نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

۹ نومبر ۱۹۸۴ء

نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!

ملک کی موجودہ صورتحال جو منظر پیش کر رہی ہے اور ہواؤں کا رخ مستقبل کے بارے میں جن خدشات و توقعات کی نشاندہی کر رہا ہے اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ علماء حق سستی اور تساہل کو خیرباد کہتے ہوئے آنکھیں کھولیں، گرد و پیش کا جائزہ لیں، آنے والے وقت کی ضروریات اور تقاضوں کا احساس کریں، اپنی توانائیوں، وسائل اور صلاحیتوں کو مجتمع کریں، نئی صف بندی میں اپنے مقام کا تعین کریں اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنی استعداد اور قوتوں کو منظم طریقہ کے ساتھ استعمال میں لائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!

۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء

مولانا فضل رازقؒ

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل رازقؒ

۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

۱۱ دسمبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب نہیں ہو سکا تھا اور مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور راقم الحروف کو رابطہ سیکرٹری منتخب کر کے باقی کام آئندہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ایک معمول کی کاروائی تھی جسے روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس نے ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کے جنگ میں شائع ہونے والی لاہور کی ڈائری میں تجسس اور سنسنی خیزی کا رنگ دے کر شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

۱۰ فروری ۱۹۸۴ء

جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

ماہِ رواں کی چار تاریخ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ جمعیۃ میں تفریق ایم آر ڈی میں شرکت کے سوال پر ہوئی ہے کیونکہ اسلامی نظام اور دینی مقاصد کی بالادستی کی شرط کے بغیر کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت ہماری روایات، دینی تشخص اور ولی اللہی مشن کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ بھی طویل علالت کے بعد چل بسے اور وہاں کا رختِ سفر باندھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ مفتی صاحبؒ کم و بیش دس برس سے فالج، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے اور علالت کے طویل دور سے گزرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کو جناح میموریل ہسپتال گوجرانوالہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

۳۱ دسمبر ۱۹۸۳ء

قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے

مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل اور کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں گفت و شنید اور اقدامات کا سلسلہ جاری تھا کہ ۱۶ نومبر کو کراچی میں مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالمؐ‘‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے قادیانی ہونے کے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا اور قادیانیت کے بارے میں اپنے جذبات و اعتقادات کا پہلی بار کھل کر اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے

۲ دسمبر ۱۹۸۳ء

اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد

سوال: کیا یہ درست ہے کہ اسلامک کلچر نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے کیونکہ مسلمان جہاں بھی گئے انہوں نے وہیں کا کلچر اپنا لیا؟ جواب: اس سلسلہ میں سب سے پہلے غور طلب امر یہ ہے کہ کلچر کہتے کس کو ہیں؟ عام طور پر کلچر کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلچر کسی قوم کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رچ بس جانے والی ان روایات اور اعمال سے عبارت ہوتا ہے جن سے اس قوم کا تشخص اور امتیاز دوسری اقوام سے ظاہر ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد

۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء

۱۹۷۳ء کے آئین کی عملداری اور جمہوری عمل کی بحالی

(کراچی کے ایک ہفت روزہ کا مولانا زاہد الراشدی سے انٹرویو)۔ مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیں اور مولانا مفتی محمود مرحوم کے دور سے ہی اس عہدہ پر فائز چلے آتے ہیں۔ آپ کا شمار مفتی صاحب مرحوم کے معتمد رفقاء میں ہوتا ہے اور پاکستان قومی اتحاد کی دستور کمیٹی، منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کرنے کے علاوہ پنجاب قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بھی رہے ہیں۔ مولانا راشدی کے والد محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر برصغیر کے چند سرکردہ علماء میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۹۷۳ء کے آئین کی عملداری اور جمہوری عمل کی بحالی

۴ نومبر ۱۹۸۳ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔