عبادت

روزے کا تاریخی پس منظر اور رمضان المبارک کی فضیلت

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان المبارک اور اس کے ساتھ روزے کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بات بتائی ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں اور بھوکا پیاسا رہنا تمہارے لیے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ پھر یہ بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی امتوں پر روزے فرض کیے گئے تھے۔ اور جب سے یہ مذہب اور انسان چلے آرہے ہیں نماز، روزہ اور دیگر عبادات بھی چلی آرہی ہیں۔ یعنی تم سے پہلے لوگ بھی روزے رکھتے تھے اور ان پر بھی روزے ایسے ہی فرض تھے جیسے تم پر فرض کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر روزے کا تاریخی پس منظر اور رمضان المبارک کی فضیلت

۲۶ مئی ۲۰۱۸ء

نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

۱۳ جون ۲۰۱۶ء

’’عید محکوماں ہجومِ مومنین‘‘

آزاد قوموں کی عید تب ہوتی ہے جب ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ہو۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب ملک کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، قوم خود مختار ہوگی ، دین سر بلند ہوگا، اور ہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید نصیب فرمائیں، ملکی آزادی، قومی خود مختاری اور دین کی سر بلندی کی منزل سے ہمکنار کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’عید محکوماں ہجومِ مومنین‘‘

ستمبر ۲۰۱۲ء

اسلام میں حج کا تصور اور نظم

فتح مکہ ۸ ہجری کے سال ہوئی۔ فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۹ ہجری میں آیا۔ نبی کریمؐ نے ۹ ہجری کا حج ادا نہیں فرمایا بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کی اِمارت میں صحابہ کرامؓ کو ادائیگیٔ حج کے لیے بھیجا۔ حضورؐ نے ۹ ہجری کا سال اصلاحات و تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے ذریعے ۹ ہجری کے حج کے موقع پر بہت سے اعلانات کروائے جو حج کے نظام کی تطہیر ، دیگر قوموں کے ساتھ معاہدات، جاہلی رسومات پر پابندی اور دیگر دینی و انتظامی امور کے متعلق تھے۔ یہ اعلان بھی ہوا کہ اگلے سال حضورؐ حج کے لیے تشریف لائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں حج کا تصور اور نظم

۲۰۱۱ء

قبلِ اسلام اور ظہورِ اسلام کے بعد ادائیگیٔ حج میں فرق

حج اسلام کے بنیادی ارکان و فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ادا ہوتا تھا۔ بلکہ جب سے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا ہے تب سے حج کا فریضہ اب تک مسلسل ادا ہو رہا ہے اور منیٰ میں حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کی یاد بھی ہر سال تازہ کی جا رہی ہے۔ اسلام نے اس فریضہ اور قربانی دونوں کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ اسے اور زیادہ تقدس و حرمت سے نوازا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قبلِ اسلام اور ظہورِ اسلام کے بعد ادائیگیٔ حج میں فرق

۲ دسمبر ۲۰۰۸ء

رمضان اور اجتہاد

رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزرتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان اور اجتہاد

۵ نومبر ۲۰۰۳ء

حج کے موقع پر امریکہ کے خلاف تنقید پر پابندی

10 فروری 2002ء کو لاہور کے ایک روزنامہ نے ریاض سے ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے عازمین حج کو انتباہ کیا ہے کہ ادائیگی حج کے موقع پر امریکہ کے خلاف تنقید کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ مکہ کے گورنر شہزادہ عبدالمجید بن عبد العزیز نے عربی اخبار ’’عکاظ‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ حج امریکہ کے خلاف تنقید کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حج کے موقع پر امریکہ کے خلاف تنقید پر پابندی

۱۲ فروری ۲۰۰۲ء (غالباً)

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

۴ اپریل ۱۹۷۴ء