کی جبری وصولی سے لوگوں کے ذاتی معاملات میں سرکاری تجسس کے امکانات بڑھ جائیں گے اور لوگوں کی ’’پرائیویسی‘‘ متاثر ہوگی۔ اس لیے امیر المومنین حضرت عثمانؓ نے خلیفہ راشد کی حیثیت سے یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ زرعی پیداوار اور مال مویشی تو ’’اموال ظاہرہ‘‘ ہیں جن کی تفصیلات آسانی کے ساتھ زیادہ کرید کیے بغیر معلوم کی جا سکتی ہے اس لیے ان کی زکوٰۃ سرکاری طور پر وصول کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زکوٰۃ کی جبری کٹوتی، سپریم کورٹ اور مولانا مفتی محمودؒ

۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں

راقم الحروف کو مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک کارکن اور پھر ایک رفیق کار کے طور پر کم و بیش پندرہ برس تک کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور میرے لیے یہ بات بھی سعادت و افتخار کی ہے کہ ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں منعقدہ اجلاس میں جب پہلی بار مجھے جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا تو میرا نام پیش کرنے والے اور مجلس شوریٰ کو بحث اور دلائل کے ساتھ اس پر قائل کرنے والے خود مولانا مفتی محمودؒ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں

۲۲ اکتوبر ۱۹۹۸ء

کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی نادان دوستوں اور بے رحم ناقدوں کے اس طرز عمل سے محفوظ نہیں رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس منفرد انقلابی مفکر کی وفات کو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ہم اس کی فکر کو لے کر آگے بڑھنے کی بجائے تاریخ کے صفحات میں اسے تلاش اور دریافت کرنے کے مرحلہ میں ہی رکے ہوئے ہیں- مولانا عبید اللہ سندھیؒ کون تھے؟ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی تاریخ میں ان کی جدوجہد اور کردار کی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا وہ اپنے فکر و فلسفہ میں مغربی سرمایہ داری اور اشتراکیت کی عالمی کشمکش سے متاثر ہو کر فریق بن گئے تھے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

ستمبر ۱۹۹۴ء

جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات

جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ العالی نے جمعیۃ طلباء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں کیونکہ عمل و تربیت کے بغیر محض علم گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام علم کا مذہب ہے، قرآن کرم کی سب سے پہلی آیات کریمہ جو نازل ہوئی تھیں یہ تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات

۲۳ جنوری ۱۹۷۶ء