اسرائیل

نتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔ اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر

۱۳ ستمبر ۲۰۱۹ء

کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

۱۱ جنوری ۲۰۱۹ء

امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد

امریکہ نے بالآخر بیت المقدس شہر میں اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے تشدد کی تازہ ترین کارروائی بھی اسی روز ہوئی ہے جس دن یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی باقاعدہ منتقلی ہوئی کہ اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام پر احتجاج کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بیت المقدس شہر خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور اس کی مستقل حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، مگر امریکہ نے بین الاقوامی فیصلوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد

جون ۲۰۱۸ء

بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

جنوری ۲۰۱۸ء

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

۷ اگست ۲۰۱۴ء

اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور فلسطین پر اس کے قبضہ کا پس منظر

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور زمینی فوجوں کی کاروائیاں مسلسل جاری ہیں، سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، مکانات جل گئے ہیں اور ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، مگر عالمِ اسلام پر سکوت مرگ طاری ہے اور خاص طور پر مسلم حکمران بے حسی اور بے بسی کی عبرتناک تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جب سے وجود میں آیا ہے اس کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف جبر و تشدد اور ظلم و استبداد کا یہ عمل مسلسل جاری ہے، لاکھوں فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور فلسطین پر اس کے قبضہ کا پس منظر

اگست ۲۰۱۴ء

فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں، وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

۱۷ جولائی ۲۰۱۴ء

مسلم دنیا میں جمہوریت کا کھیل

ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردگان نے انقرہ میں اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں فوجی بغاوت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے اور ہمارے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب جمہوریت کی نئی تعریف کی کوششوں میں مصروف ہے اس لیے اگر اخوان المسلمون نے انتخابات جیت بھی لیے تو وہ برسرِ اقتدار نہیں آئے گی کیونکہ حالیہ اقدامات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جمہوریت بیلٹ بکس کا نام نہیں ہے اور آج کے دانش ور یہی رائے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم دنیا میں جمہوریت کا کھیل

۲۴ اگست ۲۰۱۳ء

اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو 15 مئی 1948ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ نے خبر شائع کی ہے کہ: ’’مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اسرائیل کی شہریت کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سابقہ فتوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنا شرعی حوالہ سے حرام ہے کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالہ سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا بھی ہے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پھیلے اس با برکت شہر کی آبادی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں

فروری ۲۰۱۳ء

مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

مارچ ۲۰۰۹ء

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے اب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اور اسرائیل جو کچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کر دیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

فروری ۲۰۰۸ء

اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی

لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی

ستمبر ۲۰۰۶ء

اسلامی بینکاری کی طرف پیش رفت

ایک خبر کے مطابق ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے اسلامک فنانشل سروسز انڈسٹری کے تحت دس سالہ پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور اسلامک فنانشل سروسز بورڈ کے مشترکہ تعاون سے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، اسلامک فنانشل سروسز کو عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا جائے گا اور اسلامی بینکاری میں اجارہ، مضاربہ، مرابحہ، مشارکہ، قرض حسنہ، صدقہ، سکوک، تکافل، زکٰوۃ کے فروغ اور اسے لاگو کرنے کے لیے پالیسیاں وضع کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی بینکاری کی طرف پیش رفت

فروری ۲۰۰۶ء

پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کی ملاقات

پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری اور اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شلوم کے درمیان گزشتہ دنوں استنبول میں ہونے والی ملاقات حسب توقع دنیا بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اس کے حق میں اور خلاف دلائل دیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کوئی بھی دو ملک آپس میں کسی بھی سطح پر رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان ملاقات و مذاکرات کا اہتمام ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اسرائیل کے بارے میں پاکستان عوام کے جذبات میں شدت و حساسیت پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کی ملاقات

ستمبر ۲۰۰۵ء

کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ صاحب کے ارشاد کے حوالہ سے آپ کا کالم نظر سے گزرا۔ میری طالب علمانہ رائے میں ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا ارشاد بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

ستمبر ۲۰۰۳ء

میاں اجمل قادری، سردار عبد القیوم اور اسرائیل

سردار محمد عبد القیوم خان صاحب سے ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ وہ لینے اور دینے کا پیمانہ ایک ہی رکھیں کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔ اس لیے کہ اگر فلسطین میں طاقت کے زور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا گیا تو کشمیر میں اس اصول کو لاگو ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ سردار صاحب کا یہ کہنا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ بات اگر کوئی سیکولر لیڈر یا دانشور کہتا تو ہمیں کوئی اشکال نہ ہوتا لیکن سردار محمد عبد القیوم خان کی زبان سے یہ جملہ سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون کا مسلسل ورد کرنے کے علاوہ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں اجمل قادری، سردار عبد القیوم اور اسرائیل

۱۵ جولائی ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

۱۰ اکتوبر کے ’’الاہرام‘‘ پر ایک نظر

مرکزی سرخی مصر کے صدر حسنی مبارک اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی ملاقات کے بارے میں ہے جس میں اسرائیل کی تازہ صورتحال، نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حالیہ وحشیانہ تشدد، اور چند روز میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کے اہم نکات زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ ہی صفحۂ اول پر خبر ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس میں کم و بیش ستر بادشاہوں اور حکومتی سربراہوں کی شرکت متوقع ہے۔ اور مصری صدر کی اہلیہ سوزان مبارک کی سربراہی میں فلسطینی شہداء کے خاندانوں کی امداد کے لیے فنڈ کے قیام کا اعلان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۰ اکتوبر کے ’’الاہرام‘‘ پر ایک نظر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۰ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء