khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

کراچی کے احباب کا مخلصانہ تعاون

راقم الحروف کو یکم نومبر سے ۴ نومبر تک اور ۸ دسمبر سے ۱۵ دسمبر تک کراچی کے مختلف علاقوں کا تنظیمی دورہ کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیمی صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس دوران لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، شیر شاہ کالونی، مہاجر کیمپ، بلدیہ ٹاؤن، بہاری کالونی، کلری، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی، مظفر آباد کالونی، فیوچر کالونی، ڈرگ کالونی، نیو ٹاؤن، دہلی مرکنٹائل سوسائٹی، اختر کالونی، محمود آباد، کھوکھرا پار، کھڈہ اور دیگر علاقوں میں جماعتی رہنماؤں اور کارکنوں سے تفصیل کے ساتھ جماعتی امور پر تبادلۂ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کے احباب کا مخلصانہ تعاون

۲۳ دسمبر ۱۹۷۷ء

بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان ۔ مجرم کون؟

پاکستان میں بیلٹ بکس ابھی تک وہ اعتماد کیوں حاصل نہیں کر سکا جو ایک جمہوری ملک میں اسے ملنا چاہیے؟ یہ سوال نزاکت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اہم اور ناگزیر بھی ہے کہ پاکستان میں سیاست و جمہوریت کے مستقبل کا انحصار اس سوال پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی شعور رکھنے والے ہر شخص کو بیلٹ بکس کے تقدس اور اعتماد کا سوال پریشان کیے ہوئے ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل تجرباتی دور سے گزر رہا ہے اور یہاں جمہوریت کی جڑیں ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان ۔ مجرم کون؟

۲۲ جولائی ۱۹۷۷ء

۳۳ دن کی اسیری اور فوجی عدالت میں مولانا محمد اجمل خان کا نعرۂ حق

۵ مئی کو راقم الحروف قومی اتحاد کے صوبائی صدر جناب حمزہ اور جناب رانا نذر الرحمان کے ہمراہ راولپنڈی میں ڈویژن کے دورہ پر تھا کہ گجرات میں چودھری ظہور الٰہی صاحب کی قیام گاہ پر مقامی راہنماؤں سے گفتگو کے دوران اچانک روزنامہ وفاق کی اس خبر پر نظر پڑی کہ قومی اتحاد کی مرکزی کونسل کا اجلاس اسی روز ۲ بجے مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ دورہ مختصر کر کے ہم بھاگم بھاگ لاہور پہنچےمسلم لیگ ہاؤس پہنچنے سے پہلے حمزہ صاحب اور رانا صاحب تھوڑی دیر کے لیے ایمبسڈر ہوٹل رکے اور راقم الحروف ان سے چند منٹ پہلے مسلم لیگ ہاؤس پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۳۳ دن کی اسیری اور فوجی عدالت میں مولانا محمد اجمل خان کا نعرۂ حق

۲۴ جون ۱۹۷۷ء

خانہ جنگی کی سازش؟

پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۴ اپریل کو لاہور گورنر ہاؤس میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ سامنے آنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگی۔ اسی روز گورنر ہاؤس سے نکل کر پی پی پی ورکرز نے جلوس نکالا، مختلف بازاروں میں گھوم کر دوکانیں بند کرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر داتا دربار کا رخ کیا جہاں سے قومی اتحاد کا عظیم الشان جلوس مارچ کرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خانہ جنگی کی سازش؟

۲۲ اپریل ۱۹۷۷ء

مذاکرات کس بات پر؟ / گولی کی زبان / زندہ باد مولانا محمد زکریا / آئین کا تقاضہ / گھر کا بھیدی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مذاکرات اور بات چیت کی دعوت بظاہر بڑی خوشنما ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس مسئلہ پر ہوں گے؟ قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان اصل مابہ النزاع مسئلہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا ہے جو سات مارچ کو منعقد ہوئے اور جن میں اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلیاں ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاکرات کس بات پر؟ / گولی کی زبان / زندہ باد مولانا محمد زکریا / آئین کا تقاضہ / گھر کا بھیدی

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن اور خان عبد القیوم خان

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن اور خان عبد القیوم خان

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

۳ دسمبر ۱۹۷۶ء

سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

سیدنا ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام وہ ذات گرامی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری کائنات میں افضل ترین مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اور ان کی عظیم قربانیوں اور عزیمت و استقامت کے شاندار مظاہروں کے عوض دنیا بھر کی ایسی امامت بخشی کہ آج دنیا کا کم و بیش ہر الہامی مذہب خود کو حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ یہودی اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کا پیروکار کہتے ہیں، عیسائی اس بات کے اپنے لیے دعوے دار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

۲۶ نومبر ۱۹۷۶ء

کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن ۔ اہم فیصلے اور قراردادیں

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن ۔ اہم فیصلے اور قراردادیں

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔