چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

اب اگر وہی باتیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سر جان برٹ کی زبانوں پر بھی آرہی ہیں تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کا موقف کسی حد تک تو سنا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اصل کام ابھی باقی ہے کہ درج ذیل امور کے اہتمام کے لیے مسلمان حکومتیں منظم اور مربوط لائحہ عمل کی راہ ہموار کریں۔ کیونکہ مغرب اگر فی الواقع مسلمانوں کی ناراضگی کو محسوس کر رہا ہے اور اسے کم کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کا کم سے کم درجہ یہی ہو سکتا ہے، ورنہ اس کے علاوہ تو صرف زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

اس سارے عمل کا اصل مقصد توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ اگر کہیں اس جرم کا ارتکاب ہو تو کوئی شخص الٹا خود پھنس جانے کے خوف سے ایف آئی آر درج کرانے کی جرأت نہ کرے۔ اور اگر کوئی آدمی جرأت کر کے پیش قدمی کر ہی لے تو کمیٹیوں کے چکر میں معاملہ اس قدر الجھ جائے کہ مقدمہ کی باضابطہ کاروائی کی نوبت ہی نہ آئے۔ ورنہ ہمارے ہاں اس کے علاوہ دیگر بعض جرائم پر بھی موت کی سزا کا قانون نافذ ہے ااور ان قوانین کا بھی بسا اوقات غلط استعمال ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

۳ جون ۱۹۹۹ء

حضراتِ صحابہ کرامؓ اور ان کا اسوۂ حسنہ

یہ اجتماع حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کے فضائل و مناقب اور خدمات کے تذکرہ کے لیے منعقد ہوتا ہے اور آج بھی ہم اسی مقصد کے لیے جمع ہیں۔ صحابہ کرامؓ ہوں، اہل بیتؓ ہوں یا دیگر بزرگان دینؒ، ان کے تذکرہ اور یاد کے بہت سے فوائد و ثمرات ہیں۔ اس سے ہم اجر و ثواب حاصل کرتے ہیں، ان بزرگوں کے ساتھ اپنی نسبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے نقشِ پا سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں سب سے بڑا مقصد اور فائدہ یہی ہے کہ ہم ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضراتِ صحابہ کرامؓ اور ان کا اسوۂ حسنہ

جون ۱۹۹۹ء

صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی معروف خانقاہ احمدیہ سعیدیہ کے بزرگ اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر حضرت صاحبزادہ شمس الدینؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا شمار علاقہ کے سرکردہ دینی و سماجی راہنماؤں میں ہوتا تھا۔ گزشتہ ماہ وہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور سیکرٹری جنرل (راقم الحروف) کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دو روزہ دورہ کے موقع پر ہمارے ساتھ شریک رہے اور موسیٰ زئی شریف میں ہماری اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا مگر اس کے چند روز بعد وہ اس دارِ فانی سے رحلت کر گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

جون ۱۹۹۹ء

سنی شیعہ کشیدگی ۔ ظفر حسین نقوی صاحب کے خیالات

جناب ظفر حسین نقوی نے عنوان بالا پر میری گزارشات کے حوالہ سے ایک بار پھر قلم اٹھایا ہے اور میری درخواست کے برعکس پھر انہی مسائل کو زیربحث لانے کی کوشش کی ہے جن سے میں صرف اس لیے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ان مسائل پر ازسرنو بحث و مباحثہ کا دروازہ کھلنے سے کشیدگی بڑھے گی اور اس کا نقصان ہوگا۔ قارئین گواہ ہیں کہ میں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان مذہبی اختلافات اور پاکستان میں سنی شیعہ کشیدگی کا باعث بننے والے عوامل کو الگ الگ موضوعات قرار دیتے ہوئے ابتدا میں گزارش کی تھی کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی ۔ ظفر حسین نقوی صاحب کے خیالات

۲۶ مئی ۱۹۹۹ء

’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ان مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب سے ملے اور ان سے دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ’’شیخ صاحب! یہ بات یاد رکھیں کہ آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگرسی۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ نہ بنائیں اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ اور آج آپ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ سے یہ کہنے آئے ہیں کہ اسے نہ توڑیں مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ

۲۳ مئی ۱۹۹۹ء

بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

عکاظ کا میلہ کوئی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ اس کی حیثیت ایک کلچرل فیسٹیول کی ہوتی تھی جس میں ناچ گانا بھی ہوتا تھا، شراب نوشی بھی ہوتی تھی، دنگل بھی ہوتے تھے، شعر و خطابت کے مقابلے بھی ہوتے تھے، خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، اور عرب کی جاہلی معاشرت کا ہر اچھا اور برا پہلو اس میں نمایاں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کا ایک ذریعہ بھی ہوتا تھا۔ اس لیے حضورؐ وہاں تشریف لے گئے اور ان سب سرگرمیوں کے باوجود وہاں آئے ہوئے مختلف قبائل کے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

۱۸ مئی ۱۹۹۹ء

قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

قرآن کریم کے درس کے حوالہ سے قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ غلط فہمی آج کل عام ہو رہی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی ہے اور جو شخص عربی زبان پر، گرامر پر اور لٹریچر پر عبور رکھتا ہے وہ براہِ راست قرآن کریم کی جس آیت کا جو مفہوم سمجھ لے وہی درست ہے۔ یہ گمراہی ہے اور قرآن فہمی کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

۱۶ مئی ۱۹۹۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔