جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات

رکن سازی کا کام شروع ہوئے چار ماہ کے قریب عرصہ ہو چکا ہے اور گزشتہ سالوں کی بہ نسبت اس دفعہ رکن سازی کی رفتار اور اس سلسلہ میں ہونے والا کام بہت بہتر ہے۔ البتہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کے روشن کردار، تحریک نظامِ مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثال قربانیوں اور سیاسی امور میں جمعیۃ علماء اسلام کے متوازن اور متحرک کردار کے باعث جمعیۃ کے سیاسی وقار اور مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر رکن سازی کے سلسلہ میں ہونے والا کام اور پیش رفت قطعاً غیر تسلی بخش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

ایرانی عوام کی جدوجہد / کشمیر کا مسئلہ

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم مکمل تحریر ایرانی عوام کی جدوجہد / کشمیر کا مسئلہ

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

برمی مسلمانوں کی حالت زار اور عالم اسلام کی ذمہ داری / پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برمی مسلمانوں کی حالت زار اور عالم اسلام کی ذمہ داری / پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

سیاسی جماعتوں کی تعداد ۔ حکومت اور قومی راہنماؤں کی توجہ کے لیے

اگر ہمارے ہاں سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ آزادانہ طور پر جاری رہتا تو تین چار عام انتخابات کے بعد ملک گیر سطح پر عوام سے منظم رابطہ رکھنے والی تین چار سیاسی جماعتیں خود بخود سامنے آجاتیں اور بے عمل و غیر منظم سیاسی گروپ عملی سیاست سے ’’ناک آؤٹ‘‘ ہو جاتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور چند عہدہ داروں، منشور، دستور، ایک آدھ دفتر اور سیاسی بیانات کی کاغذی دیواروں پر قائم ہونے والی بے شمار پارٹیاں ’’برساتی کھمبیوں‘‘ کی طرح نمودار ہوتی چلی گئیں جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی گروپوں میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی جماعتوں کی تعداد ۔ حکومت اور قومی راہنماؤں کی توجہ کے لیے

۷ اپریل ۱۹۷۸ء

اس فتنہ کا نوٹس لیجئے / اسرائیل کی تازہ جارحیت / اصلاحی کمیٹیاں

کچھ دنوں سے اخبارات میں ’’سحر‘‘ نامی ایک پندرہ روزہ کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں بعض قومی قائدین کی موت اور لاہور سمیت کچھ شہروں کی تباہی کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک ہم اسے مزاحیہ قسم کا کوئی جریدہ سمجھتے رہے ہیں جو اس قسم کی حرکات سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر آج ہی ایک بزرگ کے پاس ’’سحر‘‘ کا تازہ شمارہ دیکھ کر اس کا کچھ دیر مطالعہ کیا تو احساس ہوا کہ یہ کوئی مزاحیہ یا بلیک میلر قسم کا جریدہ نہیں بلکہ ایک مستقل فتنہ کی آبیاری کوشش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اس فتنہ کا نوٹس لیجئے / اسرائیل کی تازہ جارحیت / اصلاحی کمیٹیاں

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے ۱۳ مارچ ۱۹۷۸ء کو چار برس ہو جائیں گے لیکن ان کی جرأت و استقامت اور عزم و استقلال کے مظاہر ابھی تک نظروں کے سامنے ہیں او ریوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں متحرک ہیں اور سرگرم ہیں کہ جرأت و جسارت کا ہر واقعہ ان کی یاد کو دل میں تازہ کیے دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

صدر محمد داؤد کا کامیاب دورہ / نوائے وقت اور اسلامی جمہوریہ / گھر بیٹھے تنخواہ / موت ہی موت

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر محمد داؤد کا کامیاب دورہ / نوائے وقت اور اسلامی جمہوریہ / گھر بیٹھے تنخواہ / موت ہی موت

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم / متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، اور بعض ناعاقبت اندیش پولیس آفیسرز نے تحقیقات کو غلط رخ پر لے جا کر معاملہ کو گول کرنے کی جو مذموم کوشش کی تھی وہ بحمد اللہ ناکام ہوگئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم / متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔