khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

اور اب کراچی؟

ملک کے امن و امان اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ کے احساس سے یکسر محروم کر دینے والے ان دھماکوں کے پسِ منظر کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی افغان پالیسی سے لے کر ملک میں نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے کی تیاری تک کی باتیں اس ضمن میں سامنے آرہی ہیں مگر ان تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری اس سلسلہ میں کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب کراچی؟

۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء

وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں

جولائی ۱۹۸۷ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کے گیارہویں سال کا آغاز لاہور میں بموں کے تین دھماکوں کے ساتھ ہوا جن میں اخباری اطلاعات کے مطابق سات افراد جاں بحق اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور سرحد و بلوچستان میں بے شمار شہریوں کی جان لینے کے بعد اب اس کا رخ پنجاب کی طرف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں

۱۷ جولائی ۱۹۸۷ء

شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ روزنامہ مشرق لاہور ۲۷ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے شریعت بل کے بارے میں عوامی رابطہ کے عنوان سے وزراء کے ملک گیر دوروں کا پروگرام طے کیا ہے اور اس پروگرام کی تکمیل تک سینٹ کے اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزراء کے ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔ اس خبر کے حوالہ سے آنجناب کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

۳ جولائی ۱۹۸۷ء

سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

ملک کے دینی و قومی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی رنج و غم کا باعث ہوگی کہ تحریک آزادی کے ممتاز شاعر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق اور دینی قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بزرگ راہنما سائیں محمد حیات پسروری گزشتہ روز طویل علالت کے بعد پسرور میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

جولائی ۱۹۸۷ء

وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خان نے گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم حزب الاحناف کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے کیونکہ شریعت کا نفاذ اس روز سے شروع ہو گیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہر مسلمان کا کام یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق کام کرے اور دوسروں کو بھی تلقین کرے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

۲۶ جون ۱۹۸۷ء

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا امریکی منصوبہ؟

پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب استعماری قوتوں کے قویٰ مضمحل ہونے لگے اور نوآبادیاتی مقبوضات پر ان کی گرفت قائم رہنے کے امکانات کم ہوگئے تو ان غلام ملکوں کے رہنے والے عوام کی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے آثار پیدا ہوگئے کہ وہ آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور استعماری قوتوں کے مقبوضہ ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونے لگے۔ لیکن سامراجی طاقتوں نے نوآبادیاتی مقبوضات پر تسلط سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کی بجائے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا امریکی منصوبہ؟

۲۶ جون ۱۹۸۷ء

نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

متحدہ شریعت محاذ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ۷ جون ۱۹۸۷ء کو محاذ کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں صبح دس بجے منعقد ہو رہا ہے جس میں ۲۷ رمضان المبارک تک ’’شریعت بل‘‘ منظور نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق حکومت کے خلاف ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا عملی طریقِ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ۶ جون کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں زیربحث آنے والے امور میں بھی اہم ترین مسئلہ راست اقدام کی تحریک کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

۵ جون ۱۹۸۷ء

حافظ جی حضورؒ

بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین حافظ جی حضورؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۹۰ برس سے متجاوز تھی اور وہ آخر دم تک نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ حافظ جی حضورؒ حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کے خلفاء میں سے تھے اور ایک بڑی دینی درسگاہ کے سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ جی حضورؒ

جون ۱۹۸۷ء

امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی

پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی شرائط میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو تحفظ دینے کی شرائط بھی شامل ہیں اور اس قسم کی شرطوں کے ساتھ امداد کو قبول کرنا قومی غیرت اور دینی حمیت کے منافی ہے۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کو امداد دینے کی سفارش جس قرارداد کے ذریعے کی ہے اس میں امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی تین شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن / متحدہ شریعت محاذ اور حکومت کے مذاکرات

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا محمد اجمل خان اور قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی قابلِ اعتراض شرائط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے رمضان مبارک کے بعد لاہور میں مختلف مکاتبِ فکر کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے اور ان شرائط کے خلاف اجتماعی ردِعمل کا اظہار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن / متحدہ شریعت محاذ اور حکومت کے مذاکرات

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔