مغربی فلسفہ

اکبر بادشاہ کا دینِ الٰہی اور حضرت مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد، آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

حضرت مجدد الفؒ ثانی کی حیات د خدمات کے بارے میں ارباب فکر و دانش اس محفل میں اظہار خیال کر رہے ہیں جو حضرت مجددؒ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے ہوگی، میں ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مجددؒ نے اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دین الٰہی‘‘ کو اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ دین الٰہی کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں حضرت مجددؒ کی جدوجہد کیا تھی؟ اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کے خدوخال اور حدود اربعہ کے بارے میں تاریخ بہت کچھ بتاتی ہے جسے میں چار دائروں یا مراحل میں تقسیم کروں گا ۔ ۔ ۔

۲۸ نومبر ۲۰۱۶ء

امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کے خیالات

نیوٹ گنگرچ کے اس بیان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ڈپلومیسی کا لحاظ کیے بغیر اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو تین چار باتیں واضح طور پر کہہ دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ مغربی تہذیب کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے، دوسری یہ کہ اسلامی شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی، تیسری یہ کہ شریعت کے قوانین پر یقین رکھنے والے مسلمان مغرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں، اور چوتھی بات یہ کہ مغرب جس روشن خیالی کی بات کرتا ہے اس کا مطلب شریعت کے احکام و قوانین سے دستبرداری ہے اور جس سے کم پر مغرب راضی نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۶ اگست ۲۰۱۶ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کا مذہبی تشخص

روزنامہ انصاف لاہور کی ایک خبر کے مطابق یورپی ریاست سلواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے کہا ہے کہ سلواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، مسلمانوں کی یورپ میں آمد خطے کے لیے نقصان دہ ہے، وہ سلواکیہ میں ایک بھی مسلمان کو برداشت نہیں کر سکتے، اور یہ کہ دیگر مغربی ممالک کی طرح مسلمان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینا ان کی مجبوری نہیں ہے۔ رابرٹ فیکو یکم جولائی سے یورپی یونین کے صدر کا منصب سنبھالنے والے ہیں، اس لیے ایسے موقع پر ان کا مسلمانوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کے آئندہ عزائم اور پالیسیوں کی بھی غمازی کرتا ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۶ء

اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔

یکم مارچ ۲۰۱۶ء

توبہ، اصلاح، تلافی

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق پر حملہ کے موقع پر وہاں ناجائز کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی رپورٹ غلط تھی اور انہیں عراق پر حملہ کے نتیجے میں داعش کے منظم ہو جانے کا اندازہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ٹونی بلیئر عراق پر امریکی اتحاد کے حملہ کے قائدین میں سے تھے اور انہوں نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور نائب صدر ڈک چینی کا ساتھ دے کر نہ صرف اس حملہ میں برطانوی فوجوں کو شریک کیا تھا ۔ ۔ ۔

یکم نومبر ۲۰۱۵ء

بیرونی مداخلت پر مالدیپ کی مذمت

اے پی پی کی ایک خبر کے مطابق مالدیپ کے صدر عبد اللہ یامین نے ملکی معاملات میں مغربی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔ مالدیپ کے پچاسویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر عبد اللہ نے ترقی یافتہ ممالک پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جزیرے پر اپنے قوانین اور معیارات مسلط کر رکھے ہیں۔ کچھ ممالک اور عالمی ادارے مالدیپ کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تقریب میں ہمسایہ ملک سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا بھی موجود تھے ۔ ۔ ۔

۲۹ جولائی ۲۰۱۵ء

اسلام اور مغرب کی کشمکش

’’اسلام اور مغرب کی کشمکش‘‘ کا عنوان بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ مغرب بحیثیت مغرب اسلام دشمن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب میں آباد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مغرب کی غیر مسلم آبادی میں ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے، اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو کلیتاً‌ استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔

یکم نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار

مغربی دنیا کی مذہب کے معاشرتی کردار سے دست برداری کو دو صدیاں بیت گئی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی مذہب وہاں کے اعلیٰ حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کا احساس ابھی تک دلوں اور دماغوں سے کھرچا نہیں جا سکا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سپریم کورٹ میں یہ کیس آیا کہ دعا مذہب کی علامت ہے اس لیے ریاستی اداروں کے اجلاسوں کا آغاز یا اختتام دعا پر نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔

۷ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مغربی معاشروں میں مذہب کی واپسی

مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عیسائی طریقے پر دعا مانگنے کی اجازت دینے والے پانچوں جج عیسائی ہیں، جبکہ اختلاف کرنے والے چاروں جج یہودی ہیں۔ مگر اکثریتی فیصلہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے جس سے ریاستی اسمبلیوں کی طرح ٹاؤن کونسلوں کو بھی یہ حق مل گیا ہے کہ وہ کسی ایک مذہب کے مطابق دعا کے ساتھ اپنے اجلاس کا آغاز کر سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے 9 ججوں نے اس فیصلہ میں یہ بات متفقہ طور پر لکھی ہے کہ ’’سرکاری اداروں کو مذہب سے آزاد علاقے قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۴ء

برطانوی اسکولوں میں بچیوں کے اسکرٹ پہننے پر پابندی

اے پی پی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ میں 6 اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لندن کے علاقے ورسسٹر شائر کے ایک مڈل سکول نے 9 سال تک کی عمر کی طالبات پر سکرٹ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق واک ورڈ چرچ آف انگلینڈ مڈل سکول کا موقف ہے کہ طالبات نے بہت ہی چھوٹے سکرٹ پہننا شروع کر دیے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوری میں پابندی لگائی ہے۔ سکول انتظامیہ نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ ستمبر سے ٹراؤزر اور واجبی سا بلاؤزر پہننے کی بجائے یونیفارم کا ٹاپ زیب تن کریں ۔ ۔ ۔

۸ اگست ۲۰۱۳ء

مغربی ایجنڈا اور جمہوریت

بعض دوستوں کو اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اس قدر جلدی کیوں کی گئی ہے اور اسے ایک سال تک بھی برداشت نہیں کیا گیا جبکہ ہمیں حیرت ہے کہ ایک سال تک اسے برداشت کیسے کر لیا گیا ہے؟ ربع صدی قبل الجزائر کے عوام نے ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کو انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اَسّی فی صد ووٹوں کا اعتماد دیا تھا تو اسے دوسرے مرحلہ کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور فوجی مداخلت کے ذریعہ نہ صرف انتخابات کے دوسرے مرحلہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۳ء

توہین رسالت، مغرب اور امت مسلمہ

یہ بات مغرب کے بہت سے دانش ور عرصے سے کہتے آ رہے ہیں اور آج بھی یہ بات سب سے زیادہ زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اندر اختلاف اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ میرا مغرب کے ان دانش وروں سے سوال ہے کہ اختلاف وتنقید اور اہانت وتحقیر میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اور کیا اختلاف وتنقید کے نام پر ہم سے تمسخر واستہزا اور توہین وتحقیر کا حق تو نہیں مانگا جا رہا؟ جہاں تک اختلاف اور تنقید کا تعلق ہے، اس کو مسلمانوں سے زیادہ کس نے برداشت کیا ہے ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۱۲ء

اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

ہمارا دوسرا تحفظ انسانی حقوق کے منشور کے حوالہ سے ہے جو صرف مغربی ممالک کی باہمی کشمکش اور انقلاب فرانس کے پس منظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے، بلکہ اس کی بہت سی دفعات اسلامی شریعت کے احکام و قوانین سے متصادم ہیں۔ اور عملی صورت حال یہ ہے جس کی ہم آئندہ سطور میں وضاحت کریں گے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کو من و عن قبول کر لینے کی صورت میں مسلم ممالک اور حکومتوں کو قرآن و سنت کے بیسیوں احکام اور شریعت اسلامیہ کے سینکڑوں ضابطوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔

۹ رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ

امریکی فوجی اسکول کے نصاب میں اسلام کی کردار کشی

ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی شکایت سامنے آنے پر جنرل مارٹن نے اس کورس کا نوٹس لیا ہے اور اسے قابل اعتراض اور دوسرے مذاہب کے احترام کے بارے میں امریکی اقدار کے منافی قرار دے کر اس کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مذکورہ کورس کے حوالے سے ان رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس کورس کے ذریعے امریکی فوجیوں سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اعتدال پسندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ ان کے مذہب کو اپنا دشمن تصور کریں ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۲ء

حدیث وسنت اور جدید تشکیکی ذہن

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع کو بھی دین کا تقاضا قرار دیا گیا ہے اور متعدد آیات قرآنی کے ذریعے جناب نبی اکرمؐ کی اس حیثیت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ صرف قاصد اور پیغام بر نہیں ہیں، بلکہ مطاع، اسوہ اور متبَع بھی ہیں۔ اور جس طرح قرآن کریم کے احکامات وارشادات کی اطاعت لازم ہے، اسی طرح جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات واعمال اوراحکام وہدایات کی اتباع اور پیروی بھی ضروری ہے، جیسا کہ سورۂ آل عمران کی آیت ۳۲ میں فرمایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۱۲ء

شریعت کے متعلق معذرت خواہانہ رویہ

امریکہ سمیت بہت سے سیکولر ممالک کی پالیسیوں کے تسلسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ’’مذہبی آزادی‘‘ اور ’’ریاست کی عدم مداخلت‘‘ کے پیچھے اصل مقصد اسلامی ثقافت و روایات کے عالمی سطح پر دوبارہ اظہار کو روکنا ہے۔ اس لیے یہ عدم مداخلت دھیرے دھیرے اسلامی روایات کے خلاف مداخلت کا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ’’اسلامی شرعی قوانین‘‘ کے حوالے سے جس منفی مہم کا خدشہ ڈاکٹر طارق رمضان نے ظاہر کیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر میں ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۱ء

عورت کی معاشرتی حیثیت اور فطرت کے تقاضے

بھارتی اخبارات میں ان دنوں عورت کے حوالے سے تین موضوعات پر بطور خاص بات ہو رہی ہے اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک عنوان یہ ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ معلوم ہونے پر کہ پیدا ہونے والا بچہ صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے ہزاروں حمل گرا دیے جاتے ہیں، اور اسقاط حمل کے تناسب میں مسلسل اضافے نے سنجیدہ حضرات کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے ایک اخبار میں اس سلسلے میں ایک سیمینار کی رپورٹ نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ بچی کی پیدائش کو عام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۳ مئی ۲۰۱۰ء

ڈاکٹر روون ولیمز کا بیان اور اسلامی شرعی قوانین

برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کا یہ بیان عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو خاندانی معاملات اور مالیاتی مسائل میں اپنے شرعی قوانین پر عمل کا حق ملنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اسلامی شرعی قوانین کو ملک کے قانونی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں جو تفصیلات مختلف اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ڈاکٹر روون کا کہنا ہے کہ نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ جیسے خاندانی معاملات میں اسلام کے شرعی احکام پر عمل کرنا مسلمانوں کا حق ہے ۔ ۔ ۔

۷ مارچ ۲۰۰۸ء

’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟‘‘

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو جریدے ہفت روزہ ’’نیویارک عوام‘‘ نے ستمبر ۲۰۰۷ء کے پہلے شمارے میں امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ارج کیسی کی ایک تقریر کی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے نیشنل گارڈ ایسوسی ایشن کی ایک سو انتیسویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی نظریاتی جنگ کئی عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک اعتدال پسند مسلمان انتہا پسند مسلمانوں پر بالادستی حاصل نہ کر لیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۹ نومبر ۲۰۰۷ء

مذہب کا ریاستی کردار اور مغربی دانش ور

اقوام متحدہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے آسٹریا کے ایک اخبار ’’آئی پریس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی صورت حال تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال ابتری کے حوالے سے ایسے نقطے پر پہنچ چکی ہے جس نقطے پر بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں یورپ کی صورت حال تھی اور یہ صورت حال دو عالمی جنگوں کا باعث بنی تھی ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۲۰۰۷ء

عالمی تہذیبی کشمکش کی ایک ہلکی سی جھلک

جب لندن پہنچا تو روزنا مہ جنگ لندن میں ۷ مئی کو یہ رپورٹ پڑھنے کو ملی جس کے مطابق چرچ آف انگلینڈنے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے حکومت کی تباہ کن پالیسیوں نے برطانوی مسلمانوں کو انتہا پسند بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار آبزرور کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والی رپورٹ میں چرچ نے عراق میں کی جانے والی غلطیوں کی مذمت کی اور کہا کہ دنیا بھر میں برطانیہ کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے اور یورپ میں وہ تنہا کھڑاہے اوراس کی وجہ امریکہ کے ہر حکم کی بجا آوری ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۷ء

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم وافکار

مغرب کے بارے میں یہ تصور رکھنا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہے، خود مغرب کی ذہنی سطح، نفسیاتی ماحول اور تحلیل وتجزیہ کی استعداد وصلاحیت سے بے خبری کے مترادف ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں تو یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ علم و خبر کے ذرائع اور ذوق کی کمی کے باعث مغرب کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور تحلیل و تجزیہ، باریک بینی اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کی کمزوری کی وجہ سے مغرب کے مقاصد اور عزائم کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے ہیں، لیکن کیا مغرب بھی مسلمانوں کے حوالے سے اسی سطح پر ہے ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۷ء

روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں جوہری فرق

مغرب نے تاریکی سے روشنی کی طرف سفر انقلاب فرانس سے شروع کیا اور مغرب کے ہاں تاریک دور اور روشن دور میں فاصل انقلاب فرانس ہے۔ اس سے پہلے کا دور تاریکی، جہالت اور ظلم و جبر کا دور کہلاتا ہے جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور انصاف و حقوق کا دورکہا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں دور جاہلیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے دور کو سمجھا جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے زمانہ جاہلیت، ظلم وجبراور تاریکی کا دورکہلاتاہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۷ء

حالات زمانہ اور صحابہ کرامؓ کا طرز عمل

اس وقت عالمی سطح پر فکرو فلسفہ اور تہذیب وثقافت کے مختلف رویوں کے درمیان کشمکش اور تصادم کے بڑھتے ہوئے امکانات کی جوصورت حال پید اہوگئی ہے اور جس میں اسلام ایک واضح فریق کے طور پر سامنے آرہاہے، اس کے پیش نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے زیادہ سے زیادہ تذکرہ کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ اس لیے کہ اس تہذیبی اور فکری کشمکش میں قرآن کریم اور سنت نبویؐ ہی سے ہم صحیح سمت کی طرف رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۶ء

مغرب، توہین رسالت اور امت مسلمہ

جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو وہ اپنے ذہن سے وحی اور پیغمبر دونوں کو اتار چکاہے ۔اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب کے پاس نہ وحی اصل حالت میں موجود ہے اور نہ ہی پیغمبروں کے حالات وتعلیمات کاکوئی مستند ذخیرہ اسے میسر ہے، اس لیے اس نے سرے سے ان دونوں سے پیچھا ہی چھڑا لیا ہے۔ اور اب وہ مسلمانوں سے یہ توقع اور پر زور مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھی وحی اور پیغمبر کو اپنے ذہن سے اتار دیں اور اپنے جذبات اور احساسات کے دائرے میں انہیں کوئی جگہ نہ دیں ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۶ء

ڈنمارک میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت اور مسلمانوں کا ردِ عمل

مغرب یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب رسول اکرمؐ کی ذات گرامی کے ساتھ ایک عام مسلمان کی اس درجہ محبت و عقیدت اور کمٹمنٹ کی موجودگی میں مسلمان سوسائٹی کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے لاتعلق نہیں کیا جا سکتا اور مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات و احکام کی عملداری سے دستبردار کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو مذہبی رواداری، برداشت اور تحمل کے خوبصورت عنوانوں کے ساتھ جو سبق پڑھایا جا رہا ہے اس کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اور آنحضرتؐ کے ساتھ عام مسلمان کی اس درجہ کی بے لچک کمٹمنٹ کو کمزور کیا جائے ۔ ۔ ۔

۶ فروری ۲۰۰۶ء

برطانوی وزیر جیری اسٹکلف کے خیالات

اعلیٰ انسانی اقدار کو رائج کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی ضرورت و جواز پر اسلام اور مغرب کے درمیان کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جو اقدار و روایات انسانی سوسائٹی کے لیے مفید ہوں اور اسے فلاح و نجات کی طرف لے جاتی ہوں ان کے لیے طاقت کا استعمال نہ صرف جائز ہے بلکہ حسب موقع ضروری ہو جاتا ہے۔ البتہ اعلیٰ انسانی اقدار کے تعین میں اختلاف ہے ۔اسلام کے نزدیک اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے، جبکہ مغربی فلسفہ و فکر کے نزدیک انسانی سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر اعلیٰ انسانی اقدار تشکیل پاتی ہیں ۔ ۔ ۔

۷ جنوری ۲۰۰۶ء

عالم اسلام اور مغرب: متوازن رویے کی ضرورت

آج مغرب اور عالم اسلام میں مکالمہ کی جو ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور جس ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کی ہے۔ مغرب ہمیں سمجھنے میں مغالطوں کا شکار ہوا ہے اور ہم نے مغرب کو سمجھنے میں فریب کھائے ہیں۔ اگر یہ مکالمہ اور ڈائیلاگ ان غلطیوں کی نشان دہی اور فریب کے دائروں سے نکلنے کے لیے ہوں تو اس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۵ء

اسلامی نظریات اور مغرب کے عزائم

برطانیہ اور دوسرے استعماری ممالک نے یہ بات محسوس کر لی تھی کہ امریکہ، آسٹریلیا اور افریقا کے بہت سے حصوں میں انہوں نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعہ جو مقاصد حاصل کر لیے ہیں، مسلم ممالک میں ان مقاصد کا حصول ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس لیے کہ قرآن کریم مسلمانوں کو حریت فکر کا سبق دیتا ہے، آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ دنیا کے ہر مسلمان کو اپنے دینی تشخص اور آزادی کے لیے ہر وقت سربکف رہنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ۔ ۔

۲۰ اپریل ۲۰۰۳ء

اسلام اور مغرب کے مابین ڈائیلاگ میں جرمنی کا تعاون

سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ فروری ۲۰۰۳ء

ظالم چودھری اور اس کی پنچایت

کہا جاتا ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے مشترک اور مربوط عالمی سوسائٹی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات اس حوالہ سے بالکل درست ہے کہ ساری دنیا ایک ایسے گاؤں کی طرح دکھائی دیتی ہے جس پر ایک طاقتور جاگیردار نے قبضہ جما لیا ہے اور قوت و طاقت کے بل پر اس نے گاؤں کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی کو اس کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے، اس کے لٹھ بردار چاروں طرف گھوم رہے ہیں جن (کی نگرانی) سے کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی چار دیواری بچی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۱ جنوری ۲۰۰۳ء

جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیے بنیاد پرستی کو طعنہ بنا دیا گیا ہے اور اہل مغرب خود بنیادوں کی طرف واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بی بی سی پر کئی لیکچر دیے اور کہا کہ ہم نے صرف عقل کو معیار قرار دے کر ٹھوکر کھائی ہے اور ہم نسل انسانی کو نقصان کی طرف لے جا رہے ہیں اس لیے ’’وجدان‘‘ کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ برطانوی شہزادے نے ’’وجدان‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے جو ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد وحی اور الہام ہی کی بات آئے گی ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۲ء

مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء

مغربی استعمار کی پرتشدد تاریخ

امریکہ کا یہ طرز عمل خلاف توقع اور قابل تعجب نہیں ہے کہ اس نے افغانستان کےخلاف باقاعدہ اعلان جنگ کرنے اور ہر مرحلہ پر اسے جنگ قرار دینے کے باوجود اپنے شکست خوردہ مخالفین میں سے گرفتار شدگان کو ’’جنگی قیدی‘‘ تسلیم نہیں کیا۔ اور امریکہ پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود کیوبا کے تفتیشی مرکز میں لے جائے جانے والے قیدیوں کو وہ حقوق اور سہولتیں دینے کے لیے تیار نہیں ہے جو ’’جنیوا کنونشن‘‘ کے واضح فیصلوں کے مطابق انہیں ہر حال میں حاصل ہونی چاہئیں۔ یہ طاقت کی حکومت اور جنگل کے قانون کا مظاہرہ ہے جو پہلی بار نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ فروری ۲۰۰۲ء

’’اسامہ بن لادن‘‘ لندن میں

مولانا عبد الحلیم کا تعلق لکھنؤ سے ہے اور وہ ایسٹ لندن میں ویسٹ ہیم کے مقام پر بننے والے تبلیغی جماعت کے نئے مرکز کے امام ہیں۔سفید رنگ کا لمبا عربی کرتہ پہنتے ہیں اور اس پر سفید عمامہ باندھتے ہیں، رنگ پختہ ہے اور داڑھی سیاہ ہے اس لیے دور سے ان پر اسامہ بن لادن یا ان کے بھائی ہونے کا اشتباہ ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو انہوں نے 11 ستمبر کے نیویارک اور واشنگٹن کے سانحات کے بعد ان کے ساتھ پیش آنے والے چند واقعات بیان کیے جن کا تذکرہ قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

دینی نصاب تعلیم اور بین الاقوامی دباؤ

مسلمانوں کے دینی نصاب تعلیم کا مسئلہ آج سے نہیں صدیوں سے مغربی اقوام کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ ایک تاریخی روایت ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم گلیڈ اسٹون نے آج سے کوئی سو برس قبل برطانوی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر قرآن کریم کا نسخہ لہراتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب مسلمانوں میں پڑھی جاتی رہے گی اس وقت تک مسلمانوں میں مذہبی جنون باقی رہے گا، اور جب تک مسلمانوں میں مذہبی جنون موجود رہے گا تب تک انہیں غلام رکھنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۵ مئی ۲۰۰۱ء

امریکہ کا خدا بیزار سسٹم

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ فروری ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں سینٹ کے ریاستی ارکان نے ایک یادگاری سکہ پر ’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں امریکہ کے قدیم باشندوں ’’ریڈ انڈین‘‘ کے اعزاز اور توقیر کے لیے ایک سلور ڈالر جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر جنگلی بھینس کی تصویر کے ساتھ In God We Trust (ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں) کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۱ء

اٹلی کی سپریم کورٹ کا فیصلہ اور بائبل کی تعلیمات

اٹلی کی عدالت عظمیٰ نے اپنی ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلہ کی توثیق کر دی ہے کہ کسی عورت کا اپنے خاوند کے علاوہ دوسرے کسی مرد سے تعلق رکھنا جرم نہیں ہے البتہ اسے رات کو بہرحال اپنے خاوند کے پاس ہونا چاہیے۔ تعلق کی نوعیت کی وضاحت نہ ہوتی تو بات کسی حد تک گول ہو سکتی تھی لیکن خبر میں ’’جنسی تعلق‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس لیے یہ سمجھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ مغربی ممالک نے جائز و ناجائز کے ہر قسم کے فرق کو ختم کرتے ہوئے اباحیت مطلقہ (فری سوسائٹی) کو آخری انتہاء تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔

۲۲ ستمبر ۲۰۰۰ء

ہم جنس پرستی ۔ اسلامی تعلیمات اور مغربی فلسفہ

قانونی طور پر تو امریکہ اور یورپ میں مرد و عورت کی باہمی رضا سے ہونے والے زنا اور اسی طرح ہم جنس پرستی کو ایک عرصہ سے جواز کی سند حاصل ہے اور اکثر ممالک میں اس سلسلہ میں باقاعدہ قانون سازی کر کے اس کی اجازت دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ گزشتہ سال ایک برطانوی عدالت نے باہمی جنسی تعلق رکھنے والے دو مردوں کو آپس میں میاں بیوی تسلیم کرتے ہوئے ایک کی موت کی صورت میں دوسرے کو اس کا وارث بھی ٹھہرا دیا ہے۔ لیکن اب اس بے حیائی اور بدکاری کو مذہبی جواز کا درجہ دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔

۷ اپریل ۲۰۰۰ء

مغربی کلچر کا نقطۂ عروج

گزشتہ دنوں امریکی ریاست ورماؤنٹ کے حوالہ سے ایک خبر شائع ہوئی کہ وہاں کی عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلہ میں ہم جنس پرست جوڑے کو قانونی طور پر میاں بیوی کی حیثیت دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہم جنس پرست جوڑے کے طور پر اکٹھے رہنے والے افراد کے لیے ان حقوق اور تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائے جو قانونی طور پر میاں بیوی کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل ایک برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ بھی منظر عام پر آچکا ہے کہ ہم جنس پرست جوڑے کے ایک فرد کے انتقال کے بعد دوسرے شخص کو قانونی طور پر اپنے ساتھی کا وارث تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔

۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ء

اقوام متحدہ کا جانبدارانہ منشور

انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ، اقوام متحدہ کا منشور، اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی قراردادوں کا موجودہ فریم ورک ہی سرے سے متنازعہ ہے۔ مثلاً نکاح و طلاق اور خاندانی نظام کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر نے جو اصول بیان کیے ہیں، قرآنی تعلیمات ان کو قبول نہیں کرتیں۔ اور اس چارٹر کو من و عن قبول کرنے سے کوئی بھی مسلمان فرد، خاندان، یا قوم بنیادی اسلامی تعلیمات سے منحرف قرار پاتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی دفعات اس چارٹر میں ایسی موجود ہیں جو اسلامی احکام و قوانین کی نفی کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

۱۵ جولائی ۱۹۹۸ء

امریکی جرائم اور شہر سدوم

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نسل انسانی کا ایک بڑا حصہ آسمانی تعلیمات سے انکار پر ڈتا ہوا ہے اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ کے مادر پدر آزاد کلچر اور ’’فری سیکس سوسائٹی‘‘ کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس دو نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی پوری توانائیاں ، وسائل اور صلاحیتیں وقف کر چکا ہے۔ امریکی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے، اس لیے کہ امریکی ایک قوم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔

۹ مارچ ۱۹۹۸ء

حضرت عمرو بن العاصؓ اور مغرب کی بالادستی

مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشیؓ بیٹھے ہوئے تھے جن کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت سے پہلے رومی لوگوں میں کثرت سے پھیل جائیں گے۔ روم اس دور میں عیسائی سلطنت کا پایۂ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے عیسائی حکمران مراد ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہؐ سے سنا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

نکاح ۔ سنت نبویؐ یا محض ایک سوشل کنٹریکٹ

مغرب نے جب نکاح کو مذہبی تقدس اور تحفظ سے الگ کر کے محض ’’سوشل کنٹریکٹ‘‘ قرار دیا تو اس وقت اسے نتائج کا اندازہ نہ ہو سکا۔ آج جب یہ سوشل کنٹریکٹ یا برابری کا معاہدہ مغرب کو خاندانی زندگی کے تصور اور رشتوں کے تقدس سے کلی طور پر محروم کر چکا ہے تو وہی مغرب اب متبادل راہوں کی تلاش میں ہے۔ گزشتہ دنوں خبر رساں ایجنسی رائٹر نے میکسیکو کے بارے میں ایک خبر دی ہے کہ وہاں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نکاح کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے اب کئی جوڑے ’’قانونی معاہدوں‘‘ کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ جولائی ۱۹۹۶ء

بے جنگ کی خواتین عالمی کانفرنس

ایک آدھ کی جزوی استثناء کے ساتھ عالم اسلام کے تمام ممالک پر ابھی تک دورِ غلامی کے اثرات کا غلبہ ہے اور عالمی استعمار کی مداخلت و سازش کی وجہ سے مسلم ممالک کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی معاشرہ کا وہ مثالی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے مغربی میڈیا کار اس بات میں آسانی محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے موجودہ معاشرتی ڈھانچوں کو اسلام کا نمائندہ قرار دے کر ان تمام نا انصافیوں اور حق تلفیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیں جو ان ممالک میں روا رکھی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔

مئی ۱۹۹۵ء