طالبان کے ساتھ دینی جماعتوں کا اظہارِ یکجہتی

مولانا سمیع الحق مبارکباد کے مستحق ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کے اعلان کے بعد انہوں نے دینی حلقوں کی قیادت کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس کا بروقت اہتمام کیا۔ گزشتہ سال جب افغانستان پر امریکی حملہ کے خطرات نظر آنے لگے تو مولانا فضل الرحمان نے عوامی بیداری کی مہم شروع کر کے امریکہ پر واضح کر دیا تھا کہ افغانستان پر حملہ اس قدر آسان نہیں ہے اور ایسا کرنا پاکستان کے عوام کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کے مترادف ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طالبان کے ساتھ دینی جماعتوں کا اظہارِ یکجہتی

۲۴ جنوری ۲۰۰۱ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

۱۴، ۱۶، ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء

پاکستان کے سیاسی طبقات

گزشتہ ایک کالم میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کی سعودی عرب جلاوطنی پر تبصرہ کرتے ہوئے طاقت اور دولت کی کشمکش کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لیے آج اسی سلسلہ میں کچھ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ملک کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھوں میں چلی گئی وہ تین تھے: (۱) جاگیردار اور زمیندار (۲) بیوروکریٹس (۳) اور جرنیل صاحبان۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی آمد تک ملک کی اسٹیبلشمنٹ انہی تین طبقات سے عبارت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے سیاسی طبقات

۱۲ جنوری ۲۰۰۱ء

حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ دینی اور مسلکی معاملات میں انتہائی غیور تھے اور صرف خطابت میں ہی غیرت و حمیت کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ عملاً بھی وہ مسائل و مشکلات کے حل کے لیے سرگرداں رہتے تھے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں جرأت و دلیری کا وافر حصہ بھی عطا کیا تھا، وہ مشکل اوقات میں عافیت کا گوشہ تلاش کرنے کی بجائے مصیبت کے مقام پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور کسی بات کی پروا نہیں کرتے تھے۔ مولانا ضیاء القاسمیؒ کی بیعت کا تعلق شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ

۱۲ جنوری ۲۰۰۱ء

مسلم ممالک کا اقتصادی بلاک

ایٹمی شعبہ میں جزوی پیش رفت کو چھوڑ کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں مسلمان اپنی معاصر اقوام سے بہت پیچھے اور بہت ہی پیچھے ہیں۔ ورلڈ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی عالمی دوڑ اور مسابقت میں مسلمانوں کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں۔ حتیٰ کہ ہم ابھی تک عالمی سطح پر ڈھنگ کی کوئی خبر رساں ایجنسی قائم نہیں کر سکے۔ اور تو اور ہم ابھی تک ریڈ کراس طرز کا کوئی ایسا بین الاقوامی رفاہی ادارہ نہیں بنا سکے جو مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو اور رفاہی شعبوں میں اعتماد کے ساتھ خدمات سر انجام دینے کی پوزیشن میں ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک کا اقتصادی بلاک

۶ جنوری ۲۰۰۱ء

حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

حکومت نے آخر کار "حمود الرحمان کمیشن" کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ عوام کی معلومات کے لیے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں رکھ دیا ہے اور اس کے اقتباسات قومی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ملک سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے باقی ماندہ حصے میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے عوامی مطالبہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

جنوری ۲۰۰۱ء

نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہ

آج عید کا دن ہے‘ عید خوشی کو کہتے ہیں اور آج دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خوشی اور تشکر کا اظہار کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ نصیب ہوا اور اس میں ہر مسلمان کو اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نیک اعمال کا موقع ملا۔ روزہ‘ قرآن کریم کا سننا سنانا ‘ صدقہ خیرات اور نوافل کی توفیق ہوئی‘ اس خوشی میں مسلمان بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں اور تشکر و امتنان کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہ

جنوری ۲۰۰۱ء

میاں نواز شریف کی جلا وطنی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے امریکی دباؤ

آج ہم دو امریکی عہدے داروں کی پریس بریفنگ کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جیک سیورٹ ہیں جنہوں نے اپنی پریس بریفنگ میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی جلاوطنی کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے اور دوسرے جنوبی ایشیا کے امور کے امریکی ماہر اسٹیفن پی کوہن ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے امریکی مرکز اطلاعات میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدارت ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن سے ری پبلکن صدار جارج ڈبلیو بش کو منتقل ہونے کے بعد امریکی پالیسوں میں متوقع تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں نواز شریف کی جلا وطنی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے امریکی دباؤ

یکم جنوری ۲۰۰۱ء

عید الفطر اور قرآنِ حکیم کا پیغام

اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت ہمیں عطا فرمائی مگر نصف صدی میں اس کی جو ناقدری ہم نے کی ہے اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین اور اس کے نظام کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ملک کے وسائل میں غریب شہریوں کے لیے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں وہ گنتی کے چند افراد نے سلب کر لیے ہیں۔ عام آدمی زندگی کے بنیادی اور ضروری اسباب کو ترس رہا ہے مگر مراعات یافتہ طبقے اربوں، کھربوں روپے کی مالیت کے وسائل پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور ملک کی دولت کا بہت بڑا حصہ باہر بھجوا دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عید الفطر اور قرآنِ حکیم کا پیغام

۲۶ دسمبر ۲۰۰۰ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔