مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان مخاصمت پیدا کرنے کی کوشش

گزشتہ ماہ چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم ختم نبوت پاکستان کے زیراہتمام سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت فرمائی۔ اس کانفرنس کے بارے میں لاہور کے ایک روزنامہ نے مندرجہ ذیل شرانگیز خبر شائع کی ہے: ’’یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے جلسہ کو جمعیۃ علماء اسلام مفتی محمود کے کارکنوں نے متعدد بار ناکام بنانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان مخاصمت پیدا کرنے کی کوشش

۳۰ جنوری ۱۹۷۶ء

جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات

جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ العالی نے جمعیۃ طلباء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں کیونکہ عمل و تربیت کے بغیر محض علم گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام علم کا مذہب ہے، قرآن کرم کی سب سے پہلی آیات کریمہ جو نازل ہوئی تھیں یہ تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات

۲۳ جنوری ۱۹۷۶ء

شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ (۱) کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ (۲) جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

تحریک پاکستان کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کا موقف آج کل پھر صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے جنہیں ’’نیشنلسٹ مسلمانوں‘‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اس لیے سرکردہ نیشنلسٹ مسلم لیڈروں کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر نیشنلسٹ مسلمانوں کا اصل موقف سامنے آسکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

۷ نومبر ۱۹۷۵ء

نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ نظامِ شریعت کنونشن گزشتہ شب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ کنونشن میں پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان اور آزادکشمیر سے کم و بیش دس ہزار مندوبین نے شرکت کی جن میں علماء کرام، وکلاء، طلباء اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ کنونشن کا اعلان ۲۸ و ۲۹ اپریل کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ملتان کے بعد کیا گیا تھا۔ مولانا مفتی محمود نے صوبائی حکومت سے بھی رابطہ قائم کیا مگر آخر وقت تک انتظامیہ نے شیرانوالہ باغ میں کنونشن کے انعقاد کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں مجلس استقبالیہ کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

۳۱ اکتوبر ۱۹۷۵ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹمارہاتھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جارہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطر ہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطر ہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

۲۴ اکتوبر ۱۹۷۵ء

نظامِ شریعت کنونشن کے سلسلہ میں چند اہم گزارشات

کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق آل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۵ء بروز ہفتہ و اتوار گوجرانوالہ میں ان شاء اللہ پروگرام کے مطابق منعقد ہو رہا ہے۔ تمام صوبوں اور اضلاع کی جمعیتوں کو کنونشن کی تفصیلات سے بذریعہ سرکلر آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ شریعت کنونشن کے سلسلہ میں چند اہم گزارشات

۳ اکتوبر ۱۹۷۵ء

اسلام پر رحم کیجئے

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’چچا سام‘‘ ایک بار پھر اسلام اور سوشلزم کے نام سے پاکستانی قوم کی باہمی کشتی دیکھنے کا خواہشمند ہے کیونکہ پچھلی بار جمعیۃ علماء اسلام کے ارباب بصیرت نے کباب میں ہڈی ڈال دی تھی اور ان کی بروقت مداخلت کی وجہ سے اسلام اور سوشلزم کا دنگل دیکھنے کی خواہش چچا سام پوری نہیں کر سکا تھا۔ وہ دن بھی عجیب تھے، ایک طرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مفاد پرستوں کا طبقہ ’’اسلام پسندی‘‘ کا لیبل لگا کر اپنے مفادات اور اغراض کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام پر رحم کیجئے

۲۶ ستمبر ۱۹۷۵

جمعیۃ راولپنڈی کا اجلاس / اکابر کی عیادت / دینی مدارس کے منتظمین سے

۸ جولائی کو دارالعلوم عثمانیہ ورکشاپی راولپنڈی میں راولپنڈی ڈویژن کے جماعتی امراء و نظماء اور کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوا، جمعیۃ کے صوبائی نائب امیر حضرت مولانا قاری عبد السمیع صاحب سرگودھوی نے اجلاس کی صدارت فرمائی اور اپنے زریں ارشادات سے شرکاء اجلاس کو محظوظ کیا۔ مولانا نے جماعتی احباب پر زور دیا کہ اپنی صفوں کو منظم کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کے حلقۂ اثر کو وسیع بنانے کے لیے پوری محنت اور تندہی کے ساتھ جدوجہد کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ راولپنڈی کا اجلاس / اکابر کی عیادت / دینی مدارس کے منتظمین سے

۱۸ جولائی ۱۹۷۵ء

نظامِ شریعت کنونشن کی تیاروں کا آغاز / لائل پور میں شعبہ نشر و اشاعت کا قیام

مرکزی مجلس شوریٰ جمعیۃ علماء اسلام نے ملتان کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ کل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہوگا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم کو مجلس استقبالیہ کا صدر منتخب کر کے باقی عہدہ داروں اور ارکان کا تعین گوجرانوالہ جمعیۃ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ چنانچہ کنونشن کی تیاریوں کے آغاز او رمجلس استقبالیہ کے باقاعدہ قیام کے سلسلہ میں ۳۰ جون کو مکی مسجد بخاری روڈ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ شریعت کنونشن کی تیاروں کا آغاز / لائل پور میں شعبہ نشر و اشاعت کا قیام

۱۱ جولائی ۱۹۷۵ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔