ختم نبوت

فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۹ اگست کو ستیانہ روڈ فیصل آباد کے سلیمی چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد آف کندیاں شریف نے کی اور خطاب کرنے والوں میں مولانا اللہ وسایا، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۱۲ اگست ۲۰۱۸ء

تحفظ ختم نبوت کا بحران اور قدرت کا سبق!

تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے دھرنے ختم ہوگئے ہیں لیکن اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو شاید خاصی دیر تک جاری رہے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس صورت حال کا نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس دوستوں کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ ہائی کورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر عدالت عظمٰی ہی کوئی فیصلہ کرے گی مگر اس سے ہٹ کر کچھ عمومی نوعیت کے سوالات پر چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ختم نبوت کا بحران اور قدرت کا سبق!

۶ دسمبر ۲۰۱۷ء

ختم نبوت کی جدوجہد کا ایک اور سنگِ میل

حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے درمیان معاہدہ اور اس کے نتیجے میں دھرنے کے اختتام پر پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ ختم نبوت جیسے نازک اور حساس مسئلہ پر ملک سنگین بحران او رخلفشار سے نکل گیا ہے اور تحریک ختم نبوت کے ایک بڑے تقاضے کی بھی بحمد اللہ تکمیل ہوگئی ہے، فالحمد للہ علٰی ذلک۔ اس میں جس نے بھی کسی مرحلہ میں کوئی کردار ادا کیا ہے وہ تحسین و تبریک کا مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کی جدوجہد کا ایک اور سنگِ میل

۲۹ نومبر ۲۰۱۷ء

عقیدۂ ختم نبوت کی بعض قانونی شقوں میں ردوبدل کا مسئلہ

مولانا مفتی منیب الرحمان نے ایک حالیہ بیان میں تحریک ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ہے جو کم و بیش سبھی قابل اتفاق ہے مگر ان میں سے تین امور کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا: (۱) عقیدۂ ختم نبوت سے متعلقہ بعض قانونی شقوں میں حالیہ ردوبدل کی ذمہ داری پوری پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے اور اس کی اصلاح کے لیے پارلیمنٹ کے اندر منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ (۲) پارلیمنٹ نے ایک نئی ترمیم کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی جو سعی کی ہے اس سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا جبکہ اصلاحی عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت کی بعض قانونی شقوں میں ردوبدل کا مسئلہ

۱۵ نومبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند پہلو اور علامہ محمد اقبالؒ کا مکتوب

ملک کے انتخابی قوانین میں ترامیم کا بل پاس ہونے پر اس میں ختم نبوت سے متعلق مختلف دستوری و قانونی شقوں کے متاثر ہونے کی بحث چھڑی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور سوشل میڈیا میں بھی خاصی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہوگیا تو حکومت نے عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کرنے کا بل اسمبلی میں پاس کر لیا۔ مگر دفعہ ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں مطالبہ جاری ہے اور حکومتی حلقے یقین دلا رہے ہیں کہ ان کو بھی عوامی مطالبہ کے مطابق صحیح پوزیشن میں لایا جائے گا۔ اس حوالہ سے اپنے احساسات کو تین چار حوالوں سے عرض کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند پہلو اور علامہ محمد اقبالؒ کا مکتوب

۸ نومبر ۲۰۱۷ء

انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی اصلاحات کے بل میں قادیانیوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی خفیہ ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں نیا ترمیمی بل طے ہو جانے اور حکومتی حلقوں کی طرف سے متعدد وضاحتوں کے باوجود مطلع صاف نہیں ہو رہا اور شکوک و شبہات کا ماحول بدستور موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ کیا اس قسم کی فضا قائم کرنے کا مقصد کسی اور خفیہ کام سے توجہ ہٹانا تو نہیں ہے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ قوم کو ایک طرف الجھا کر پس منظر میں دوسرے کام سر انجام دیے جاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

پارلیمنٹ میں راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۷ء

عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ

الیکشن قوانین میں ترامیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں درج عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل کے انکشاف پر ملک بھر میں گزشتہ دنوں خاصا اضطراب اور ہیجان پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر قومی اسمبلی میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے حلف نامہ کی سابقہ پوزیشن بحال کر دینے پر خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ پاک آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے اس اعلان نے مزید اطمینان و اعتماد کا اضافہ کیا ہے کہ پاک فوج ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ختم نبوت کی شق کے خاتمہ کو کوئی پاکستانی قبول نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ

۷ اکتوبر ۲۰۱۷ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

ماہ ستمبر کے دوران ملک بھر میں جہاں وطن عزیز کے جغرافیائی دفاع و استحکام کے حوالہ سے مختلف تقریبات اور پروگراموں کا اہتمام ہوا وہاں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے بھی ملک کے نظریاتی دفاع و استحکام کے فروغ کے موضوع پر متنوع تقریبات منعقد کی گئیں۔ 6 ستمبر کو 1965ء کی جنگ کی یاد میں ’’یوم دفاع‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ 7 ستمبر کو ’’یوم فضائیہ‘‘ کے علاوہ ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس روز 1974ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی دستوری فیصلہ کیا تھا۔ مجھے اس حوالہ سے دو تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

۲۶ ستمبر ۲۰۱۷ء

عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ پر ہے لیکن تاریخی تناظر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن کے آنے سے مذہب تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت یہ ہے کہ ایک شخص نے نئی نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا جسے قبول کرنے سے امت مسلمہ نے مجموعی طور پر انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اور اس پر ایمان لانے والے پہلے مذہب کا حصہ رہنے کی بجائے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے، اور ان کا مذہب ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر متعارف ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

۹ و ۱۰ جون ۲۰۱۶ء

یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران جہاں 6 تاریخ کو یوم دفاع پاکستان اور 7 ستمبر کو یوم فضائیہ منایا جاتا ہے، وہاں 7 ستمبر کو ہی ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ بھی منایا جاتا ہے۔ اس روز 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے بارے میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے موقف کو دستوری شکل دیتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر کیا تھا۔ اس سال بھی ملک بھر میں تقریبات اور ریلیوں کا ان تینوں حوالوں سے اہتمام کیا گیا اور قوم کے ہر طبقہ نے پاکستان کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات

۹ ستمبر ۲۰۱۵ء

تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے چند پہلو

میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے چند پہلو

۲۷ جون ۲۰۱۵ء

عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے 29 نومبر تا 1دسمبر کو کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں تحریری خطبۂ صدارت پڑھنے کے علاوہ اپنے خطاب کے دوران کچھ دیگر اہم امور کی طرف بھی علماء کرام کو توجہ دلائی جس کا مختصرًا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی مختلف جماعتوں، حلقوں اور اداروں کے درمیان مشاورت و رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں

۱۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے زیر اہتمام کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس اتوار کو 2 بجے اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے مہتمم مولانا ماجد مسعود اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے صدر الشیخ احسان ھندوکس نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن

۵ و ۶ دسمبر ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق فتنوں کے ہجوم اور یلغار کے دور میں دو آدمی اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک وہ شخص جو شہری آبادی سے الگ تھلگ دور دراز علاقے میں بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں زندگی گزار دے، اور دوسرا وہ شخص جو گھوڑے کی لگام پکڑے دین کے دشمنوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار رہے۔ چنانچہ فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہنا، ان کے مقابلہ اور سدّباب کے ساتھ اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

۲۶ اپریل ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت

یہ مسئلہ امت میں چودہ سو سال سے متفقہ چلا آرہا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں، اور اس کی تشریح خود حضورؐ نے فرما دی ہے کہ ان کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ جبکہ نبی اکرمؐ نے اس کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ جھوٹے مدعیان نبوت بڑی تعداد میں ظاہر ہوں گے جو دجال اور کذاب ہوں گے۔ امت مسلمہ کا عقیدۂ ختم نبوت پر اسی تشریح کے مطابق ایمان و عقیدہ چلا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت

۳ فروری ۲۰۱۳ء

تحفظ ختم نبوت کی تنظیموں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ضرورت

قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے گزشتہ ایک کالم میں راقم الحروف نے کچھ معروضات پیش کی تھیں اور یہ عرض کیا تھا کہ قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کے دستوری و قانونی فیصلوں کے خلاف لابنگ کے حوالے مسلسل سے جاری ہیں، ان پر نظر رکھنے، ان کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے اور ان کے تعاقب کے لیے کوئی مربوط سسٹم دینی حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ اور وہ تنظیمیں جو خالصتاً تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کام کر رہی ہیں ان کی بھی اس طرف سنجیدہ توجہ دکھائی نہیں دیتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ختم نبوت کی تنظیموں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ضرورت

۶ ستمبر ۲۰۱۱ء

موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ

ماہِ رواں کی پانچ تاریخ کو مجلسِ احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا ایک مشترکہ اجلاس متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی دعوت پر امیر احرار پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، پاکستان شریعت کونسل، خاکسار تحریک، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ملت اسلامیہ پاکستان اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

ختم نبوت کے محاذ پر بیداری کے آثار

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیت کو یہودیت کا چربہ قرار دیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانی پاکستان میں وہی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہو۔ اسی طرح اقبالؒ نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا کام اللہ تعالیٰ نے بھٹو مرحوم سے لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کے محاذ پر بیداری کے آثار

۱۴ مارچ ۲۰۰۹ء

ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن پر ایک نظر

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تین روزہ ’’سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس‘‘ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یہ کانفرنس ۳۱ اکتوبر تا ۲ نومبر منعقد ہوئی اور اس میں جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک سے شریک ہونے والے سینکڑوں علماء کرام اور دینی راہنماؤں نے براعظم افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت اور نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو نئے عزم کے ساتھ منظم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن پر ایک نظر

۶ نومبر ۲۰۰۸ء

انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن

میں اس وقت جنوبی افریقہ کے ساحلی شہر کیپ ٹاؤن میں ہوں جو جنوب میں دنیا کا آخری شہر کہلاتا ہے، سٹی کے کنارے پر ایک ہوٹل میں ہمارا قیام ہے اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حسب معمول چائے کا کپ پی کر قلم کاغذ سنبھالے یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ میں پاکستان سے علماء کرام کے ایک وفد کے ساتھ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو جوہانسبرگ حاضر ہوا تھا جہاں سے جمعہ کی صبح ہم کیپ ٹاؤن پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن

۴ نومبر ۲۰۰۸ء

تحریک ختم نبوت کا بڑھتا ہوا جوش و خروش

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سرگودھا کی مرکزی عیدگاہ میں منعقد ہونے والی ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی مگر اس کی تفصیل عرض کرنے سے پہلے اپنے گزشتہ روز شائع ہونے والے کالم کے حوالہ سے ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کالم میں ۱۹ اکتوبر کو تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں دفتر احرار لاہور میں منعقدہ مختلف جماعتوں کے راہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں اجلاس کے اعلامیہ کی دو تین سطریں شائع ہونے سے رہ گئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ختم نبوت کا بڑھتا ہوا جوش و خروش

۲۷ اکتوبر ۲۰۰۸ء

۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت ۔ چند یادیں

1984ء کی تحریک ختم نبوت کا بنیادی محرک سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ محمد اسلم قریشی کی اچانک گمشدگی تھا۔ اسلم قریشی اس سے قبل اسلام آباد میں مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد پر قاتلانہ حملہ کے حوالے سے گرفتار رہے تھے۔ جبکہ ایم ایم احمد منصوبہ بندی کمیشن کے چیئرمین تھے اور اس وقت کے سربراہ حکومت جنرل محمد یحیٰی خان کے کسی بیرون ملک دورہ کے موقع پر مبینہ طور پر چند روز کے لیے ملک کے قائم مقام صدر بننے والے تھے۔ اسلم قریشی نے چھری سے ان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا اور وہ قائم مقام صدر بننے کی بجائے ہسپتال چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت ۔ چند یادیں

۲۱ دسمبر ۲۰۰۲ء

آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے مطالبات

کانفرنس سے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اصل بات امریکہ کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کی ہے کیونکہ جب تک غلامی کا یہ طوق ہماری گردن سے نہیں اترتا اس قسم کے جزوی مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم ان کے حل میں لگے رہیں گے۔ اصل مسئلہ قومی آزادی کی بحالی کا ہے اور ہمیں عالمی استعمار سے مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کے لیے ایک نئی جنگِ آزادی کا آغاز کرنا ہوگا۔ راقم الحروف نے اس طرف توجہ دلائی کہ عقیدۂ ختم نبوت کے علاوہ اور مسائل بھی بیرونی دباؤ کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے مطالبات

۲ جون ۲۰۰۲ء

تحریک ختم نبوت کے مطالبات

امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کر دینے کے مترادف ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے جبکہ یہ حلف نامہ اور مذہب کا خانہ نیز مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کا الگ الگ اندراج بھٹو حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ختم نبوت کے مطالبات

مئی ۲۰۰۲ء

امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مارچ ۲۰۰۲ء

لندن کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ۔ تحریک ختم نبوت کے تقاضوں کی روشنی میں

تحریک ختم نبوت کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے اور اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اب ان آئینی اور قانونی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے اور باقی مطالبات کی منظوری کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس وقت تحریک ختم نبوت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لندن کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ۔ تحریک ختم نبوت کے تقاضوں کی روشنی میں

۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء