متحدہ جمہوری محاذ کی دو سالہ جدوجہد

متحدہ جمہوری محاذ کے باعزم رہنما ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں کہ اس دور میں بھی جمہوری اقدار کی سربلندی اور ملکی سالمیت کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ حکمران پارٹی اپنے اقتدار کو مضبوط اور شخصی آمریت کو مستحکم کرنے کی خاطر تمام سیاسی، اخلاقی اور جمہوری حدود و قیود کو خیرباد کہہ چکی ہے۔ محب وطن سیاسی رہنماؤں کے خلاف سرکاری ذرائع ابلاغ کا مکروہ پراپیگنڈا اور پولیس و فیڈرل فورس کے وحشیانہ مظالم ہٹلر اور مسولینی کی روح کو بھی شرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کی دو سالہ جدوجہد

۶ جون ۱۹۷۵ء

ظلم کے خلاف جنگ اور ہمارے اسلاف کا مثالی کردار

دوسرا بڑا مقصد جس کے لیے ہمارے اکابر و اسلاف نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ظلم و کفر کے خلاف جنگ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے لے کر حضرت قطب الاقطاب مولانا احمد علی قدس سرہ العزیز تک اکابر کے پورے سلسلہ کی ایک کڑی بھی ایسی نہیں جو ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کے اثرات سے خالی ہو۔ اور اسلامی تاریخ کے وسیع دور میں ایک لمحہ کا بھی ایسا وقت موجود نہیں ہے جب ہمارے اسلاف میں سے کسی نہ کسی نے ظلم و جبر کے خلاف کلمۂ حق نہ بلند کیا ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جیل میں زہر کا پیالہ پی کر جام شہادت نوش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ظلم کے خلاف جنگ اور ہمارے اسلاف کا مثالی کردار

۳۰ مئی ۱۹۷۵ء

شعبہ نشریات اور انصار الاسلام ۔ چند اہم فیصلے

۱۵ مئی کو مرکزی دفتر جمعیۃ علماء اسلام لاہور میں مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد شریف صاحب وٹو، سالارِ اعظم انصار الاسلام حاجی کرامت اللہ صاحب، سالارِ اعلیٰ انصار الاسلام پنجاب خواجہ عبد الرؤف صاحب، ناظم نشر و اشاعت راقم الحروف، ناظم جمعیۃ علماء اسلام ملتان شیخ محمد یعقوب اور سالار انصار الاسلام ضلع گوجرانوالہ مولانا گل محمد توحیدی نے ایک غیر رسمی مشاورت میں اہم تنظیمی امور پر غور و خوض کے بعد تنظیمی تعطل کو دور کرنے کے لیے چند تجاویز مرتب کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شعبہ نشریات اور انصار الاسلام ۔ چند اہم فیصلے

۲۳ مئی ۱۹۷۵ء

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے

حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ، حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ، حضرت مولانا خان محمد مدظلہ آف کندیاں شریف اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ گیلانی پر مشتمل وفد بہت جلد مندرجہ ذیل شہروں کا دورہ کر کے کارکنوں کے علاقائی اجتماعات سے خطاب کرے گا۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، رحیم یار خان، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، لائل پور، سرگودھا، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، جھنگ، سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے

۹ مئی ۱۹۷۵ء

سردار عبد القیوم خان کی صدارت سے برطرفی

آزاد کشمیر میں بالآخر وہ سب کچھ ہوگیا جس کی مدت سے توقع کی جا رہی تھی۔ سردار عبد القیوم کی برطرفی آزاد کشمیر کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کے لیے غیر متوقع نہیں تھی۔ سردار صاحب نے اگرچہ موجودہ حکومت کے ساتھ مفاہمت و معاونت کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی جو کشمیر کی مخصوص صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے ناگزیر بھی تھی لیکن اس کے باوجود سردار صاحب کے ساتھ پی پی پی کا نباہ مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اس لیے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا ’’انا ولا غیری‘‘ کا عملی منشور اور سردار صاحب کا دینی مزاج اور حریت پسندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سردار عبد القیوم خان کی صدارت سے برطرفی

۲ مئی ۱۹۷۵ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی خوش قسمت ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کے باعث انہیں عرب ممالک میں اس مشن کی خدمت اور حرمین شریفین کی بار بار زیارت کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس ضمن میں ان کی خدمات وقیع ہیں۔ جن دنوں پاکستان میں تحریک ختم نبوت جاری تھی مولانا موصوف سعودی عرب میں تھے اور تحریک کے عالمی سفیر کے طور پر اس محاذ پر کام کر رہے تھے جس کی اجمالی رپورٹ قارئین ترجمان اسلام میں پڑھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

۲۵ اپریل ۱۹۷۵ء

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دورۂ گوجرانوالہ

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو ’’رابطہ عوام‘‘ مہم کے اختتام پر لاہور ڈویژن کے دورہ پر تشریف لائے تو گوجرانوالہ کی سرزمین کو درود مسعود کے شرف سے نوازا۔ وزیراعظم کی تشریف آوری سے ہفتہ عشرہ قبل ہی انتظامیہ کی نقل و حرکت کسی آندھی اور طوفان کی آمد کا پتہ دے رہی تھی۔ ضلع کی اہم شاہراہوں پر پولیس آفیسر بسوں کے کاغذات وصول کر کے انہیں وزیراعظم کی آمد پر دیہات سے عوام کو ڈھونڈنے کا فریضہ سونپ رہے تھے۔ انتظامیہ، عدلیہ اور پولیس آفیسر شب و روز جلسہ عام کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دورۂ گوجرانوالہ

۱۸ اپریل ۱۹۷۵ء

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو اخبارات میں ڈاکٹر ہنری کسنجر وزیرخارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کا امن مشن اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ صدر انور سادات کا یہ نعرۂ حق بھی منظرِ عام پر آیا کہ اسرائیل نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو جہاد شروع کیا جائے گا، اور عرب وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ خبریں اس امر کا احساس دلانے کو کافی تھیں کہ مشرق میں ’’کچھ‘‘ ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۱۱ اپریل ۱۹۷۵ء

جمعیۃ علماء اسلام اور امام ولی اللہ کا انقلابی اسلامی پروگرام

تحریک آزادیٔ ہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں ایک عرصہ تک صرف داخلی خودمختاری اور آئینی مراعات کے مطالبات پر اکتفا کیے ہوئے تھیں لیکن بہت جلد ان کو جمعیۃ علماء ہند کی طرح مکمل آزادی کے اسٹیج پر آنا پڑا ۔۔۔ اور پھر جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اگرچہ ولی اللہی پارٹی کے سرکردہ ارکان قیام پاکستان کے مخالف تھے اور جمعیۃ علماء ہند نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی تھی، لیکن اس فیصلہ سے اختلاف کر کے تحریک پاکستان کے کیمپ میں شامل ہونے والے عظیم راہنما علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی ولی اللہی گروہ سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام اور امام ولی اللہ کا انقلابی اسلامی پروگرام

۲۸ فروری ۱۹۷۵ء

دینی مدارس کا جرم؟

لاہور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حکومت نے تمام دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کے مطابق اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب صرف یہ بات فیصلہ طلب ہے کہ قومی تحویل میں لینے کے بعد دینی مدارس کا نظام وفاقی حکومت چلائے گی یا صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب کے اڑھائی سو مدرسے قومیائے جائیں گے اور مدارس کو اول دوم اور سوم تین مدارج میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا جرم؟

۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔