اجتہاد

برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

۱۸۵۷ء سے پہلے برصغیر (پاک وہند وبنگلہ دیش و برما وغیرہ) کے قانونی نظام پر فقہ حنفی کی حکمرانی تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے دورمیں مرتب کیا جانے والا ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ قانون کی دنیا میں اس ملک کے دستور و قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ مسلم عوام کی اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار تھی، حتیٰ کہ قانون کی عمل داری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھی فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری کے ذریعے ہی اس عمل میں درجہ بدرجہ شریک ہوتے تھے۔ البتہ اس اجتماعی رجحان کے ماحول میں کچھ مستثنیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۱۳ء

تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

ہمارے بعض دانشور دوستوں کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ ہم آخر کیوں ایسا نہیں کرسکتے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے اب تک صدیوں سے چلے آنے والے فریم ورک کو چیلنج کرکے اس کی نفی کریں اورمارٹن لوتھر کی طرح قرآن وسنت کی نئی تعبیرو تشریح کی بنیاد رکھیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کے جذبہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کی ’’قدم بہ قدم‘‘پیروی کا راستہ اختیار کیا اور قرآن وسنت کی تعبیر نو کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام مارٹن لوتھر کی وفات کے فوراً بعد اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۷ء

اقبالؒ کا تصور اجتہاد

علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ ۔ ۔ ۔ علامہ محمد اقبالؒ فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علمائے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۶ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

اپریل ۲۰۰۳ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

سابقہ دو مضامین کے بارے میں ’’اوصاف‘‘ میں ایک دو مراسلے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے کے بارے میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی وضاحت ابھی پوری طرح نہیں ہو پائی اور کچھ ذہنوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے اس ضمن میں کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی ’’مجتہد‘‘ سامنے آجائے تو اسے اجہتاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟ ۔ ۔ ۔

۱۰ مئی ۱۹۹۹ء

کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

آج کی صحبت میں ایک اہم سوال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’’کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟‘‘یعنی آج اگر کوئی اجتہاد کرنا چاہے تو اس کی کس حد تک اجازت ہے؟ کیونکہ عام طور پر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کی بات اس قدر مشہور ہوگئی ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا لفظ کسی کی زبان پر آتے ہی بہت سے حلقوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس حوالہ سے صحیح رخ پر بھی بات کرنا چاہتا ہے تو تذبذب اور ہچکچاہٹ کے کانٹوں سے دامن چھڑانا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں ۔ ۔ ۔

۶ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔

یکم اپریل ۱۹۹۹ء