خواتین

بھارتی سپریم کورٹ میں تین طلاقوں کا مسئلہ

بھارتی سپریم کورٹ میں اس وقت ’’تین طلاقوں ‘‘ کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ تین طلاقوں کو جرم قرار دے دیا جائے اور انہیں قانونی طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ تمام مسلم مکاتب فکر کی مشترکہ نمائندہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے موقف کا دفاع کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں دونوں طرف کے موقف کا خلاصہ دو خبروں کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں جو چیف جسٹس جے ایس کیبر کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش کیے گئے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۷ء

خواتین کی دینی تعلیم

قرآن کریم کی کسی آیت کی جو تشریح کسی صحابیؓ نے کی ہے اس کا بھی وہی مقام ہے اور جو تفسیر کسی صحابیہؓ سے مروی ہے وہ بھی وہی درجہ رکھتی ہے۔ حدیث کی روایت میں جو درجہ مرد صحابہؓ کی روایت کا ہے وہی درجہ خاتون صحابیاتؓ کی روایت کا بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ گھر کے اندر اور خاندانی نظام کے حوالہ سے صحابیاتؓ بالخصوص امہات المومنین کی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی طرح فقہی مسائل اور فتاویٰ میں بھی امہات المومنین سے رجوع کیا جاتا تھا اور ان کے فتویٰ کو تسلیم کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔

نا معلوم

اسلام میں عورتوں کے حقوق

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔ اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں (۱) اسقاط حمل (۲) کارو کاری (۳) نو عمری کی شادی اور (۴) چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔

۶ جولائی ۲۰۱۵ء

خواتین اور وراثت

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی روایت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ایک ٹکہ بھی نہیں دیا جاتا، انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے۔ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت بچانے کے لیے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دیے ہیں اس سے کوئی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، وقت آگیا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ ۔ ۔

نا معلوم

تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

آج کے دور میں جبکہ ہر مسلمان اپنے اپنے معاملات میں بے حد مصروف ہے یہ جو ریفریشر کورسز اور سمر کورسز وغیرہ ہیں یہ بہت ضروری ہیں اور بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہیں۔ اگرچہ اصل ضرورت تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا وقت اور گنجائش نہ ہو اور اس کی مہلت نہ ملے تو کم از کم اس طرح کے چھوٹے کورسز یعنی ایک ہفتے کا، ایک مہینے کا، دو ماہ کا، ان سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ دین کی معلومات حاصل کرنے سے ذوق بنتا ہے، حصولِ علم کا شوق پیدا ہوتا ہے اور انسان مزید علم و معلومات حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۰ء

عورت کی معاشرتی حیثیت اور فطرت کے تقاضے

بھارتی اخبارات میں ان دنوں عورت کے حوالے سے تین موضوعات پر بطور خاص بات ہو رہی ہے اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک عنوان یہ ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ معلوم ہونے پر کہ پیدا ہونے والا بچہ صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے ہزاروں حمل گرا دیے جاتے ہیں، اور اسقاط حمل کے تناسب میں مسلسل اضافے نے سنجیدہ حضرات کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے ایک اخبار میں اس سلسلے میں ایک سیمینار کی رپورٹ نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ بچی کی پیدائش کو عام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۳ مئی ۲۰۱۰ء

عورتوں کے حقوق اور سیرت نبویؐ

عورتوں کے حقوق، آج کی دنیا کے موضوعات میں سے ایک بہت اہم موضوع ہے۔ اسلام میں عورت کو رائے دینے کا حق ہے یا نہیں، تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے یا نہیں، اسے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں یا نہیں اور یہ کہ عورت کو معاشرے کے اندر عام زندگی کے معاملات میں شرکت کا مساوی موقع ملنا چاہیے یا نہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے کئی پہلوؤں پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن میں چند ایک ضروری نکات پر جناب رسول اللہؒ اور آپ کے متبعین سنت کے چند واقعات کے حوالے سے کچھ ضروری گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۳ء

عورت کا طلاق کا اختیار

اسلام نے طلاق کا غیر مشروط حق صرف مرد کو دیا ہے کہ وہ جب چاہے عورت کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے۔ اگرچہ بلاوجہ طلاق کو شریعت میں سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے طلاق کو مباح امور میں مبغوض ترین چیز قرار دیا ہے لیکن گناہ اور ناپسندیدہ ہونے کے باوجود مرد کو یہ حق بہرحال حاصل ہے کہ وہ اگر طلاق دے تو اس سے دونوں میں نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عورت کو براہ راست اور غیر مشروط طلاق کا حق اسلام نے نہیں دیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس حوالہ سے کوئی حق ہی سرے سے حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء

قرآن کریم اور نو مسلم خواتین

’’نومسلم خواتین کی آپ بیتیاں‘‘ محترمہ نگہت عائشہ نے ترتیب دی ہے اور اس میں مختلف ممالک کی ستر نو مسلم خواتین کی آپ بیتیاں شامل کی گئی ہیں۔ پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب ندوۃ المعارف ۱۳ کبیر اسٹریٹ اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے اور اس میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ایک سفرنامے کو بطور دیباچہ شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے لندن کے معروف روزنامہ لندن ٹائمز کی ۹ نومبر ۱۹۹۳ء کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ماضی قریب میں مسلمان ہونے والی بعض نومسلم خواتین کے تاثرات بیان کیے ہیں ۔ ۔ ۔

۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء

خیر القرون میں خواتین کے علم و فضل کا اعتراف

حضرت سعید بن الحسیبؒ معروف بزرگ ہیں جنہیں ’’افقہ التابعین‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے شاگردوں میں سے ایک ذہین شخص سے کر دیا۔ شادی کے بعد شب عروسی گزار کر صبح جب وہ صاحب گھر سے نکلنے لگے تو نئی نویلی دلہن نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ جواب دیا کہ استاد محترم حضرت سعید بن الحسیبؒ کی مجلس میں حصول علم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس پر خاتون نے کہا کہ اس کے لیے وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، ابا جان کا سارا علم میرے پاس ہے اور وہ میں ہی آپ کو سنا دوں گی ۔ ۔ ۔

۶ اگست ۱۹۹۹ء

حق مہر کا معاملہ اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

آج اسلام کے بارے میں مغرب کے ذرائع ابلاغ مسلسل یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے، جبکہ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس دور میں علمی و تحقیقی کام کرنے والی خواتین کی تعداد ہزاروں میں تھی جب خود مغرب نے ابھی عورتوں کی تعلیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلم خواتین کی علمی خدمات کو سامنے لایا جائے اور مولانا محمد اکرم ندوی اس حوالہ سے اس وقیع اور اہم علمی خدمت پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء

اسلام اور عورت کا اختیار

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے ۔ ۔ ۔

۳۱ جولائی ۱۹۹۶ء

بے جنگ کی خواتین عالمی کانفرنس

ایک آدھ کی جزوی استثناء کے ساتھ عالم اسلام کے تمام ممالک پر ابھی تک دورِ غلامی کے اثرات کا غلبہ ہے اور عالمی استعمار کی مداخلت و سازش کی وجہ سے مسلم ممالک کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی معاشرہ کا وہ مثالی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے مغربی میڈیا کار اس بات میں آسانی محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے موجودہ معاشرتی ڈھانچوں کو اسلام کا نمائندہ قرار دے کر ان تمام نا انصافیوں اور حق تلفیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیں جو ان ممالک میں روا رکھی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۱۹۹۵ء

خواتین کی معاشرتی حیثیت اور سیرت نبویؐ

انسانی زندگی ایک مشین کی مانند ہے جبکہ مرد و عورت اس کے دو کلیدی پرزے ہیں۔ دنیا میں اصول یہ ہے کہ جو کمپنی ایک مشینری بناتی ہے وہ اس کے استعمال کے لیے ہدایات بھی دیتی ہے اس لیے کہ جس کمپنی نے مشینری بنائی ہے وہی اس کی قوت اور کارکردگی کو زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ پھر جن لوگوں تک وہ مشینری پہنچتی ہے وہ ان ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے اسے استعمال میں لاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کی اس مشینری کا خالق ہے اور وہی اس کی کارکردگی اور نظم و ضبط کو سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء