حدیثِ نبویؐ

بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

پہلی بات یہ کہ آج کے عالمی حالات اور فکری مباحث کے تناظر میں حدیث نبویؐ کی حجیت و مقام اور اہمیت و ضرورت کے علاوہ اس کا وہ تعارفی پہلو بھی بطور خاص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام دین کی کسی بھی بات تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں حتٰی کہ قرآن کریم تک رسائی بھی حدیث کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً نزول کے حوالہ سے قرآن کریم کی پہلی پانچ آیات سورۃ العلق کی ہیں جو ہمیں غار حرا کے واقعہ سے ملی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ فروری ۲۰۲۰ء

’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہوں۔ پھر پوچھا کہ دینی تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟ جواب دیا کہ ایک مکتب میں ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ علمِ حدیث کی کوئی کتاب اردو میں مطالعہ کی ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بیٹا خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۸ء

بخاری شریف کو ایک نظام حیات کے طور پر بھی پڑھیں

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۵ء

امام بخاریؒ کی علمی دیانت

امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذہلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشاپور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذہلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۵ء

حفظ حدیث کا قابل رشک ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱ مئی ۲۰۱۵ء

حدیث کا دین میں مقام و مرتبہ

ہم دینی علوم میں سے کوئی علم بھی حاصل کرنا چاہیں تو اس کےلیے ہمارے پاس سب سے بڑا ذریعہ حدیث نبویؐ ہے، حتیٰ کہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی حدیث نبویؐ ہے۔ اس کی ایک مثال عرض کرنا چاہوں گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات ہیں جو ’’اقراء‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بات معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پہلی پانچ آیات ہیں جن سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا تھا، ہمارے پاس ذریعہ صرف غار حرا کا واقعہ ہے جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۱۴ء

حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تمام علوم دینیہ کا سرچشمہ حدیث نبویؐ ہے

دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ اسلامی علوم مقصودہ ہیں جنہیں ’’علوم عالیہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ باقی علوم و فنون مثلاً صرف و نحو، لغت، ادب، معانی اور منطق وغیرہ ان علوم تک رسائی کا ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے علوم عالیہ کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس لیے یہ ’’علوم آلیہ‘‘ کہلاتے ہیں۔ علومِ عالیہ تو وحی اور اس سے استنباط کی بنیاد پر ہر دور میں یکساں رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے، لیکن علومِ آلیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زمانے اور حالات کے مطابق ردوبدل ہوتا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۱۲ء

’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

جدہ میں مقیم پاکستانی علماء کرام اور قراء کرام نے کچھ عرصہ سے باہمی مشاور ت کا ہلکا پھلکا سا نظم قائم کر رکھا ہے، وقتاً فوقتاً جمع ہوتے ہیں، دینی اور مسلکی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مشورہ کے ساتھ اپنی حکمت عملی اور پروگرام طے کرتے ہیں۔ میں نے حاضری کی دعوت قبول کر لی اور علماء کرام، قراء کرام اور احباب کے ساتھ اجتماعی ملاقات میں شمولیت کا موقع مل گیا۔ اجلاس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے دعوتی نصاب ’’فضائل اعمال‘‘ پر مختلف حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بھی زیر بحث آئے اور ان کے جواب کی حکمت عملی پر غور ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۱۲ء

’’قرآنِ کریم خاموش ہے‘‘ کی منطق

توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اصحابِ فکر و دانش اپنے اپنے انداز میں اس پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک سوال عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ کیا اس سزا کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے؟ اور سوال کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر قرآنِ کریم میں یہ سزا مذکور نہیں ہے تو اس پر اس قدر زور دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہت سے علماء کرام اس کے جواب میں قرآنِ کریم کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن سے اس پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۰ء

بخاری شریف کے امتیازات ۔ حدیث شریف کی طالبات سے ایک خطاب

سب سے پہلے ان طالبات کو جو آج دورۂ حدیث شریف اور بخاری شریف کے سبق کا آغاز کر رہی ہیں اس تعلیمی پیشرفت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں علم حدیث کا ذوق عطا فرمائیں، فہم نصیب کریں، عمل کی توفیق اور خدمت کے مواقع سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ آپ نے اس سے قبل حدیث نبویؐ کی بعض کتابیں پڑھی ہیں اور اس سال بھی بخاری شریف کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں آپ پڑھیں گی لیکن میں آپ کو بخاری شریف کی اہمیت اور اس کی چند خصوصیات و امتیازات کی طرف توجہ دلانا چاہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اکتوبر ۲۰۰۹ء

اربعین ولی اللّٰہی کا درس

دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

بخاری شریف اور اہل سنت کے علمی مسلّمات

امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف کا آغاز اس روایت سے کیا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے، اور آخری حدیث یہ لائے ہیں کہ قیامت کے دن اقول و اعمال کا وزن ہوگا۔ اس سے امام بخاریؒ یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ کسی بھی عمل کا ابتدائی مرحلہ اس کی نیت اور ارادہ ہوتا ہے مگر اس کی آخری منزل قیامت کے دن وزنِ اعمال ہے۔ درمیان میں بہت سے مراحل آتے ہیں، اگر ایک مسلمان کا عمل نیت کے اعتبار سے صحیح ہے اور وزنِ اعمال کے مرحلہ تک محفوظ رہا تو وہ اس کے کام آئے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ تا ۱۰ ستمبر ۲۰۰۸ء

ترکی: احادیث نبویؐ کی تعبیر و تشریح کا سرکاری منصوبہ

روزنامہ پاکستان میں ۲۸ فروری ۲۰۰۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برادر مسلم ملک ترکی کی وزارتِ مذہبی امور نے انقرہ یونیورسٹی میں علماء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ازسرنو جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ترکی حکومت کے خیال میں بہت سی احادیث متنازعہ ہیں اور ان سے معاشرے پر منفی اثر پڑ رہا ہے، ان احادیث سے اسلام کی اصل اقدار بھی دھندلا گئی ہیں اس لیے ان کی ازسرنو تشریح کرانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۸ء

جناب رسول کریمؐ کی دس نصیحتیں

ایک دینی محفل میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دس نصائح کا قدرے تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہوا جو آپؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو فرمائی تھیں۔ محفل میں شریک ایک دوست نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان نصائح اور ان کے حوالہ سے کی گئی گزارشات کو ضبط تحریر میں بھی آنا چاہیے۔ چنانچہ اسی خیال سے انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے اور صاحب مشکٰوۃ نے بھی اسے نقل کیا ہے کہ حضرت معاذؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے مجھے دس باتوں کی بطور خاص نصیحت فرمائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نامعلوم

خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔ مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت

بھیرہ کی جامع مسجد اور بگوی خاندان ہماری علمی و دینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دہلی کی ولی اللہی درسگاہ سے لے کر بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت اور بھیرہ میں حزب الانصار کی تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں تک ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ ایک یا دو مضمون نہیں کر سکتے۔ اس دینی مرکز اور علمی خاندان کی سب سے اہم خصوصیت وہ توازن اور اعتدال ہے جو اہل سنت اور حنفی مکتب کے دو بڑے گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان اختلافات کی شدت کے دور میں بھی دونوں کے سرکردہ حضرات کو یکجا کرنے کے اہتمام سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۱۹۹۹ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

مولانا محمد اکرم ندوی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عالم دین ہیں جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ایک عرصہ سے علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اچانک اور عجیب انداز میں ہوئی۔ پانچ سال قبل کی بات ہے جب راقم الحروف نے لندن جانے کے لیے تاشقند کا راستہ اختیار کیا، ازبک ائیرلائن سفر کا ذریعہ تھی، تاشقند میں چار پانچ روز گزارنے کے بعد جب تاشقند کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن کے لیے روانہ ہوا تو ایئرپورٹ پر اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء