بھارت

دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں

بھارت سے واپس آئے ہوئے دو ہفتے گزرنے کو ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی تک دیوبند اور دہلی کے ماحول میں ہوں۔ کچھ تو اپنا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ ’’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘‘ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوستوں کا حال یہ ہے کہ جہاں جاتا ہوں اسی داستانِ محبت کو دہرانے کا تقاضہ ہو جاتا ہے۔ اپنے علمی، فکری اور روحانی مرکز کے ساتھ دیوبندیوں کی عقیدت و محبت کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے! 18 دسمبر بدھ کو واپسی پر واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی پہلا فون گوجرانوالہ سے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کا آیا ۔ ۔ ۔

۲ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دہلی میں تین روزہ قیام ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دو روز دیوبند میں قیام اور کانفرنس کی چار نشستوں میں شرکت کے بعد ہفتہ کی شام کو ہم دہلی پہنچے، جمعیۃ علماء ہند ہماری میزبان اور داعی تھی، کچھ حضرات کا قیام جمعیۃ کے دفتر میں رہا اور باقی دوستوں کو ترکمان گیٹ کے قریب دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ 15 دسمبر کا دن رام لیلا میدان میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی عمومی نشست میں گزر گیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے اڑھائی بجے تک مسلسل جاری رہی اور بھارت کے طول و عرض سے ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے اس میں شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲۷ دسمبر ۲۰۱۳ء

سرہند شریف، سہارنپور، دیوبند ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

بدھ کو امرتسر اور لدھیانہ سے ہوتے ہوئے ہم رات چندی گڑھ پہنچے تھے، جمعرات کو صبح وہاں سے سرہند شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قبر پر حاضری کا پروگرام تھا مگر اس سے قبل چندی گڑھ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر مغلیہ دور سے چلے آنے والے ایک باغ میں جانا ہوا۔ پنجور گارڈن کے نام سے یہ باغ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور دور دراز سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے یہ باغ بنوایا تھا، قریب میں پنجور نامی بستی ہے جس کے حوالے سے یہ معروف تھا ۔ ۔ ۔

۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

لدھیانہ اور چندی گڑھ میں ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دیوبند اور دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے 11 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم واہگہ بارڈر کراس کر کے بارہ بجے کے لگ بھگ انڈیا میں داخل ہوئے تو پروگرام یہ بنا کہ ظہر کی نماز امرتسر کی مسجد خیر دین میں ادا کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نماؤں نے جو دہلی اور دیوبند سے تشریف لائے ہوئے تھے اور امرتسر کے بس ٹرمینل پر پاکستان کے قافلہ کا انتظار کر رہے تھے، استقبال اور خیر مقدم کے مرحلہ سے فارغ ہوتے ہی تقاضہ کیا کہ ۔ ۔ ۔

۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

دیوبند کا سفر ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

جنوبی افریقہ جاتے ہوئے آخری وقت مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ دیوبند اور دہلی میں 13، 14 اور 15 دسمبر کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں جن میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا ایک بھرپور وفد جا رہا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اس وفد میں میرا نام بھی شامل کر رکھا ہے۔ میں نے اس کرم فرمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن اس وقت میں ویزے کے لیے پاسپورٹ ان کے سپرد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس لیے واپسی پر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔

۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

پاک بھارت تعلقات ۔ ایک جائزہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان قومی سطح پر دشمنی کے جذبات کا ماحول برقرار رکھنا عالمی استعمار کی طے شدہ پالیسی اور ایجنڈے کا حصہ ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ ۔ ۔ پاکستان میں قوم کی وحدت کی اصل بنیاد بھارت دشمنی نہیں ہے، بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ محبت وعقیدت ہماری قومی وحدت کی اصل اساس ہے جس کا اظہار ابھی حال میں ناموس رسالتؐ کے قانون کے حوالے سے قوم کے کم وبیش تمام طبقات نے متحد ہو کر ایک بار پھر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔

اپریل ۲۰۱۱ء

بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں میں یہ بات بھی شامل رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح وطلاق کے تنازعات اور دیگر باہمی معاملات شرعی عدالتوں کے ذریعے سے حل کرائیں۔ اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں تحکیم کی صورت میں دونوں فریق مقدمہ لاتے ہیں اور شرعی عدالتیں ’حکم‘ کی حیثیت سے ان کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کے نام سے یہ پرائیویٹ نظام بہت پہلے سے قائم ہے جس میں ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۵ء

بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۳ء

بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء