خلافت عثمانیہ

لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ

برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ اگست ۲۰۰۵ء

پسپائی اور شکست ، مسلمانوں کا مقدر کیوں؟

حرم کعبہ کے امام محترم الشیخ عبد الرحمن السدیس نے ایک انٹرویو میں عراق کی صورتحال کے حوالے سے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شکست سے مایوس نہ ہوں بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں امام محترم کے اس ارشاد سے مکمل اتفاق ہے کیونکہ شکست اور ناکامی سے مایوس ہو کر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا زندہ قوموں کا شعار نہیں۔ زندگی کی حرارت رکھنے والی قومیں اپنی ناکامی اور شکست کے اسباب کا جائزہ لیتی ہیں اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کے لیے اپنی ترجیحات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۲ اپریل ۲۰۰۳ء

بغداد کی تاریخ پر ایک نظر

دجلہ کے کنارے بغداد نامی بستی کافی عرصہ سے آباد تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ’’بغ‘‘ نامی ایک بت سے منسوب تھی جبکہ ’’داد‘‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی ’’عطیہ‘‘ ہے۔ اس طرح اس کا معنٰی بنتا ہے ’’بغ کا عطیہ‘‘۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ’’بغ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی بولا جانے لگا تھا اس لیے یہ ’’اللہ تعالیٰ کا عطیہ‘‘ کے معنی میں ہے۔ اور بعض مورخین کی نکتہ رسی نے اسے ’’باغ داد‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ نوشیرواں عادل اس جگہ باغ میں بیٹھ کر داد انصاف دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

ہاشمی سلطنت کا قیام، مجوزہ امریکی منصوبہ

لندن سے شائع ہونے والے ہفت روزہ نوائے وقت نے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے عراق پر متوقع حملہ کے بعد سرے سے عراق کی ریاست کو ختم کر کے اسے اردن میں ضمن کرنے کے پلان پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں امریکی ماہرین منصوبے کو آخری شکل دینے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ پلان یہ ہے کہ عراق اور اردن کو ملا کر ایک علیحدہ سلطنت تشکیل دی جائے گی جس پر اردن کے شاہ عبد اللہ کی قیادت میں ہاشمی خاندان حکومت کرے گا اور اس نئے مجوزہ ملک کا دارالحکومت عمان ہوگا ۔ ۔ ۔

۲۱ اکتوبر ۲۰۰۲ء

یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی

روزنامہ اسلام کے فارن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں رائج سزائے موت کا قانون ختم کرے اور اپنے تعلیمی نظام، ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں ترکی زبان کا استعمال ترک کر دے اور اس کی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کی زبان کے طور پر اختیار کرے۔ یورپی یونین کے اس مطالبہ پر ترکی میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اور ترکی کے نائب وزیراعظم اور نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باصلی نے یورپی یونین کے اس مطالبے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۲۰۰۲ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور خلافت عثمانیہ

مجھے عباسی صاحب موصوف کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ سلطنت اور خلافت میں فرق کرتے تھے اور ترکی کے عثمانی حکمرانوں کو مسلم سلاطین کے طور پر تسلیم کرتے تھے مگر انہیں خلیفہ اور امیر المومنین نہیں سمجھتے تھے۔ اور مولانا احمد رضا خانؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ حسین بن علی کی حمایت کی تھی۔ مگر عباسی صاحب کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے کہ خود عثمانی حکمرانوں نے بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔

۱۲ جون ۲۰۰۰ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

فلسطین میں یہودی آباد کاری کا پس منظر

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

میاں محمد شہباز شریف ۔ خدیو پنجاب؟

ہم میاں شہباز شریف سے با ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ جو کردار ادا کرنا چاہیں بڑے شوق سے کریں، انہیں ہر رول ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ میں ہر کردار کے لیے ایک مخصوص باب ہوتا ہے، اس کا مطالعہ بھی کر لیں۔ اور بطور خاص ’’خدیو مصر‘‘ اسماعیل پاشا کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔ خدیو مصر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو برطانیہ کی فوجیں مصر پر قابض ہوئی تھیں، لیکن خدیو پنجاب کے منصوبوں میں یہ کردار کس ملک کی فوج کے لیے تجویز کیا گیا ہے؟ میاں صاحب خود ہی وضاحت فرمادیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

سلطان مرحوم کے بقول جب وہ کھانے کی دعوت پر برطانوی ماہرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بتا رہے تھے کہ برطانوی حکومت نے سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں میں آثار قدیمہ کی دریافت اور تاریخی نوادرات کی تلاش کے لیے اپنے خرچہ پر کھدائی کی پیشکش کی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے، تو محفل میں موجود روسی سفیر کے لبوں پر انہیں عجیب سی مسکراہٹ کھیلتی دکھائی دی۔ حالانکہ اس سے قبل روسی سفیر گہری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہے تھے ۔ ۔ ۔

۳۰ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کی یادداشتوں کا گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا، ان میں سے کچھ اہم امور کا دو تین کالموں میں تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ قارئین یہ جان سکیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں ہوا۔ یہ یادداشتیں سلطان عبد الحمید کی ذاتی ڈائری کے ان صفحات پر مشتمل ہیں جو خلافت سے معزولی کے بعد نظر بندی کے دوران انہوں نے قلمبند کیے۔ یہ پہلے ترکی زبان میں مختلف جرائد میں شائع ہو چکی ہیں اور عربی میں ان کا ترجمہ و ایڈیٹ کا کام عین شمس یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۱ ستمبر ۱۹۹۹ء

کیا اسامہ بن لادن صرف ایک بہانہ ہے؟

بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کا قصہ محض ایک بہانہ ہے اور امریکہ کے نزدیک اصل مسئلہ طالبان کا ہے جنہیں وہ اسامہ کی آڑ میں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ برمنگھم کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیۃ کے ایک ذمہ دار عہدے دار نے یہ کہہ بھی دیا کہ اسامہ بن لادن کی بات تو صرف ڈرامہ ہے اصل قصہ طالبان کا ہے۔ مگر ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ یہ موقف وہی شخص اختیار کر سکتا ہے جس کے سامنے تاریخ کا پس منظر نہیں ہے اور جو خلیج میں یہودیوں اور مغربی ممالک کے مفادات کی گہرائی اور گیرائی سے بے خبر ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ اگست ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۱)

سلطان عبد الحمید مرحوم نے لکھا ہے کہ مدحت پاشا کی مغرب نوازی ان کے علم میں آچکی تھی اور وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ مدحت پاشا کے خفیہ روابط ہیں۔ حتیٰ کہ سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ مدحت پاشا کے رفیق کار جنرل عونی پاشا نے انگریزوں سے بھاری مقدار میں رقوم وصول کی ہیں۔ لیکن چونکہ رائے عامہ مدحت پاشا کے ساتھ تھی اور اسے قومی ہیرو کی حیثیت دے دی گئی تھی اس لیے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اسے صدر اعظم کا منصب عطا کریں ۔ ۔ ۔

۲۴ اگست ۱۹۹۹ء

مجلس احرار اسلام ۔ پس منظر اور جدوجہد

جب استنبول میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مصطفی کمال اتاترک نے آخری عثمانی خلیفہ کو جلاوطن کر کے خلافت کا باب بند کر دیا تو خلافت کے تحفظ کے لیے متحدہ ہندوستان میں چلائی جانے والی تحریک بھی غیر مؤثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح پر تحریک آزادی کے حوالہ سے بعض مسائل پر مرکزی تحریک خلافت اور پنجاب کی تحریک خلافت میں اختلافات نمودار ہونے لگے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب کی تحریک خلافت کے لیڈروں نے مرکز سے اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم قائم کر لیا ۔ ۔ ۔

۷ مئی ۱۹۹۹ء

کوسووو پر سرب جارحیت کا تاریخی پس منظر

صدیوں یہ پوزیشن رہی ہے کہ یہ خطہ جسے بلقان کے تاریخی نام سے پکارا جاتا ہے، مسلمانوں اور صلیبی قوتوں کا محاذ جنگ رہا ہے۔ ایک طرف ترکی کی خلافت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف یونان اور دیگر مغربی صلیبی ممالک جن کے درمیان جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چلتا رہا۔ یہی کوسووو ہے جہاں 1389ء میں خلافت عثمانیہ اور سربیا کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور ترکی کی افواج نے سربوں کو شکست دے کر کوسووو پر قبضہ کر لیا جس کے بعد 1912ء تک کم و بیش چھ سو برس کوسووو خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۱۹۹۸ء