عراق

اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔

۳ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

پسپائی اور شکست ، مسلمانوں کا مقدر کیوں؟

حرم کعبہ کے امام محترم الشیخ عبد الرحمن السدیس نے ایک انٹرویو میں عراق کی صورتحال کے حوالے سے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شکست سے مایوس نہ ہوں بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں امام محترم کے اس ارشاد سے مکمل اتفاق ہے کیونکہ شکست اور ناکامی سے مایوس ہو کر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا زندہ قوموں کا شعار نہیں۔ زندگی کی حرارت رکھنے والی قومیں اپنی ناکامی اور شکست کے اسباب کا جائزہ لیتی ہیں اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کے لیے اپنی ترجیحات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۲ اپریل ۲۰۰۳ء

بغداد کی تاریخ پر ایک نظر

دجلہ کے کنارے بغداد نامی بستی کافی عرصہ سے آباد تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ’’بغ‘‘ نامی ایک بت سے منسوب تھی جبکہ ’’داد‘‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی ’’عطیہ‘‘ ہے۔ اس طرح اس کا معنٰی بنتا ہے ’’بغ کا عطیہ‘‘۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ’’بغ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی بولا جانے لگا تھا اس لیے یہ ’’اللہ تعالیٰ کا عطیہ‘‘ کے معنی میں ہے۔ اور بعض مورخین کی نکتہ رسی نے اسے ’’باغ داد‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ نوشیرواں عادل اس جگہ باغ میں بیٹھ کر داد انصاف دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ ۔ جنگ کا تیسرا ہفتہ

اب ایک اور ہلاکو خان دجلہ کے پانیوں کو عراقی مسلمانوں کے خون سے سرخ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا منظر ایک بار پھر تاریخ کے مطالعہ کے ذریعہ ذہنوں میں تازہ کر لینا چاہیے۔ تاریخی عمل کے اس ادراک کے ساتھ کہ قوموں کی زندگی میں یہ مراحل آیا ہی کرتے ہیں اور قوموں کو اپنے تاریخی سفر میں ایسی گھاٹیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے، اور اس یقین کے ساتھ کہ جہاں تک ایمان و عقیدہ اور اسلام کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ کے سقوط جیسے سانحوں اور زلزلوں میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے ۔ ۔ ۔

۷ اپریل ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملہ!

امریکہ نے عراق کو غیر مسلح کرنے میں دس سال صرف کیے اور گزشتہ بیس سال کے دوران صرف اس کام کے لیے ساری صلاحیتیں استعمال کی گئیں کہ عراق کوئی مؤثر ہتھیار نہ بنا سکے اور کوئی ایسا ہتھیار حاصل نہ کرسکے جو اس پر حملہ کی صورت میں امریکی فوجیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہو۔ عراق کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسے اسلحہ کی تیاری سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں گھسیٹا گیا۔ اس کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کی گئی تاکہ وہ کسی جنگ کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ ۔ ۔

۲۶ مارچ ۲۰۰۳ء