مکاتبِ فکر

تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز

تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا عالمی موتمر گزشتہ روز بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے شام چھ بجے تک جاری رہا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، جامعات کے اساتذہ اور اہل دانش نے شرکت کی۔ جبکہ بھارت سے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی اور پاکستان سے جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا عزیز الرحمان سواتی اور جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبد الحق ہاشمی کے علاوہ ایران سے بہت سے سرکردہ حضرات اس اجتماع میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز

۲۹ جون ۲۰۱۹ء

حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادی اصول اور عصر حاضر

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر امت مسلمہ کی قیامت تک کی راہنمائی کے لیے جو اصول ارشاد فرمائے تھے اور ہدایات دی تھیں انہیں محدثین کرامؒ نے بڑے اہتمام اور تگ و دو کے ساتھ تاریخ و حدیث کے ریکارڈ میں محفوظ کر دیا ہے۔ اس موقع پر جناب سرور کائناتؐ نے یہ بات بطور خاص فرمائی تھی کہ تم لوگ میری جو باتیں سن رہے ہو انہیں آگے پہنچاتے رہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا ’’رب مبلغ اوعی لہ من سامع‘‘ کہ جس شخص کو بات پہنچائی جائے وہ بسا اوقات سننے والے سے زیادہ بات کو سمجھتا ہے اور یاد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادی اصول اور عصر حاضر

۳ نومبر ۲۰۱۷ء

دینی مقاصد کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

گوجرانوالہ کی فضا اس حوالہ سے بحمد اللہ تعالٰی بہت بہتر ہے کہ کسی قومی، دینی یا شہری مسئلہ پر جب بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، دینی جماعتوں کے راہنما اور تاجر تنظیموں کے نمائندہ حضرات جمع ہو جاتے ہیں اور نہ صرف مشترکہ موقف طے کرتے ہیں بلکہ اس کا اجتماعی اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ اس سلسلہ میں ہمیشہ سے مرکز چلی آرہی ہے جہاں بحمد اللہ تعالٰی گزشتہ نصف صدی سے میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مقاصد کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

۱۴ اپریل ۲۰۱۶ء

دینی قوتوں کا باہمی انتشار کم کرنے کی ضرورت

گزشتہ بعض دینی پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں فیصل آباد جانا ہوا تو النور ٹرسٹ فیصل آباد کے چیئرمین حافظ پیر ریاض احمد چشتی نے فون پر دریافت کیا کہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد اسعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، انہیں کیا جواب دوں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کے پروگرام کا نظم آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اگر گنجائش ہو تو ان کے ہاں جانے کی ترتیب بنالیں۔ چنانچہ جاتے ہی پہلے ان سے ملاقات کا پروگرام بن گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی قوتوں کا باہمی انتشار کم کرنے کی ضرورت

دسمبر ۲۰۱۵ء

دیوبندی بریلوی اختلافات ۔ افہام و تفہیم کے ماحول کی ضرورت

مولانا مفتی سعید احمد اسعد بریلوی مکتب فکر کے معروف بزرگ مولانا مفتی محمد امین کے فرزند اور جامعہ امینیہ شیخ کالونی کے مہتمم ہیں۔ مسلکی اختلافات پر ایک بڑے مناظر کی شہرت رکھتے ہیں اور معروف خطباء میں شمار ہوتے ہیں۔ حافظ ریاض احمد قادری، مولانا قاری لائق علی اور سید ذکر اللہ الحسنی کے ہمراہ جامعہ امینیہ میں حاضری ہوئی۔ مفتی صاحب موصوف نے عزت و توقیر سے نوازا اور ملاقات کا مقصد یہ بتایا کہ وہ ایک عرصہ سے اس سوچ میں ہیں کہ دیوبندی بریلوی تفریق اور اختلافات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی بریلوی اختلافات ۔ افہام و تفہیم کے ماحول کی ضرورت

۲۳ نومبر ۲۰۱۵ء

دیوبند کی بانی شخصیات

دیوبندی مکتب فکر کا تذکرہ کیا جائے تو تین شخصیتوں کا نام سب سے پہلے سامنے آتا ہے۔ اور تاریخ انہی تین بزرگوں کو دیوبندیت کا نقطہ آغاز بتاتی ہے۔ امام الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو دیوبندیت کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے دیوبندیت کے علمی، فکری اور مسلکی تشخص کی ابتدا ہوتی ہے۔ اور یہ تین شخصیات دیوبندی مکتب فکر کی اساس اور بنیاد سمجھی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبند کی بانی شخصیات

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۴ء

سنی شیعہ جھگڑوں کی وجوہات

ملک کے کسی حصے میں سنی شیعہ تنازعہ عام طور پر دو میں سے کسی ایک مسئلہ پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ شخصیت پر تبرّا کے عنوان سے توہین کی جاتی ہے جو اہل سنت کے کسی فرد کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ دوسرا سبب ماتمی جلوس ہے کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ایک فریق کے نزدیک بالفرض عبادت ہو تب بھی یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہوتی کہ دوسرا فریق جو غالب اکثریت بھی رکھتا ہے اس کے دروازہ پر یہ عبادت ادا کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ جھگڑوں کی وجوہات

۲۶ نومبر ۲۰۱۳ء

فقہ حنفی کی چار امتیازی خصوصیات

فقہ حنفی کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باقاعدہ فقہ ہے۔ امام صاحبؒ سے پہلے بھی تفقہ کے مختلف دائرے رہے ہیں لیکن اس تفقہ کی بنیاد پر کسی باقاعدہ فقہ کی تشکیل سب سے پہلے امام صاحبؒ نے کی۔ فقہ حنفی کی اولین امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باضابطہ مدون فقہ ہے۔ اس کا اعتراف مؤرخین و محدثین نے کسی تأمل کے بغیر کیا ہے۔ ہمارے علمی ماضی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے امتیازات کا اور ایک دوسرے کی خصوصیات کا اعتراف کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فقہ حنفی کی چار امتیازی خصوصیات

۱۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

اکابر علماء دیوبند کی علمی دیانت اور فقہی توسع

علماء دیوبند کو بحمد اللہ تعالیٰ اہل سنت او رحنفیت کی علمی اور شعوری ترجمانی کا شرف حاصل ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جاتا ہے اور ان کے علمی تعارف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اکابر علماء دیوبند کو ایک طرف فقہ کی اہمیت وضرورت سے انکار کی صورت حال کا سامنا تھا اور دوسری طرف ان کا واسطہ اس فقہی جمود سے تھا جس میں جزئیات وفروعات کو بھی کفر واسلام کا مدار سمجھ لیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکابر علماء دیوبند کی علمی دیانت اور فقہی توسع

نومبر ۲۰۱۱ء

دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

۱۷ مئی ۲۰۱۱ء

اہلِ سنت کے مقدسات اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ

محرم الحرام سن قمری و ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کے ساتھ اہل اسلام کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور یوم عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کے بارے میں فضیلت و اہمیت کی متعدد روایات احادیث نبویہؐ کے ذخیرہ میں موجود ہیں لیکن نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے خانوادے کی محترم شخصیات و افراد کی المناک شہادت کا تذکرہ ان دنوں پورے عالم اسلام میں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے جو بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی کے لیے رنج و صدمے کا باعث ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں ہر جگہ اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہلِ سنت کے مقدسات اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ

۸ دسمبر ۲۰۱۰ء

دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم

عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم

نومبر ۲۰۱۰ء

دیوبندی مدارس اور دہشت گردی

روزنامہ جنگ ملتان کی خبر کے مطابق امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی میں دہشت گردی سے متعلقہ سب کمیٹی کے رکن ایڈورکسے نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دیوبندی مدارس کو بند کرے کیونکہ وہ گریجویٹ دہشت گردوں کی کھیپ پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور بھارت جیسے جمہوری ملکوں پر حملوں کے لیے دہشت گرد تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ۸۰۰ دیوبندی مدارس ہیں جن کا جہاد پر فوکس ہے اور یہ مدارس نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی تعلیم اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی مدارس اور دہشت گردی

جون ۲۰۱۰ء

مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج

آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والدمحترم کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج

مارچ ۲۰۱۰ء

دیوبندی جماعتوں کی خصوصی توجہ کے لیے

۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کو لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پر دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک درجن سے زائد جماعتوں کی صوبائی قیادتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد موجودہ ملکی صورتحال اور اس کے تناظر میں علماء دیوبند کے خلاف پروپیگنڈے میں مسلسل اضافے کا جائزہ لینا اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی سطح پر ایک مجلس مشاورت قائم کی جائے جو باہمی مشاورت اور اشتراک عمل میں اضافہ کے لیے محنت کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی جماعتوں کی خصوصی توجہ کے لیے

دسمبر ۲۰۰۹ء

نور بخشیہ فرقہ کا تعارف

چند ہفتے قبل بلتستان کے سفر کے حوالہ سے کچھ مشاہدات و تاثرات ایک دو کالموں میں پیش کر چکا ہوں، ان کے ساتھ میں نے وعدہ کیا تھا کہ نور بخشیہ فرقہ کے بارے میں معروضات کسی مستقل کالم میں پیش کروں گا، اس پس منظر میں یہ سطور سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ اس فرقہ کے بانی سید نور بخش قہستانی بتائے جاتے ہیں جو نویں صدی ہجری میں گزرے ہیں اور ان کا سن وفات ان کی اپنی کتاب ’’الفقہ الاحوط‘‘ کے مترجم جناب محمد بشیر نے ۸۴۹ھ لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نور بخشیہ فرقہ کا تعارف

۱۴ نومبر ۲۰۰۹ء

ہم حنفی کیوں کہلاتے ہیں؟

حنفی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم فقہی احکام ،فقہی اصول اور فروعات میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں۔ یعنی ہم ان کے علم، ثقاہت، دیانت اور فراست پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے اقوال و فتاویٰ کو دلائل کی بحث میں پڑے بغیر قبول کرتے ہیں اور انہیں دوسرے ائمہ کرامؒ کے اقوال و فتاویٰ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کو سمجھنے کے لیے چند اصولی باتوں کو پہلے سمجھ لینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہم حنفی کیوں کہلاتے ہیں؟

اکتوبر ۲۰۰۹ء

فرقہ وارانہ کتابوں کی ضبطی کا معاملہ

ان دنوں اخبارات میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ کتابوں کی ایک فہرست کے بارے میں مختلف حلقوں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں۔ اس فہرست کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ کم و بیش ساٹھ کتابوں پر مشتمل ہے اور یہ ان کتابوں کی فہرست ہے جنہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والی کتابیں قرار دے کر انہیں ضبط کرتے ہوئے دوبارہ ان کی اشاعت کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کتابوں میں حضرت حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرقہ وارانہ کتابوں کی ضبطی کا معاملہ

اکتوبر ۲۰۰۶ء

وفاقی وزارت تعلیم کا ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘

روزنامہ پاکستان لاہور ۸ جنوری ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فرقہ وارانہ فسادات کے مکمل خاتمہ کے پیش نظر شمالی علاقہ جات میں نماز کے طریقہ ادائیگی کے بغیر نصاب رائج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ نماز کی ادائیگی کا طریقہ صرف پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی کتاب میں ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے تمام فرقے صوبہ سرحد میں متعارف کردہ کتاب پر متفق ہیں جس میں نماز کی ادائیگی کا کوئی طریقہ بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی وزارت تعلیم کا ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘

فروری ۲۰۰۶ء

سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات

ہم جمہور علماء اہل سنت کے اس موقف سے متفق ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کریم کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر قذف کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے ۔نیز ہم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شیعہ کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ذہنی تحفظات رکھتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے کہ عقائد اور تاریخی کردار کے حوالہ سے باہمی فرق اور فاصلہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات

دسمبر ۲۰۰۴ء

خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس: قائدین اور شرکاء سے چند گزارشات

گزشتہ کم و بیش ڈیڑھ سو برس کے دوران اس خطۂ زمین میں اسلامی تعلیم و ثقافت کو زندہ رکھنے اور عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے علمائے دیوبند نے جو کردار ادا کیا ہے اس کا مختصر اور سرسری تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں۔ اور آج اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل کے امکانات و خدشات اور ضرورتوں کا دائرہ کیا ہے اور علمائے دیوبند کے ماضی کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اس قافلۂ حق و صداقت پر اس حوالہ سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس: قائدین اور شرکاء سے چند گزارشات

۲ مئی ۲۰۰۴ء

علماء دیوبند کے تاریخی کردار پر ایک نظر

آج آزاد کشمیر کے تاریخی شہر باغ میں آل جموں و کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ کانفرنس اکابر علماء دیوبند کی ملی و دینی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا ایک بڑا مقصد اپنے بزرگوں کی خدمات اور کارناموں کا تذکرہ کر کے ان سے راہنمائی حاصل کرنے کے علاوہ نئی نسل کا ذہنی و فکری رشتہ ان بزرگوں کے ساتھ قائم رکھنا اور آج کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ آج اگر جنوبی ایشیا میں اسلام کا نام زندہ ہے، دینی تعلیم و ثقافت کی اقدار و روایات کا تسلسل قائم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء دیوبند کے تاریخی کردار پر ایک نظر

یکم مئی ۲۰۰۴ء

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

دسمبر ۱۹۹۴ء

جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ علماء پاکستان کے راہنماؤں میں اہم مذاکرات

۱۳ جولائی ۱۹۸۸ء کو شام پانچ بجے دفتر جمعیۃ علماء پاکستان، سکندر روڈ، لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور جمعیۃ علماء پاکستان کے مرکزی راہنماؤں کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ اس گفتگو میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی طرف سے قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق، مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف)، مولانا فداء الرحمان درخواستی اور میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، جبکہ جمعیۃ علماء پاکستان کی طرف سے صدر جمعیۃ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، شاہ فرید الحق، ریٹائرڈ جنرل کے ایم اظہر اور دیگر راہنما شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ علماء پاکستان کے راہنماؤں میں اہم مذاکرات

جولائی ۱۹۸۸ء