اجتہاد

برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

۱۸۵۷ء سے پہلے برصغیر (پاک وہند وبنگلہ دیش و برما وغیرہ) کے قانونی نظام پر فقہ حنفی کی حکمرانی تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے دورمیں مرتب کیا جانے والا ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ قانون کی دنیا میں اس ملک کے دستور و قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ مسلم عوام کی اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار تھی، حتیٰ کہ قانون کی عمل داری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھی فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری کے ذریعے ہی اس عمل میں درجہ بدرجہ شریک ہوتے تھے۔ البتہ اس اجتماعی رجحان کے ماحول میں کچھ مستثنیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

اکتوبر ۲۰۱۳ء

پیش لفظ ’’عصر حاضر میں اجتہاد ۔ چند فکری و عملی مباحث‘‘

اجتہاد کے حوالے سے اس وقت عام طور پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں: (۱) ایک یہ کہ دین کے معاملات میں جتنا اجتہاد ضروری تھا وہ ہو چکا ہے، اب اس کی ضرورت نہیں ہے، اس کا دروازہ کھولنے سے دین کے احکام و مسائل کے حوالے سے پنڈورا بکس کھل جائے گا اور اسلامی احکام و قوانین کا وہ ڈھانچہ جو چودہ سو سال سے اجتماعی طور پر چلا آرہا ہے، سبوتاژ ہو کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ (۲) جب کہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اجتہاد آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، دین کے پورے ڈھانچے کو اس عمل سے دوبارہ گزارنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیش لفظ ’’عصر حاضر میں اجتہاد ۔ چند فکری و عملی مباحث‘‘

۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

عقلی مصالح کی بنیاد پر منصوص احکام میں اجتہاد

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر و نواہی اور قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام و فرائض کا عقل و مصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں: ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے اور بس! اس سے زیادہ ان میں غور و خوض کرنا اور ان میں مصلحت و معقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل و مصلحت پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقلی مصالح کی بنیاد پر منصوص احکام میں اجتہاد

دسمبر ۲۰۰۷ء

جدید سیاسی نظام اور اجتہاد

’’اقبال کا تصور اجتہاد‘‘ کے عنوان سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام یہ تین روزہ سیمینار ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ پوری دنیائے اسلام میں اجتہاد کے بارے میں نہ صرف یہ کہ بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے مختلف اور متنوع پہلو ارباب علم و دانش کی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں، بلکہ مختلف سطحوں پر اجتہاد کا عملی کام بھی پہلے سے زیادہ اہمیت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت کر رہا ہے اور امت مسلمہ میں اجتہاد کی ضرورت و اہمیت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید سیاسی نظام اور اجتہاد

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

ہمارے بعض دانشور دوستوں کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ ہم آخر کیوں ایسا نہیں کرسکتے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے اب تک صدیوں سے چلے آنے والے فریم ورک کو چیلنج کرکے اس کی نفی کریں اورمارٹن لوتھر کی طرح قرآن وسنت کی نئی تعبیرو تشریح کی بنیاد رکھیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کے جذبہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کی ’’قدم بہ قدم‘‘پیروی کا راستہ اختیار کیا اور قرآن وسنت کی تعبیر نو کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام مارٹن لوتھر کی وفات کے فوراً بعد اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

جنوری ۲۰۰۷ء

اقبالؒ کا تصور اجتہاد

علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ ۔ ۔ ۔ علامہ محمد اقبالؒ فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علمائے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کا تصور اجتہاد

نومبر ۲۰۰۶ء

اجتہاد ۔ اعتدال کی راہ کیا ہے؟

’’اجتہاد‘‘ موجودہ دور میں زیربحث آنے والے اہم عنوانات میں سے ایک ہے اور یہ دین کی تعبیر کے حوالے سے قدیم و جدید حلقوں کے درمیان کشمکش کی ایک وسیع جولانگاہ ہے۔ اس پر دونوں طرف سے بہت کچھ لکھا گیا ہے، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ اور جب تک قدیم و جدید کی بحث جاری رہے گی یہ موضوع بھی تازہ رہے گا۔ اجتہاد کے حوالے سے اس وقت عام طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتہاد ۔ اعتدال کی راہ کیا ہے؟

۱۳ جولائی ۲۰۰۶ء

پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۳۱ مارچ ۲۰۰۵ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

اپریل ۲۰۰۳ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

سابقہ دو مضامین کے بارے میں ’’اوصاف‘‘ میں ایک دو مراسلے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے کے بارے میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی وضاحت ابھی پوری طرح نہیں ہو پائی اور کچھ ذہنوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے اس ضمن میں کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی ’’مجتہد‘‘ سامنے آجائے تو اسے اجتہاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

۱۰ مئی ۱۹۹۹ء

کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

آج کی صحبت میں ایک اہم سوال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’’کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟‘‘ یعنی آج اگر کوئی اجتہاد کرنا چاہے تو اس کی کس حد تک اجازت ہے؟ کیونکہ عام طور پر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کی بات اس قدر مشہور ہوگئی ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا لفظ کسی کی زبان پر آتے ہی بہت سے حلقوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس حوالہ سے صحیح رخ پر بھی بات کرنا چاہتا ہے تو تذبذب اور ہچکچاہٹ کے کانٹوں سے دامن چھڑانا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

۶ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

جولائی ۱۹۹۶ء

شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

ان دنوں قومی اخبارات میں ’’عورت کی حکمرانی‘‘ کے بارے میں بحث کا سلسلہ چل رہا ہے اور عورت کی حکمرانی کے جواز اور عدم جواز پر دونوں طرف سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ جو حضرات عورت کی حکمرانی کو شرعاً جائز نہیں سمجھتے وہ اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ کے علاوہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات اور امت کا چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

جون و جولائی ۱۹۹۲ء

شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

صدر مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی توڑے جانے کے بعد عوامی سطح پر شریعت بل کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ اگرچہ وقتی طور پر رک گیا ہے اور شریعت بل کی منظوری اور نفاذ کے بارے میں لوگ ۲۴ اکتوبر کو معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اہل دانش کے ہاں شریعت بل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ملک کے دو معروف قانون دانوں ریٹائرڈ جسٹس جناب جاوید اقبال اور جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کے مضامین گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات کی زینت بنے ہیں جن میں شریعت بل کے حوالہ سے چند نکات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

اکتوبر ۱۹۹۰ء