جنیوا معاہدہ ‒ کویت پر ایران کا حملہ

وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنیوا معاہدہ پر اپنی حکومت کے موقف کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’جنیوا معاہدہ نہ تو بہترین ہے اور نہ ہی جامع۔ تاہم موجودہ حالات کے تحت اس سے بہتر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘ اسی موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر زین نورانی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت نئی افغان حکومت میں مجاہدین اور ان کے رفقاء کی بھرپور شرکت کو نہیں روک سکے گی۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنیوا معاہدہ ‒ کویت پر ایران کا حملہ

۲۹ اپریل ۱۹۸۸ء

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

مسلم ممالک اور سودی نظام

صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کراچی میں مؤتمر عالم اسلامی کی نویں بین الاقوامی جنرل اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے عالم اسلام کے مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا ہے اور اپنے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا بھی اظہار کیا ہے کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ جہاں اسلامی ممالک بھی قرضوں پر سود لیتے ہیں وہاں چین پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر کوئی سود نہیں لیتا۔‘‘ (روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک اور سودی نظام

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ہے جو وطن عزیز میں قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی و راہنمائی میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ جمعیۃ کا تعلق علماء حق کے اس عظیم گروہ سے ہے جس نے برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر برٹش استعمار کے تسلط کے بعد آزادی کی دو سو سالہ جنگ کی قیادت کی اور قربانی و ایثار کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتے ہوئے بالآخر برطانوی سامراج کو اس خطہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۴ مارچ ۱۹۸۸ء

اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں!

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے اس پر سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی فل بینچ نے گیارہ روز بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رٹ پٹیشن کے دوران بے نظیر بھٹو کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے راہنما جناب یحییٰ بختیار نے دیگر متعلقہ امور کے علاوہ نظریۂ پاکستان کے حوالہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اپنی پارٹی کا نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جو بلاشبہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں!

۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی ۔ حکومتِ پاکستان اپنی پوزیشن واضح کرے

جہاں تک سانحۂ مکہ کے بارے میں ایرانی حکومت کے موقف کی وضاحت کا تعلق ہے، ایرانی راہنماؤں کو اس کا پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اس حق کو استعمال کرنے کا جواز رکھتے ہیں۔ لیکن ’’جرم بخشا نہ جائے گا‘‘ کے انتقامی لہجے کے ساتھ ’’حج کی بھرپور تیاری‘‘ اور ’’جلوس نکالنے‘‘ کا الٹی میٹم کسی طرح بھی گزشتہ واقعات کی وضاحت نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ایک کھلی دھمکی ہے جو پاکستان کی سرزمین پر دی گئی ہے۔ پاکستان کے عوام اور دینی حلقے حرمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ایرانی عازمین کے سیاسی مظاہروں کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی ۔ حکومتِ پاکستان اپنی پوزیشن واضح کرے

۱۲ فروری ۱۹۸۸ء

بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس‘‘ ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہو رہی ہے اور مرکزی دفتر میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور آزاد قبائل میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے علمبردار پورے جوش و خروش کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ مینارِ پاکستان کا یہ گراؤنڈ وہی تاریخی میدان ہے جس میں ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے پر مشتمل ’’قراردادِ پاکستان‘‘ منظور کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

فروری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۹ و ۱۰

ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں ’اسلامی اتحاد کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں ایران عراق جنگ کے حوالہ سے عراق کو جارح قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کانفرنس کا افتتاح صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا جبکہ مبینہ طور پر اس اجتماع میں ایرانی حکومت کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے مگر دوسرے فریق عراق کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس پس منظر میں جارح قرار دینے کی قرارداد انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی اور جانبدارانہ ہی قرار پا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

فروری ۱۹۸۸ء

خان عبد الغفار خان مرحوم

خان عبد الغفار خان مرحوم کا شمار برصغیر کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ آزادی کی جرأت مندانہ قیادت کی اور عزم و استقلال کے ساتھ قربانیوں اور مصائب و آلام کے مراحل طے کر تے ہوئے قوم کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے لیے قید و بند کی مسلسل صعوبتیں برداشت کیں اور تخویف و تحریص کے ہر حربہ کو ناکام بناتے ہوئے برٹش استعمار کو بالآخر اس سرزمین سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الغفار خان مرحوم

۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔