حدیثِ نبویؐ

بخاری شریف بطور نظام حیات

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ اگست ۲۰۱۵ء

امام بخاریؒ کا ذوق اور ان کی عظمت

امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذھلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشا پور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذھلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔

نا معلوم

حفظ حدیث کا ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔

۱ مئی ۲۰۱۵ء

حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

جب ہم حدیث پڑھا رہے ہوں تو جس طرح ایک عام اجتماع میں حدیث بیان کرتے ہوئے پبلک کی ذہنی نفسیات، ذہنی سطح اور اس کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے سامنے جو کلاس بیٹھی ہے اس کی ذہنی سطح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کون سی بات ان کے ذہن میں جائے گی اور کون سی نہیں جائے گی۔ کیونکہ آج ہمارے سامنے جو طلبہ حدیث پڑھنے بیٹھتے ہیں ان کا لیول آج سے پچاس سال پہلے والا نہیں ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کی اکثر یت مطالعہ کرکے آتی تھی ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۹ء

حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

چند سالوں سے معمول ہے کہ جناب نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک سال بخاری شریف کی ’’ثلاثیات‘‘ پر بات ہوئی، ایک سال مسلم شریف کے ’’باب الفتن‘‘ کے بارے میں گفتگو ہوئی، اور ایک سال ابن ماجہ کی’’ کتاب السنن‘‘ پر خطاب کا موقع ملا۔ اس سال بھی احادیث مبارکہ ہی کے ایک پہلو ’’احادیث قُدسیہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے جو کہ احادیث کریمہ میں ایک مستقل شعبہ ہے۔ اہل علم کے ہاں حدیث اور سنت میں تھوڑا سا تکنیکی فرق ہے لیکن عام لوگوں کے ہاں یہ دونوں لفظ ایک ہی معنٰی میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰۰۸ غالباً‌

نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

خطبۂ حجۃ الوداع جسے کہتے ہیں، یہ حضورؐ کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ حضورؐ نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐ نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۷ء

خدمت حدیث کے چند پہلو

پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۵ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

آج اسلام کے بارے میں مغرب کے ذرائع ابلاغ مسلسل یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے، جبکہ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس دور میں علمی و تحقیقی کام کرنے والی خواتین کی تعداد ہزاروں میں تھی جب خود مغرب نے ابھی عورتوں کی تعلیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلم خواتین کی علمی خدمات کو سامنے لایا جائے اور مولانا محمد اکرم ندوی اس حوالہ سے اس وقیع اور اہم علمی خدمت پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء