انسانی حقوق

آسیہ مسیح کیس کا سماجی تناظر

مولانا مفتی منیب الرحمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آسیہ مسیح کیس میں عدالت عظمٰی کے فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل کی جلد سماعت شروع کی جائے اور اس کے لیے فل بنچ قائم کیا جائے۔ مفتی صاحب محترم کا یہ تقاضہ درست ہے اور ہماری گزارش بھی یہی ہے کہ عدالت عظمٰی کو اس پر سنجیدہ اور فوری توجہ دینی چاہیے جبکہ اس کے ساتھ چند دیگر متعلقہ امور کی طرف بھی دلانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ فیصلہ تین حوالوں سے توجہ طلب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسیہ مسیح کیس کا سماجی تناظر

۸ دسمبر ۲۰۱۸ء

اسلام آباد میں انسانی حقوق کا سہ روزہ

گزشتہ ہفتہ کے آخری تین دن اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ماحول میں گزرے، حافظ محمد حذیفہ خان سواتی اور مفتی محمد عثمان جتوئی ہمراہ تھے۔ ہم نے شریعہ اکادمی کے تحت منعقد ہونے والی تین روزہ ورکشاپ میں شرکت کی جو ’’حقوق انسانی کا قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر منعقد ہوئی۔ جس کے لیے شریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اور ڈاکٹر حبیب الرحمان کا ذوق و محنت بڑا محرک تھا جبکہ معاونین میں مولانا محمد ادریس اور جناب اصغر شہزاد کی مساعی کارفرما تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد میں انسانی حقوق کا سہ روزہ

یکم دسمبر ۲۰۱۸ء

اسلام میں خواتین کے حقوق

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔ اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں (۱) اسقاط حمل (۲) کارو کاری (۳) نو عمری کی شادی اور (۴) چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں خواتین کے حقوق

۶ جولائی ۲۰۱۵ء

وراثت میں خواتین کے ساتھ نا انصافی

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی روایت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ایک ٹکہ بھی نہیں دیا جاتا، انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے۔ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت بچانے کے لیے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دیے ہیں اس سے کوئی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، وقت آگیا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وراثت میں خواتین کے ساتھ نا انصافی

۲۷ فروری ۲۰۱۵ء

خواتین کی نسل کشی، دورِ جاہلیت کی روش

ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ’’آن لائن‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک تنظیم متحرک ہوئی ہے جس کا نام ’’جینڈرسائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ بتایا گیا ہے اور اس کی بانی چیئرمین بیورلی بل نامی خاتون ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ڈیلس میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ میں کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سرفہرست ہے اور اس کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس ضمن میں پیچھے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خواتین کی نسل کشی، دورِ جاہلیت کی روش

۲۷ اپریل ۲۰۱۴ء

افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک

انسانوں کی تجارت قدیم دور سے جاری ہے اور ہر زمانے میں اس کی کوئی نہ کوئی شکل موجود رہی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت بھی یہ سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری تھا۔ خود حضورؐ کے صحابہؓ میں سے حضرت زید بن حارثہؓ اسی انسان فروشی کے باعث غلام بنے تھے اور فروخت ہوتے ہوتے آپؐ کی بابرکت غلامی تک پہنچے تھے، مگر آپ نے انھیں آزاد کر کے منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ بھی اسی بردہ فروشی کا شکار ہوئے اور فروخت ہوتے ہوتے مدینہ منورہ کے ایک یہودی خاندان کی غلامی میں آ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک

ستمبر ۲۰۱۰ء

اسلام کا متوازن فلسفۂ حقوق اور اقوام متحدہ کا منشور

اس سال ’’شریعہ بورڈ نیویارک‘‘ نے مسجد حمزہ میں میری حاضری پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا موضوع ’’انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات‘‘ تھا۔ اس پروگرام میں علماء کرام اور دینی ذوق رکھنے والے حضرات کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ایک نشست مغرب تک ہوئی جس میں اسلام کے فلسفۂ حقوق پر گفتگو ہوئی اور دوسری نشست مغرب سے عشاء تک تھی جس میں حقوق انسانی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں کچھ تحفظات کا ذکر کیا گیا۔ دونوں نشستوں میں کم و بیش دو گھنٹے کی مفصل گفتگو کے چند اہم نکات نذرِ قارئین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا متوازن فلسفۂ حقوق اور اقوام متحدہ کا منشور

۲ اگست ۲۰۱۰ء

جدید دور میں عورت کے لیے زندگی کا حق

بلوچستان میں پانچ عورتوں کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے اور اسے قبائلی روایات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس سلسلہ میں مسلسل متحرک ہیں۔ سینٹ آف پاکستان نے بھی مذمت کی قرارداد منظور کی ہے اور اس سانحہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات تو انکوائری کی رپورٹ سامنے آنے پر ہی معلوم ہوں گی لیکن کسی انسان کی روح کو لرزا دینے کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ پانچ عورتوں کو ایک قبائلی رسم کی بھینٹ چڑھا کر زندگی کے حق سے محروم کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید دور میں عورت کے لیے زندگی کا حق

۱۱ ستمبر ۲۰۰۸ء

مغرب میں انسانی حقوق کی تاریخ اور جواہر لال نہرو کے خطوط

۱۰ دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا ۳۰ نکاتی اعلامیہ منظور کیا تھا جسے آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی معیار قرار دے کر تمام اقوام و ممالک پر اس کے احترام اور پابندی کے لیے مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی طرف سے اس منشور کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب میں انسانی حقوق کی تاریخ اور جواہر لال نہرو کے خطوط

۸ و ۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

آج جبکہ میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں دس دسمبر ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

پاکستان اور لاؤس میں بھکاریوں کا فرق

وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی ان دنوں لاؤس کے دورے پر ہیں، لاہور کے ایک قومی اخبار کی مختصر خبر کے مطابق انہوں نے لاؤس کے دارالحکومت میں ایک اخبار نویس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ لاؤس انہیں کوئی بھکاری نظر نہیں آیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھکاری بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مختصر سا تاثر یا تبصرہ ہے جو جمالی صاحب نے بھکاریوں کے حوالہ سے پاکستان اور لاؤس کی صورتحال میں نظر آنے والے فرق پر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان اور لاؤس میں بھکاریوں کا فرق

۲۵ اپریل ۲۰۰۴ء

عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو تنظیمیں اور ادارے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی اکثریت کا ایجنڈا مغربی ثقافت کی عملداری ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور اس کی عملداری میں مصروف ہیں، جبکہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے داخلی نظام کے بارے میں، اس کے طرز عمل کے بارے میں، اس کے طریق کار کے بارے میں اور اس کے چارٹر کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں جو دلیل کی بنیاد پر ہیں اور حقائق کے تناظر میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

۲۰ فروری ۲۰۰۴ء

اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

جمیع بن حاضر الباجی نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں۔ چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگیا اور اسلامی فوج پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئی۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندے حیران و ششدر رہ گئے اور اصول و احکام کی اس پاسداری کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کی دعوت پر اسلامی فوج نے پھر شہر میں داخل ہو کر سمرقند کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء

معاشرتی حقوق اور اسلامی تعلیمات

اس واقعہ کے راوی حضرت سہل بن ساعدؓ کہتے ہیں کہ یہ جواب سن کر آنحضرتؐ نے وہ پیالہ اس بچے کے ہاتھ میں اس طرح تھمایا کہ اس میں ناگواری کے اثرات محسوس ہو رہے تھے۔اس سے اندازہ کر لیجیے کہ جناب نبی اکرمؐ کی نظر میں باہمی حقوق کی کیا اہمیت تھی کہ خود حضورؐ وہ پیالہ دوسری طرف دینا چاہتے تھے لیکن حق والا اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوا جس پر آپؐ کو ناگواری ہوئی مگر اس کے باوجود پیالہ اسی کے ہاتھ میں دیا جس کا حق تھا۔ ایسا کر کے جناب رسول اللہؐ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ باہمی حقوق کی ادائیگی کا کس درجہ اہتمام ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرتی حقوق اور اسلامی تعلیمات

۷ جولائی ۲۰۰۰ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ اجلاس

جون ۲۰۰۰ء سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ کے عنوان سے شروع ہے جو ۹ جون تک جاری رہے گا اور اس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا موضوع ’’خواتین کی صنفی مساوات اور اکیسویں صدی‘‘ بتایا جاتا ہے اور یہ ان عالمی کانفرنسوں کے تسلسل کا حصہ ہے جو خواتین کے حقوق اور مساوات کو اجاگر کرنے کے لیے اس سے قبل مختلف اوقات میں کوپن ہیگن، نیروبی، قاہرہ اور بیجنگ میں منعقد ہو چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ اجلاس

۸ جون ۲۰۰۰ء

حق مہر اور دوسری شادی

نکاح میں بیوی کے حق مہر کے بارے میں ان کالموں میں متعدد بار معروضات پیش کی جا چکی ہیں مگر اس سلسلہ میں ہمارے معاشرہ میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی نہ کوئی لطیفہ سامنے آتا ہی رہتا ہے۔ اور بسا اوقات اچھے خاصے پڑھے لکھے دوست اس معاملہ میں اس قدر بے خبر نکلتے ہیں کہ بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔ دوسری شادی کرنے والے کسی صاحب کو ہائیکورٹ کے ایک محترم جج نے حکم دیا ہے کہ چونکہ اس نے دوسری شادی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر کی ہے اس لیے وہ پہلی بیوی کو اس کا پورا حق مہر ادا کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق مہر اور دوسری شادی

۲۰ مئی ۲۰۰۰ء

مسلم پرسنل لاء: مولانا محی الدین خان کی فکر انگیز باتیں

۱۷ اگست ۱۹۹۹ء کو ایسٹ لندن میں واقع دارالامہ میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک فکری نشست میں ڈھاکہ کے بزرگ عالم دین مولانا محی الدین خان مہمان خصوصی تھے اور نشست کا عنوان تھا ’’مغربی ممالک میں مسلم پرسنل لاء کی اہمیت‘‘ ۔ نشست کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی جبکہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، حافظ عبد الرشید ارشد اور دیگر مقررین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی گزارشات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم پرسنل لاء: مولانا محی الدین خان کی فکر انگیز باتیں

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

حق مہر اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق مہر اور عورت کی مظلومیت

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

اسلام اور خواتین کے حقوق

انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک عورت ہے جس کا نسلِ انسانی کی نشوونما اور ترقی میں اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس اور احترام بخشا بلکہ اس کی اہمیت و افادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت کو انسانی معاشرہ میں ایک آزاد اور خودمختار وجود کی حیثیت حاصل نہ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور خواتین کے حقوق

۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

ترکی میں بدکاری کی سزا اور لندن کے فون باکسز

پھر وہی ہوگا جو مغربی معاشرہ میں ہو رہا ہے کہ رشتوں کا تقدس فضا میں تحلیل ہو جائے گا، خاندان بکھر جائیں گے، اولڈ پیپلز ہومز آباد ہوں گے، بوڑھی مائیں اور باپ اپنی اولاد کو دیکھنے کے لیے عید کا انتظار کیا کریں گے، اور لندن میں عام نظر آنے والے ایک اشتہار کے مطابق ماں اپنی لڑکی کو اسکول جانے سے قبل پوچھا کرے گی کہ کیا اس نے بستے میں ’’کنڈوم‘‘ رکھ لیے ہیں، اور قوم کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں ماحول کی خرابی اور اخلاق کی گراوٹ کا رونا رو کر مطمئن ہوں گے کہ انہوں نے برائی کے خاتمہ کے لیے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی میں بدکاری کی سزا اور لندن کے فون باکسز

۹ جولائی ۱۹۹۸ء

اسلام اور عورت کا اختیار

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور عورت کا اختیار

۳۱ جولائی ۱۹۹۶ء

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ

روزنامہ جنگ لندن ۸ جولائی کی ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی اس سال کی رپورٹ میں بھی توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کو موضوع بحث بنایا ہے اور ان تمام قوانین کے ضمن میں درج مقدمات اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ

اگست ۱۹۹۵ء

کمیونزم نہیں اسلام

کمیونزم ایک انتہا پسندانہ اور منتقمانہ نظام کا نام ہے جو سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مظالم کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔ محنت کشوں اور چھوٹے طبقوں کی مظلومیت اور بے بسی کو ابھارتے ہوئے اس نظام نے منتقمانہ جذبات اور افکار کو منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ کھیل اسلامی ممالک اور پاکستان میں بھی کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام اپنی تمام تر خرابیوں اور مظالم کے ساتھ آج بھی نافذ ہے اور اس ظالمانہ نظام نے انسانی معاشرت کو طبقات میں تقسیم کر کے انسان پر انسان کی خدائی اور بالادستی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کمیونزم نہیں اسلام

مئی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۱۹ و ۲۰

محنت کش اور اسلامی نظام

محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محنت کش اور اسلامی نظام

یکم اپریل ۱۹۸۳ء