پاکستان ۔ جمہوریت

مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

پارلیمنٹ میں راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا ۔ ۔ ۔

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۷ء

’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی سیاست اور رانا نذر الرحمان مرحوم

گزشتہ دنوں رانا نذر الرحمان بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آج کی نسل ان سے متعارف نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے انہیں کوچۂ سیاست میں چلتے پھرتے دیکھا ہے ان کے لیے وہ بھولنے والی شخصیت نہیں ہے۔ میں نے تو ان کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے، باہمی محاذ آرائی کا بھی اور پھر رفاقت اور دوستی کا بھی۔ جب عملی سیاست میں سرگرم ہوا تو صدر محمد ایوب خان مرحوم کا آخری دور تھا، ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت سے استعفیٰ دے کر ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کے نعرے پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بگل بجا دیا تھا ۔ ۔ ۔

۲۴ جون ۲۰۱۷ء

سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۸ مارچ ۲۰۱۵ء

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے مقاصد

’’رائٹر‘‘ نے اسلام آباد کے دھرنوں کے آغاز میں ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ اس ساری مہم کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرائم منسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان فرق کے احساس کو باقی رکھا جائے جو بعض حلقوں کے خیال میں مدّھم پڑنے لگا ہے۔ یہ مقصد پورا ہوا ہے یا نہیں اس کا اندازہ موجودہ منظر تبدیل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مگر گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قوم کے سامنے حقائق کا جو منظر نامہ پیش کیا ہے وہ نیا نہ ہونے کے باوجود نیا لگتا ہے ۔ ۔ ۔

۴ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے، ماضی کی روشنی میں

آرمی چیف کی مداخلت سے دھرنوں کے معاملات کچھ صحیح سمت بڑھتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ مجھے ان دوستوں سے اتفاق ہے جن کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حل کرنا ہی بہتر تھا اور فوج کو زحمت نہیں دینا چاہیے تھی، مگر جس طرح کا ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف کی دل چسپی پر بہرحال اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں یا فریقین میں بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی اس انتہا کا لازمی نتیجہ ہے جو سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

جمہوریت کا جمہوریت سے ٹکراؤ

اسلام آباد کے بعد جکارتہ بھی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور ہارنے والوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دارالحکومت پر دھاوا بول کر کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ جکارتہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کا دارالحکومت ہے اور وہاں بھی احتجاجی سیاست نے اسلام آباد جیسا منظر قائم کر دیا ہے۔ جکارتہ کی صورتحال کیا ہے؟ اس کی تفصیلات تو چند روز تک واضح ہوں گی، مگر اسلام آباد کی صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے ۔ ۔ ۔

۲۳ اگست ۲۰۱۴ء

آزادی مارچ اور انقلاب مارچ

ہمارے خیال میں ان تحریکات کا باعث یا بہانہ بننے والے دو مسئلے ہیں جو اہم قومی مسائل میں سے ہیں، اور جو ہر دور میں قومی سیاسی راہ نماؤں کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ملک کے عمومی نظام کا ہے جو نو آبادیاتی دور کی یادگار ہے اور جس نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھانے اور ان میں اضافہ کرتے چلے جانے کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت ’’فک کل نظام‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ۔ ۔ ۔

۱۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

اہل السنۃ والجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے انتخابی معرکہ بالآخر جیت لیا ہے اور انتخابی عذر داری میں ان کے مخالف امیدوار کو نا اہل قرار دے کر مجاز اتھارٹی نے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔ جھنگ کا ضلع دینی راہ نماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے ایک اہم میدان رہا ہے۔ مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، مولانا حق نواز جھنگویؒ ، مولانا بشیر احمد خاکیؒ ، مولانا ایثار القاسمیؒ ، مولانا محمد اعظم طارقؒ اسی ضلع سے الیکشن لڑتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

عام انتخابات کے نتائج ہماری خواہشات کے خلاف ضرور ہیں مگر توقعات کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی قوتیں متحد ہو کر الیکشن لڑیں اور پارلیمنٹ میں اتنی قوت ضرور حاصل کر لیں کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی اور بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکہ صرف اس لیے کہ دینی قوتیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھیں ۔ ۔ ۔

۱۶ مئی ۲۰۱۳ء

۲۰۱۳ء کے انتخابات ۔ خواہشات اور توقعات

مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں گھوم پھر کر ان امیدواروں کے درمیان مفاہمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہم مسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے تین بزرگوں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کی طرف سے اس سلسلہ میں مشترکہ دردمندانہ اپیل مسلسل شائع ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ مئی ۲۰۱۳ء

۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی مشترکہ اپیل روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں مسلسل شائع ہو رہی ہے جس میں عام انتخابات کے موقع پر دینی جماعتوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے فقدان اور الگ الگ انتخابی مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم اتنا تو کر لیا جائے کہ جن حلقوں میں دینی جماعتوں کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں ان حلقوں میں ان کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکال لی جائے ۔ ۔ ۔

۳ مئی ۲۰۱۳ء

انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل

ملک کے دیگر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی پاکستان شریعت کونسل کے فورم پر قومی سیاست میں شریک مذہبی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ متحدہ محاذ بنا کر اس الیکشن میں مشترکہ طور پر شریک ہوں یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو جانے کے امکانات کو کم سے کم کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کریں مگر یہ گزارش لائق التفات نہیں سمجھی گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی راستے جدا جدا ہیں ۔ ۔ ۔

۱۷ اپریل ۲۰۱۳ء

آصف علی زرداری، منتخب آ ئینی صدر

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے لیے جناب آصف علی زرداری کی نامزدگی اور انتخاب ان حلقوں اور دوستوں کے لیے بہرحال آسانی سے قبول کی جانے والی بات نہیں تھی جن سے میری ملاقاتیں ہوتی رہیں، اس لیے اکثر تاثرات منفی ہی سننے میں آئے۔ ایک مجلس میں دوستوں نے کہا کہ ایجنڈا وہی ہے صرف ٹیم تبدیل ہوئی ہے، امریکہ نے تھکے ہوئے گھوڑے کی بجائے تازہ دم گھوڑے کا اہتمام کر لیا ہے، اس لیے اب وہ ایجنڈا زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ ایک محفل میں بحث چل پڑی کہ جنرل پرویز مشرف میں اور آصف زرداری میں کیا فرق ہے ۔ ۔ ۔

۳۰ ستمبر ۲۰۰۸ء

عام انتخابات ۲۰۰۸ء کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

عوام کے دینی جذبات کی ترجمانی، دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت وتعاون کو وسعت دینے اور ان کی احتجاجی قوت کو منظم و استعمال کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل جو کچھ کر سکتی تھی وہ نہیں ہوا، اور متحدہ مجلس عمل کی پالیسی ترجیحات میں آہستہ آہستہ معروضی اور روایتی سیاست کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل اور دینی جماعتوں نے بھی معروضی سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے تو اس کے لیے دوسری روایتی سیاسی جماعتیں ہی کافی ہیں اور وہ ان سے زیادہ اچھے انداز میں معروضی سیاست کے تقاضے پورے کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۸ء

عام انتخابات ۲۰۰۸ء اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

بادی النظر میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس اور مجاہدین کے خلاف امریکی آپریشن، حدود آرڈیننس میں کی جانے والی خلاف شریعت ترامیم، جامعہ حفصہ و لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کی مصلحت آمیز روش، اور صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی پیش رفت نہ کر سکنے کی صورت حال نے دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کے بارے میں دینی حلقوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جبکہ سیاسی حلقوں میں سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری میں متحدہ مجلس عمل کا کردار ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۸ء

شریعت بل کا نفاذ ۔ کیا سرحد اسمبلی نے جرم کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ سرحد حکومت نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کے خلاف یہ سارے عناصر صف آراہ ہو گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے شریعت بل کے نام سے جو مسودہ قانون منظور کیا ہے وہ ملک کے دستور اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کیا ہے۔ اس میں کسی غیر متعلقہ بات کو نہیں چھیڑا گیا اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ جو معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ان سے متعلقہ قوانین کو قرآن سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور ان کی تعبیر و تشریح کے لیے صوبہ کی تمام عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوں گی ۔ ۔ ۔

۷ جون ۲۰۰۳ء

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

جنرل پرویز مشرف کے سیاسی فارمولے، اصلاحات، قوم سے خطاب، اور اقدامات میں کوئی ایسی نئی بات نظر نہیں آرہی جو اس سے قبل غلام محمد، ایوب خان، اور ضیاء الحق کے فارمولوں میں شامل نہ رہی ہو۔ صرف نیشنل سکیورٹی کونسل کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ نیا سیاسی اقدام ہے، لیکن جب بات طاقت اور صرف طاقت کی بالادستی کے حوالہ سے ہو رہی ہے اور ہر معاملہ میں طاقت ہی کو حرف آخر قرار دیا جا رہا ہے تو قومی سلامتی کونسل کے قیام سے بھی صورتحال میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ یعنی جس کے ہاتھ میں طاقت ہوگی سلامتی کونسل بھی اسی کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ۔ ۔

۱۹ جولائی ۲۰۰۲ء

جداگانہ طرز انتخاب اور مسیحی اقلیت

تعجب کی بات ہے کہ مسلمانوں کے دینی حلقے اس سیاسی مفاد کو قربان کرتے ہوئے جداگانہ طرز انتخاب کے اصولی موقف پر زور دے رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس بہت سے مسیحی قائدین اپنی کمیونٹی کے سیاسی مفاد اور اصولی موقف دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مخلوط طرز انتخاب کا مطالبہ کر کے بین الاقوامی سیکولر لابیوں اور قادیانیوں کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مسیحی اقلیت کے بعض سنجیدہ رہنماؤں کی طرف سے یہ آواز اٹھنا شروع ہوگئی ہےکہ مسیحی کمیونٹی اپنے مذہبی و سیاسی مفادات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے ۔ ۔ ۔

۷ ستمبر ۲۰۰۰ء

جداگانہ طریقِ انتخاب اور الیکشن کمیشن آف پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ دنوں حکومت سے سفارش کی ہے کہ ملک میں جداگانہ طرز انتخاب ختم کر کے مخلوط طریق انتخاب رائج کیا جائے اور اس کے لیے قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جداگانہ طرز انتخاب کے تحت غیر مسلموں کے ووٹوں کا الگ اندراج کرنا پڑتا ہے، ان کے ووٹوں کی الگ گنتی کرنا پڑتی ہے اور ان کے امیدواروں کے الگ نتائج مرتب کرنا پڑتے ہیں جو بہت مشکل کام ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو کام کی اس مشکل اور الجھن سے نکالنے کے لیے جداگانہ طرز انتخاب کو ہی سرے سے ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

میاں نواز شریف کی خدمت کمیٹیاں اور ہٹلر کی نازی پارٹی

یوں محسوس ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف حکومتی نظام اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں کو ’’پارٹی‘‘ کے ذریعے کنٹرول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور انہیں کسی ستم ظریف نے ’’نازی پارٹی‘‘ کے طریق کار پر کوئی کتاب پڑھا دی ہے یا کم از کم ایران کے ’’پاسداران انقلاب‘‘ کا تصور ان کے ذہن کے کسی گوشے میں ضرور موجود ہے۔ کیونکہ جس طرح انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا ہے اور تمام اہم آئینی اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کر لیے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ اپریل ۱۹۹۸ء

میاں محمد نواز شریف اور خلافت راشدہ کا نظام

اپوزیشن لیڈر میاں محمد نواز شریف نے خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کی ہے تو اس کے ساتھ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی اصطلاح قومی سطح پر بحث و مباحثہ کا عنوان بن گئی ہے۔ میاں صاحب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ جب برسرِ اقتدار تھے اس وقت انہیں خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کیوں نہ سوجھی؟ اور بعض راہنماؤں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خلافت کی بات موجودہ نظام کے خلاف سازش ہے اور اس طرح سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

یکم ستمبر ۱۹۹۶ء

ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ

روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں ۔ ۔ ۔

۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء

وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو

وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جس انتہا کو چھو رہی ہے اس نے ملک کے ہر باشعور شہری کو اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ اور نہ صرف ملک کا نظام اس کشمکش کے ہاتھوں تعطل کا شکار ہے بلکہ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کے لیے خطرات کا اظہار بھی اب سنجیدہ زبانوں سے ہو رہا ہے۔ اس افسوسناک کشمکش کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبوں میں برسرِ اقتدار آنے والی مخالف حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۱۹۸۹ء

صدر مملکت غلام اسحاق خان سے معذرت کے ساتھ

اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینٹروں کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدرِ مملکت جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور ان سے جہادِ افغانستان کے بارے میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی، سندھ میں اسلحہ بھجوانے کے الزامات اور جنرل فضل حق کو قتل کے کیس میں ملوث کرنے کی مہم کے بارے میں اپنے موقف اور جذبات سے آگاہ کیا ۔ ۔ ۔

۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء

متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔

۲ جون ۱۹۸۹ء

اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست

یادش بخیر مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اصل مسئلہ عورت کی سربراہی کا نہیں ہے بلکہ موجودہ جمہوری نظام ایک غلاظت ہے جس پر خودبخود مکھی آکر بیٹھے گی۔ اگر تم کہو کہ یہ مکھی غلاظت پر کیوں بیٹھتی ہے تو مکھی نے غلاظت پر بیٹھنا ہے چاہے وہ کسی شکل میں ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۱ اپریل ۱۹۸۹ء

اسلامی جمہوری اتحاد، جمعیۃ کا جماعتی اتحاد اور حلقہ ۹۶

عام انتخابات کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں شدت اور جوش و خروش پیدا ہو رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اپنے نو سالہ سیاسی حلیفوں پر مشتمل ایم آر ڈی کا تیاپانچہ کر کے اکیلی میدانِ انتخاب میں ڈٹی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلامی جمہوری اتحاد ہے جو اسلامی قوانین کی بالادستی، جہادِ افغانستان کی مکمل حمایت اور ایٹمی قوت کے حصول کے عزم کے ساتھ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کا سامنا کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

۴ نومبر ۱۹۸۸ء

پیپلز پارٹی کے مستقبل کے عزائم، منشور کے آئینے میں

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو اور شریک چیئرپرسن مسز بے نظیر زرداری نے ۱۳ اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے۔ اخبارات کے مطابق دونوں بیگمات نے اپنے منشور میں اسلام کو دین، جمہوریت کو سیاست، سوشلزم کو معیشت، شہادت کو نصب العین اور عوامی اختیارات کو بنیاد قرار دیا ہے۔ معمولی لفظی ہیرپھیر کے ساتھ یہ وہی الفاظ ہیں جو مسٹر بھٹو نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں کہے تھے اور جن کا عملی مظاہرہ ان کے دورِ اقتدار میں خوب کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔

۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

مسز بے نظیر زرداری اور علماء کرام / افغان جارحیت اور جنیوا معاہدہ

بدقسمتی سے ہماری سیاست اس وقت مکمل طور پر غیر ملکی حصار میں جکڑی ہوئی ہے۔ بڑے سیاسی راہنما غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ان کے اشارہ ابر پر چلنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ اس تگ و دو میں وہ دینی مسلمات اور صریح احکامات تک کو ہدف تنقید بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ لادین سیاسی نظریات کی حامل تنظیمیں تو ہمیشہ سے اسلامی تعلیمات اور قوانین و ضوابط کی تضحیک کو اپنا بہترین مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۶ ستمبر ۱۹۸۸ء

غیر جماعتی انتخابات اور سیاسی جماعتیں

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے عام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کے اعلان سے مایوسی اور تذبذب کی جو فضا ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں پیدا ہوگئی ہے اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی بھرپور شرکت کے امکانات پر شک و شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ بعض حلقے سرے سے عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔

۵ اگست ۱۹۸۸ء

بلدیاتی انتخابات اور مسلم لیگ

حکومت نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کا اعلان کیا تو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے اسے غیر اصولی فیصلہ قرار دینے کے باوجود میدان کو خالی نہ چھوڑتے ہوئے ان میں حصہ لیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی اپنے کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایات جاری کر دیں جن کے بحمد اللہ تعالیٰ خاطر خواہ اثرات ظاہر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء

سیاسی جماعتوں کی تعداد میں کمی کی تجویز

اگر ہمارے ہاں سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ آزادانہ طور پر جاری رہتا تو تین چار عام انتخابات کے بعد ملک گیر سطح پر عوام سے منظم رابطہ رکھنے والی تین چار سیاسی جماعتیں خود بخود سامنے آجاتیں اور بے عمل و غیر منظم سیاسی گروپ عملی سیاست سے ’’ناک آؤٹ‘‘ ہو جاتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور چند عہدہ داروں، منشور، دستور، ایک آدھ دفتر اور سیاسی بیانات کی کاغذی دیواروں پر قائم ہونے والی بے شمار پارٹیاں ’’برساتی کھمبیوں‘‘ کی طرح نمودار ہوتی چلی گئیں جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی گروپوں میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

۷ اپریل ۱۹۷۸ء

خان عبد الولی خان اور پنجاب

ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے‘‘ ۔ ۔ ۔

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان

پاکستان میں بیلٹ بکس ابھی تک وہ اعتماد کیوں حاصل نہیں کر سکا جو ایک جمہوری ملک میں اسے ملنا چاہیے؟ یہ سوال نزاکت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اہم اور ناگزیر بھی ہے کہ پاکستان میں سیاست و جمہوریت کے مستقبل کا انحصار اس سوال پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی شعور رکھنے والے ہر شخص کو بیلٹ بکس کے تقدس اور اعتماد کا سوال پریشان کیے ہوئے ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل تجرباتی دور سے گزر رہا ہے اور یہاں جمہوریت کی جڑیں ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ ۔ ۔ ۔

۲۲ جولائی ۱۹۷۷ء

سردار عبد القیوم خان کی صدارت سے برطرفی

آزاد کشمیر میں بالآخر وہ سب کچھ ہوگیا جس کی مدت سے توقع کی جا رہی تھی۔ سردار عبد القیوم کی برطرفی آزاد کشمیر کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کے لیے غیر متوقع نہیں تھی۔ سردار صاحب نے اگرچہ موجودہ حکومت کے ساتھ مفاہمت و معاونت کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی جو کشمیر کی مخصوص صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے ناگزیر بھی تھی لیکن اس کے باوجود سردار صاحب کے ساتھ پی پی پی کا نباہ مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اس لیے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا ’’انا ولا غیری‘‘ کا عملی منشور اور سردار صاحب کا دینی مزاج اور حریت پسندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے ۔ ۔ ۔

۲ مئی ۱۹۷۵ء

متحدہ جمہوری محاذ کی تنظیم نو

متحدہ جمہوری محاذ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ماتحت شاخوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ۲۰ اگست تک ضلع اور شہر کی سطح پر تنظیم نو مکمل کر لیں تاکہ محاذ نئے سرے سے اپنی جدوجہد کو منظم کر سکے۔ متحدہ جمہوری محاذ موجودہ حکومت کے واضح غیر آئینی، آمرانہ اور جمہوریت کش اقدامات کے پیش نظر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا اور اب تک اپنی بساط کے مطابق اس میدان میں مصروف جہد و عمل ہے۔ محاذ کے قیام سے جہاں اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی حد تک فکری و عملی یک جہتی کے فروغ میں مدد ملی ہے ۔ ۔ ۔

۹ اگست ۱۹۷۴ء

سید شمس الدین شہیدؒ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فورٹ سنڈیمن (ژوب) کے ضمنی الیکشن میں سرکاری مداخلت ترک نہ کی گئی تو یہ انتخابات منعقد نہیں ہو سکیں گے۔ ادھر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جنرل سنیٹر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے بھی انتباہ کیا ہے کہ انتخاب میں دھاندلیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا اور دھاندلیوں کے ذریعہ سرکاری امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔ ۔ ۔

۱۷ مئی ۱۹۷۴ء

بھٹو صاحب کا ’’اعلان بلوچستان‘‘

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۳ اپریل کو بالآخر وہ اعلان کر ہی دیا جس کا قوم کو گزشتہ پون سال سے انتظار کرایا جا رہا تھا اور جس کے بارے میں وسیع پراپیگنڈا کے ذریعہ اس قدر سسپنس پیدا کر دیا گیا تھا کہ (ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقوں کے سوا) اعلانِ تاشقند کی طرح اعلانِ بلوچستان بھی عوام کی توجہات کا مرکز اور اخبارات و رسائل میں موضوع بحث بن چکا تھا۔ اور خود وزیراعظم نے اس کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس اعلان سے تمام حلقے مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔

۱۹ اپریل ۱۹۷۴ء

بھٹو حکومت کے دو سال

حکمران پارٹی نے اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر ۲۰ دسمبر کو ’’یوم محاسبہ‘‘ کے نام سے سالگرہ منائی ہے۔ اس روز اخبارات و جرائد نے خاص نمبر شائع کیے، ریڈیو و ٹی وی سے خصوصی پروگرام نشر کیے گئے، نیشنل سنٹرز میں اجتماعات ہوئے اور خود وزیراعظم نے راولپنڈی میں ایک بڑا جلسۂ عام منعقد کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے کثیر تعداد میں حکمران پارٹی کے کارکن شریک ہوئے۔ اگرچہ یہ سارے انتظامات دو سالہ کارکردگی کے محاسبہ کے عنوان سے کیے گئے تھے لیکن حسب توقع ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رسمی صدا کے سوا اس نقارخانے میں کچھ بھی سنائی نہیں دیا ۔ ۔ ۔

۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء

مذاکرات کا جال اور وعدے، بھٹو صاحب کی سیاسی تکنیک

گزشتہ دنوں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود سے قومی اسمبلی کے چیمبر میں چالیس منٹ تک بات چیت کی جس میں وزیرقانون پیرزادہ بھی شریک ہوئے۔ اس گفتگو کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں مگر دوسرے روز متحدہ جمہوری محاذ کی قرارداد منظر عام پر آئی جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک حکومت ’’مری مذاکرات‘‘ میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کرتی اس سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ اس قرارداد سے مترشح ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب نے مفتی صاحب سے ملاقات کے دوران اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جسے محاذ نے مسترد کر دیا ۔ ۔ ۔

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

سرحد کے وزیراعلیٰ جناب عنایت اللہ گنڈاپور کو جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ٹکایا گیا ہے وہ کچھ عجیب سے احساس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ جس مسند پر وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو دیکھ چکے ہیں اس پر خود بیٹھتے ہوئے انہیں اردگرد خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اور شاید اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے وہ ’’مفتی صاحب کی بدعنوانیوں کے قرطاس ابیض‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس قرطاس ابیض کا ڈھنڈورا کئی ماہ سے اس انداز سے پیٹا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔

۱۲ اکتوبر ۱۹۷۳ء

زندہ باد مولانا شمس الدین

خدا خوش رکھے جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جواں سال سربراہ برادرِ مکرم مولانا سید شمس الدین کو کہ انہوں نے اس نازک دور میں اسلاف کی عظیم روایات کی پاسداری کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جبکہ بڑے بڑے ’’پیرانِ پارسا‘‘ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں، اور زر و سیم کی دلربائی اور ہوس اقتدار کی حدت کے سامنے ’’زہد و ورع‘‘ کے پرانے اور زنگ آلود قفل بھی پگھل کر رہ گئے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ دباؤ اور لالچ کا وہ کونسا حربہ ہے جو اس مردِ قلندر کو پھسلانے کے لیے آزمایا نہیں گیا ۔ ۔ ۔

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

متحدہ جمہوری محاذ کی طرف سے حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف سول نافرمانیوں کی تحریک پر ارباب اقتدار اور ان کے ہمنوا سخت جزبز ہیں اور عوام کی توجہ اپوزیشن کی تحریک سے ہٹانے کے لیے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یک طرفہ اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ محاذ میں شامل جماعت اسلامی نے بھی سول نافرمانی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس سہارے کو غنیمت جانا ہے حالانکہ اس سارے افسانے کی حققیت مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

یہ ہے ایک جھلک اس پارٹی کے کارناموں کی جو عوامی جمہوریت کے نام پر انتخابات لڑ کے برسرِ اقتدار آئی ہے اور جس کے منشور کے سرورق پر یہ درج ہے کہ ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘۔ صدر مملکت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارگزاری کی رپورٹ پیش کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ صدر صاحب اس میں یہ تفصیل بھی عوام کو بتاتے کہ اس سال پولیس کے تشدد سے کتنے شہری ہلاک ہوئے، کتنے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کتنے لیڈر گرفتار ہوئے، متحدہ جمہوری محاذ کے کتنے جلسوں کو درہم برہم کیا گیا ۔ ۔ ۔

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

پارٹی وفاداری کا مسئلہ

وفاقی وزیر سیاسی امور جناب غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایک بیان میں ان حضرات کی صفائی پیش کرنے کی سعی فرمائی ہے جنہیں لیلائے اقتدار سے ہمکنار ہونے کی ہوس نے اپنی پارٹیوں کے دستور و منشور اور ووٹروں کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو پارٹی بدلنے کا حق ہے اور اگر کوئی شخص پارٹی کی پالیسی سے متفق نہ ہو اور دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ جتوئی صاحب کے اس بیان کا حاصل مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘

گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر خان بگٹی اپنے تمام تر دعاویٰ کے باوجود صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور گورنر کو براہ راست بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کے لیے صدر محترم کو عبوری آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔ اس طرح نواب صاحب نے ’’خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ کے مصداق اسے ’’تاریخی میزانیہ‘‘ کا خطاب بھی مرحمت فرما دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ میزانیہ یقیناً ’’تاریخی‘‘ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں اس کا اجلاس بلائے بغیر گورنر صاحب نے از خود بجٹ پیش کیا اور از خود اس کی منظوری بھی دے دی ۔ ۔ ۔

۶ جولائی ۱۹۷۳ء

مری میں صدر بھٹو کے ساتھ جاری مذاکرات

ملک کے اہم قومی مسائل کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اس وقت ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل ہے۔ بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اہم مسائل طے کرتے وقت جمہوری اصولوں کا دامن نہ چھوڑے، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر افہام و تفہیم کے ساتھ قومی مسائل کا حل تلاش کرے، اور سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیا جائے۔ کیونکہ اگر سیاسی مسائل کے حل کے لیے غیر جمہوری ذرائع اختیار کیے جائیں تو نتیجہ انتشار، باہمی بد اعتمادی اور بے یقینی کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ ۔ ۔

۶ جولائی ۱۹۷۳ء

انتظامیہ کو سیاسی جنگ میں فریق نہ بنائیے!

انتظامیہ کا کام ہوتا ہے کہ ملک میں قانون و آئین کی بالادستی کا تحفظ کرے، امن و امان بحال رکھے اور غیرجانبداری کے ساتھ نظم و نسق چلائے۔ اس فرض کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ ملک میں سیاسی وفاداریوں سے لاتعلق ہو کر اپنے کام سے کام رکھے اور جہاں کوئی بات اسے قانون کے خلاف نظر آئے، اس کے خلاف بلاجھجھک کاروائی کرے۔ جن جمہوری ممالک میں انتظامیہ اپنے فرائض کو سیاسی عمل سے الگ تھلگ رکھتی ہے وہاں سیاسی عمل بھی جمہوری اقدار کا حامل ہے اور انتظامیہ کو فرائض کی کماحقہ ادائیگی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ۔ ۔ ۔

۱۵ جون ۱۹۷۳ء

خان عبد القیوم خان کا طرزِ سیاست

یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبد القیوم خان کو وزیرداخلہ بنایا ہی اس لیے ہے کہ وہ ملک کی جمہوری قوتوں اور عوامی صوبائی حکومتوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل سازشیں کرتے رہیں۔ حتیٰ کہ جب سندھ کے لسانی فسادات پورے عروج پر تھے، لسانی عصبیت کا جنون مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا گلا کٹوانے میں مصروف تھا اور پورا سندھ خون میں نہایا ہوا تھا، خان موصوف سندھ میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے سرحد کی جمہوری حکومت کے خلاف تقریروں اور الزام تراشی میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔

یکم جون ۱۹۷۳ء

سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ سیاسی مسائل اور عوام کے جائز تقاضوں کو جمہوری اور سیاسی بنیادوں پر طے کرنے کی بجائے تشدد کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ وہ بزعم خویش یہ سمجھتے رہے ہیں کہ اقتدار کی قوت اور کرسی کا دبدبہ آج کے جمہوری دور میں بھی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مگر ربع صدی کے تجربہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ تشدد کے ذریعہ سیاسی اور جمہوری مسائل کو حل کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں سب سے پہلے جس جمہوری، عوامی اور دینی تحریک کو تشدد کے ذریعہ دبایا گیا وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت تھی ۔ ۔ ۔

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء