افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

قادیانی اور مسئلہ کشمیر / خارجی گروہ کب پیدا ہوا؟ / متعہ اور امام مالکؒ / بے نمازی کی قربانی

سوال: عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پیدا کرنے میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے ، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (حافظ محمد ایوب، گوجرانوالہ)۔ سوال: خارجی گروہ کسے کہتے ہیں اور اس کا آغاز کب ہوا تھا؟ (محمد اسلم، اسلام آباد) ۔ سوال: متعہ کسے کہتے ہیں اور کیا اہل سنت کے کسی امام کے نزدیک متعہ جائز ہے؟ (عبد الحمید، لاہور)۔ سوال: ایک شخص نماز روزہ کی پابندی نہیں کرتا مگر زکوٰۃ اور قربانی ادا کرتا ہے، کیا اسے اس عمل کا ثواب ہوگا؟ (حافظ محمد سعید، گوجرانوالہ) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی اور مسئلہ کشمیر / خارجی گروہ کب پیدا ہوا؟ / متعہ اور امام مالکؒ / بے نمازی کی قربانی

ستمبر ۱۹۹۰ء

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

جولائی ۱۹۹۰ء

وکلاء کرام ! خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کریں

ہم وکلاء کرام کے اس حق کے مخالف نہیں ہیں کہ وہ شریعت بل کے متن پر ناقدانہ نظر ڈالیں اور انہیں فکری یا عملی طور پر اس میں کوئی خامی نظر آئے تو اس کی نشاندہی کریں۔ لیکن خدا شاہد ہے کہ ہمیں ہائی کورٹ کے وکلاء سے اس غیر سنجیدہ رویہ کی توقع ہرگز نہیں تھی کہ وہ شریعت بل کا مطالعہ کیے بغیر اس کے خلاف لنگر لنگوٹ کس لیں گے۔ ملک میں قانون دان طبقہ کا اپنا ایک مقام ہے اور بالخصوص ہائی کورٹ کے وکلاء سے قوم ایک سنجیدہ طرز عمل کی توقع رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وکلاء کرام ! خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کریں

۲۹ جون ۱۹۹۰ء

مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

راقم الحروف اس روز شورکوٹ میں تھا، ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ شورکوٹ کینٹ میں سالانہ جلسہ سے خطاب کیا اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ہمراہ مغرب کی نماز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ شہر میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا بشیر احمد خاکی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا فون آیا۔ مولانا خاکی کے علاوہ انہوں نے علامہ صاحب اور راقم الحروف سے بھی بات کی۔ کم و بیش سات بجے کا وقت تھا، یہ ہماری آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

مارچ ۱۹۹۰ء

حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ

گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ٹریفک کے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا علویؒ بھیرہ کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ باپ دادا سے قرآن کریم کی خدمت کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ ایک عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ مجلس احرارِ اسلام میں طویل عرصہ رہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ساتھ بھی کچھ عرصہ وابستگی رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ

مارچ ۱۹۹۰ء

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

مارچ ۱۹۹۰ء

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

فروری ۱۹۹۰ء

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

۵ جنوری ۱۹۹۰ء

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ

مولانا غلام اللہ خانؒ شیخ العلماء حضرت مولانا حسین علیؒ اور خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے جنہوں نے تمام عمر توحید کے پرچار میں صرف کر دی۔ انتہائی جری، بے باک اور معاملہ فہم راہنما تھے، قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، مجلس احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، تحریک ختم نبوت کے دونوں ادوار میں سرگرم کردار ادا کیا، اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد اور تحریک نظام مصطفٰیؐ میں بھی علماء و عوام کی جرأت مندانہ رہنمائی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ

نا معلوم

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔