دو گھنٹے افغان سفارت خانے میں

افغان سفیر نے کہا کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اس پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔ اس سے ان کی مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کے مختلف گروہوں اور طبقات کی نمائندگی حاصل ہو، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ خالص اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کی تنہا حکومت نہ رہے اور اس میں سیکولر اور کمیونسٹ عناصر کو بھی شریک اقتدار کیا جائے تاکہ طالبان اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے پروگرام پر عمل نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو گھنٹے افغان سفارت خانے میں

۲۵ اپریل ۱۹۹۸ء

میاں نواز شریف کی خدمت کمیٹیاں اور ہٹلر کی نازی پارٹی

یوں محسوس ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف حکومتی نظام اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں کو ’’پارٹی‘‘ کے ذریعے کنٹرول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور انہیں کسی ستم ظریف نے ’’نازی پارٹی‘‘ کے طریق کار پر کوئی کتاب پڑھا دی ہے یا کم از کم ایران کے ’’پاسداران انقلاب‘‘ کا تصور ان کے ذہن کے کسی گوشے میں ضرور موجود ہے۔ کیونکہ جس طرح انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا ہے اور تمام اہم آئینی اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کر لیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں نواز شریف کی خدمت کمیٹیاں اور ہٹلر کی نازی پارٹی

۲۳ اپریل ۱۹۹۸ء

مگر کونسا اسلام؟

آج اسلام دنیا کی ضرورت بن گیا ہے اور مروجہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سسٹم کی ناکامی کے بعد اب آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کیے بغیر نسل انسانی کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی اگر محفوظ حالت میں کسی مذہب کے پاس موجود ہیں تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ لیکن کنفیوژن اس بات نے پیدا کر رکھا ہے کہ کتابوں میں جو اسلام ملتا ہے اس کا موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں اور معاملات سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مگر کونسا اسلام؟

۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء

ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

برادر اسلامی ملک ترکی میں حکومت نے اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت مذہبی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے تعاون کو جرم قرار دینے کے علاوہ اسلامی شعائر و علامات کے اظہار کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ قانون فوج کے دباؤ کے تحت منظور کیا ہے جو خود کو سیکولرازم کی محافظ قرار دیتے ہوئے ہر اس رجحان کو کچل دینا چاہتی ہے جو کسی بھی درجے میں اسلامیت کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

۱۴ اپریل ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن ۔ کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

ان نوجوانوں نے ایک نیا مشن اپنے سینوں میں پال لیا کہ اپنے اپنے ملکوں میں کفر و استحصال کے نظاموں کے خاتمہ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے اسی جذبہ کے ساتھ کام کریں گے جس جذبے کے ساتھ افغانستان میں روسی استعمار کا مقابلہ کیا تھا۔ یہ صورتحال امریکہ کے نئے ’’عالمی سیٹ اپ‘‘ کے یکسر منافی اور مسلم ممالک کی مغرب پرست حکومتوں کے لیے قطعی غیر متوقع اور پریشان کن تھی۔ چنانچہ جو لوگ روسی افواج کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھا کر ’’مجاہدین‘‘ اور ’’حریت پسند‘‘ کہلاتے تھے انہیں ’’دہشت گرد‘‘ کا خطاب دے دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن ۔ کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

۱۱ اپریل ۱۹۹۸ء

بین الاقوامی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں، عالمی استعمار کے مورچے

بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز مختلف ممالک میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح کام کرتی ہیں، اس سے واقفیت دینی کام کرنے والی جماعتوں اور کارکنوں بالخصوص علمائے کرام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور اسی غرض سے چند منتخب مضامین زیرنظر شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جو موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ تو نہیں کرتے البتہ ان سے عالم اسلام میں کام کرنے والی این جی اوز کے بنیادی اہداف اور طریق کار کے اہم پہلوؤں کا ایک ہلکا سا خاکہ ضرور سامنے آجاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں، عالمی استعمار کے مورچے

اپریل ۱۹۹۸ء

بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور

روزنامہ نوائے وقت میں ’’اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے‘‘ کے عنوان سے اصغر علی گھرال کے مضمون کی تین قسطیں نظر سے گزریں جس میں انہوں نے پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات اور ان کے حوالہ سے عالمی سطح پر قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے خلاف شوروغوغا صرف تنگ نظر ملاؤں نے بپا کر رکھا ہے ورنہ عام مسلمانوں کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی عام آبادی قادیانیوں کے خلاف کسی قسم کی مہم میں شریک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور

اپریل ۱۹۹۸ء

سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

یہ امر واقعہ ہے کہ سوسائٹی کے ایسے غنڈہ عناصر کی اچھی خاصی تعداد نے، جن کا پیشہ ہی غنڈہ گردی ہے، ان دونوں کیمپوں کو پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کی چھتریوں تلے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں انہیں بدستور آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے علاوہ ذاتی انتقام اور خاندانی جھگڑوں کے لیے بھی اس ’’شیلٹر‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر فرقہ واریت کو ایک مہیب دیو کی شکل دے ڈالی ہے جسے قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

۳۰ مارچ ۱۹۹۸ء

صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ جب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ان کی داڑھی مسلسل موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور کسی نہ کسی حوالہ سے اس کا تذکرہ سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں تک نمازی ہونے کا تعلق ہے موجودہ ایوان صدر میں داخل ہونے والے سارے صدر نمازی رہے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ ، جناب غلام اسحاق خان، جناب وسیم سجاد، اور سردار فاروق احمد خان لغاری سکہ بند نمازی شمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

۲۵ مارچ ۱۹۹۸ء

خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

مذہبی امور کے وفاقی وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے گزشتہ روز اسلام آباد میں حمید نظامی مرحوم کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلچسپ باتیں کی ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کو ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ راجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام کیسے نافذ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے ’’خلیفہ راشد‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخ سے ’’عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا بھی ذکر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

۱۸ مارچ ۱۹۹۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔