جنرل پرویز مشرف سے دینی جماعتوں کی توقعات

افغانستان میں جہادی ٹریننگ کے مراکز، طالبان کی اسلامی حکومت، پاکستان کے دینی مدارس اور دہشت گردی کی وارداتوں کے حوالے سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی پریس کانفرنسوں کے بعد ملک کے دینی حلقوں میں یہ خدشات بڑھتے جا رہے تھے کہ حکومت، طالبان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دینی مراکز و مدارس کے خلاف بھی کسی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں مجلس عمل علماء اسلام پاکستان نے ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ’’علماء کنونشن‘‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل پرویز مشرف سے دینی جماعتوں کی توقعات

۲۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء

یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

دہشت گردی کی موجودہ لہر کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد صورتحال کچھ کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی کارستانی ہے جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو تباہ کر کے جنوبی ایشیا کی معروضی صورتحال میں اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دہشت گردی میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، خود ہمارے شہرے گوجرانوالہ میں تحریک جعفریہ کے ڈویژنل صدر اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اعجاز حسین رسول نگری کا قتل ایک شریف شہری اور امن پسند راہنما کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

۱۶ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے ۱۸۷۶ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

خدیو مصر اور خدیو پنجاب

ہم میاں شہباز شریف سے با ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ جو کردار ادا کرنا چاہیں بڑے شوق سے کریں، انہیں ہر رول ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ میں ہر کردار کے لیے ایک مخصوص باب ہوتا ہے، اس کا مطالعہ بھی کر لیں۔ اور بطور خاص ’’خدیو مصر‘‘ اسماعیل پاشا کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔ خدیو مصر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو برطانیہ کی فوجیں مصر پر قابض ہوئی تھیں، لیکن خدیو پنجاب کے منصوبوں میں یہ کردار کس ملک کی فوج کے لیے تجویز کیا گیا ہے؟ میاں صاحب خود ہی وضاحت فرمادیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدیو مصر اور خدیو پنجاب

۱۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء

مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کے صحافتی کردار کا تسلسل

مولانا محمد علی جوہرؒ کا ’’کامریڈ‘‘ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کا ’’الہلال‘‘ ایک دور میں ہماری ملی امنگوں اور جذبات کی علامت ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں ملی حمیت کا جذبہ بیدار رکھنے اور انہیں عالمی استعمار کی سازشوں سے خبردار کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو داخلی محاذ پر درپیش فتنوں کی طرف رخ نہیں کیا اور اپنی تمام تر توجہ خارجی محاذ پر مرکوز رکھی۔ مگر مولانا ظفر علی خانؒ اور شورش کاشمیریؒ نے داخلی محاذ پر بھی بھرپور کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کے صحافتی کردار کا تسلسل

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

سلطان مرحوم کے بقول جب وہ کھانے کی دعوت پر برطانوی ماہرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بتا رہے تھے کہ برطانوی حکومت نے سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں میں آثار قدیمہ کی دریافت اور تاریخی نوادرات کی تلاش کے لیے اپنے خرچہ پر کھدائی کی پیشکش کی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے، تو محفل میں موجود روسی سفیر کے لبوں پر انہیں عجیب سی مسکراہٹ کھیلتی دکھائی دی۔ حالانکہ اس سے قبل روسی سفیر گہری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

۳۰ ستمبر ۱۹۹۹ء

چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

مسیحی حلقوں میں طلاق اور اس کے بعد شادی کا تصور ابھی تک مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھا جا رہا ہے جس کی اس دور میں سب سے بڑی مثال برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس ہیں۔ چونکہ ان کے اور لیڈی ڈیانا کے درمیان تفریق طلاق کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے دوبارہ شادی کا معاملہ شہزادہ موصوف کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے اور صحافتی حلقوں کی طرف سے اس تاثر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر شہزادہ چارلس نے دوسری شادی کی تو انہیں چرچ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ مخالفت ان کے تخت و تاج کے استحقاق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

سورۃ الفرقان کی آیت ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جناب نبی کریمؐ کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست کا ذکر فرمایا ہے کہ اس روز جبکہ ظالم و فاسق لوگ اپنی بداعمالیوں پر حسرت اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دانتوں میں چبائیں گے اور اپنی اس کوتاہی کا حسرت کے ساتھ تذکرہ کریں گے کہ اے کاش! ہم نے رسول اکرمؐ کی راہ اختیار کی ہوتی اور فلاں فلاں کے نقش قدم پر نہ چلے ہوتے۔ اس روز آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ’’اے میرے رب! میری اس قوم نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

۱۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کی یادداشتوں کا گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا، ان میں سے کچھ اہم امور کا دو تین کالموں میں تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ قارئین یہ جان سکیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں ہوا۔ یہ یادداشتیں سلطان عبد الحمید کی ذاتی ڈائری کے ان صفحات پر مشتمل ہیں جو خلافت سے معزولی کے بعد نظر بندی کے دوران انہوں نے قلمبند کیے۔ یہ پہلے ترکی زبان میں مختلف جرائد میں شائع ہو چکی ہیں اور عربی میں ان کا ترجمہ و ایڈیٹ کا کام عین شمس یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

۱۱ ستمبر ۱۹۹۹ء

سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات

ڈاکٹر محمد المسعری نے کہا کہ طالبان کو اپنا نظام باقاعدہ طور پر تشکیل دینا چاہیے، اس کا اعلان کرنا چاہیے اور اس کے لیے عالم اسلام کے دانشوروں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ طالبان نے اپنے داخلی نظام کی بنیاد فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری پر رکھی ہے مگر میرے خیال میں انہیں فتاویٰ عالمگیری کی بجائے اس کے مرتب کرنے والے حکمران سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے اس وقت کے منتخب اربابِ علم و دانش کو جمع کر کے اس دور کے تقاضوں کے مطابق فتاوٰی عالمگیری کے نام سے ایک نظام مرتب کرایا اور اسے نافذ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات

۳ و ۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔