خاندان نبوتؐ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، ایک حضرت اسحاق علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ یوں حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں دو سلسلے چلے۔ حضرت اسحاقؑ کے بیٹے حضرت یعقوبؑ تھے جن کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا جو کہ عبرانی زبان میں ’’عبد اللہ‘‘ کو کہتے ہیں یعنی اللہ کا بندہ ۔ حضرت اسحاقؑ سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں تقریباً تین ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جبکہ حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے صرف ایک ہی پیغمبر ہوئے جو کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خاندان نبوتؐ

ستمبر ۱۹۹۵ء

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

جناب مرزا طاہر احمد صاحب ۔ سربراہ قادیانی جماعت۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن۔ السلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔ گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

ستمبر ۱۹۹۵ء

تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ ۔ مقاصد اور جدوجہد کے پس منظر میں

1975ء میں دیر میں جنگلات کی رائلٹی کے حوالہ سے ایک عوامی تحریک ابھری تو اس کے مطالبات میں عدالتی نظام کی تبدیلی کا پرجوش مطالبہ بھی شامل ہوگیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے والا عدالتی نظام واپس کیا جائے جس میں مقدمات کے فیصلے جلدی اور شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اس مطالبے کو اس حد تک تو منظور کر لیا کہ پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام مالاکنڈ ڈویژن میں معطل کر دیا مگر سابقہ عدالتی نظام بحال کرنے کی بجائے ایک نیا عدالتی نظام فاٹا ریگولیشن کے نام سے رائج کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ ۔ مقاصد اور جدوجہد کے پس منظر میں

۲۲ اگست ۱۹۹۵ء

سرد جنگ کے بعد کی صورتحال اور ورلڈ اسلامک فورم

افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں روسی استعمار کی پسپائی اور عالمی سرد جنگ کے نتیجہ میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد ملت اسلامیہ پوری دنیا میں ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوگئی ہے۔ مغرب نے امریکی استعمار کی قیادت میں کمیونزم کے بعد اسلام کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ان طبقوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے جو اسلام کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اور مسلم معاشرہ میں اسلامی اصولوں کی بالادستی اور حکمرانی کے لیے برسرپیکار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرد جنگ کے بعد کی صورتحال اور ورلڈ اسلامک فورم

اگست ۱۹۹۵ء

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ

روزنامہ جنگ لندن ۸ جولائی کی ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی اس سال کی رپورٹ میں بھی توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کو موضوع بحث بنایا ہے اور ان تمام قوانین کے ضمن میں درج مقدمات اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ

اگست ۱۹۹۵ء

پاکستان کے دینی حلقے اور مغربی ذرائع ابلاغ۔ ایک بی بی سی پروگرام کی تفصیل

مغربی ذرائع ابلاغ ان دنوں عالم اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ ملت اسلامیہ کے اہل علم و دانش کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بالخصوص پاکستان کے دینی حلقوں کو جس انداز میں عالمی رائے عامہ کے سامنے متعارف کرایا جا رہا ہے اس کا پوری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ہم قارئین کی خدمت میں معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ۲ کے نشر کردہ ایک پروگرام کا خاکہ پیش کر رہے ہیں جس میں مختلف مذہبی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے دینی حلقوں کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے دینی حلقے اور مغربی ذرائع ابلاغ۔ ایک بی بی سی پروگرام کی تفصیل

اگست ۱۹۹۵ء

حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

جولائی ۱۹۹۵ء

ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال

ہڑتال کی اس طرح کامیابی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب تو یہ تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی صورت میں پاکستان کے عوام کو اپنی اس پرانی اور دلی خواہش کی تکمیل کی جھلک نظر آرہی تھی کہ دینی مکاتب فکر کے قائدین متحد ہو کر قومی معاملات میں راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔ اور دوسری بڑی وجہ پاکستان کے قومی و دینی معاملات میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ملک کے عوام ازحد پریشان ہیں اور اس کے خلاف کسی مضبوط ردعمل کا اظہار چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال

جولائی ۱۹۹۵ء

مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

ملک کے دینی حلقوں میں یہ خبر بے حد رنج و الم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ معروف خطیب مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی کا عید الاضحیٰ کے روز ملتان میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحبؒ ملک کے مقبول خطباء اور واعظین میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک مذہبی اسٹیج پر ان کی خطابت کا طوطی بولتا رہا ہے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شیدائی تھے۔ آواز میں سوز و گداز تھا، وہ اپنے مخصوص انداز میں مصائب صحابہؓ اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے تو بڑے بڑے سنگدل لوگوں کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

جون ۱۹۹۵ء

تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات

علماء حق کی وہ جماعت جس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں دین اسلام کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کی مسلسل جدوجہد کی ہے اور اسلامی عقائد و نظریات اور مسلم معاشرہ کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے صبر آزما جنگ لڑی ہے، آج پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور عالمی سطح پر اسلام اور اسلامی معاشرت کے خلاف منظم اور ہمہ گیر انداز میں لڑی جانے والی ثقافتی جنگ علماء حق کی اس جماعت سے نئی صف بندی، ترجیحات اور حکمت عملی کا تقاضا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات

جون ۱۹۹۵ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔