کراچی کا فساد ‒ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ‒ پاور لومز کی صنعت

جناب رسالتمآبؐ کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کا فساد ‒ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ‒ پاور لومز کی صنعت

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

حنیف رامے صاحب کی نئی تجویز

مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر جناب محمد حنیف رامے نے بزعم خویش ملک کے مسائل کا یہ حل پیش کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر غیر جماعتی پارلیمانی نظام رائج کیا جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تجویز پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا واقعاتی پس منظر کیا ہے، ہم جناب رامے صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ جناب اس ملک میں طویل نظریاتی و عملی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آپ معاشرہ سے ان جماعتوں کو کس طرح بے دخل کر سکیں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حنیف رامے صاحب کی نئی تجویز

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

جمعیۃ علماء اسلام حق پرست علماء اور دین دار کارکنوں کی ایسی تنظیم ہے جس کی فکری بنیاد علماء کے شاندار ماضی اور اہل حق کے مجاہدانہ کردار پر ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام اپنی موجودہ ہیئت و حیثیت میں دراصل اسی قافلۂ حق و صداقت اور کاروانِ عزمِ وفا کا ایک حصہ ہے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں فرنگی حکومت و نظام کے خلاف جرأت مندانہ جنگ لڑی، اور اب فرنگی حکومت سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد فرنگی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ و رائج کرنے کی مقدس جدوجہد میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

۳ فروری ۱۹۷۸ء

ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ ‒ قبائلی علاقوں سے انصاف

کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان میں مزدوروں پر پولیس کی وحشیانہ فائرنگ کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور یہ سطور شائع ہونے تک اس کے نتائج سامنے آچکے ہوں گے۔ اس وقت تک جو تفصیلات مختلف اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق واقعہ کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ یہ پہلو انتہائی سنگین اور توجہ طلب ہے کہ پولیس نے یہ فائرنگ کسی باضابطہ آرڈر کے بغیر کی ہے جس کے نتیجہ میں کم از کم چودہ مزدور شہید ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ ‒ قبائلی علاقوں سے انصاف

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

خان عبد الولی خان اور پنجاب

ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الولی خان اور پنجاب

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

دکانداروں کا قصور؟ ‒ بدحواسی یا کچھ اور؟

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دکانداروں کا قصور؟ ‒ بدحواسی یا کچھ اور؟

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ‒ افسر شاہی کے کرشمے ‒ اخباری کاغذ کا بحران ‒ پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ‒ افسر شاہی کے کرشمے ‒ اخباری کاغذ کا بحران ‒ پیپلز پارٹی کی مہم

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔