اسرائیل

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۷ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں، وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔

۱۷ جولائی ۲۰۱۴ء

مسلم دنیا میں جمہوریت کا کھیل

ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردگان نے انقرہ میں اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں فوجی بغاوت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے اور ہمارے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب جمہوریت کی نئی تعریف کی کوششوں میں مصروف ہے اس لیے اگر اخوان المسلمون نے انتخابات جیت بھی لیے تو وہ برسرِ اقتدار نہیں آئے گی کیونکہ حالیہ اقدامات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جمہوریت بیلٹ بکس کا نام نہیں ہے اور آج کے دانش ور یہی رائے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۴ اگست ۲۰۱۳ء

اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو 15 مئی 1948ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا ۔ ۔ ۔

۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

امریکی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ اور مسئلہ فلسطین

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے ا ب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم وکرم پرچھوڑدیں۔ اور اسرائیل جوکچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کردیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لاناچاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۸ء

اسرائیل کی متنازعہ حیثیت

سردار محمد عبد القیوم خان صاحب سے ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ وہ لینے اور دینے کا پیمانہ ایک ہی رکھیں کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔ اس لیے کہ اگر فلسطین میں طاقت کے زور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا گیا تو کشمیر میں اس اصول کو لاگو ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ سردار صاحب کا یہ کہنا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ بات اگر کوئی سیکولر لیڈر یا دانشور کہتا تو ہمیں کوئی اشکال نہ ہوتا لیکن سردار محمد عبد القیوم خان کی زبان سے یہ جملہ سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون کا مسلسل ورد کرنے کے علاوہ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔

۱۵ جولائی ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

مصر کے قومی اخبار الاہرام پر ایک نظر ۔ (برطانیہ کا سفر ۲۰۰۰ء)

مرکزی سرخی مصر کے صدر حسنی مبارک اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی ملاقات کے بارے میں ہے جس میں اسرائیل کی تازہ صورتحال، نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حالیہ وحشیانہ تشدد، اور چند روز میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کے اہم نکات زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ ہی صفحۂ اول پر خبر ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس میں کم و بیش ستر بادشاہوں اور حکومتی سربراہوں کی شرکت متوقع ہے۔ اور مصری صدر کی اہلیہ سوزان مبارک کی سربراہی میں فلسطینی شہداء کے خاندانوں کی امداد کے لیے فنڈ کے قیام کا اعلان ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۰ء

فلسطین میں یہودی آباد کاری کا پس منظر

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء