حالات دنیا

برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر ایک بات عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور کبھی کبھار نجی محافل میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے مگر اب اس احساس میں قارئین کو شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے، وہ یہ کہ ہر استعمار کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اپنا انداز ہوتا ہے، ہم نے برطانوی استعمار کے تحت دو صدیاں گزاری ہیں، ایک صدی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماتحتی میں اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ تاج برطانیہ کی غلامی میں گزار کر ۱۹۴۷ء سے آزاد قوم کی تختی اپنے سینے پر لٹکائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

۲۱ ستمبر ۲۰۱۹ء

شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کالم میں ہم نے شکریہ ادا کیا تو بعض دوستوں نے اس پر الجھن کا اظہا رکیا، مگر اب اس سے بڑا ایک شکریہ ادا کرنے کو جی چاہ رہا ہے اس لیے ان احباب سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اپنے حالیہ دورۂ بغداد کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی پولیس مین کے کردار کے اختتام کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

۳۰ دسمبر ۲۰۱۸ء

نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا ہے اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کی ریلی کے اسلام آباد پہنچنے پر تحریک کے راہنما پیر محمد افضل قادری کو مذاکرات میں بتایا ہے کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے انہیں فون پر اطلاع کی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

یکم ستمبر ۲۰۱۸ء

پرنس ہیری اور مکھی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ مئی کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’لندن (این این آئی) پرنس چارلس کی ۷۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران ایک مکھی پرنس ہیری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی نظر آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری تقریری کرنے ڈائس پر آئے تو بھن بھن کرتی ایک مکھی نے تقریر کرتے ہوئے شہزادے کو مشکل میں ڈال دیا جس کے باعث ان کا تقریر سے دھیان ہٹ گیا۔ تقریر کے دوران پرنس ہیری اگلا جملہ غلط بول گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرنس ہیری اور مکھی

جون ۲۰۱۸ء

امریکہ بنام امریکہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تین امریکی ریاستوں کے جذبات اور اپیل کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی عوام بالخصوص وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو وہ تبدیلیاں ہضم نہیں ہو رہیں جو امریکہ کے موجودہ عالمی کردار کے تسلسل کی وجہ سے سامنے آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل واشنگٹن نے آزادی کےبعد امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکی حکومت کو تلقین کی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور خود کو امریکہ کے قومی معاملات تک محدود رکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ بنام امریکہ

۱۷ جون ۲۰۱۷ء

خوش آمدید ڈونلڈ ٹرمپ!

مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج وائٹ ہاؤس میں اپنے عہدہ کا حلف اٹھا کر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے دورِ صدارت کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے اور وہ اپنے بعض متنازعہ بیانات کی وجہ سے منصبِ صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی دنیا بھر میں مختلف النوع تبصروں اور تجزیوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی انفرادیت کو نمایاں کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ تاثر قائم کرنے میں وہ ایک حد تک کامیاب رہے ہیں کہ ان کا دورِ صدارت امریکہ میں داخلی اور خارجی دونوں حوالوں سے تبدیلیوں کا دور ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوش آمدید ڈونلڈ ٹرمپ!

۲۱ جنوری ۲۰۱۷ء

مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور درکار لائحہ عمل

اس زمینی حقیقت سے کسی صاحب شعور کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات موجود ہیں وہ اصولی اور بنیادی ہیں اور صدیوں سے چلے آرہے ہیں، نہ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے، نہ دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے کو مغلوب کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے۔ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرتے ہوئے باہمی معاملات کو ازسرنو طے کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے جس کے لیے آبادی کے تناسب اور دیگر مسلمہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی توازن کا صحیح راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور درکار لائحہ عمل

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر

کہا جاتا ہے کہ یورپین یونین سے علیحدگی کو برطانوی عوام برطانیہ کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کے قوانین اور معاہدات کی وجہ سے برطانیہ کی اپنی خودمختاری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے لیے اپنے بہت سے قوانین پر چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ چنانچہ برطانوی عوام اپنے ملکی قوانین و نظام پر ایسے بین الاقوامی معاہدات کی بالادستی کو پسند نہیں کرتے اور آزادی و خودمختاری کا ماحول بحال کرنے کے لیے اس کے دائرے سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر

۲۹ جون ۲۰۱۶ء

دنیائے انسانیت کی صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے ۳۱ مارچ اور یکم اپریل کو میترانوالی (وزیر آباد) کا دورہ کیا اور مختلف مجالس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر ان کی صدارت میں پاکستان شریعت کونسل کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مندرجہ ذیل قراردادوں کے ذریعہ موجودہ حالات کی روشنی میں پاکستان شریعت کونسل کے موقف کا اعادہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دنیائے انسانیت کی صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

۳ اپریل ۲۰۱۶ء

سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

سعودی عرب اور ایران کی یہ کشمکش مسلسل آگے بڑھ رہی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عرب اسرائیل تنازعہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی صورت حال اس سے قبل بھی سنی شیعہ کشمکش اور باہمی خونریزی کے تلخ مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس لیے واقفان حال کو اس کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات و خدشات نے بے چین و مضطرب کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

۹ فروری ۲۰۱۶ء

منٰی کا سانحہ

منیٰ میں ہمارے خیمے مسجد خیف کے ساتھ اور جمرات کے قریب تھے، یہاں بھی قیام و طعام کی اچھی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ جس روز منیٰ کا سانحہ پیش آیا ہم صبح صبح رمی سے فارغ ہو کر خیموں میں آچکے تھے۔ رات سفر میں گزری تھی اور رمی جمرات بھی مشقت کا مرحلہ تھا اس لیے میں واپس پہنچ کر خیمہ میں سو گیا۔ دو تین گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی تو ساتھیوں نے سانحہ کے بارے میں بتایا، سینکڑوں کی تعداد میں شہادتوں کی خبروں نے پریشان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منٰی کا سانحہ

۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ تصادم روکنے کی ضرورت

مشرق وسطیٰ ہو یا پاکستان، ہم کسی بھی جگہ سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور اس کے فروغ کے حق میں نہیں ہیں اور پہلے کی طرح اب بھی دل سے چاہتے ہیں کہ اس کی شدت اور سنگینی میں کمی لائی جائے اور اس ماحول کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے جو سنی شیعہ کشیدگی کے باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے قبل موجود تھا کہ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ قومی مسائل میں ایک دوسرے سے تعاون کیا جاتا تھا، اختلافات کو دلیل اور مناظرہ کے دائرے میں محدود رکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ تصادم روکنے کی ضرورت

۱۱ ستمبر ۲۰۱۵ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

اگست ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں مسلکی کشمکش

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان سالہا سال سے جاری کشمکش بلکہ خانہ جنگی کے بارے میں جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ سنی شیعہ کشمکش نہیں ہے یا اسے سنی شیعہ کشمکش کا عنوان نہیں دینا چاہیے تو دل کی بات یہ ہے کہ خود میرا بھی جی چاہتا ہے کہ یہی بات کہوں اور مسلسل کہتا چلا جاؤں۔ لیکن معروضی حال کو دیکھتا ہوں تو کھلی آنکھوں سے نظر آنے والا منظر اس معصوم سی خواہش کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں مسلکی کشمکش

۳۱ جولائی ۲۰۱۵ء

ایران کے جوہری معاہدے کا جائزہ

بڑی طاقتیں کہلانے والے چھ ملکوں کے ساتھ ایران کا ایٹمی معاہدہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث ہے اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ان چھ ملکوں نے ایران کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو دس سال تک ایٹم بم بنانے کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔ اور اس سلسلہ میں عالمی سطح پر نگرانی کرنے والے اداروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران کے جوہری معاہدے کا جائزہ

۲۷ جولائی ۲۰۱۵ء

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک دور مری میں مکمل ہوگیا ہے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ دونوں وفد اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کا کردار اس میں واضح ہے کہ یہ مذاکرات مری میں ہوئے ہیں اور اس سے قبل پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کابل کے ساتھ مسلسل روابط بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے ایک عرصہ سے تگ و دو کی جا رہی تھی اور امید و بیم کے کئی مراحل درمیان میں آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

۱۶ جولائی ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف اسلام آباد تشریف لائے اور وزیر اعظم پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے یمن کے بحران پر گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران امت مسلمہ کی وحدت کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر یمن کے تنازعہ کے سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور ترک حکمرانوں کے ساتھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

۱۰ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوباما کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

حرمین شریفین کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے

مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالات پر مسلسل نظر رکھنے والوں کے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے، بلکہ ہم ایک عرصہ سے وقتاً فوقتاً اس طرف توجہ دلاتے آرہے ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کو جس طرح حکومت وقت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، لیکن یہ سال دو سال کا قصہ نہیں بلکہ اس کی پشت پر کم و بیش چار عشروں کی تاریخ ہے اور ایک مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ بھرپور پلاننگ نے حالات کو یہ رخ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حرمین شریفین کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے

۳۱ مارچ ۲۰۱۵ء

ایران کا علاقائی تشخص

یہ چار خبریں ہیں جو صرف تین روز کے اندر مختلف اخبارات میں شائع ہوئی ہیں لیکن اپنے اندر معانی، سوالات اور خدشات و امکانات کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہیں جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے ہر ایک مستقل گفتگو اور بحث و تجزیہ کا متقاضی ہے۔ مگر سرِ دست ان کی تفصیلات میں جانے کی بجائے ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے علماء کرام، راہ نماؤں اور دانشوروں کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنے کی جسارت پر اکتفاء کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے لیے اس ساری صورت حال میں کچھ سوچنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران کا علاقائی تشخص

۱۶ مارچ ۲۰۱۵ء

پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

فرانسیسی جریدہ میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت کے بعد جہاں مغربی ممالک کے حکمران آزادئ رائے کے نام پر اس گستاخانہ طرز عمل کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں وہاں مسیحی دنیا کے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسِس نے یہ بیان دے کر معقولیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور توہین کا آزادئ رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

فروری ۲۰۱۵ء

مغرب کی فکری دہشت گردی

پورا عالم اسلام متفق ہے اور دیگر مذاہب بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین و تحقیر سنگین ترین جرم ہے۔ اس لیے کہ اس میں مذہبی پیشواؤں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں، جس سے اس جرم کی سنگینی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور قرآن و سنت، بائبل اور وید سمیت تمام مسلمہ مذہبی کتابوں میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کی فکری دہشت گردی

۱۷ جنوری ۲۰۱۵ء

اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

۳ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش

مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کا واقعاتی تناظر یہ ہے کہ شام میں اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ زیادہ تر سنی شیعہ کشیدگی کا پس منظر رکھتی ہے۔ کویت میں گزشتہ انتخابات میں سنی شیعہ بنیادوں پر پارلیمنٹ میں جو تناسب سامنے آیا اور پھر حکومتی سطح پر جو اقدامات دکھائی دیے وہ اس کشیدگی کی موجودگی اور کویت کی قومی سیاست میں اس کی اثر خیزی کی غمازی کرتے ہیں۔ عراق کو سنی شیعہ بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دینے کی تجویزیں بین الاقوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش

نا معلوم

موجودہ صورت حال اور افغان طالبان کا موقف

امارت اسلامی افغانستان کی اعلیٰ سطحی قیادت ان دنوں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کو اپنے موقف اور پالیسیوں کے حوالہ سے بریف کرنے کے لیے ان سے رابطوں میں مصروف ہے جو ایک خوشگوار امر ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ افغان طالبان کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا طرح طرح کی خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو عموماً منفی اور کردار کشی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ خود افغان طالبان کا میڈیا محاذ اس حوالہ سے بہت کمزور ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ صورت حال اور افغان طالبان کا موقف

فروری ۲۰۱۴ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۲۲ جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’عدالت عظمیٰ نے بمبئی کے ان سینکڑوں رقص خانوں کو کھلوا دیا ہے جنہیں مہاراشٹر سرکار نے ۲۰۰۵ء میں یہ کہہ کر بند کروا دیا تھا کہ ان ’’ڈانس بارز‘‘ میں رقص و سرور کے نام پر جنسی ایکٹ (چکلے) چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ اور فحش حرکات کی جاتی ہیں، رقاصائیں انتہائی اشتعال انگیز پوشاکوں میں لوگوں کے سامنے آ کر بے شرمی کے مظاہرے کرتی ہیں جن سے تماش بینوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ستمبر ۲۰۱۳ء

مشرق وسطیٰ کی سیاسی ومذہبی کشمکش

جنرل (ر) غلام جیلانی خان صاحب کو یہ شکایت ہے کہ آج کی نسل کو اپنے ماضی بلکہ ماضی قریب کی بھی خبر نہیں ہے، اور وہ خلافت عثمانیہ کے زوال میں عرب دنیا کے کردار، آل سعود کے سیاسی و تاریخی پس منظر، جنگ عظیم اول کے بعد نئی عرب ریاستوں کے ساتھ برطانیہ و امریکہ کے معاہدات، اور موجودہ عالمی نیٹ ورک میں عرب ریاستوں کی حیثیت و مقام سے بالکل بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے ہم نہ صرف یہ کہ معروضی حالات کے اصل تناظر اور زمینی حقائق سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے بلکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ کی سیاسی ومذہبی کشمکش

ستمبر ۲۰۱۳ء

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے عام انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر سکے گی۔ روزنامہ پاکستان میں 2 اگست کو آئی این پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت میں درخواست کی گئی تھی کہ چونکہ جماعت اسلامی کے منشور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو ریاست کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے، اس لیے جماعت اسلامی کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

۴ اگست ۲۰۱۳ء

افغان طالبان کی سرگرمیاں

افغان طالبان اور امریکہ کے مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کی حالت میں ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ جناب سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے اور ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار سرِدست صرف اتنا ہے کہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے حالیہ دورۂ کابل کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال کرانے میں مدد دے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان کی سرگرمیاں

۲۳ جولائی ۲۰۱۳ء

قطر میں افغان طالبان کا دفتر

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے۔ کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قطر میں افغان طالبان کا دفتر

۲۸ جون ۲۰۱۳ء

’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی ۱۳ فروری ۲۰۱۳ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ہی جنس کے افراد کے مابین شادی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ ۹۷ کے مقابلہ میں ۲۴۹ ارکان نے بل کے حق میں رائے دیتے ہوئے شادی کی ازسرِنو تشریح کی ہے جس کے تحت شادی صرف ایک مرد اور عورت کے مابین ہی نہیں بلکہ دو افراد کے مابین معاہدے کا نام ہے۔ فرانس کے صدر فرانکوئس اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور ان کی حلیف بائیں بازو کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

مارچ ۲۰۱۳ء

بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشمکش

شیخ الازہر کا شمار عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیات میں ہوتا ہے اور ’’الامام الاکبر‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ اس منصب پر سرکردہ اصحابِ علم و فضل وقتاً فوقتاً فائز ہوتے آرہے ہیں، ان کی علمی و دینی رائے اور فتویٰ کو نہ صرف مصر میں بلکہ عالمِ اسلام اور خاص طور پر عرب دنیا میں اہمیت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مصر اور عالم اسلام کے مختلف مسائل پر وقیع رائے کا اظہار ان کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے، ان دنوں اس منصب پر فضیلۃ الدکتور احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ فائز ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشمکش

۲۳ فروری ۲۰۱۳ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

نومبر ۲۰۱۲ء

جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

اکتوبر ۲۰۱۲ء

شام کا بحران

شام کی صورت حال کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ عرب ممالک میں آمر اور مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر تیونس، لیبیا اور مصر کے بعد شام میں بھی اپنی جولانیاں دکھا رہی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر ہے جو بشار الاسد کی حکومت کے جبر اور تشدد کا شکار ہے اور سیکڑوں شامی شہری اس میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کا ایک مذہبی پہلو ہے جس نے اس بحران کی شدت کو مزید دو آتشہ کر دیا ہے، وہ یہ کہ شام کے صدر بشار الاسد اور فوجی قیادت کی اکثریت کا تعلق نصیری فرقہ سے ہے جو اہل تشیع میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شام کا بحران

اگست ۲۰۱۲ء

ایران میں زواج متعہ کا قانونی فروغ

نیویارک سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’غربۃ‘‘ نے ۱۱ نومبر ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ایرانی حکومت نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر قابو پانے کے لیے زواج مؤقت (متعہ) کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے اور عام شاہراہوں پر اس مقصد کے لیے مراکز قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق ان مراکز کو ’’بیوت العفاف‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ غیر رسمی جنسی تعلقات کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ’’زواج مؤقت‘‘ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران میں زواج متعہ کا قانونی فروغ

دسمبر ۲۰۱۱ء

یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان

نیویارک سے اردو میں شائع ہونے والے جریدہ ہفت روزہ ’’ایشیا ٹربیون‘‘ کے ۲۴ نومبر کے شمارہ میں خبر شائع ہوئی ہے کہ: ’’سوئیٹزرلینڈ میں مساجد اور ان کے میناروں کے خلاف مہم چلانے والے معروف سیاستدان نے قبول اسلام کے بعد اب سوئیٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مینار سوئیٹزرلینڈ میں واقع کسی بھی مسجد سے بلند ہوں گے۔ سوئس پیپلز پارٹی ایس وی پی سے وابستہ ڈینئیل اسٹریج کی جانب سے قبول اسلام پر مقامی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان

دسمبر ۲۰۱۱ء

انسانی اسمگلنگ اور غلامی کی نئی شکلیں

مغربی ملکوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرہ سے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور انسان کو وہ عزت فراہم کر دی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ لیکن یہ دعویٰ صرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی فائلوں میں درج ہے، جبکہ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ لاکھوں انسانوں کو آج بھی عالمی سطح کے منظم ادارے ورغلا کر اور دوسرے ملکوں میں بہتر روزگار کی فراہمی کی لالچ دے کر تکنیکی طور پر غلام بنا لیتے ہیں اور پھر ان سے غلاموں کی طرح ہی کام لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی اسمگلنگ اور غلامی کی نئی شکلیں

ستمبر ۲۰۰۹ء

جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

اقوام متحدہ کی طرف سے ’’جنوبی سوڈان‘‘ کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر رکنیت دینے کے فیصلے کے ساتھ ہی سوڈان کی پہلی تقسیم مکمل ہو گئی ہے اور دوسری تقسیم کی طرف پیشرفت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوڈان جو افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک تھا نسلی اعتبار سے تین اکائیوں پر مشتمل ہے: (۱) شمالی سوڈان، جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ (۲) جنوبی سوڈان جہاں مسیحیوں اور روح پرست افریقی قبائل کی اکثریت ہے۔ (۳) اور مغربی سوڈان جہاں افریقی مسلمان آباد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

ستمبر ۲۰۱۱ء

موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۲۸ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے افسر رثم سٹائز نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور ان آفات کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات

ستمبر ۲۰۱۱ء

قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی

امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی کے بعد پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور امریکی پادری کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس ملعون پادری کے خلاف کاروائی کرے کیونکہ اس نے یہ شرمناک حرکت کر کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکافرت کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مکمل تحریر قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی

اپریل ۲۰۱۱ء

فرانس میں سڑکوں پر نماز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے بعد مساجد کے باہر سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی لگانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ سڑکوں پر نماز کی ادائیگی قابل قبول نہیں اور مساجد بھر جانے کے بعد سڑکوں پر نماز کے لیے صف بندی فرانس کی سیکولر روایات کے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرانس میں سڑکوں پر نماز

جنوری ۲۰۱۱ء

امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ: گوجرانوالہ میں مذمتی اجلاس

سانحہ لاہور کے پس منظر میں گزشتہ ایک صدی کے دوران تحریک ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرنے والے سرکردہ اساطین امت میں سے چند نام میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیے تھے جس کا مقصد اس سلسلہ میں امتِ مسلمہ کی اجتماعیت کا اظہار تھا۔ اس فہرست میں سینکڑوں رہنماؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے جنہوں نےمختلف مراحل میں تحریک ختم نبوت میں رہنمائی کا کردار ادا کیا مگر تین چار نام ایسے ہیں جن کا اس فہرست میں تذکرہ بہرحال ضروری تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ: گوجرانوالہ میں مذمتی اجلاس

۶ جون ۲۰۱۰ء

امریکہ کی ’’ٹی پارٹی‘‘

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ مسز سارہ پالن نے، جو امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں نائب صدر کے منصب کے لیے امید وار تھیں، امریکہ کی پرانی ’’ٹی پارٹی ‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ امریکی معاشرہ کو ماضی کی قدروں کی طرف واپس جانے کا پیغام دے رہی ہیں۔ ’’ٹی پارٹی ‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف امریکی عوام کی جدوجہد آزادی کا سب سے پہلا فورم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کی ’’ٹی پارٹی‘‘

مارچ ۲۰۱۰ء

مغربی ممالک میں مساجد کی تعمیر پر منفی ردعمل کے اسباب

لندن میں برطانیہ کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کے پروگرام کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور لندن کی نیو ہیم کونسل نے کہا ہے کہ مسجد کی انتظامیہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر منصوبے کا ماسٹر پلان جمع نہیں کرایا اور یہ مدت گزشتہ ماہ ختم ہو گئی ہے، جبکہ روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق علاقہ کے اڑتالیس ہزار افراد نے مسجد کی تعمیر روکنے کے لیے متعلقہ محکموں میں درخواست جمع کرا رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی ممالک میں مساجد کی تعمیر پر منفی ردعمل کے اسباب

فروری ۲۰۱۰ء

مغرب میں قبولِ اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان

بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ برٹ کے بیٹے جوناتھن برٹ نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا اور اب وہ یحییٰ برٹ کے نام سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں۔چند سال قبل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے یحییٰ برٹ کے اعزاز میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا محمد عیسٰی منصوری اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی، اس نشست میں یحییٰ برٹ نے اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد کے تاثرات بیان کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب میں قبولِ اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان

ستمبر ۲۰۰۹ء

مسلم خواتین: حجاب اور رد عمل

جرمنی میں حجاب کے مسئلہ پر شہید ہونے والی خاتون مروی شیربینی کا تذکرہ امریکہ سے شائع ہونے والے اخبارات میں مختلف حوالوں سے جاری ہے: ہفت روزہ ’’ایشیا ٹریبیون‘‘ نیویارک نے ۳۱ جولائی کے شمارہ میں اس کی تفصیلات یوں بیان کی ہیں: جرمنی کی عدالت میں قتل کی گئی ایک مسلم خاتون کی لاش ان کے آبائی وطن مصر لائی گئی ہے جسے حجاب کے لیے شہید قرار دیا گیا تھا۔ اسے ایک اٹھائیس سالہ جرمن شخص نے عدالت میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا تھا جسے عدالت نے خاتون کے مذہب کی توہین کرنے کا قصور وار پایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم خواتین: حجاب اور رد عمل

۲۲ اگست ۲۰۰۹ء

اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

فروری ۲۰۰۹ء

صدر باراک حسین اوباما کے لیے اصل چیلنج

فتح مکہ کے موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے کا حکم دیا تو مکہ میں کہرام مچ گیا۔ حضرت بلالؓ نے اسی مکہ مکرمہ میں غلامی کی حیثیت سے زندگی بسر کی تھی، انہیں اسی سرزمین میں سنگریزوں پر گھسیٹا گیا تھا، وہ قریشی نہیں بلکہ حبشی تھے اور ان کا رنگ بھی کالا تھا۔ حرم مکہ میں قریش کے بڑے بڑے لوگ جمع تھے، ابو سفیان بن الحرب، حارث بن ہشام اور عتاب بن اسید اکٹھے بیٹھے صورتحال پر تبصرہ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر باراک حسین اوباما کے لیے اصل چیلنج

۳۱ جنوری ۲۰۰۹ء

صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں

باراک حسین اوباما نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جس سے امریکہ کی قومی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ وہ سیاہ فام آبادی جسے آج سے پون صدی پہلے تک امریکہ میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا اس کا نمائندہ آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے اور محاورہ کی زبان میں امریکہ کے سیاہ و سفید کا مالک کہلاتا ہے۔ باراک حسین اوباما کا باپ حسین ہے جو مسلمان تھا اور کینیا سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اس کی ماں مسیحی خاتون تھی۔ ماں اور باپ کی علیحدگی کے بعد باراک حسین ماں کے ساتھ رہا اور اسی کے مذہب پر اس کی پرورش ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں

۲۴ جنوری ۲۰۰۹ء

امریکہ سے پاکستانیوں کی نفرت کے اسباب

روزنامہ امت کراچی ۵ نومبر ۲۰۰۸ء کی خبر کے مطابق لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر جناب برائن ڈرہنٹ نے رحیم یار خان میں مسلم لیگی راہنما چوہدری جعفر اقبال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت کی نسبت پاکستان کو عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے منصوبوں کے لیے کئی گنا زیادہ امداد دیتی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستانی امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ سے پاکستانیوں کی نفرت کے اسباب

دسمبر ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کی عدالت کا افسوسناک فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ جو ن ۲۰۰۸ء کے مطابق ڈنمارک کی اپیل کورٹ نے ڈنیش اخبار ’’جیلینڈر پوسٹن‘‘ میں جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت کے حوالہ سے مسلمانوں کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف رٹ دائر کی گئی تھی کہ نبی کریمؐ کے ۱۲ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کوئی قابل اعتراض (نعوذ باللہ) عمل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈنمارک کی عدالت کا افسوسناک فیصلہ

جولائی ۲۰۰۸ء

اسلامی سربراہ کانفرنس کا مایوس کن اجلاس

اسلامی کانفرنس تنظیم کے مذکورہ سربراہی اجلاس میں عالم اسلام کے دیگر مسائل بھی زیر بحث آئے جن میں فلسطین کی صورت حال کو بطور خاص زیرغور لایا گیا۔ لیکن ان مسائل میں بھی رسمی خطابات اور قراردادوں سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ پیش رفت اور لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ہمارے خیال میں مسلم حکومتوں سے دنیا بھرکے مسلم عوام کی اسی مایوسی سے اس ردعمل نے جنم لیا ہے جسے انتہا پسندی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی قرار دے کر اس کے خلاف عالمی سطح پر باقاعدہ جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی سربراہ کانفرنس کا مایوس کن اجلاس

اپریل ۲۰۰۸ء

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے اب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اور اسرائیل جو کچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کر دیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

فروری ۲۰۰۸ء

امریکہ کا صدارتی امیدوار ’’باراک حسین اوباما‘‘

روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق نیویارک کے سابق گورنر باب کیری نے آئندہ انتخاب کے ایک امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما سے اس بات پر معافی مانگ لی ہے کہ انہوں نے ایک اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما کے اسلامی تشخص کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ باب کیری نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا ہے کہ انہوں نے باراک اوباما کو خط لکھا ہے جس میں ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے اسلامی تشخص کا ذکر کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا صدارتی امیدوار ’’باراک حسین اوباما‘‘

جنوری ۲۰۰۸ء

تھائی لینڈ میں شراب پر پابندی کے اقدامات

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو اے پی پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ تھائی لینڈ کی حکومت نے شراب اور الکوحل کے اشتہارات پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق وزیر صحت مونگ کول نا نے بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس قانون کو بہت جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سکولوں، مندروں اور حکومتی دفاتر کے قریب شراب فروخت کرنے پر پابندی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تھائی لینڈ میں شراب پر پابندی کے اقدامات

اپریل ۲۰۰۷ء

حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

اخبارات میں ان دنوں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر کی بے حرمتی کے حوالہ سے احتجاج کی خبریں اور بیانات شائع ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ تھانہ بھون (انڈیا) میں حضرت تھانویؒ کی قبر کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بے حرمتی کی ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سرکاری طور پر نوٹس لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

جنوری ۲۰۰۷ء

مسلم سربراہ کانفرنس، دنیائے اسلام کو مایوسی

گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں مسلم سربراہ کانفرنس کا غیر معمولی اجلاس ہوا، اجلاس جس انداز سے بلایا گیا اور اسے غیر معمولی قرار دے کر اس کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے بہت سے مسلمانوں کو یہ خوش فہمی ہوگئی تھی کہ شاید مسلم حکمرانوں کو وقت کی ضروریات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مسلم امہ کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم سربراہ کانفرنس، دنیائے اسلام کو مایوسی

جنوری ۲۰۰۶

کینیڈا میں خاندانی اسلامی قوانین پر پابندی کا فیصلہ

مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران حسب معمول بیرونی سفر پر ہوں۔ ۳۰ اگست کو پروگرام کے مطابق مجھے لندن پہنچنا تھا جہاں مانچسٹر میں مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی سیرت وخدمات کے حوالہ سے کانفرنس رکھی ہوئی تھی اور گلاسگو میں بھی ایک کانفرنس کا اہتمام تھا۔ انڈیا سے مولانا مفتی سیف اللہ خالد رحمانی پہنچ چکے تھے، پاکستان سے مجھے شریک ہونا تھا مگر ٹریول ایجنٹ کی غفلت کے باعث آخر وقت تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان دنوں فلائٹوں پر بہت رش ہوتا ہے اور میری سیٹ اوکے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کینیڈا میں خاندانی اسلامی قوانین پر پابندی کا فیصلہ

نومبر ۲۰۰۵ء

لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟

اِدھر اسامہ بن لادن کی تلاش میں خفیہ ادارے منگلا ڈیم کے کنارے جا پہنچے ہیں اور اُدھر لندن میں خوفناک بم دھماکوں نے چار درجن سے زائد انسانوں کی جانیں لے کر مغرب کو خوف و ہراس کی ایک نئی فضا سے دوچار کر دیا ہے۔ میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے کنارے سیاکھ نامی بستی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے علی الصبح ایک دینی مدرسہ کو اچانک آپریشن کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سیاکھ کے دینی مدرسہ جامعہ ابراہیمیہ میں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟

۱۵ جولائی ۲۰۰۵ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

جون ۲۰۰۵ء

عید پر مختلف بچوں کا اقدام خودکشی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۴ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں یعنی عید کے روز یہ خبر شائع کی ہے کہ لاہور میں عید کے موقع پر نئے کپڑے اور چوڑیاں وغیرہ نہ ملنے پر خودکشی کا اقدام کیا ہے، خبر کے مطابق کوٹ لکھپت کے رہائشی عمران کی بیٹی نسرین نے عید کے کپڑے نہ ملنے پر گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھالیں، اور بادامی باغ کی آسیہ اور شالیمار نے بھی عید کی کی چوڑیوں اور کپڑوں کے لیے والدین سے پیسے نہ ملنے پر زہریلی گولیاں نگل لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عید پر مختلف بچوں کا اقدام خودکشی

دسمبر ۲۰۰۴ء

کیا دنیا صدام حسین کے بعد محفوظ ہوگئی ہے؟

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اگلے چار سال کی مدت کے لیے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد کہا تھا کہ دنیا عراقی صدر صدام حسین کی اقتدار سے محرومی کے بعد زیادہ محفوظ ہوگئی ہے، یہ کہہ کر وہ عراق پر امریکی حملے کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن فرانس کے صدر یاک شیراک نے ان کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ عراق کی صورتحال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا دنیا صدام حسین کے بعد محفوظ ہوگئی ہے؟

دسمبر ۲۰۰۴ء

مغربی تہذیب کے عروج کی ایک تصویر

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس کے غلبہ کے موجودہ دور میں انسانی تمدن اپنے عروج تک پہنچ گیا ہے اور اس کی تہذیب و ثقافت اعلیٰ انسانی اقدار و روایات کی حامل ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ اور کامل تہذیب کہلانے کی حق دار ہے۔ انسانی حقوق، احترام انسانیت اور اخلاق و شرافت کا ورد کرتے ہوئے دانشوروں کی زبانیں نہیں تھکتیں لیکن گوانتا موبے کے عقوبت خانوں اور بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی اہل کاروں نے اپنے قیدیوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک روا رکھا ہے اس نے مغربی تہذیب کے چہرے سے اخلاق و شرافت اور انسانی اقدار کے تمام نقاب نوچ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی تہذیب کے عروج کی ایک تصویر

جولائی ۲۰۰۴ء

صدر بش سے عرب لیگ کا مطالبہ

روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق تیونس میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور فوجی کاروائی کی مذمت کی گئی ہے اور امریکی صدر بش سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ پورا کریں۔ دوسری طرف روزنامہ اسلام کی اسی روز کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے ایک بڑے مذہبی پیشوا دوف لینور نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جو فوجی کاروائیاں کر رہی ہیں وہ بالکل جائز ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر بش سے عرب لیگ کا مطالبہ

جون ۲۰۰۴ء

حماس کے نئے سربراہ کی شہادت

فلسطینی مجاہدین کے سربراہ الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کے بعد ان کے جانشین کو بھی شہید کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی حکومت نے اپنے اس کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی لیڈروں کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے جنہیں اس طرح قتل کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکی صدر بش نے اسرائیلی حکومت کی اس وحشیانہ کاروائی کو ’’حق دفاع‘‘ قرار دے کر اس کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حماس کے نئے سربراہ کی شہادت

مئی ۲۰۰۴ء

فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

فرانس میں ان دنوں اسکارف کا مسئلہ قومی مسائل میں سرفہرست حیثیت اختیار کر چکا ہے اور فرانس کے صدر اور وزیر اعظم کے اعلانات کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے سر پر اسکارف لینے کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے۔ دوسری طرف سینکڑوں مسلم خواتین نے پیرس میں گزشتہ روز مظاہرہ کیا ہے جس میں اسکارف پر مجوزہ پابندی کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

جنوری ۲۰۰۴ء

مصری وزیر خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں پٹائی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ احمد ماہر گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں نماز ادا کرنے کے لیے آئے تو فلسطینی نوجوانوں نے ان کی جوتوں سے پٹائی کر دی اور اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ مصر ایک دور میں فلسطین کی آزادی، فلسطین کی وحدت اور فلسطینی عوام کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مصری وزیر خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں پٹائی

جنوری ۲۰۰۴ء

صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں

امریکی ذرائع کے مطابق عراق کے معزول صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اتحادی فوجوں کی تحویل میں ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہیں تکریت کے علاقہ میں زیر زمین پناہ گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سوئے ہوئے تھے، ان کے پاس دو رائفلیں اور متعدد دستی بم تھے اور لاکھوں ڈالر بھی ان کے پاس تھے، جبکہ ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن اور مشقت کے آثار تھے۔ ان کی ڈاڑھی سمیت تصویر اخبارات میں آئی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور آخر وقت تک ہتھیار بکف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں

۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ء

بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

نومبر ۲۰۰۳ء

کرائے کے شوہر

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نے ۹ اکتوبر تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں سی این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ماسکو میں کرائے پر شوہر فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔ نینا راکمانین نامی خاتون نے بے شوہر خواتین کے لیے ایک سروس شروع کی ہے جس کے تحت مذکورہ خواتین گھنٹوں، دنوں یا مہینوں کے حساب سے شوہر کرائے پر حاصل کرکے ان سے گھر کے ضروری کام کاج کرا سکیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرائے کے شوہر

نومبر ۲۰۰۳ء

میاں اجمل قادری، سردار عبد القیوم اور اسرائیل

سردار محمد عبد القیوم خان صاحب سے ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ وہ لینے اور دینے کا پیمانہ ایک ہی رکھیں کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔ اس لیے کہ اگر فلسطین میں طاقت کے زور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا گیا تو کشمیر میں اس اصول کو لاگو ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ سردار صاحب کا یہ کہنا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ بات اگر کوئی سیکولر لیڈر یا دانشور کہتا تو ہمیں کوئی اشکال نہ ہوتا لیکن سردار محمد عبد القیوم خان کی زبان سے یہ جملہ سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون کا مسلسل ورد کرنے کے علاوہ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں اجمل قادری، سردار عبد القیوم اور اسرائیل

۱۵ جولائی ۲۰۰۳ء

افغانستان میں ہیروئن کا کاروبار

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۷ مئی ۲۰۰۳ء کو اے پی پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ کسٹم حکام نے چھاپہ مار کر افغانستان سے پاکستان آنے والی ۵۴۰ ملین روپے مالیت کی ہیروئن پکڑی ہے، یہ ہیروئن کوئٹہ میں پکڑی گئی ہے اور اے۔ پی۔ پی کی رپورٹ کے مطابق یہ اب تک کسی بھی ایجنسی کی طرف سے پکڑی جانے والی ہیروئن کی سب سے بڑی مقدار ہے جو کسٹم حکام نے قابو کر لی ہے تاہم دونوں طرف سے بھاری فائرنگ کے دوران اسمگلر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں ہیروئن کا کاروبار

جون ۲۰۰۳ء

فرانسیسی وزیر داخلہ کی مسلمانوں کو دھمکی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق فرانس کے وزیر داخلہ نکلس سرکوزی نے مسلم راہنماؤں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ فرانس میں اسلامی اقدار کے فروغ کی کوشش نہ کریں ورنہ ایسے شدت پسندوں کو فرانس سے نکال دیا جائے گا۔ فرانس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور دنیا میں مغربی جمہوریت کے سفر کا آغاز انقلاب فرانس سے ہوا تھا لیکن دنیا بھر میں جمہوریت کا سبق پڑھانے والے یورپی لیڈر اسلامی اقدار کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے ملکوں میں اسلامی اقدار کا فروغ کسی صورت میں گوارا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرانسیسی وزیر داخلہ کی مسلمانوں کو دھمکی

مئی ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ ۔ جنگ کا تیسرا ہفتہ

اب ایک اور ہلاکو خان دجلہ کے پانیوں کو عراقی مسلمانوں کے خون سے سرخ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا منظر ایک بار پھر تاریخ کے مطالعہ کے ذریعہ ذہنوں میں تازہ کر لینا چاہیے۔ تاریخی عمل کے اس ادراک کے ساتھ کہ قوموں کی زندگی میں یہ مراحل آیا ہی کرتے ہیں اور قوموں کو اپنے تاریخی سفر میں ایسی گھاٹیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے، اور اس یقین کے ساتھ کہ جہاں تک ایمان و عقیدہ اور اسلام کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ کے سقوط جیسے سانحوں اور زلزلوں میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عراق پر امریکی حملہ ۔ جنگ کا تیسرا ہفتہ

۷ اپریل ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ!

امریکہ نے عراق کو غیر مسلح کرنے میں دس سال صرف کیے اور گزشتہ بیس سال کے دوران صرف اس کام کے لیے ساری صلاحیتیں استعمال کی گئیں کہ عراق کوئی مؤثر ہتھیار نہ بنا سکے اور کوئی ایسا ہتھیار حاصل نہ کرسکے جو اس پر حملہ کی صورت میں امریکی فوجیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہو۔ عراق کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسے اسلحہ کی تیاری سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں گھسیٹا گیا۔ اس کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کی گئی تاکہ وہ کسی جنگ کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عراق پر امریکی حملہ!

۲۶ مارچ ۲۰۰۳ء

امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں مختلف شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور متعدد ممالک کے مجموعی طور پر کروڑوں افراد نے سڑکوں پر آکر امریکی عزائم کے خلاف جذبات کا اظہار کیا، مظاہرین نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کے لیے عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور بے گناہ عوام کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

مارچ ۲۰۰۳ء

بیت اللحم میں ایک سوگوار کرسمس

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق اس سال ۲۵ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے شہر بیت اللحم میں ان کی یاد میں جو ایک دو تقریبات منائی جا سکیں ان میں دعائے نیم شب تھی جس میں چند سو عبادت گزاروں نے حصہ لیا، شہر میں خوشیوں کی بجائے سوگ کا سا ماحول رہا، میونسپل کمیٹی کے عہدیداروں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کی وجہ سے سب تقریبات منسوخ کردی تھیں اور صرف دعائیہ تقریبات رہنے دیں۔ اسرائیلیوں نے بعد میں اپنی فوج شہر کے وسط سے دو دن کے لیے ہٹا لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیت اللحم میں ایک سوگوار کرسمس

فروری ۲۰۰۳ء

شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

فروری ۲۰۰۳ء

افغانستان اور عراق کے بارے میں اسلامی دنیا کے الگ الگ معیارات

ایک سال قبل گیارہ ستمبر کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون پر ہونے والے خودکش حملوں کی یاد منائی جا چکی ہے۔ ان حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے اور اس کارروائی نے پوری دنیا کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا۔ سیاسی وابستگیوں کے پیمانے بدل گئے، اخلاق و اقدار کے معیار تبدیل ہوگئے، حقوق و مفادات کی کشمکش نے ایک نیا انداز اختیار کر لیا، دنیا کی واحد طاقت ہونے کے نشہ سے سرشار امریکہ کے لیے یہ وار ہوش و حواس سے محرومی کا باعث بن گیا، بے بس مظلوموں پر خوفناک قیامت ٹوٹ پڑی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان اور عراق کے بارے میں اسلامی دنیا کے الگ الگ معیارات

۱۴ ستمبر ۲۰۰۲ء

امارت اسلامی افغانستان کا خاتمہ اور نئی افغان حکومت کے رجحانات

جہاں تک شرعی قوانین کے نفاذ کو جہاد افغانستان کا منطقی تقاضا قرار دینے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی استعمار کے خلاف جہاد کا اعلان ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ کمیونزم کا کافرانہ نظام نافذ ہوگیا ہے اور اسے ختم کر کے شرعی نظام کا نفاذ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اگر اب بھی افغانستان میں صدر داؤد کے دور کے قوانین نے ہی واپس آنا ہے تو سرے سے اس جنگ کی شرعی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے جو جنگ کمیونسٹ نظام کے خاتمہ کے لیے ’’جہاد افغانستان‘‘ کے نام سے لڑی گئی تھی اور جس میں موجودہ شمالی اتحاد میں شامل اہم راہنما بھی پیش پیش تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امارت اسلامی افغانستان کا خاتمہ اور نئی افغان حکومت کے رجحانات

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء

یہ جنگ فراڈ ہے ۔ برطانوی صحافی جان پلجر کا تجزیہ

امریکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے کے ثبوت پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں مگر یہ بات دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خود مغرب کی رائے عامہ امریکہ کے اس دعویٰ کو کسی واضح دلیل کے بغیر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور عام آدمی حتیٰ کہ بچوں پر بھی یہ حقیقت کھلتی جا رہی ہے کہ اصل قصہ کچھ اور ہے اور امریکہ اپنے اصل اہداف پر پردہ ڈالنے کے لیے اسامہ بن لادن اور طالبان کا نام استعمال کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یہ جنگ فراڈ ہے ۔ برطانوی صحافی جان پلجر کا تجزیہ

۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

جلسہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر اور جماعت اسلامی کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ بعض حاضرین کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پہلا موقع ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مشترکہ فورم سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ گلاسگو کی مقامی آبادی افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف دو بار مظاہرہ کر چکی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں راقم الحروف نے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا امداد الحسن نعمانی، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبد اللطیف خالد چیمہ، اور شیخ عبد الواحد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

۲ نومبر ۲۰۰۱ء

سانحہ نائن الیون ۔ لندن میں علماء کا مشترکہ اعلامیہ

لندن پہنچتے ہی مجھے احساس ہوگیا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد عالمی میڈیا کی ہمہ جہتی یلغار اور شدید امریکی ردعمل کے اظہار نے مسلمان حلقوں کو اس حد تک ششدر کر دیا ہے کہ انہیں کسی اجتماعی اور متوازن موقف اور طرز عمل پر لانے کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی نمائندگی میں نمایاں طور پر دو قسم کی آوازیں میڈیا میں سامنے آرہی ہیں۔ ایک طرف وہ آواز ہے جسے انتہا پسندانہ اور جذباتی قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے نتائج سے یہاں کے مسلمان خطرات محسوس کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحہ نائن الیون ۔ لندن میں علماء کا مشترکہ اعلامیہ

۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر متوقع امریکی حملہ اور عالمی منظر نامہ

افغانستان پر امریکہ کے فوری حملہ کا خطرہ ٹل جانے کے بعد عالمی میڈیا کا رخ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان پر بحث و تمحیص کی طرف بتدریج مڑ رہا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے 11 ستمبر کے المناک واقعات کے باعث بنے۔ اور اس وقت بھارت اور اسرائیل دونوں کی وہ کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں جو انہوں نے 11 ستمبر کے حادثات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی حملوں اور مداخلت کی زد میں لانے کے لیے شروع کی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر متوقع امریکی حملہ اور عالمی منظر نامہ

۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کے حملے اور امریکی قیادت کی آزمائش

گیارہ ستمبر کو امریکہ کے دو بڑے شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں جو قیامت صغریٰ بپا ہوئی ہے اس نے ظاہری طور پر دکھائی دینے والے معروضی حقائق کا نقشہ ایک بار پھر پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی تاریخ نے کئی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ حالات و واقعات کا ظاہری منظر کچھ اور نظر آرہا ہے مگر سمندر کی پرسکون سطح کی تہہ میں کسی طوفان نے جب انگڑائی لی ہے تو سطح سمندر اور اس پر نظر آنے والا پورا منظر ہی تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نائن الیون کے حملے اور امریکی قیادت کی آزمائش

۱۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

نسل انسانی کو درپیش اجتماعی مسائل ۔ خوش آمدید جناب بل کلنٹن!

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب بل کلنٹن کے جنوبی ایشیا کے دورے کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ اس دورے کے اختتام پر چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی تشریف لانے والے ہیں۔ ان کے اس مختصر دورۂ پاکستان اور پاکستانی لیڈروں کے ساتھ گفت و شنید میں ان کے ایجنڈے اور ترجیحات کے حوالے سے قومی پریس میں مثبت اور منفی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور دورۂ کے بعد بھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔ لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر ایک محترم مہمان کے طور پر جنوبی ایشیا اور پاکستان میں تشریف آوری پر ہم جناب بل کلنٹن کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نسل انسانی کو درپیش اجتماعی مسائل ۔ خوش آمدید جناب بل کلنٹن!

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بھارتی طیارے کا اغوا اور طالبان

بھارتی طیارے کے اغوا کے باقی پہلوؤں سے قطع نظر اب تک کے حالات میں جو دو باتیں سب سے زیادہ نمایاں ہوئی ہیں ان میں ایک مسئلہ کشمیر کی نزاکت اور سنگینی کا پہلو ہے جس نے دنیا بھر کو ایک بار پھر اس بات کا احساس دلا دیا ہے کہ اس مسئلہ کو اس خطہ کے عوام کی خواہش کے مطابق حل نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیا میں امن کا قیام کبھی نہیں ہو سکے گا اور آزادیٔ کشمیر کی تحریک بھی آگے بڑھنے کے معروف راستوں کو مقید پا کر دیگر تحریکات آزادی کی طرح کوئی نیا رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارتی طیارے کا اغوا اور طالبان

۹ جنوری ۲۰۰۰ء

امارت اسلامی افغانستان پر اقتصادی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امارت اسلامی افغانستان کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے اور ان پابندیوں سے براہ راست متاثر ہونے والے پاکستان کے سوا کسی مسلمان ملک کو اس پر رسمی احتجاج کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ سلامتی کونسل میں موجود ملائیشیا نے بھی ایک برادر مسلم ملک کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی بجائے اس اجلاس سے غیر حاضری کو ترجیح دی ہے جس میں اقتصادی پابندیوں کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس سے افغانستان کی عالمی نقشہ پر نمودار ہونے والی واحد اسلامی نظریاتی ریاست کے خلاف عالمی صف بندی کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امارت اسلامی افغانستان پر اقتصادی پابندیاں

۵ جنوری ۲۰۰۰ء

مسلم پرسنل لاء اور موجودہ عالمی صورتحال

اس کے ساتھ میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو پرسنل لاء میں جداگانہ تشخص فراہم کیا گیا ہے۔خود پاکستان کے دستور میں ان کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے اور سب سے پہلے علماء کرام نے 22 متفقہ دستوری نکات میں اس اصول کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ پرسنل لاء میں تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی احکام پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس لیے جب پاکستان میں عیسائی اقلیت اور دیگر اقلیتوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا گیا تو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کرنے میں بھی کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم پرسنل لاء اور موجودہ عالمی صورتحال

۳۱ اگست ۱۹۹۹ء

ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال لندن کے قیام کی منظوری

ساؤتھال لندن کے مسلمان دس سال کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد بالآخر ابوبکرؓ مسجد کے قیام کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ایلنگ کونسل کی ویسٹ پلاننگ کمیٹی نے گزشتہ روز ابوبکرؓ مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ’’اسلامک ایجوکیشنل اینڈ ریکریشنل انسٹیٹیوٹ‘‘ کی پلاننگ پرمیشن کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔ اس مرحلہ پر کمیٹی کے ہندو اور سکھ ارکان نے بھی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال لندن کے قیام کی منظوری

۱۶ جون ۱۹۹۹ء

نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

اس ’’یادداشت‘‘ میں ملک کی داخلی، خارجی، دفاعی، معاشی، انتظامی اور قانونی پالیسیوں پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان سب تجاویز کا احاطہ تو اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند تجاویز کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ اسامہ بن لادن اور سعودی عرب کے دیگر علماء اور دانشوروں کا اصل موقف اور مشن کیا ہے جس کے لیے وہ محاذ آرائی، جلا وطنی اور قید و بند کے مراحل سے دوچار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

۲۷ فروری ۱۹۹۹ء

سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی، خدشات و تاثرات

بعض احباب کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان آل سعود اگر اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے تو کوئی اور سیاسی قوت اس درجہ کی نہیں جو موجودہ سعودی عرب کو متحد رکھ سکے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ملک تقسیم ہو جائے گا اور تیل سے مالا مال علاقوں پر مغربی اقوام کے مستقل تسلط کے علاوہ حجاز مقدس ایک الگ ریاست کی شکل میں سامنے آسکتا ہے جس کے پاس اپنے وسائل نہیں ہوں گے اور وہ ویٹی کن سٹی طرز کی ایک مذہبی اسٹیٹ بن کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی، خدشات و تاثرات

۱۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

ایرانی سفیر کے طالبان حکومت سے چار مطالبات

اگر طالبان کی حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق افغان عوام کو امن اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہی وقتی طور پر بدنامی کا باعث بننے والی سخت پالیسیاں اپنے نتائج کے لحاظ سے باقی دنیا کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتی ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ طالبان اپنے دعوؤں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تو تاریخ کے عجائب گھر میں ابھی بہت سے خانے خالی ہیں، کسی ایک میں وہ بھی فٹ ہو جائیں گے۔ لیکن اس کا فیصلہ ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے جس کا سب کو حوصلے کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایرانی سفیر کے طالبان حکومت سے چار مطالبات

۲۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن پر امریکی حملہ

ہم امریکی صدر بل کلنٹن سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف کیا ہے؟ کیا کسی کے خلاف ہتھیار اٹھانا مطلقاً دہشت گردی ہے؟ اور کیا اپنی آزادی، خود مختاری، اور حقوق کے لیے جابر اور ظالم قوتوں کو ہتھیار کا جواب ہتھیار کی زبان میں دینا بھی دہشت گردی کہلاتا ہے؟ اگر امریکی صدر کی منطق یہی ہے تو ہم بصد احترام یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ خود امریکہ نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور ہتھیار اٹھا کر برطانوی حکمرانوں کو امریکہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن پر امریکی حملہ

۲۹ اگست ۱۹۹۸ء

ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

برادر اسلامی ملک ترکی میں حکومت نے اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت مذہبی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے تعاون کو جرم قرار دینے کے علاوہ اسلامی شعائر و علامات کے اظہار کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ قانون فوج کے دباؤ کے تحت منظور کیا ہے جو خود کو سیکولرازم کی محافظ قرار دیتے ہوئے ہر اس رجحان کو کچل دینا چاہتی ہے جو کسی بھی درجے میں اسلامیت کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

۱۴ اپریل ۱۹۹۸ء

جنیوا معاہدہ ‒ کویت پر ایران کا حملہ

وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنیوا معاہدہ پر اپنی حکومت کے موقف کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’جنیوا معاہدہ نہ تو بہترین ہے اور نہ ہی جامع۔ تاہم موجودہ حالات کے تحت اس سے بہتر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘ اسی موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر زین نورانی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت نئی افغان حکومت میں مجاہدین اور ان کے رفقاء کی بھرپور شرکت کو نہیں روک سکے گی۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنیوا معاہدہ ‒ کویت پر ایران کا حملہ

۲۹ اپریل ۱۹۸۸ء

ایٹم بم اور چھوٹے ممالک

برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے گزشتہ دنوں اپنے دورۂ روس کے دوران ماسکو ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اصولی طور پر چھوٹے ملکوں کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی چھوٹا ملک ایٹم بم کے بغیر اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ایٹم بم ہی قیامِ امن کا ضامن بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایٹم بم اور چھوٹے ممالک

۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء

روسی وزیر دفاع کا دورۂ بھارت

روسی وزیردفاع مارشل استینوف تیس رکنی وفد کے ہمراہ ان دنوں بھارت کے دورہ پر ہیں اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ایک گھنٹہ کی علیحدہ ملاقات کے علاوہ بھارتی رہنماؤں سے باقاعدہ مذاکرات کیے اور بھارت کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا کہ بھارت کو دفاعی طور پر خودکفیل بنانے کے لیے روس اس کی امداد جاری رکھے گا اور بھارت کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ روس اور بھارت کے درمیان دوستی کا معاہدہ اور دفاع میں تعاون کے عنوان سے بھارت کو بھاری اسلحہ کی فراہمی کا یہ سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر روسی وزیر دفاع کا دورۂ بھارت

۲۶ مارچ ۱۹۸۲ء

افغانستان، پولینڈ اور اسرائیل

افغانستان میں روسی جارحیت کی شدت میں ابھی کمی نہیں ہوئی تھی کہ مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ میں ’’کمیونسٹ مارشل لاء‘‘ کا نفاذ اور اسرائیل کی طرف سے جولان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی کاروائی نے عالمی سیاست کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور پوری دنیا اس نئی کشمکش کے نتائج پر سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ افغانستان میں عالمی کمیونزم اپنے فروغ اور پولینڈ میں بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے لیکن افغانستان میں غیور افغان عوام اور پولینڈ میں آزاد مزدور تنظیم سالیڈیریٹی سوویت یونین کے ارادوں کی تکمیل میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان، پولینڈ اور اسرائیل

یکم جنوری ۱۹۸۲ء

ایرانی عوام کی جدوجہد

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم مکمل تحریر ایرانی عوام کی جدوجہد

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

اے ایف پی کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ جولائی میں جنوبی انگلستان کے شہر اولڈم میں پیدا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق انسانی بیضے کی رحم مادر سے باہر پرورش کا یہ تجربہ دو ڈاکٹروں نے انجام دیا ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کا کامیاب تجربہ کرنے والا انسانی ذہن اب نسل انسانی کو مصنوعی نسل کشی کے تجربات سے گزارنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

امریکی صدر نکسن سے استعفٰی کا مطالبہ

واٹر گیٹ اسکینڈل کے سلسلہ میں غلط بیانی کے اعتراف کے ساتھ ہی امریکہ کے صدر نکسن کو امریکہ کے قومی حلقوں حتیٰ کہ خود اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے استعفیٰ کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق اب مسٹر نکسن کے لیے استعفیٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کا قصور یہ ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے کچھ ذمہ دار شہریوں کے فون خفیہ طور پر ٹیپ کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی صدر نکسن سے استعفٰی کا مطالبہ

۹ اگست ۱۹۷۴ء

قبرص کا بحران!

قبرص کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں بین الاقوامی استعمار نے عالم اسلام کو الجھائے رکھنے کے لیے جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ کئی بار مسلح تصادم کا باعث بنا ہے اور آج بھی اس کے باعث ترکی اور یونان کے درمیان مسلح جنگ کے خطرات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ قبرص بحیرہ روم کا ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں یونانی عیسائی اور ترک مسلمان آباد ہیں۔ عیسائی اکثریت میں ہیں،مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے درمیان چپقلش مدت سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قبرص کا بحران!

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء