حدیثِ نبویؐ

’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہوں۔ پھر پوچھا کہ دینی تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟ جواب دیا کہ ایک مکتب میں ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ علمِ حدیث کی کوئی کتاب اردو میں مطالعہ کی ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بیٹا خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

۱۵ فروری ۲۰۱۸ء

بخاری شریف بطور نظام حیات

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بخاری شریف بطور نظام حیات

۲۵ اگست ۲۰۱۵ء

امام بخاریؒ کا ذوق اور ان کی عظمت

امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذھلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشا پور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذھلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام بخاریؒ کا ذوق اور ان کی عظمت

نا معلوم

حفظ حدیث کا ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفظ حدیث کا ذوق

۱ مئی ۲۰۱۵ء

حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

۱۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

جدہ میں مقیم پاکستانی علماء کرام اور قراء کرام نے کچھ عرصہ سے باہمی مشاور ت کا ہلکا پھلکا سا نظم قائم کر رکھا ہے، وقتاً فوقتاً جمع ہوتے ہیں، دینی اور مسلکی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مشورہ کے ساتھ اپنی حکمت عملی اور پروگرام طے کرتے ہیں۔ میں نے حاضری کی دعوت قبول کر لی اور علماء کرام، قراء کرام اور احباب کے ساتھ اجتماعی ملاقات میں شمولیت کا موقع مل گیا۔ اجلاس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے دعوتی نصاب ’’فضائل اعمال‘‘ پر مختلف حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بھی زیر بحث آئے اور ان کے جواب کی حکمت عملی پر غور ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

۲۴ جولائی ۲۰۱۲ء

’’قرآنِ کریم خاموش ہے‘‘ کی منطق

توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اصحابِ فکر و دانش اپنے اپنے انداز میں اس پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک سوال عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ کیا اس سزا کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے؟ اور سوال کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر قرآنِ کریم میں یہ سزا مذکور نہیں ہے تو اس پر اس قدر زور دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہت سے علماء کرام اس کے جواب میں قرآنِ کریم کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن سے اس پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’قرآنِ کریم خاموش ہے‘‘ کی منطق

۱۰ دسمبر ۲۰۱۰ء

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

جب ہم حدیث پڑھا رہے ہوں تو جس طرح ایک عام اجتماع میں حدیث بیان کرتے ہوئے پبلک کی ذہنی نفسیات، ذہنی سطح اور اس کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے سامنے جو کلاس بیٹھی ہے اس کی ذہنی سطح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کون سی بات ان کے ذہن میں جائے گی اور کون سی نہیں جائے گی۔ کیونکہ آج ہمارے سامنے جو طلبہ حدیث پڑھنے بیٹھتے ہیں ان کا لیول آج سے پچاس سال پہلے والا نہیں ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کی اکثر یت مطالعہ کرکے آتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

مئی ۲۰۰۹ء

حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

چند سالوں سے معمول ہے کہ جناب نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک سال بخاری شریف کی ’’ثلاثیات‘‘ پر بات ہوئی، ایک سال مسلم شریف کے ’’باب الفتن‘‘ کے بارے میں گفتگو ہوئی، اور ایک سال ابن ماجہ کی’’ کتاب السنن‘‘ پر خطاب کا موقع ملا۔ اس سال بھی احادیث مبارکہ ہی کے ایک پہلو ’’احادیث قُدسیہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے جو کہ احادیث کریمہ میں ایک مستقل شعبہ ہے۔ اہل علم کے ہاں حدیث اور سنت میں تھوڑا سا تکنیکی فرق ہے لیکن عام لوگوں کے ہاں یہ دونوں لفظ ایک ہی معنٰی میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

۲۰۰۸ غالباً‌

ترکی: احادیث نبویؐ کی تعبیر و تشریح کا سرکاری منصوبہ

روزنامہ پاکستان میں ۲۸ فروری ۲۰۰۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برادر مسلم ملک ترکی کی وزارتِ مذہبی امور نے انقرہ یونیورسٹی میں علماء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ازسرنو جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ترکی حکومت کے خیال میں بہت سی احادیث متنازعہ ہیں اور ان سے معاشرے پر منفی اثر پڑ رہا ہے، ان احادیث سے اسلام کی اصل اقدار بھی دھندلا گئی ہیں اس لیے ان کی ازسرنو تشریح کرانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی: احادیث نبویؐ کی تعبیر و تشریح کا سرکاری منصوبہ

۱۹ مارچ ۲۰۰۸ء

نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

خطبۂ حجۃ الوداع جسے کہتے ہیں، یہ حضورؐ کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ حضورؐ نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐ نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

جنوری ۲۰۰۷ء

خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

مئی ۲۰۰۵ء

مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔ مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

قرآن کریم کے درس کے حوالہ سے قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ غلط فہمی آج کل عام ہو رہی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی ہے اور جو شخص عربی زبان پر، گرامر پر اور لٹریچر پر عبور رکھتا ہے وہ براہِ راست قرآن کریم کی جس آیت کا جو مفہوم سمجھ لے وہی درست ہے۔ یہ گمراہی ہے اور قرآن فہمی کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

۱۶ مئی ۱۹۹۹ء

امام بخاریؒ اور بخاری شریف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام بخاریؒ اور بخاری شریف

یکم جنوری ۱۹۹۹ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

آج اسلام کے بارے میں مغرب کے ذرائع ابلاغ مسلسل یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے، جبکہ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس دور میں علمی و تحقیقی کام کرنے والی خواتین کی تعداد ہزاروں میں تھی جب خود مغرب نے ابھی عورتوں کی تعلیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلم خواتین کی علمی خدمات کو سامنے لایا جائے اور مولانا محمد اکرم ندوی اس حوالہ سے اس وقیع اور اہم علمی خدمت پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء