افغانستان میں پانچ دن

حرکۃ الجہاد الاسلامی پاکستان کی دعوت پر مجھے ملک کے سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۳۱ مئی سے ۴ جون تک پانچ روز افغانستان کی سرزمین پر گزارنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل بھی چودہ سالہ افغان جہاد کے دوران حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی دعوت اور پروگرام کے مطابق ارگون، باڑی، راغبیلی، ژاور اور خوست کے دیگر محاذوں پر کئی بار گیا ہوں لیکن جہاد افغانستان کی کامیابی اور مجاہدین کی باقاعدہ حکومت کے قیام کے بعد یہ میرا پہلا دورۂ افغانستان تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں پانچ دن

جون ۱۹۹۲ء

سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ اور ۱۹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے جو چیف جسٹس جناب جسٹس تنزیل الرحمان، جناب جسٹس فدا محمد خان اور جناب جسٹس میر ہزار خان پر مشتمل تھا، یہ فیصلہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے کنوینر جناب محمد اسماعیل قریشی اور دیگر تین شہریوں کی درخواست پر صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

قراردادِ مقاصد کی منظوری اور علماء کے ۲۲ دستوری نکات سامنے آنے کے بعد قوم کو یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب نفاذِ اسلام کی طرف عملی پیش رفت ہوگی لیکن خان لیاقت علی خانؒ کی شہادت اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی وفات کے بعد بات آگے نہ بڑھ سکی۔ مسلم لیگ اس کے بعد اقتدار کی کشمکش اور کرسیوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہوگئی اور جمعیۃ علماء اسلام نئی قیادت کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ ۱۹۵۷ء میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی مدظلہ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے آگے بڑھ کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی زمامِ کار کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو

سوال۔ ذکری فتنہ کیا ہے، اس کا آغاز کب ہوا اور اس کا بانی کون تھا؟ جواب۔ ذکری فتنہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا فتنہ ہے، تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل نور محمد اٹکی نامی ایک شخص نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ اس فتنہ کے پیروکار اسلام کے پانچوں بنیادی ارکان کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام اسلامی عبادات کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور نور محمد اٹکی کو نبی، مہدی وغیرہ مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنا خود ساختہ کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ‘‘ بنایا ہوا ہے، ان کے نزدیک نماز پڑھنا کفر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو

۱۵ مئی ۱۹۹۲ء

صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور قرآن و سنت کے احکام کے عملی نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور دستورِ پاکستان میں غیر اسلامی قوانین کے خاتمہ اور اسلامی احکام کی عملداری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن ملک کے معاشی ڈھانچے کو سود کی لعنت سے ابھی تک نجات نہیں دلائی جا سکی جسے قرآن و سنت میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے، جو ایک آئینی ادارہ ہے، ۱۹۸۰ء میں سودی نظام کے خاتمہ اور بلاسود بینکاری کے عملی ڈھانچہ پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

۲۰ مارچ ۱۹۹۲ء

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرہ میں ان کے دینی وقار و مقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں۔ تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

۱۵ جنوری ۱۹۹۲ء

ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم

ارشد میر ایڈووکیٹ پانچ اور چھ اکتوبر کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف بھی تھی لیکن ان کی وفات اتنی اچانک ہوئی کہ خبر سنتے ہی سناٹے کی سی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ۔ میر صاحب مرحوم میرے گنتی کے چند مخلص دوستوں میں سے تھے، تعلقانہ کی نوعیت دوستانہ سے بڑھ کر برادرا نہ تھی، وہ میرے پڑوسی بھی تھے اور مقتدی بھی، مجھ پر قائم ہونے والے بیشتر مقدمات میں وکیل صفائی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم

نومبر ۱۹۹۱ ء

افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

خلیج کا آتش فشاں

کویت پر عراق کے جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کی آمد سے یہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور خلیج میں پیدا ہو جانے والی خوفناک کشیدگی کے حوالہ سے دنیا پر تیسری عالمگیر جنگ کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلیج کا آتش فشاں

ستمبر ۱۹۹۰ء

امام اعظمؒ اور مرجئہ ‒ معرکہ ۱۸۵۷ء اور بہادر شاہ ظفر ‒ علماء دیوبند اور انگریزی

سوال: مرجئہ کون تھے؟ ان کے خاص خاص عقیدے کیا تھے؟ کیا یہ فرقہ اب بھی موجود ہے؟ امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرجئہ فرقہ میں سے تھے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ جواب: عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر رونما ہونے والے فرقوں میں سے ایک ’’مرجئہ‘‘ بھی تھا جس کے مختلف گروہوں کا ذکر امام محمد بن عبد الکریم الشہرستانیؒ المتوفی ۵۴۸ھ نے اپنی معروف تصنیف ’’الملل والنحل‘‘ میں کیا ہے اور ’’مرجئہ‘‘ کی وجہ تسمیہ ایک یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام اعظمؒ اور مرجئہ ‒ معرکہ ۱۸۵۷ء اور بہادر شاہ ظفر ‒ علماء دیوبند اور انگریزی

اگست ۱۹۹۰ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔