پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے 1987ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

مئی ۱۹۹۴ء

مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی میں مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور جنگ آزادی کے آخری مراحل میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کر کے تقسیم ہند کی راہ ہموار کی، اس طرح دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود نمودار ہوگیا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن عزیز میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مغربی فلسفہ کو ہی منزل قرار دے لیا گیا اور ملک میں مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی حکمرانی یا قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ایک طویل کشکش کا آغاز ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

مئی ۱۹۹۴ء

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کی اس کشمکش سے قطع نظر بین الاقوامی پریس کا یہ تجزیہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرارداد کے لیے جو محنت ضروری تھی پاکستان کی وزارت خارجہ اس کا اہتمام نہیں کر سکی حتیٰ کہ قرارداد کی حمایت میں مسلم ممالک سے روابط اور انہیں قائل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد کی منظوری کے امکانات مخدوش تھے اور پاکستان نے شکست سے بچنے کے لیے قرارداد کو واپس لینے یا موخر کرنے میں عافیت سمجھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

اپریل ۱۹۹۴ء

مولانا عبد اللطیفؒ بالاکوٹی

گزشتہ ماہ کے دوران شاہی مسجد سرائے عالمگیر کے خطیب حضرت مولانا عبد اللطیف بالاکوٹی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۷۴ برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور بالاکوٹ ہزارہ کے گاؤں بھنگیاں کے رہنے والے تھے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ راولپنڈی، جہلم اور سرائے عالمگیر میں دینی علوم کی تدریس میں بسر ہوا۔ سرائے عالمگیر میں وہ 1961ء میں آئے اور آخر وقت تک وہیں دینی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ شاہی مسجد میں خطابت کے علاوہ مرکزی عیدگاہ میں جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد اللطیفؒ بالاکوٹی

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

جہاد افغانستان کی کامیابی اور کابل میں مجاہدین کی مشترک حکومت کے قیام کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو یہ امید تھی کہ اب افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوگی اور مجاہدین کی جماعتیں اور قائدین مل جل کر افغانستان کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کا ایک مثالی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے جو دیگر مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے عزم و حوصلہ میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بعض افغان راہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور ہوسِ اقتدار نے عالم اسلام کی آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

صومالیہ، مشرقی افریقہ کا افغانستان

صومالیہ غلامی کے دور میں تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک پر برطانیہ کی عملداری تھی، دوسرا حصہ فرانس کے قبضہ میں تھا، جبکہ تیسرے پر اٹلی کی آقائی کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آزادی کے بعد برطانوی و صومالی لینڈ نے مشترکہ جمہوریت قائم کر لی جبکہ فرانسیسی صومالیہ بدستور الگ حیثیت رکھتا ہے۔ صومالیہ کا اکثر علاقہ بنجر ہے، کچھ حصہ کاشت ہوتا ہے، کیلا زیادہ پیدا ہوتا ہے، مویشیوں اور کھالوں کی تجارت بھی ہوتی ہے، اور اب کچھ معدنی ذخائر اور تیل کا سراغ لگا ہے جو ابھی تحقیقی و تجزیہ کے مراحل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صومالیہ، مشرقی افریقہ کا افغانستان

جنوری ۱۹۹۴ء

مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو

ضلع گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مولانا حکیم نذیر احمدؒ 22 نومبر 1993ء کو واہنڈو میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر اَسی برس تھی اور زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے دین کی تعلیم و تبلیغ میں بسر کیا۔ مولانا حکیم نذیر احمدؒ کی ولادت 1913ء میں واہنڈو میں ہوئی، زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ دینی تعلیم انہوں نے ہنجانوالی نامی گاؤں میں مولانا حافظ عبد الغفور صاحب سے حاصل کی جو اس زمانہ میں علاقہ میں دینی تعلیم کا ایک بڑا مرکز شمار ہوتا تھا اور اس درسگاہ کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو

جنوری ۱۹۹۴ء

متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

جنوری ۱۹۹۴ء

تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت

تاشقند وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست ازبکستان کا دارالحکومت ہے اور ہماری کئی تاریخی اور قومی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ وسطی ایشیا کا یہ خطہ، جسے علمی حلقوں میں ماوراء النہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، صدیوں تک علومِ اسلامیہ بالخصوص فقہ حنفی کا مرکز رہا ہے اور اسے امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، صاحب ہدایہ امام برہان الدین مرغینائیؒ اور فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ جیسے اساطینِ علم وفضل کی علمی جولانگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر پاکستان کی قومی تاریخ میں بھی تاشقند کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت

اگست ۱۹۹۳ء

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے میرا تعلق مختلف نسبتوں اور حوالوں سے ہے اور میں خود کو ان خوش قسمت افراد میں سمجھتا ہوں جنہیں حضرت مرحوم سے مسلسل استفادہ کا موقع ملا۔ زندگی کے کسی مرحلہ میں موقف اور پالیسی کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو جانا ایک الگ امر ہے جو انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے، لیکن آج بھی اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو بحمد اللہ تعالیٰ زندگی کے کسی لمحہ میں کوئی ایسا واضح جھول محسوس نہیں ہوتا جو حضر ت مولانا ہزارویؒ کے ساتھ عقیدت ومحبت اور ان کی دیانت وللہیت پر اعتماد کے حوالے سے خدا نخواستہ پیدا ہو گیا ہو، الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

جون ۱۹۹۳ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔