عبادت

نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں ۔ ۔ ۔

۱۳ جون ۲۰۱۶ء

’’عید محکوماں ہجومِ مومنین‘‘

آزاد قوموں کی عید تب ہوتی ہے جب ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ہو۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب ملک کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، قوم خود مختار ہوگی ، دین سر بلند ہوگا، اور ہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید نصیب فرمائیں، ملکی آزادی، قومی خود مختاری اور دین کی سر بلندی کی منزل سے ہمکنار کریں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۱۲ء

اسلام میں حج کا تصور اور نظم

فتح مکہ ۸ ہجری کے سال ہوئی۔ فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۹ ہجری میں آیا۔ نبی کریمؐ نے ۹ ہجری کا حج ادا نہیں فرمایا بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کی اِمارت میں صحابہ کرامؓ کو ادائیگیٔ حج کے لیے بھیجا۔ حضورؐ نے ۹ ہجری کا سال اصلاحات و تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے ذریعے ۹ ہجری کے حج کے موقع پر بہت سے اعلانات کروائے جو حج کے نظام کی تطہیر ، دیگر قوموں کے ساتھ معاہدات، جاہلی رسومات پر پابندی اور دیگر دینی و انتظامی امور کے متعلق تھے۔ یہ اعلان بھی ہوا کہ اگلے سال حضورؐ حج کے لیے تشریف لائیں گے ۔ ۔ ۔

۲۰۱۱ء

روزے کا تاریخی پس منظر اور رمضان المبارک کی فضیلت

روزے کا جو طریقہ و نظم پہلی امتوں میں تھا اسلام نے اس میں کچھ اصلاحات اور تبدیلیاں کیں۔ میں اس وقت دو بڑی تبدیلیوں کا ذکر کروں گا۔ ایک تبدیلی تو یہ کی کہ روزے کا دورانیہ کم کر دیا۔ پہلی امتوں میں آٹھ پہر کا روزہ ہوتا تھا، رات کو سونے سے پہلے پہلے کھانے پینے کی اجازت تھی لیکن رات کو جونہی سو گئے تو روزہ شروع ہوگیا، پھر دوسرے دن سورج کے غروب ہونے تک روزہ چلتا تھا۔ ہماری اصطلاح میں اسے آٹھ پہر کا روزہ کہتے ہیں۔ پہلی امتوں میں یہی تھا۔ ہم مسلمانوں کے لیے بھی آغاز میں روزے کا یہی دورانیہ تھا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۸ء (غالباً‌)

کیا حج کے موقع پر اجتماعی مسائل پر گفتگو ممنوع ہے؟

10 فروری 2002ء کو لاہور کے ایک روزنامہ نے ریاض سے ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے عازمین حج کو انتباہ کیا ہے کہ ادائیگی حج کے موقع پر امریکہ کے خلاف تنقید کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ مکہ کے گورنر شہزادہ عبدالمجید بن عبد العزیز نے عربی اخبار ’’عکاظ‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ حج امریکہ کے خلاف تنقید کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا ۔ ۔ ۔

۱۲ فروری ۲۰۰۲ء (غالباً)

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۴ اپریل ۱۹۷۴ء