آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ کے دو مسلم اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک لیسٹر کی اسلامک فاؤنڈیشن اور دوسرا آکسفورڈ کا اسلامک سنٹر۔ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے قریب مارک فیلڈ کے مقام پر پاکستان کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور ڈاکٹر مناظر حسن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس کے انتظامی معاملات چلا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن مختلف اسلامی موضوعات پر یورپی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے اسلامی عنوانات پر تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی ہے اور علمی و تحقیقی کاموں میں پیش پیش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

۱۳ ستمبر ۱۹۹۷ء

مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشیؓ بیٹھے ہوئے تھے جن کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت سے پہلے رومی لوگوں میں کثرت سے پھیل جائیں گے۔ روم اس دور میں عیسائی سلطنت کا پایۂ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے عیسائی حکمران مراد ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہؐ سے سنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

مالکم ایکس شہبازؒ اور لوئیس فرخان

لندن کے بعض اخبارات نے رائٹر کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ نیویارک میں مالکم ایکس شہبازؒ کی بیوہ گزشتہ روز اپنے فلیٹ میں بے ہوش پائی گئیں، وہ آگ میں جھلس گئی تھیں، انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ نیویارک پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کے اتفاقیہ واقعہ ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ امریکہ کے سیاہ فام مسلمانوں کے ایک مقبول عام لیڈر تھے جنہیں ۱۹۶۵ء میں نیویارک کے علاقہ مین ہیٹن میں اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مالکم ایکس شہبازؒ اور لوئیس فرخان

۲۴ جون ۱۹۹۷ء

برطانیہ کا ایک دینی ادارہ: جامعہ الہدٰی نوٹنگھم

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں مسلمان بچیوں کے ایک تعلیمی ادارہ ’’جامعۃ الہدٰی‘‘ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جس میں ان بچیوں کے لیے دو سالہ تعلیمی نصاب کا خاکہ تجویز کیا گیا ہے جو سولہ سال کی عمر تک سرکاری مدارس میں لازمی تعلیم کے مرحلہ سے گزر کر سکول و کالج کی مزید تعلیم کی متحمل نہیں ہوتیں اور ان کے والدین چاہتے ہیں کہ یہ نوجوان بچیاں سکول و کالج کے مخلوط و آزاد ماحول سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ کچھ دینی تعلیم بھی حاصل کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کا ایک دینی ادارہ: جامعہ الہدٰی نوٹنگھم

۱۷ جون ۱۹۹۷ء

پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شریک ہو کر عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کی اور پاکستانی قوم کو پچاس سالہ قومی زندگی مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ آزادیٔ وطن کے حوالہ سے پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت میں بھی ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے انہی دنوں اپنے قیام کی پچیس سالہ تقریبات منائی ہیں۔ پاکستان کے قیام کو پچاس سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہر سطح پر تقریبات کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

اپریل ۱۹۹۷ء

الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت اور اخوان المسلمین شام کے سابق مرشد عام الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃؒ کا تعلق شام سے تھا اور وہ شام کے معروف حنفی محدث الاستاذ محمد زاہد الکوثریؒ کے تلمیذ خاص اور ان کے علمی جانشین تھے۔ عرب دنیا میں حنفی مسلک کے تعارف اور اس کی ترویج و اشاعت میں ان دونوں بزرگوں کا بہت بڑا حصہ ہے اور یہ بزرگ گزشتہ پون صدی کے دوران عالم عرب میں حنفیت کے علمی ترجمان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ

اپریل ۱۹۹۷ء

اسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقات

اسامہ بن لادن کا نام سب سے پہلے جہاد افغانستان کے دوران خوست میں سنا تھا جہاں یاور کے مقام پر مجاہدین کی عسکری تربیت گاہ تھی ۔دنیا کے مختلف ممالک سے نوجوان جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر وہاں آتے اور چند دن ٹریننگ حاصل کرکے افغان مجاہدین کے ہمراہ روسی استعمار کے خلاف برسر پیکار ہوجاتے۔راقم الحروف کو متعدد بار حرکت الانصار کی ہائی کمان کی فرمائش پر ایسی تربیت گاہوں میں جانے کا موقع ملا ۔میرے جیسے لوگ وہاں جاکر عملا تو کچھ نہیں کرپاتے مگر مجاہدین کا خیال تھا کہ ہمارے جانے سے ان کو حوصلہ ملتاہے،خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقات

۱۳ مارچ ۱۹۹۷ء

مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی گزشتہ روز لاہور سیشن کورٹ کے احاطہ میں بم کے خوفناک دھماکہ میں جام شہادت نوش کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے نائب مولانا اعظم طارق کے ہمراہ ایک مقدمہ کی پیشی کے سلسلہ میں سیشن کورٹ میں موجود تھے کہ اچانک بم کا دھماکہ ہوا جس میں مولانا ضیاء الرحمان فاروقی سمیت دو درجن سے زائد افراد جاں بحق جبکہ مولانا اعظم طارق سمیت ایک سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے۔ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ کا تعلق سمندری ضلع فیصل آباد سے تھا اور وہ مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا محمد علی جانبازؒ کے فرزند تھے ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

فروری ۱۹۹۷ء

قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر

گزشتہ سال امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کا بطور خاص ذکر کیا تو قادیانی مسئلہ کا ادراک رکھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ حالات کا رخ اب کدھر کو ہے اور امریکہ بہادر اس حوالہ سے ہم سے کیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات و اصطلاحات استعمال کرنے سے قانوناً روکنا امریکہ اور دیگر مغربی لابیوں کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر

۱۶ جنوری ۱۹۹۷ء

’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

بگرامی خدمت جناب عزت ماب جسٹس احسان الحق چودھری صاحب و عزت ماب جسٹس ملک محمد قیوم صاحب۔ لاہور ہائی کورٹ لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ’’صائمہ کیس‘‘ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے کچھ ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں، قانوناً گنجائش ہو تو انہیں باضابطہ ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر وضاحت کے لیے عدالت میں حاضری کے لیے بھی تیار ہوں، ورنہ ذاتی معاونت و مشاورت سمجھتے ہوئے ان گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ ضرور فرمایا جائے، بے حد شکریہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

جنوری ۱۹۹۷ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔