khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی ۔ حکومتِ پاکستان اپنی پوزیشن واضح کرے

جہاں تک سانحۂ مکہ کے بارے میں ایرانی حکومت کے موقف کی وضاحت کا تعلق ہے، ایرانی راہنماؤں کو اس کا پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اس حق کو استعمال کرنے کا جواز رکھتے ہیں۔ لیکن ’’جرم بخشا نہ جائے گا‘‘ کے انتقامی لہجے کے ساتھ ’’حج کی بھرپور تیاری‘‘ اور ’’جلوس نکالنے‘‘ کا الٹی میٹم کسی طرح بھی گزشتہ واقعات کی وضاحت نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ایک کھلی دھمکی ہے جو پاکستان کی سرزمین پر دی گئی ہے۔ پاکستان کے عوام اور دینی حلقے حرمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ایرانی عازمین کے سیاسی مظاہروں کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی ۔ حکومتِ پاکستان اپنی پوزیشن واضح کرے

۱۲ فروری ۱۹۸۸ء

بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس‘‘ ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہو رہی ہے اور مرکزی دفتر میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور آزاد قبائل میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے علمبردار پورے جوش و خروش کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ مینارِ پاکستان کا یہ گراؤنڈ وہی تاریخی میدان ہے جس میں ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے پر مشتمل ’’قراردادِ پاکستان‘‘ منظور کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

فروری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۹ و ۱۰

ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں ’اسلامی اتحاد کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں ایران عراق جنگ کے حوالہ سے عراق کو جارح قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کانفرنس کا افتتاح صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا جبکہ مبینہ طور پر اس اجتماع میں ایرانی حکومت کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے مگر دوسرے فریق عراق کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس پس منظر میں جارح قرار دینے کی قرارداد انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی اور جانبدارانہ ہی قرار پا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

فروری ۱۹۸۸ء

خان عبد الغفار خان مرحوم

خان عبد الغفار خان مرحوم کا شمار برصغیر کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ آزادی کی جرأت مندانہ قیادت کی اور عزم و استقلال کے ساتھ قربانیوں اور مصائب و آلام کے مراحل طے کر تے ہوئے قوم کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے لیے قید و بند کی مسلسل صعوبتیں برداشت کیں اور تخویف و تحریص کے ہر حربہ کو ناکام بناتے ہوئے برٹش استعمار کو بالآخر اس سرزمین سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الغفار خان مرحوم

۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء

علامہ محمد اقبالؒ اور سردار محمد عبد القیوم خان

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ڈاکٹر جاوید اقبال اور سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقاریر کے حوالے سے جس افسوسناک بحث کا آغاز کیا تھا اس کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے اور نوئے وقت اس بحث کو بلاوجہ طول دے کر اس مطالبہ پر اصرار کر رہا ہے کہ سردار محمد عبد القیوم خان اپنی ناروے کی تقریر میں علامہ محمد اقبالؒ کی مبینہ توہین پر معافی مانگیں۔ جبکہ سردار صاحب کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کی توہین نہیں کی بلکہ علامہ اقبالؒ کے نام سے غلط نظریات اور گمراہ کن خیالات پیش کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس پر وہ کسی معذرت کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور سردار محمد عبد القیوم خان

۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء

قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

شیعہ سنی تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستان میں بھی ایک عرصے سے ماتمی جلوسوں اور تقریبات کے حوالہ سے مختلف شہروں میں یہ تنازعہ خونریز فسادات کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پڑوسی ملک ایران میں کامیاب مذہبی انقلاب کے بعد اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنازعہ مذہبی اختلاف کا لبادہ اتار کر اپنے اصل سیاسی روپ میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

جمعیۃ العلماء ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متوازی دھڑے کے ساتھ اختلافات کے خاتمہ اور جماعتی اتحاد کے لیے ایک بار پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس ضمن میں متعدد حضرات نے دونوں جانب سے خلوص کے ساتھ اس نیک مقصد کے لیے محنت کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

علامہ اقبالؒ کے نام پر گمراہ کن خیالات پیش کیے جا رہے ہیں

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقریر کے حوالہ سے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ غیر محتاط ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ علامہ اقبالؒ کے بعض نادان دوستوں کی اس نئی مہم کا فطری ردعمل ہے جو انہوں نے اقبالؒ کو پیغمبر اور فکر اقبالؒ کو وحی کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں شروع کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ اقبالؒ کے نام پر گمراہ کن خیالات پیش کیے جا رہے ہیں

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

قائم مقام وفاقی محتسب اعلیٰ جناب جسٹس شفیع الرحمان نے اپنے ایک حالیہ مقالہ میں موجودہ قانونی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ ’’قوانین اور طریق کار ایماندار اور بے ایمان دونوں طرح کے افراد پر برابر وزن ڈالتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بے ایمان افراد کو مدد ملتی ہے جبکہ ایماندار افراد کو کنارہ کشی کرنی پڑتی ہے یا مفاہمت کرنی پڑتی ہے یا پھر اس سارے عمل میں ایماندار فرد اپنی ایمان داری سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے‘‘۔ (بحوالہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

مرزا طاہر احمد نے اس مقصد کے لیے لندن کو اپنی عالمی تحریک کا مرکز بنایا لیکن برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی بیداری اور سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے مسلسل انعقاد کی وجہ سے برطانوی رائے عامہ کو اپنے ڈھب پر لانے میں اسے کامیابی نہ ہوئی۔ البتہ جنیوا کے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن سے ایک قرارداد منظور کرانے میں قادیانی گروہ کامیاب ہوگیا جس میں قادیانیوں کے بارے میں مذکورہ آئینی و قانونی اقدامات کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر ان کی واپسی کے لیے زور دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔