نظریہ پاکستان کے محافظ ‒ جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار ‒ اشیاء صرف کی گرانی

صوبہ سرحد میں غیر جمہوری طور پر اقلیتی گروپ کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا تو یار لوگوں نے کہا کہ اب صوبہ میں نظریہ پاکستان کے علمبرداروں کی حکومت قائم ہوگئی ہے، ملک اور نظریہ پاکستان کو اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔ مگر نظریہ پاکستان کے ان علمبرداروں نے کرسی پر بیٹھتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں: قومی لباس کو سرکاری لباس قرار دینے کے بارہ میں مولانا مفتی محمود کے تاریخی فیصلہ کی تنسیخ، سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے اساتذہ مقرر کرنے کے فیصلہ کی واپسی، اور ہوٹلوں میں شراب کے پرمٹ جاری کرنے اور شراب کے بار کھولنے کے فیصلے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریہ پاکستان کے محافظ ‒ جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار ‒ اشیاء صرف کی گرانی

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ سیاسی مسائل اور عوام کے جائز تقاضوں کو جمہوری اور سیاسی بنیادوں پر طے کرنے کی بجائے تشدد کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ وہ بزعم خویش یہ سمجھتے رہے ہیں کہ اقتدار کی قوت اور کرسی کا دبدبہ آج کے جمہوری دور میں بھی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مگر ربع صدی کے تجربہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ تشدد کے ذریعہ سیاسی اور جمہوری مسائل کو حل کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں سب سے پہلے جس جمہوری، عوامی اور دینی تحریک کو تشدد کے ذریعہ دبایا گیا وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

مسئلہ ارتداد اور الحاج ممتاز احمد فاروقی کا موقف

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے ۲ فروری ۱۹۷۳ء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنی نشری تقریر اور انٹرویو میں مستقل آئین کے مسودہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ مسودہ آئین میں مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت دی گئی ہے، حالانکہ اسلام میں کسی بھی مسلمان کو اسلام چھوڑنے کا حق نہیں ہے اور مرتد کی شرعی سزا قتل ہے۔ اس پر محترم الحاج ممتاز احمد فاروقی نے نوائے وقت (۱۳ فروری) میں مطبوعہ ایک مضمون میں مفتی صاحب کے اس موقف پر اعتراض کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ارتداد اور الحاج ممتاز احمد فاروقی کا موقف

یکم مارچ ۱۹۷۳ء

واپڈا میں غبن ‒ چینی کا بحران ‒ صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری‒ مفرور ملزموں کی گرفتاری

صوبائی وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واپڈا کے ریکارڈ میں ستائیس کروڑ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، یہ رقم قومی کاموں پر لگانے کی بجائے خردبرد کر لی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ انکشاف کوئی نیا نہیں، اس سے قبل بھی واپڈا اور دیگر قومی اداروں میں اس قسم کے غبن ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہر بار بڑے شدومد کے ساتھ تحقیقات کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر واپڈا میں غبن ‒ چینی کا بحران ‒ صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری‒ مفرور ملزموں کی گرفتاری

۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

علماء آزاد کشمیر اور عملی سیاست

جمعیۃ علماء آزاد کشمیر کی طرف سے شائع شدہ ایک اشتہار کے مطابق ۵ و ۶ اگست ۱۹۷۱ء کو راولاکوٹ آزاد کشمیر میں کشمیری علماء کا ایک نمائندہ کنونشن منعقد ہوگا جس میں جمعیۃ علماء آزاد کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی۔ علماء کشمیر کا یہ اقدام بروقت، مستحسن اور ناگزیر ہے۔ اور ہم اس موقع پر علماء کرام کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے چند ضروری گزارشات پیش خدمت کر رہے ہیں جو ہمارے نقطۂ نظر سے کنونشن میں شرکت کرنے والے علماء کرام کے پیش نظر رہنی ضروری ہیں۔ امید ہے کہ علماء آزاد کشمیر ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء آزاد کشمیر اور عملی سیاست

۶ جولائی ۱۹۷۱ء

پنجاب میں زمینوں کی تقسیم

پنجاب میں سرکاری زمینوں کی تقسیم کا کام شروع ہو گیا ہے اور ہر جگہ پر اس سلسلہ میں کمیٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں جو اس سلسلہ میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی اور اراضی کی تقسیم کی نگرانی کریں گی۔ ہر کمیٹی دس افراد پر مشتمل ہے جس میں زمینداروں، کاشتکاروں، ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کو نمائندگی دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پنجاب میں زمینوں کی تقسیم

۲۵ جون ۱۹۷۱ء

طلبہ کو حلیے درست کرنے کی ہدایت ‒ مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام ‒ خفیہ شراب خانے

ایک اخباری اطلاع کے مطابق گورنر پنجاب کی ہدایت پر صوبائی محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں میں ہیپی فیشن بال رکھنے اور نامناسب لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے والے طلباء کو جرمانوں کی سزا دی جائے گی۔ بدقسمتی سے مغرب کی تقلید کا رجحان ہم پر اس قدر جم چکا ہے کہ وہاں کسی کونے میں کوئی نئی بات شروع ہو، خواہ اس سے انسانی اقدار و روایات ہی کیوں نہ پامال ہوتی ہوں، ہمارا معاشرہ اسے قبول کرنے میں حد سے زیادہ فراخدلی سے کام لیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلبہ کو حلیے درست کرنے کی ہدایت ‒ مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام ‒ خفیہ شراب خانے

۲۵ جون ۱۹۷۱ء

مزارعین سے انتقام ‒ سامان تعیش ‒ غیر منصفانہ نظام ‒ پولیس تشدد ‒ اساتذہ کی آسامیاں

حالیہ انتخابات میں ناکامی کے بعد بڑے بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں نے مزارعین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وسیع سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس ظلم و ستم کو روکنے کے لیے پنجاب کی حکومت نے اور غالباً سندھ کی حکومت نے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن صوبہ سرحد میں غریب مزارعین کو ظالم خوانین کے پنجہ سے نجات دلانے اور ان شکست خوردہ خوانین کے انتقام سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جن کا سلسلہ ظلم و ستم اور جابرانہ تسلط بہت سخت اور ناقابل برداشت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مزارعین سے انتقام ‒ سامان تعیش ‒ غیر منصفانہ نظام ‒ پولیس تشدد ‒ اساتذہ کی آسامیاں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں عوام دوست اور دیندار شخصیت سردار محمد عبد القیوم خان کی کامیابی سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی اور اب ان کی اسلامی اصلاحات بہتر مستقبل کی طرف غمازی کر رہی ہیں۔ لیکن دینی حلقوں کی مسرت کے ساتھ ہی ساتھ دین دشمن عناصر نے بھی آزادکشمیر کے نیک دل صدر کے اقدامات کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بزعم خویش انتہائی کامیابی سے سازشوں کے جال بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

اساتذہ کی حق تلفی ‒ سکولوں کی عمارتیں ‒ ناقص چاول ‒ نبوت کا دعویدار ‒ قمار بازی

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کی ضلع میانوالی شاخ نے ایک قرارداد میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں جن محکموں کے ملازمین کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے ان میں سب کو ان کی ڈیوٹیوں کے معاوضے وصول ہو چکے ہیں لیکن اساتذہ ابھی تک اس حق سے محروم ہیں۔ یہ بات انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے، اساتذہ کو ان کی تدریسی خدمات کے پہلے ہی کون سے لمبے چوڑے معاوضے ملتے ہیں جو ان کی اضافی ڈیوٹیز کے معاوضوں کو بھی روک لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اساتذہ کی حق تلفی ‒ سکولوں کی عمارتیں ‒ ناقص چاول ‒ نبوت کا دعویدار ‒ قمار بازی

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔