ترکی میں بدکاری کی سزا اور لندن کے فون باکسز

پھر وہی ہوگا جو مغربی معاشرہ میں ہو رہا ہے کہ رشتوں کا تقدس فضا میں تحلیل ہو جائے گا، خاندان بکھر جائیں گے، اولڈ پیپلز ہومز آباد ہوں گے، بوڑھی مائیں اور باپ اپنی اولاد کو دیکھنے کے لیے عید کا انتظار کیا کریں گے، اور لندن میں عام نظر آنے والے ایک اشتہار کے مطابق ماں اپنی لڑکی کو اسکول جانے سے قبل پوچھا کرے گی کہ کیا اس نے بستے میں ’’کنڈوم‘‘ رکھ لیے ہیں، اور قوم کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں ماحول کی خرابی اور اخلاق کی گراوٹ کا رونا رو کر مطمئن ہوں گے کہ انہوں نے برائی کے خاتمہ کے لیے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی میں بدکاری کی سزا اور لندن کے فون باکسز

۹ جولائی ۱۹۹۸ء

پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی شخص کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس نے مسیح ہونے کا دعوٰی کر کے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور دوسرے پناہ گزینوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اخبار نے اس شخص کا نام نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتا ہے اور ان دنوں ایسٹ لندن کےعلاقہ لیٹن سٹون میں رہائش پذیر ہے۔ اخبار نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ اس شخص کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جو عقیدت مند کے روپ میں اس کے پاس گیا اور اس سے بہت سی معلومات حاصل کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

۴ جولائی ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ (وفات: اپریل ۱۹۹۸ء) کو پہلی بار اس دور میں دیکھا جب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صرف ونحو کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اس قافلہ کے سرگرم رکن تھے جو جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے کے لیے قریہ قریہ، بستی بستی متحرک تھا۔ شمالی پنجاب میں جمعیۃ علماء اسلام کو ایک فعال اور متحرک جماعت بنانے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جن بے لوث اور ان تھک رفقاء کا تعاون حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

جولائی تا نومبر ۱۹۹۸ء

معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

متحدہ ہندوستان میں انگریزی عملداری کے تحت داخلی و خودمختاری فارمولا کے مطابق جب پہلی بار انتخابات ہوئے اور چند صوبوں میں کانگریس کی وزارتیں قائم ہوگئیں تو جناب گاندھی نے اپنے وزراء کو اس بات کی تلقین کی کہ اگر وہ حکمرانی میں کسی شخصیت کو بطور آئیڈیل سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سب سے پہلی شخصیات ہیں۔ یہ تاریخ کا خراج عقیدت ہے جو خلفائے راشدینؓ کے حصے میں آیا جس کی وجہ ان کی سادگی، قناعت اور فقر و فاقہ کی زندگی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

۲۸ جون ۱۹۹۸ء

برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ میں ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے ساتھ جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا ان میں سے چند کا تذکرہ قارئین کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں ہمارا قیام تھا اور اس کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہمارے میزبان تھے۔ یہ ادارہ نوٹنگھم کے وسط میں ’’فارسٹ ہاؤس‘‘ نامی ایک بڑی بلڈنگ خریدکر قائم کیا گیا ہے جہاں پہلے محکمہ صحت کے دفاتر تھے۔ خوبصورت اور مضبوط بلڈنگ ہے، چار منزلہ عمارت میں اڑھائی سو کے لگ بھگ کمرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

۲۵ جون ۱۹۹۸ء

پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

۱۰ جون ۱۹۹۸ء

سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

ماہِ رواں کے آغاز میں سپاہ صحابہؓ کے کارکنوں نے اسلام آباد میں جو مظاہرہ کیا اس کے حوالہ سے خبر آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کی موجودگی میں سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں سے مذاکرات کریں گے اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی ہوگیا تھا۔ وہ تاریخ گزرے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس کے بعد سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا علی شیر حیدری کو تین سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور سپاہ صحابہؓ کی قیادت نئے سرے سے مظاہروں کے پروگرام بنا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

۲۸ مئی ۱۹۹۸ء

توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

لاہور کے بشپ کیتھ لیزلی نے ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ یہ بات بھی کہی کہ انبیاء کرامؑ کی توہین پر موت کی سزا صرف اسلام کا قانون نہیں ہے بلکہ بائبل کا حکم بھی یہی ہے، اس لیے اس قانون پر مسلمانوں اور مسیحیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ وہ اتنا ضرور چاہیں گے کہ قانون کے نفاذ کے طریق کار کو ازسرِنو ایسے مرتب کیا جائے کہ کسی شخص کو اپنے کسی ذاتی مخالف کے خلاف اتنا بڑا الزام لگا کر اسے عدالتوں میں گھسیٹنے کی آزادی حاصل نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

۲۴ مئی ۱۹۹۸ء

جنوبی افریقہ کے علماء کرام کی سرگرمیاں

جنوبی افریقہ کے ایک عالم دین مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی گزشتہ ہفتے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے ملاقات کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور دو تین روز قیام کیا۔ اس دوران جہلم کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی وفات پر ان کے جنازے میں شرکت کے لیے حضرت شیخ الحدیث کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا تو مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی بھی رفیق سفر تھے۔ ان سے جنوبی افریقہ کے حالات اور وہاں مسلمانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور بہت سی معلومات حاصل ہوئیں جن کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی افریقہ کے علماء کرام کی سرگرمیاں

۱۳ مئی ۱۹۹۸ء

یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں لا رضاء مع الاضطرار کہ مجبوری کی حالت میں رضا کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اپنے حق سے کم پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کی رضا کا شرعًا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اسے اس کا وہ حق بھی ملنا چاہیے جس سے وہ مجبوری کی وجہ سے دستبردار ہوگیا ہے۔ اس اصول پر اگر ملازمت کے معاہدوں کو پرکھا جائے تو وہ سارے کنٹریکٹ مشکوک ہو جاتے ہیں جو بے روزگار لوگوں نے فاقے اور بھوک سے بچنے کے لیے مجبورًا سائن کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

۱۱ مئی ۱۹۹۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔