فقہِ اسلامی

’’تجدید‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں بنیادی فرق

تجدید اور مجدد کی اصطلاح تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی سے لی گئی ہے جس میں یہ پیش گوئی فرمائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے آغاز پر ایک مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ جبکہ تجدید کا معنٰی علماء امت کے ہاں یہ معروف چلا آرہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی اور افراد کے اعمال و اقدار میں غیر محسوس طریقہ سے کچھ اضافے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس طرح کھیت اور باغ میں کچھ خودرو پود پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں وقفہ وقفہ سے تلف کر کے چھانٹی کر دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۶ جون ۲۰۱۷ء

بھارتی سپریم کورٹ میں تین طلاقوں کا مسئلہ

بھارتی سپریم کورٹ میں اس وقت ’’تین طلاقوں ‘‘ کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ تین طلاقوں کو جرم قرار دے دیا جائے اور انہیں قانونی طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ تمام مسلم مکاتب فکر کی مشترکہ نمائندہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے موقف کا دفاع کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں دونوں طرف کے موقف کا خلاصہ دو خبروں کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں جو چیف جسٹس جے ایس کیبر کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش کیے گئے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم اور لفظوں کی میناکاری

لفظوں کی میناکاری کے ذریعے قرآنی اصطلاحات کے اجماعی مفہوم کو مشکوک کرنے کی مہم کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ ان دنوں خود مجھے اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے ایک میسج میں بتایا کہ وزیرآباد کے کوئی بزرگ ’’ربوٰا‘‘ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں، میں نے انہیں آپ کا فون نمبر دے دیا ہے وہ آپ سے اس سلسلہ میں ملیں گے۔ ایک روز کے بعد ان صاحب کا فون آگیا، وہ ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔

۲۷ مئی ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم

کسی بھی زبان کے کسی بھی لفظ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کا ایک تو لغوی ور وضعی معنٰی ہوتا ہے جس کے لیے وہ وضع کیا جاتا ہے اور ابتداء میں بولا جاتا ہے، پھر جب وہ لفظ عام استعمال کے ذریعہ کسی مخصوص معنٰی پر زیادہ بولا جانے لگے یا کسی شعبہ میں اسے کسی خاص مفہوم کے لیے مخصوص کر لیا جائے تو وہ اس کا اصطلاحی معنٰی کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ لفظ اس سے مختلف کسی مطلب کے لیے استعمال ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا مصداق ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ مئی ۲۰۱۷ء

فقہ حنفی پر ایک نظر

فقہ حنفی نے عالم اسلام میں طویل عرصہ تک حکومت کی ہے اور وہ عباسی خلافت اور عثمانی خلافت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں مغل حکومت کا بھی مدّتوں قانون و دستور رہی ہے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ ان کی علمی و فقہی کاوشوں کو امت مسلمہ میں سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اور صدیوں تک کئی حکومتوں کا دستور و قانون رہنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں میں بھی اس کے پیروکاروں کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے جو آج بھی اپنا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔

۶ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

۱۸۵۷ء سے پہلے برصغیر (پاک وہند وبنگلہ دیش و برما وغیرہ) کے قانونی نظام پر فقہ حنفی کی حکمرانی تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے دورمیں مرتب کیا جانے والا ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ قانون کی دنیا میں اس ملک کے دستور و قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ مسلم عوام کی اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار تھی، حتیٰ کہ قانون کی عمل داری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھی فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری کے ذریعے ہی اس عمل میں درجہ بدرجہ شریک ہوتے تھے۔ البتہ اس اجتماعی رجحان کے ماحول میں کچھ مستثنیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۱۳ء

تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

ہمارے بعض دانشور دوستوں کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ ہم آخر کیوں ایسا نہیں کرسکتے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے اب تک صدیوں سے چلے آنے والے فریم ورک کو چیلنج کرکے اس کی نفی کریں اورمارٹن لوتھر کی طرح قرآن وسنت کی نئی تعبیرو تشریح کی بنیاد رکھیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کے جذبہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کی ’’قدم بہ قدم‘‘پیروی کا راستہ اختیار کیا اور قرآن وسنت کی تعبیر نو کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام مارٹن لوتھر کی وفات کے فوراً بعد اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۷ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

اپریل ۲۰۰۳ء

کیا نکاح کے لیے مرد و عورت کا باہمی ایجاب و قبول کافی ہے؟

وفاقی شرعی عدالت کے ایک حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے گزشتہ روز اپنے کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ نکاح میں صرف میاں بیوی کے اقرار کو کافی سمجھتے ہوئے گواہوں کی موجودگی کو ضروری قرار نہ دینا قرآن و سنت کے احکام کے صریح منافی ہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کی وضاحت ہمارے کالم کی اشاعت سے پہلے ہی سامنے آچکی ہے جو لاہور کے ایک قومی روزنامہ نے ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء کو یوں شائع کی ہے کہ

۳ فروری ۲۰۰۰ء

اسلام میں متعہ کا تصور

آج کی صحبت میں پاکستان لاء کمیشن کی ایک اور تجویز کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے جو ’’متعہ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت کو متعہ کا حق دینے کے سلسلہ میں مختلف فقہی مکاتب فکر کی آراء کا جائزہ لیا جائے اور اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں غور کیا جائے۔ ’’متعہ‘‘ کا لفظی معنٰی فائدہ اٹھانے کے ہیں اور قرآن کریم میں احکام کے باب میں یہ لفظ جن الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے انہیں فقہاء کرام نے متعۃ الحج، متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق کی تین اصطلاحات کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ جون ۱۹۹۹ء

اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

سابقہ دو مضامین کے بارے میں ’’اوصاف‘‘ میں ایک دو مراسلے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے کے بارے میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی وضاحت ابھی پوری طرح نہیں ہو پائی اور کچھ ذہنوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے اس ضمن میں کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی ’’مجتہد‘‘ سامنے آجائے تو اسے اجہتاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟ ۔ ۔ ۔

۱۰ مئی ۱۹۹۹ء

کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

آج کی صحبت میں ایک اہم سوال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’’کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟‘‘یعنی آج اگر کوئی اجتہاد کرنا چاہے تو اس کی کس حد تک اجازت ہے؟ کیونکہ عام طور پر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کی بات اس قدر مشہور ہوگئی ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا لفظ کسی کی زبان پر آتے ہی بہت سے حلقوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس حوالہ سے صحیح رخ پر بھی بات کرنا چاہتا ہے تو تذبذب اور ہچکچاہٹ کے کانٹوں سے دامن چھڑانا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں ۔ ۔ ۔

۶ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

سود کے بارے میں حضرت عمرؓ کا ایک فیصلہ

سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں سود پر بحث کے دوران ایک معزز جج نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ سود کے حکم میں علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنس کا تبادلہ اسی جنس کے ساتھ کیا جائے تو بالکل برابری شرط ہے اور اس میں کمی بیشی کی کوئی صورت درست نہیں ہے۔ تو کیا جب سونے کی ڈلی کا تبادلہ سونے کے زیورات کے ساتھ کیا جائے گا تب بھی برابری ضروری ہوگی؟ ۔ ۔ ۔ گزشتہ روز حدیث نبویؐ کی کتاب ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کے سبق میں ایک واقعہ سامنے آیا جس میں کم و بیش اسی نکتے پر امیر المومنین حضرت عمرؓ کا ایک واضح فیصلہ موجود ہے ۔ ۔ ۔

۸ مارچ ۱۹۹۹ء