’’شریعت بل‘‘ میں مسلم لیگی ارکان کی پیش کردہ ترامیم

سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کی پہلی خواندگی مکمل ہو چکی ہے اور سینٹ کے آئندہ اجلاس کے موقع پر پرائیویٹ دن کی کارروائی میں اس کی دوسری خواندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس مرحلہ پر شریعت بل میں ترامیم کے دو نوٹس سینٹ کے سیکرٹریٹ کو دیے گئے ہیں۔ ایک نوٹس سینیٹر قاضی حسین احمد، سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور سینیٹر عبد الرحیم میردادخیل کی طرف سے جن کا تعلق متحدہ شریعت محاذ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ میں مسلم لیگی ارکان کی پیش کردہ ترامیم

۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

جونیجو فضل الرحمان ملاقات ۔ قومی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز

۱۷ مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تو اس موقع پر انہوں نے ایم آر ڈی کے راہنما مولانا فضل الرحمان سے بھی ان کی رہائش گاہ پر عبدل الخیل میں ملاقات کی جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس ملاقات کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا جس کا اعلان قومی اخبارات میں آچکا تھا اور متعدد وفاقی وزراء اس ملاقات کا انتظام کرنے کے لیے کافی دنوں سے متحرک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جونیجو فضل الرحمان ملاقات ۔ قومی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور عزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء

علامہ محمد اقبالؒ اور تجدد پسندی ۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب کے خیالات

روزنامہ نوائے وقت کی ۱۸ و ۱۹ نومبر کی اشاعت میں ’’جدید اسلامی ریاست میں تعبیرِ شریعت کا اختیار‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے اس عنوان پر بحث کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور تعبیر شریعت کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار کیا ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اس لحاظ سے قابلِ قدر ہے کہ اس کے ذریعے اس قومی بحث کو ایک واضح رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور تجدد پسندی ۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب کے خیالات

۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء

’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

سوال: سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل کے بارے میں اس وقت قومی حلقوں میں جو بحث جاری ہے اس کی روشنی میں شریعت بل کی افادیت اور ضرورت پر کیا آپ کچھ روشنی ڈالیں گے؟ جواب: جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے وہ تو واضح ہے کہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں دی جانے والی مسلسل قربانیوں کا مقصد محض چہروں اور ناموں کی تبدیلی نہیں تھا۔ بلکہ تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور تحریک نظامِ مصطفٰیؐ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک کا نظام تبدیل ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء

پرائیویٹ شریعت بل کو ترامیم کے بعد نئی شکل دےدی گئی

سینٹ میں زیر بحث پرائیویٹ شریعت بل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور مختلف مکاتب فکر کے اعتراضات کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے نئی شکل دے دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک مشترکہ کمیٹی نے شریعت بل کے متن پر نظر ثانی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرائیویٹ شریعت بل کو ترامیم کے بعد نئی شکل دےدی گئی

۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء

پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودہ!

شریعت بل کے سرکاری مسودہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں حسب سابق مروجہ قوانین کے مطابق ہی فیصلے کرتی رہیں گی البتہ اگر کسی قانون کے خلافِ شریعت ہونے کی شکایت ہوگی تو معاملہ وفاقی شرعی عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جبکہ غیر سرکاری مسودے میں یہ بات اس طرح ہے کہ عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں موجودہ قوانین کی بجائے شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودہ!

۱۰ اکتوبر ۱۹۸۶ء

’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔